🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لَازْوَاجِكَ إِنْ كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيا ..»
{مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوْا اللّٰہَ عَلَیْہٖ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8707
عَنْ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ فَشَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ فِي أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا قَالَ فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ قَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ قَالَ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ قَالَ فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا [سورة الأحزاب: ٢٣] قَالَ فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر نہ ہوئے تھے، اسی چچا کے نام پر میرا نام بھی انس رکھا گیا، اس کا انہیں بہت قلق تھا، وہ کہا کرتے تھے: بدر پہلا معرکہ تھا، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاضر ہوئے اور میں حاضر نہ ہو سکا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی اور معرکے کا موقع دیا تو وہ دیکھے گا کہ میں کرتا کیا ہوں، پھر وہ مزید کوئی دعوی کرنے سے ڈر گئے، پھر سیدنا انس بن نضر احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سامنے آرہے تھے،سیدنا انس بن نضر نے ان سے کہا: ابو عمرو! کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: آہ، میں احد کی جانب سے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔پھر سیدنا انس لڑتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہوگئے، ان کے جسم میں تلوار، نیزے اور تیر کے اسی (۸۰) سے زائد زخم آئے تھے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ان کی بہن یعنی میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کو پوروں سے پہچانا تھا کہ یہ ان کے بھائی ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیلًا} … کچھ مرد ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اللہ سے جو عہد کیا تھا، وہ سچا کر دکھایا، پس ان میں سے بعض وہ ہیں، جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کر دیا اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو انتظار کررہے ہیں اور انہوں نے اپنے وعدوں میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں کی۔ صحابہ کا یہی خیال تھا کہ یہ آیت سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں (جیسے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ) کے بارے میں نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8707]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13046»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: «إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البيت»
{یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8708
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِبَابِهِ جُلُوسٌ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَدَخَلَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَحَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَأُكَلِّمَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ زَيْدٍ امْرَأَةَ عُمَرَ فَسَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ آنِفًا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَوَاجِذُهُ قَالَ هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِيَضْرِبَهَا وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كِلَاهُمَا يَقُولَانِ تَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ نِسَاؤُهُ وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا الْمَجْلِسِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخِيَارَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا مَا أُحِبُّ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ مَا هُوَ قَالَ فَتَلَا عَلَيْهَا يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ [سورة الأحزاب: ٢٨] قَالَتْ عَائِشَةُ أَفِيكَ أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ مَا اخْتَرْتُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّفًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَمَّا اخْتَرْتِ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمٌ وَقَالَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا أَوْ مُفَتِّنًا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، لوگ آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اجازت نہ ملی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت طلب کی، لیکن ان کو بھی اجازت نہیں ملی، پھر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دونوں کو اجازت مل گئی،یہ دونوں آپ کے پاس اندر داخل ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:میں ضرور بہ ضرور ایسی بات کروں گا، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائیں گے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کاش آپ دیکھتے، جب میری بیوی بنت زید رضی اللہ عنہا نے مجھ سے خرچ کا مطالبہ کرا تو میں نے اس کی گردن پر گھونسا دے مارا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ میری بیویاں بھی، جیساکہ تم دیکھ رہے ہو، خرچ کا سوال کرنے کے لیے میرے ارد گرد جمع ہوئی ہیں۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مارنے کے لئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ،سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا کے مارنے کے لئے کھڑے ہوئے اور دونوں نے ان سے کہا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا مطالبہ کر رہی ہو، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے کہا: اللہ کی قسم! آج کے بعد ہم آپ سے وہ مطالبہ نہیں کریں گے، جو آپ کے بس میں نہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے وہ آیات اتاریں جن میں اختیار کی اجازت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں، اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر جواب دینے میں جلد بازی نہ کرنا۔ انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختیار والی آیت تلاوت: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ … …۔))یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اچھا کیا میں آپ کے بارے میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں، میں تواللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیارکرتی ہوں اور میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے اس اختیار کا آپ اپنی کسی دوسری بیوی سے ذکر نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے مشقت میں ڈالنے کے لئے نہیں بھیجا، مجھے آسانی کرنے والا اور سکھانے والا بنا کر بھیجا ہے، میری کوئی بھی بیوی اگر اختیار کے متعلق پوچھے گی، تو میں اس کو یہ تفصیل ضرور بتاؤں گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8708]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14569»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے سے کچھ بہتر ہو گئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواجِ مطہرات نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سادگی پسند ہونے کی وجہ سے سخت کبیدہ خاطر ہوئے اور بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی جو ایک ماہ تک جاری رہی، پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب کی متن میں مذکورہ آیات نازل کیں اورنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کے سامنے دو چیزیں رکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اخروی زندگی کی بہتری چاہتی ہو یا دنیا کی زندگی اور اس کی رونق۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے یہ آیات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تلاوت کیں، جنہوں نے دنیوی زندگی پر اخروی زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقد میں رہنا پسند کیا۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے خواہ مخواہ تکلف میں پڑنے کی ضرورت نہیں، اگر کوئی بیوی سیدہ عائشہ کی بابت پوچھے گی تو میں اس پر معاملہ واضح کر دوں گا۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور امہات المؤمنین کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت ہے کہ انھوں نے دنیوی سازو سامان سے بے رخی اختیار کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ترجیح دی۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اپنی بیویوں کو دو باتوں میں سے ایک کی قبولیت کا اختیار دیں، اگر تم دنیا پر اور اس کی رونق پر مائل ہوئی ہو تو آؤ میں تمہیں اپنے نکاح سے الگ کر دیتا ہوں اور اگر تم تنگی ترشی پر یہاں صبر کر کے اللہ کی خوشی اوررسول کی رضامندی چاہتی ہو اور آخرت کی رونق پسند کرتی ہو تو صبر و سہار سے میرے ساتھ زندگی گزارتی رہو، اللہ تمہیں جنت کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا، جواباًتمام امہات المؤمنین نے اللہ کو، اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو ترجیح دی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8709
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أَذْكُرُ لَكِ أَمْرًا وَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تُذَاكِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا حَتَّى بَلَغَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا [سورة الأحزاب: ٢٨-٢٩] فَقُلْتُ فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلْتُ وَفِي لَفْظٍ فَقُلْتُ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَتْ فَرِحَ لِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب نے سے پہلے مجھ سے کہا: اے عائشہ! میں آپ سے ایک معاملہ بیان کرنے لگا ہوں، اپنے ماں باپ سے ذکر کئے بغیر جلد بازی سے اس کا جواب نہ دینا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہونے کا حکم نہیں دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں نے اللہ تعالیٰ،اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے خوش ہو گئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8709]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4785، ومسلم: 1475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26637»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: «إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ...»
{اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8710
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِبُرْمَةٍ فِيهَا خَزِيرَةٌ فَدَخَلَتْ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا ادْعِي زَوْجَكِ وَابْنَيْكِ قَالَتْ فَجَاءَ عَلِيٌّ وَالْحُسَيْنُ وَالْحَسَنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَجَلَسُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْخَزِيرَةِ وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ عَلَى دُكَّانٍ تَحْتَهُ كِسَاءٌ لَهُ خَيْبَرِيٌّ قَالَتْ وَأَنَا أُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا [سورة الأحزاب: ٣٣] قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ فَغَشَّاهُمْ بِهِ ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ فَأَلْوَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا قَالَتْ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْبَيْتَ فَقُلْتُ وَأَنَا مَعَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ مِثْلَ حَدِيثِ عَطَاءٍ سَوَاءً قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خزیرہ (ایک کھانا جوقیمہ اور آٹے سے تیار کیا جاتا ہے) تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خزیرہ کھانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دکان نما جگہ پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَ ہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔اے میرے اللہ! یہ میرےگھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ میں نے اس چادر کے اندر اپنا سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8710]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 2665، والحاكم: 2/ 416، والبيھقي: 2/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27041»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل آیات کے ذریعے مذکورہ بالا آیت کے سیاق و سباق کو سمجھیں: {یٰنِسَاء َ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء ِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖمَرَضٌوَّقُلْنَقَوْلًامَّعْرُوْفًا۔وَقَرْنَفِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا۔ وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۔} (سورۂ احزاب: ۳۲، ۳۳، ۳۴)
اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقوٰی اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو۔ اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔ اور تمھارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیںیاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
اللہ تعالی نے ان آیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوںیعنی امہات المؤمنین سے خطاب کیا ہے۔ بہرحال اہل بیت سے کون مراد ہیں؟ اس کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے، بعض نے ازواج مطہرات کو مراد لیا ہے، جیسا کہ یہاں قرآن مجید کے سیاق سے واضح ہے، قرآن نے یہاں امہات المؤمنین ہی کو اہل بیت کہا ہے، قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت کہا گیا ہے، ایک مقام درج ذیل ہے: جب فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے کی عمر میں اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت دی تو ان کی اہلیہ نے اس وقت جس تعجب کا اظہار کیا، اس کو اللہ تعالی نے اس انداز میںبیان کیا اور اس کا جواب بھی دیا: {قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْٓا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ اِنَّہ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ۔} (سورۂ ہود: ۷۲، ۷۳)
اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینایہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کا اہل بیت ہونا نص قرآنی سے واضح ہو گیا۔
جبکہ بعض حضرات، بعض احادیث کی رو سے اہل بیت کا مصداق صرف سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو مانتے ہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
تاہم اعتدال کی راہ اور نقطۂ متوسطہ یہ ہے کہ دونوں ہی اہل بیت ہیں، امہات المؤمنین نص قرآن کی وجہ سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داماد اور اولاد ان احادیث کی رو سے، یہ آیت دراصل ازواجِ مطہرات کے بارے میں نازل کی تھی، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باقی چار ہستیوں کو بھی اس کے مفہوم میں داخل کیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: «وَاتَّقِ اللهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ.....»
{اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤُمِنَاتِ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8711
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ قَالَتْ فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَتْ وَأَنَا أُسَرِّحُ شَعْرِي فَلَفَفْتُ شَعْرِي ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِ بَيْتِي فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا [سورة الأحزاب: ٣٥]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید میں ہمارا ذکر مردوں کی مانند نہیں ہوتا؟ پھر اچانک اسی دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز منبر پر بلند ہو رہی تھی، میں بالوں میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے وہیں بال لپیٹے اور اپنے گھر کے ایک کمرے میں چلی گئی اور ایک ٹہنی کے قریب سے آپ کی آوز آ رہی تھی، ادھر میں نے کان لگا دیئے، آپ منبر کے قریب فرما رہے تھے: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: {إِنَّ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ۔۔۔۔َاعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَغْفِرَۃً وَأَ جْرًا عَظِیمًا} [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8711]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11405،و الطبراني: 23/ 454، والحاكم: 2/ 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27138»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّائِـمِیْنَ وَالصَّائِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا۔} … بے شک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ جب مردوں کو حکم دیا جاتا ہے تو ان کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں، مرد و زن کے مخصوص احکامات کے علاوہ، بہرحال اس آیت میں عورتوںکی دل داری کا اہتمام کیا گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: «يَايُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتيْتَ أُجُورَ هُنَّ ....» ‏‏‏‏
{وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8712
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ زَيْنَبَ وَكَأَنَّهُ دَخَلَهُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ حَمَّادٍ أَوْ فِي الْحَدِيثِ فَجَاءَ زَيْدٌ يَشْكُوهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَنَزَلَتْ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ إِلَى قَوْلِهِ زَوَّجْنَاكَهَا [سورة الأحزاب: ٣٧] يَعْنِي زَيْنَبَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہوئے ان کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو دل میں کچھ خیال آیا،یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ حماد کا قول ہے یا حدیث کا حصہ ہے، اُدھر سیدنا زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی بیوی کی شکایت کی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ پس یہ حکم نازل ہوا: {وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیہِ … … زَوَّجْنَاکَہَا} … تک، اس سے مراد زینب رضی اللہ عنہا ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8712]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وفي متنه غرابة، مؤمل بن اسماعيل سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12539»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا صحیح سیاقیہ ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:((لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّۃُ زَیْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِزَیْدٍ: ((فَاذْکُرْہَا عَلَیَّ۔)) قَالَ فَانْطَلَقَ زَیْدٌ حَتّٰی أَ تَاہَا وَہِیَ تُخَمِّرُ عَجِینَہَا قَالَ فَلَمَّا رَأَیْتُہَا عَظُمَتْ فِی صَدْرِی حَتَّی مَا أَ سْتَطِیعُ أَ نْ أَ نْظُرَ إِلَیْہَا أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَکَرَہَا فَوَلَّیْتُہَا ظَہْرِی وَنَکَصْتُ عَلٰی عَقِبِی فَقُلْتُ: یَا زَیْنَبُ! أَ رْسَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَذْکُرُکِ، قَالَتْ: مَا أَ نَا بِصَانِعَۃٍ شَیْئًا حَتّٰی أُوَامِرَ رَبِّی فَقَامَتْ إِلٰی مَسْجِدِہَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہَا بِغَیْرِ إِذْنٍ قَالَ فَقَالَ وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِینَ امْتَدَّ النَّہَارُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِیَ رِجَالٌ یَتَحَدَّثُونَ فِی الْبَیْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ۔)) (صحیح بخاری: ۴۷۸۷، ۷۴۲۰، صحیح مسلم: ۱۴۲۸)
جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید سے فرمایا: ’ زینب سے میرا ذکر کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے، ان کے پاس پہنچے، جبکہ وہ آٹے کا خمیر کر رہی تھیں، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے انہیں دیکھا، تو میرے دل میں ان کی عظمت آئییہاں تک کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ ہوئی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا، چنانچہ میں نے ان سے پیٹھ پھیری اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا، یعنی ان کی طرف اپنی پشت کر کے کھڑا ہوا اور پھر کہا: اے زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے یاد کرتے ہیں۔ سیدہ نے کہا میں اس وقت تک کچھ بھی نہیں کر سکتی، جب تک کہ اپنے ربّ سے استخارہ نہ کرلوں،پھر وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑی ہوگئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بغیر اجازت آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا جو کہا اور ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا اور جب دن چڑھ گیا تو لوگ کھا کر چلے گئے اور باقی لوگوں نے گھر میں ہی کھانے کے بعد گفتگو کرنا شروع کر دی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8713
عَنْ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَاتِ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ إِلَى قَوْلِهِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا [سورة الأحزاب: ٣٧]
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کا کوئی حصہ چھپانا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان آیات کو چھپا لیتے: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی أَ نْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ … … وَکَانَ أَ مْرُ اللّٰہِ مَفْعُولًا}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8713]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4612، 4855، 7380، 7531، ومسلم: 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26569»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـیہُ فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَایِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔} (سورۂ احزاب: ۳۷) اور جب تو اس شخص سے جس پر اللہ نے انعام کیا اور جس پر تونے انعام کیا کہہ رہا تھا کہ اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپاتا تھاجسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا، تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ ہو، جب وہ ان سے حاجت پوری کر چکیں اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے (پورا) کیا ہوا ہے۔
اس باب کا مفہوم درج ذیل ہے: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو اگرچہ اصلاً عرب تھے، لیکن کسی نے انہیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطورِ غلام بیچ دیا، جب خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی تو انھوں نے یہ غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر کے اپنا لے پالک بیٹا بنا لیا اور بعد میں اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے شادی کر دی، بہرحال مزاج میں فرق برقرار رہا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جبکہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے دامن پر غلامی کا داغ تھا، سو ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی، جس کا تذکرہ زید رضی اللہ عنہ نبیکریم سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ ظاہر کرتے رہتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین کرتے، اُدھر اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرما دیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کر دیا جائے گا، تاکہ جاہلیت کی منہ بولا بیٹا بنانے کی اس رسم پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کر دیا جائے کہ لے پالک بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اس کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے، ان آیات میں انہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے، حالانکہ جب اللہ تعالی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی، ذہن نشین رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خوف فطری تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنبیہ فرمائی گئی، چونکہ اللہ تعالی نے آپ کے اس فطری خوف کابھی ذکر کر دیا، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وحی چھپانی ہوتی تو ان آیات کو چھپا لیتے۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کانکاح معروف طریقے کے برعکس صرف اللہ کے حکم سے قرار پا گیا،یعنی نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا اجازت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے، کیونکہ وہ آسمانی فیصلے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی بن چکی تھیں۔ سبحان اللہ! کتنا بڑا شرف ہے سیدہ کا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: «‏‏‏‏تُرْجِيْ مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِى إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ ....»
{یَاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ اللَّاتِیْ آتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8714
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ [سورة الأحزاب: ٥٢] وَأَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ وَحَرَّمَ كُلَّ ذَاتِ دِينٍ غَيْرَ دِينِ الْإِسْلَامِ قَالَ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ [سورة المائدة: ٥] وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ إِلَى قَوْلِهِ خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ [سورة الأحزاب: ٥٠] وَحَرَّمَ سِوَى ذَلِكَ مِنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چند قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا تھا،صرف ہجرت کرنے والی ایماندار عورتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکاح کر سکتے تھے، پھر حکم ہوا: { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَ نْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَ زْوَاجٍ وَلَوْ أَ عْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ إِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ} … تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے مگر جس کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایماندار لونڈیوں کو حلال قرار دیا اور اس مومن خاتون کو بھی حلال کر دیا، جو اپنا نفس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے، اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کے علاوہ ہر دین والی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حرام قرار دیا اور فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَہُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ہَاجَرْنَ مَعَکَ ْ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَہَا ٓ خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ} … اے نبی! بے شک ہم نے تیرے لیے تیری بیویاں حلال کر دیں جن کا تو نے مہر دیا ہے اور وہ عورتیں جن کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنا ہے، اس (غنیمت) میں سے جو اللہ تجھ پر لوٹا کر لایا ہے اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں، جنھوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مومن عورت اگر وہ اپنا آپ نبی کو ہبہ کر دے، اگر نبی چاہے کہ اسے نکاح میں لے لے۔ یہ خاص تیرے لیے ہے، مومنوں کے لیے نہیں۔ بے شک ہم نے جان لیا جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور ان عورتوں کے بارے میں فرض کیا جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8714]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف۔ أخرجه الترمذي: 3215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2922»
وضاحت: فوائد: … جب آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا کے اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت اور تنگی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنا پسند کیا تو اللہ تعالی نے ان کو اس کا صلہ یہ دیا: { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَ نْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَ زْوَاجٍ وَلَوْ أَ عْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ إِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ} … تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے مگر جس کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنے۔
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقد میں (۹) بیویاں تھیں، اللہ تعالی نے ان کو صلہ دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دیگر خواتین سے نکاح کرنے یا ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے سے منع کر دیا۔ بعد میں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مزید شادیاں کرنے کا اختیار دے دیا تھا، جیسا کہ حدیث نمبر (۸۷۱۸)سے معلوم ہو رہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملی طور پر کوئی شادی کی نہیںتھی۔ خاتون کا اپنے آپ کو کسی کے ہبہ کر دینا اور اس شخص کا اس عورت سے خود شادی کر لینا اور کسی سے کروا دینا،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا اور یہ کسی خلیفہ اور امتی کا حق نہیںہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب: «ولا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ .....»
{تُرْجِیْ مَنْ تَشَائُ مِنْہُنَّ وَتُؤْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8715
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تُعَيِّرُ النِّسَاءَ اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَعْرِضَ نَفْسَهَا بِغَيْرِ صَدَاقٍ فَنَزَلَ أَوْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ [سورة الأحزاب: ٥١] قَالَتْ إِنِّي أَرَى رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں پر عیب لگاتی تھیں جو اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیتی تھیں اور سیدہ کہتی تھیں: کیا عورت کو اس سے شرم محسوس نہیں ہوتی کہ بغیر مہر کے اپنے آپ کو ہبہ کر دیتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {تُرْجِیْ مَنْ تَشَاء ُ مِنْہُنَّ وَ تُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُہُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَہُنَّ کُلُّہُنَّ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا۔} … ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے اور تو جسے بھی طلب کر لے، ان عورتوں میں سے جنھیں تو نے الگ کر دیا ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کریں اور وہ سب کی سب اس پر راضی ہوں جو تو انھیں دے اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، بڑے حلم والا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی!آپ کا رب بلاتا خیر آپ کی مرضی پوری کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8715]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4788، 5113، ومسلم: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25765»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کی تفسیر اگلی حدیث میںبیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8716
عَنْ مُعَاذَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَأْذِنُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ [سورة الأحزاب: ٥١] قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لَهُ قَالَتْ كُنْتُ أَقُولُ لَهُ إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لَا أُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جب کسی بیوی کی باری ہوتی تو اس سے اجازت طلب کرتے تھے: {تُرْجِیْ مَنْ تَشَاء ُ مِنْہُنَّ وَ تُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ} … ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے اور تو جسے بھی طلب کر لے، ان عورتوں میں سے جنھیں تو نے الگ کر دیا ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ میں(معاذہ) نے کہا: عائشہ! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پوچھتے تو تم کیا کہتی تھیں؟ انھوں نے کہا: میں یہ کہتی تھی: اے اللہ کے رسول! اگر یہ میرا اختیار ہے تو میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8716]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4789، ومسلم: 1476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24981»
وضاحت: فوائد: … اس آیت میں آپ کی ایک اور خصوصیت کا بیان ہے، وہ یہ کہ بیویوں کے درمیان باریاں مقرر کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کی باری چاہیںموقوف کر دیں،یعنی اس کو نکاح میں رکھتے ہوئے اس سے مباشرت نہ کریں اور جس سے چاہیںیہ تعلق قائم رکھیں۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حق استعمال نہیںکیا، ما سوائے سودہ رضی اللہ عنہا کے، کہ انھوں نے اپنی باری خود ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام ازواج کی باریاں مقرر کر رکھی تھیں، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزارے، {ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُہُنَّ} کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقسیم اگرچہ دوسرے لوگوں کی طرح واجب نہیں تھی، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حسن سلوک اور عدل و انصاف سے خوش ہو جائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دل داری کا اہتمام فرمایا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں