🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
سورۂ فاطر {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8727
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ} [فاطر: 32] فَأَمَّا الَّذِينَ سَبَقُوا بِالْخَيْرَاتِ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَأَمَّا الَّذِينَ اقْتَصَدُوا فَأُولَئِكَ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَمَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يُحْبَسُونَ فِي طُولِ الْمَحْشَرِ ثُمَّ هُمْ الَّذِينَ تَلَافَاهُمْ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ فَهُمْ الَّذِينَ يَقُولُونَ {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ} إِلَى قَوْلِهِ {لُغُوبٌ} [فاطر: 34-35] ) )
۔ ’ ’سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {ثُمَّ أَ وْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ وَمِنْہُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی میانہ رو ہے اور ان میں سے کوئی نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، اللہ کے حکم سے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔تفسیریہ ہے کہ جو لوگ بھلائیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں،یہ لوگ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے،جو لوگ میانہ روی والے ہیں، ان سے آسان حساب لیا جائے گا اور جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، ان کو میدان محشر میں روکا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی تلافی کریں گے، یہی لوگ کہیں گے: {اَلْحمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔ الَّذِیْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِنْ فَضْلِہٖ لَایَمَسُّنَا فِیْہَا نَصَبٌ وَّلَا یَمَسُّنَافِیْہَا لُغُوْبٌ۔} … اور وہ کہیں گے سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا، بے شک ہمارا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت قدر دان ہے۔ جس نے ہمیں اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے گھر میں اتارا، نہ ہمیں اس میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ پہنچتی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8727]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه بين علي بن عبد الله وابي الدردائ، بينھما فيه ابو خالد البكري ولم نتبينه۔ أخرجه الحاكم: 2/ 426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22070»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8728
عَنْ أَبِي ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي وَارْحَمْ غُرْبَتِي وَارْزُقْنِي جَلِيسًا حَبِيبًا صَالِحًا فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( ({فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ} قَالَ الظَّالِمُ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ {وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ} يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا {وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} [فاطر: 32] فَذَلِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ) )
۔ ابو ثابت سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد ِ دمشق میں داخل ہوا اور اس نے یہ دعا کی: اے میرے اللہ! میری وحشت کو انس سے تبدیل کر دے، میری غربت کو باعث رحمت بنا دے اور مجھے پیارا اور نیک ہم نشین عطافرما، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اس کے یہ الفاظ سن لیے اور کہا: اگر تو سچا ہے تو میں تیری دعا کے لئے زیادہ خوش نصیب ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: {فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ}سے مراد وہ ظالم، جس کو حشر کے میدان میں پکڑا جائے گا اور اس کو غم اور پریشانی پہنچائی جائے گی، {وَمِنْہُمْ مُقْتَصِدٌ} سے مراد وہ شخص ہے، جس کا حساب آسان ہوگا اور {وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ}وہ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8728]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ثابت او ابو ثابت، لم ينسب البخاري في تاريخه وابوحاتم في الجرح والتعديل، وذھب الھيثمي الي انه ثابت بن عبيد، وھو من رجال مسلم، وقد اختلف في اسناده علي الاعمش۔ أخرجه الحاكم: 2/ 426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28054»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8729
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} [فاطر: 32] قَالَ ( (هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:{ثُمَّ أَ وْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ وَمِنْہُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی متوسط درجے کا ہے اور ان میں سے کوئی اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (اس آیت میں مذکورہ) سب لوگوں کا مرتبہ ایک ہی ہے اور سارے جنت میں جائیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8729]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل من ثقيف، والرجل من كنانة۔ أخرجه الترمذي: 3225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11767»
وضاحت: فوائد: … اس آیت میں امت محمدیہ کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں:
(۱) وہ لوگ جو بعض فرائض میں کوتاہی اور بعض محرمات کا ارتکاب کرلیتے ہیں۔
(۲) اس قسم سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرائض کے پابند اور محرمات کے تارک تو ہیں، لیکن کبھی مستحبّات کو ترک کر دیتے ہیں اور کبھی بعض محرمات کا ارتکاب بھی ان سے ہو جاتاہے، بس نیک تو ہیں، لیکن پیش پیش نہیں ہیں۔
(۳) وہ لوگ جو دین کے معاملے میں پہلی دونوں اقسام کے افراد سے سبقت کرنے والے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ قِصَّةِ الذَّبِيحِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: «وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا» ‏‏‏‏
سورۂیس سورۂیس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8730
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (يس قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَؤُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ وَاقْرَؤُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ) )
۔ سیدنا معقل بن یساررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یس قرآن مجید کا دل ہے، جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے گھر کی خاطر اس کی تلاوت کرے گا، اس کو بخش دیا جائے گا اور اس سورت کو اپنے مردوں کے پاس پڑھا کرو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8730]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وابيه، وسمّي في الرواية بأبي عثمان، ولا يعرف۔ أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة: 1075، والطبراني: 20/ 511، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8731
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي الْمَشْيَخَةُ أَنَّهُمْ حَضَرُوا غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُّمَالِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ اشْتَدَّ سَوْقُهُ فَقَالَ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ {يس} قَالَ فَقَرَأَهَا صَالِحُ بْنُ شُرَيْحٍ السَّكُونِيُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ مِنْهَا قُبِضَ قَالَ فَكَانَ الْمَشْيَخَةُ يَقُولُونَ إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَيِّتِ خُفِّفَ عَنْهُ بِهَا قَالَ صَفْوَانُ وَقَرَأَهَا عِيسَى بْنُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ
۔ صفوان کہتے ہیں: بعض بزرگوں نے مجھے بیان کیا کہ وہ غضیف بن حارث ثمالی کے پاس موجود تھے، ان پر عالم نزع کی بڑی سختی تھی، پس انھوں نے کہا: کیا تم میں سے کوئی آدمی سورۂ یس پڑھ سکتا ہے؟ صالح بن شریح سکوتی نے سورۂ یس کی تلاوت کی، ابھی تک انھوں نے چالیس آیتیں پڑھی تھیں کہ وہ فوت ہوگئے۔ بزرگ کہتے تھے کہ جب میت پر اس سورت کی تلاوت کی جائے تو اس کی وجہ سے اس پر تخفیف کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8731]
تخریج الحدیث: «أثر اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17094»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8732
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ ( (يَا أَبَا ذَرٍّ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ) ) قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ( (فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَتَسْتَأْذِنَ فِي الرُّجُوعِ فَيُؤْذَنَ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ إِلَى مَطْلَعِهَا فَذَلِكَ مُسْتَقَرُّهَا) ) ثُمَّ قَرَأَ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: 38]
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غروب ِ آفتاب کے وقت مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! کیا تجھے معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چلتا رہے گا،یہاں تک کہ اپنے ربّ کے سامنے سجدہ کر کے واپس آنے کی اجازت طلب کرے گا، پس اس کو اجازت دی جائے گی اور کہاجائے گا: تو جہاں سے آیا ہے، وہیں چلا جا، پس یہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے گا، وہی اس کے قرار پکڑنے کی جگہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا} … اور سورج اپنے ٹھہرنے کی جگہ کی طرف چلتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8732]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3199، 4802، ومسلم: 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21679»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8733
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: 38] قَالَ ( (مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: {وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا} آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8733]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4803، 7433، ومسلم: 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21734»
وضاحت: فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۶۰۰)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: «‏‏‏‏أجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهَا وَاحِدًا»
سورۂ صافات ذبح ہونے والے کا بیان اور {نَادَیْنَاہُ اَنْ یَّا اِبْرَاھِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8734
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي فَشَدَّهُ فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا} [الصافات: 105] ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جبریل علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کو جمرہ عقبہ کے پاس لے کر گئے تو شیطان سامنے آ گیا، انھوں نے اس کو سات کنکریاں ماریں، وہ زمین میں دھنس گیا، پھر جب وہ جمرہ وسطی پر آئے تو شیطان پھر سامنے آ گیا، انھوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، پھرجب وہ دور والے جمرہ کے پاس پہنچے تو شیطان پھر سامنے آگیا، انھوں نے اس بار بھی اس کو سات کنکریں ماریں اور وہ زمین میں دھنس گیا۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے اپنے باپ سے کہا: اے ابا جان! مجھے اچھی طرح باندھ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بے چین ہو جاؤں اور میرا خون آپ پر جا گرے، ابراہیم علیہ السلام نے ان کو باندھ دیا اور جب چھری پکڑکر ذبح کرنا چاہا تو آواز آئی: {أَنْ یَّا إِبْرَاہِیمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا} … اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8734]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط، وحماد بن سلمة روي عنه قبل الاختلاط وبعده عند غير واحد من أھل العلم، والمرجح ھنا ان ھذا الحديث مما رواه عنه بعد الاختلاط، والصحيح عند اھل العلم أن الذبيح ھو اسماعيل لا اسحاق۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2795»
وضاحت: فوائد: … مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف پایا جاتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا کون بیٹا ذبیح تھا، اسماعیل علیہ السلام، یا اسحق علیہ السلام، ابن جریر، ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے، صحیح ہونے کی وجوہات درج ذیل ہیں:
(۱)سورۂ صافات کی آیت نمبر (۱۰۰) سے (۱۱۳) تک کامطالعہ کریں، ان آیات میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا ذکر ہے، جس بیٹے کو ذبح کیا، اس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ} … تو ہم نے ابراہیم کو ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔ پھر آیت نمبر (۱۱۱) تک ذبح کا واقعہ بیان کیا اور پھر فرمایا: {وَبَشَّرْنَاہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصَّالِحِیْنَ۔} … اور ہم نے ابراہیم کو اسحق کی بشارت دی، جو نبی اور صالح لوگوں میں سے ہو گا۔
اس ترتیب سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ جس بیٹے کو ذبح کیا گیا، وہ اسماعیل علیہ السلام تھے، جو اس وقت ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے تھے، اسحاق علیہ السلام کی ولادت بعد میں ہوئی تھی۔
درج ذیل اقتباسات تفسیر ابن کثیر سے لیے گئے ہیں، بتقاضۂ ضرورت ساتھ اضافی الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں:
(۲)اسی وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایک بردبار بچے کی بشارت دی جاتی ہے، یہ اسماعیل علیہ السلام تھے، یہ آپ کے صاحبزادے اسحاق علیہ السلام سے بڑے تھے، اسے تو اہل کتاب بھی مانتے ہیں بلکہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی برس تھی اور جس وقت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے، اس وقت آپ کی عمر ننانوے برس تھی۔
(۳) ان کی کتاب میں یہ بھی ہے کہ جناب ابراہیم کو اپنے اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا (اور اکلوتے بیٹے تو حضرت اسماعیل ہی ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہی بڑے تھے اور بڑا ہی اکلوتا ہوتا ہے، جب تک دوسرا بیٹا پیدا نہ ہو)۔ لیکن صرف اس لیے کہ یہ اہل کتاب خود حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے عرب ہیں، پس انھوں نے واقعہ کی اصلیت کو ہی بدل دیا اور یہ فضیلت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہٹاکر حضرت اسحاق علیہ السلام کے لیے ثابت کر دی اور بیجاتاویلیں کرتے ہوئے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا اور کہا ہماری کتاب میںلفظ وحید ہے اس سے مراد اکلوتا نہیں، بلکہ جو تیرے پاس اس وقت اکیلا ہے، وہ ہے، یہ اس لیے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تو اپنی والدہ کے ساتھ مکہ میں تھے اور وہاں خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ صرف حضرت اسحاق تھے، لیکنیہ بالکل غلط ہے، وحید اسی کو کہا جاتا ہے جو اکلوتا ہو اور اس کا اور کوئی بھائی نہ ہو۔
(۴)پھر یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اکلوتے اور پہلوٹھی کے بچے کے ساتھ جو محبت اور لاڈ پیار ہوتا ہے، وہ عموماً دوسری اولاد کے ہونے پر باقی نہیں رہتا، اس لیے اکلوتے کو ذبح کرنے کا حکم، اس میں کڑا امتحان اور مشکل آزمائش ہے، اس نقطے کا مصداق بھی صرف اسماعیل علیہ السلام بنتے ہیں۔
(۵) اسمٰعیل کی بشارت کا غلام حلیم (برد بار بچہ) کہہ کر ذکر ہوا اور پھر اللہ کی راہ میں ذبح کے لیے تیار ہونے کا ذکر ہوا، اس تمام بیان کو ختم کرکے پھر نبی صالح اسحاق کی ولادت کی بشارت کا بیان ہوا اور فرشتوں نے اسحاق علیہ السلام کی بشارت کے موقع پر {غلام علیم}کہا، (اور آدمی بڑا ہو کر علیم بنتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی بشارت کے ساتھ یہ بھی بتلا دیا گیا تھا کہ وہ زندہ رہیں گے)
(۶)قرآن مجید میں ایک اور مقام پر اسحق کی بشارت ان لفظوں میں دی گئی: {فَبَشَّرْنَاہُ بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاء ِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ۔} … پس ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق کی بشارت دی اور اسحق کے پیچھےیعقوب کی بشارت دی (سورۂ ہود: ۷۱) اس سے معلوم ہواکہ اسحاق علیہ السلام زندہ رہیں گے اور ان کی نسل جاری رہے گی اور اسحاق علیہ السلام کی اولاد میںیعقوب علیہ السلام پیدا ہوں گے، اب جس بچے کی نسل جاری رہنے کا پہلے ہی علم دیا جا چکا ہو، اس کو ذبح کرنے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے؟
(۷)ذبیح اللہ تو اسماعیل علیہ السلام ہیں، کیونکہ ذبح کا محل منیٰ ہے اور یہ مقام مکہ میں ہے اور اسماعیل علیہ السلام یہیں تھے، اسحاق علیہ السلام تو کنعان شہر میں تھے، جو شام ہے۔
(۸)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: ((إِنِّیْ کُنْتُ رَأَ یْتُ قَرْنَیِ الْکَبْشِ حِیْنَ دَخَلْتُ الْبَیْتَ فَنَسِیْتُ أَ نْ آمُرَکَ أَ نْ ُتخَمِّرَھُمَا فَخَمِّرْھُمَا، فَإِنَّہُ لَا یَنْبَغِیْ أَ نْ یَکُوْنَ فی الْبَیْتِ شَیْئٌیُشْغِلُ الْمُصَلِّیَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْکَبْشِ فِی الْبَیْتِ حَتَّی احْتَرَقَ الْبَیْتُ فَاحْتَرَقَا۔ جب میں بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے تھے، پھر میں بھول گیا کہ تجھے ان کو ڈھانپ دینے کا حکم دوں، اس لیے ا ب انہیں ڈھانپ دے، کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو مشغول کرے۔ سفیان فرماتے ہیں: مینڈھے کے دونوں سینگ بیت اللہ میں ہی رہے، جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے تھے۔
اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں جو مینڈھا لایا گیا تھا، اس کے سینگ کعبہ کی عمارت کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ جب یزید بن معاویہ کے دور میں واقعہ حرہ کے بعد بنو امیہ کا لشکر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبد اللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا اور منجنیق نصب کر کے کعبہ پر پتھر برسائے اور آگ لگ جانے کی وجہ سے بیت اللہ کے پردے، چھت اور یہ دو سینگ جل گئے، یہ صفر ۶۴ ھ کا واقعہ ہے۔ (بلوغ المعانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۳۶۰)
یہ واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل تھے، اسی وجہ سے ان کی اولاد قریش تک یہ سینگ برابر اور مسلسل چلے آئے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔
معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا تھا، وہ اسماعیل تھے، واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: «إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيْتُونَ» ‏‏‏‏
سورۂ ص {اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰھًا وَاحِدًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8735
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ فَقَالُوا إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا قَالَ مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ قَالَ ( (يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمْ الْجِزْيَةَ) ) قَالَ مَا هِيَ قَالَ ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ) فَقَامُوا فَقَالُوا أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا قَالَ وَنَزَلَ {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} حَتَّى بَلَغَ {إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: 1-5] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ أَبِي قَالَ الْأَشْجَعِيُّ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو طالب بیمار پڑ گئے، قریشی ان کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کی تیمار داری کے لئے تشریف لے آئے،ان کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تو تھی، لیکن ابو جہل کھڑا ہوا اور اس جگہ میں بیٹھ گیا، پھر قریشیوں نے کہا: ابو طالب! تمہارا یہ بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے۔ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کر کہا: کیا بات ہے، یہ آپ کی قوم آپ کی شکایت کررہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا! میں انہیں ایک ایسے کلمہ پر متحد کرنا چاہتا ہوں کہ جس کو قبول کرنے سے عرب ان کے تابع ہوں گے اور عجم انہیں جزیہ دیں گے۔ ابو طالب نے کہا: وہ کونسا کلمہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لا الہ الا اللہ وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: کیا اس نے سب معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا ہے، اس وقت سورۂ ص کی یہ آیات نازل ہوئیں: {صٓ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْر … … إِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8735]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يحيي بن عمارة في عداد المجھولين۔ أخرجه الترمذي: 3232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2008»
وضاحت: فوائد: … نازل ہونے والی پوری آیاتیہ تھیں: {صٓ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْر۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ۔ کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔ وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَاء َہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ ْ وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰہًا وَاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ۔ } (ص)
اس نصیحت والے قرآن کی قسم! بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکبر اور مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا تو انھوں نے پکارا اوروہ بچ نکلنے کا وقت نہیں تھا۔ اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔ کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہیقینا بہت عجیب بات ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8736
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْهُمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا يَا أَبَا طَالِبٍ ابْنُ أَخِيكَ يَشْتِمُ آلِهَتَنَا يَقُولُ وَيَقُولُ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ فَأَرْسِلْ إِلَيْهِ فَانْهَهُ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ وَكَانَ قُرْبَ أَبِي طَالِبٍ مَوْضِعُ رَجُلٍ فَخَشِيَ إِنْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَمِّهِ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا إِلَّا عِنْدَ الْبَابِ فَجَلَسَ فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ قَوْمَكَ يَشْكُونَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ فَقَالَ ( (يَا عَمِّ إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ) ) قَالُوا وَمَا هِيَ نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا قَالَ ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ) قَالَ فَقَامُوا وَهُمْ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ {أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِي} [ص: 5-8]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو قریشیوں کا ایک گروہ ان کی تیمار داری کے لئے آیا، ان میں ابو جہل بھی تھا، انہوں نے کہا: ابو طالب! تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے، یہ کہتا ہے، یہ کہتا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے۔ ابو طالب نے آپ کو اپنے پاس آنے کا پیغام بھیجا، ابو طالب کے قریب ایک آدمی کی جگہ خالی تھی، ابو جہل کو خدشہ تھاکہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو قریب ہو کر بیٹھ جائیں گے، اور پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ ابو طالب کو اپنے بھتیجے پر ترس آ جائے، اس لیےیہ کود کر اس خالی جگہ پر بیٹھ گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے اوربیٹھنے کی جگہ نہ پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے کے قریب ہی بیٹھ گئے۔ ابو طالب نے کہا: اے بھتیجے! تمہاری قوم تمہاری شکایت کر رہی ہے کہ تم ان کے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہو اور یہ یہ کہتے ہو اور ایسے ایسے کرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا! میں ان سے ایسا کلمہ چاہتا ہوں کہ جس کی وجہ سے عرب ان کے تابع ہو جائیں گے اور عجمی ان کو جزیہ دیں گے۔ انہوں نے کہا: وہ کونسا کلمہ ہے؟ تیرے باپ کی قسم! ہم یہ اور اس طرح کی دس باتیں قبول کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لا الہ الا اللہ ہے۔ یہ سن کر وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا:) {اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰہًا وَاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} … کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے تلاوت کی،یہاں تک کہ {لَمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ} تک پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8736]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عباد بن جعفر في عداد المجھولين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 299، والنسائي في الكبري: 11437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3419»
وضاحت: فوائد: … باقی کل تین آیات تھیں، جو کہ درج ذیل ہیں:
{وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِـہَتِکُمْ اِنَّ ھٰذَا لَشَیْء ٌ یُّرَادُ۔ مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔ ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ۔} … اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہو ئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقینایہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی،یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر نصیحت نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ میری نصیحت سے شک میں ہیں، بلکہ انھوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں