🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: استسقاء کی نماز میں بلند آواز سے قرآت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي فَتَوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ يَدْعُو وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا (عبداللہ بن زید) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے باہر نکلے تو قبلہ رو ہو کر دعا کی۔ پھر اپنی چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھی۔ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت بلند آواز سے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1024]
حضرت عباد بن تمیم رضی اللہ عنہ کے چچا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ہمراہ بارش کی دعا کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کر کے دعا مانگی، اپنی چادر کو الٹ پلٹ کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی اور ان میں قراءت بلند آواز سے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1024]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ كَيْفَ حَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَى النَّاسِ:
باب: استسقاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت مبارک کس طرح موڑی تھی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي، قَالَ:" فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَدْعُو، ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے باہر نکلے، دیکھا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ صحابہ کی طرف کر دی اور قبلہ رخ ہو کر دعا کی۔ پھر چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھائی جس کی قرآت قرآن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہر کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1025]
حضرت عباد بن تمیم رضی اللہ عنہ کے چچا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کے لیے باہر تشریف لے گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ پھیری اور قبلے کی طرف منہ کر کے دعا کرنے لگے، پھر اپنی چادر کو پلٹا، اس کے بعد آپ نے ہمیں دو رکعت پڑھائیں جس میں بآواز بلند قراءت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ رَكْعَتَيْنِ:
باب: استسقاء کی نماز دو رکعتیں پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ".
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی تو دو رکعت نماز پڑھی اور چادر پلٹی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1026]
حضرت عباد بن تمیم رضی اللہ عنہ کے چچا ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کے موقع پر دو رکعت نماز پڑھی اور اپنی چادر کو پلٹا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ الاِسْتِسْقَاءِ فِي الْمُصَلَّى:
باب: عیدگاہ میں بارش کی دعا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَأَخْبَرَنِي المَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: جَعَلَ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا اور عباد اپنے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے لیے عیدگاہ کو نکلے اور قبلہ رخ ہو کر دو رکعت نماز پڑھی پھر چادر پلٹی۔ سفیان ثوری نے کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ مسعودی نے ابوبکر کے حوالے سے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا داہنا کونا بائیں کندھے پر ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1027]
حضرت عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے اور قبلہ رو ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، پھر اپنی چادر کو پلٹا۔ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے دائیں کنارے کو بائیں جانب کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: استسقاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلِّي، وَأَنَّهُ لَمَّا دَعَا أَوْ أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هَذَا مَازِنِيٌّ، وَالْأَوَّلُ كُوفِيٌّ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن سعید انصاری نے حدیث بیان کی، کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ عباد بن تمیم نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن زید انصاری نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (استسقاء کے لیے) عیدگاہ کی طرف نکلے وہاں نماز پڑھنے کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے یا راوی نے یہ کہا دعا کا ارادہ کیا تو قبلہ رو ہو کر چادر مبارک پلٹی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن زید مازنی ہیں اور اس سے پہلے باب «الدعا فی الاستسقاء» میں جن کا ذکر گزرا اور وہ عبداللہ بن یزید ہیں کوفہ کے رہنے والے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1028]
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز استسقاء کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے اور جب دعا کرنے لگے تو قبلہ رخ ہو گئے اور اپنی چادر کو الٹ پلٹ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1028]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ رَفْعِ النَّاسِ أَيْدِيَهُمْ مَعَ الإِمَامِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: استسقاء میں امام کے ساتھ لوگوں کا بھی ہاتھ اٹھانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1029
قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ: فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَشِقَ الْمُسَافِرُ وَمُنِعَ الطَّرِيقُ.
ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ ایک بدوی (گاؤں کا رہنے والا) جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! (بارش بہت ہونے سے) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1029]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مویشی ہلاک، اہل و عیال تباہ ہو گئے اور لوگ مرنے لگے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے، لوگ بھی آپ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نہیں نکلے تھے کہ بارش شروع ہو گئی، پھر یہ بارش دوسرے جمعہ تک جاری رہی۔ تب ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! مسافر تنگ آ گئے اور راستے بند ہو گئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1030
وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.
عبدالعزیز اویسی نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک نے، انہوں نے کہا کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نے استسقاء میں دعا کرنے کے لیے) اس طرح ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1030]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ رَفْعِ الإِمَامِ يَدَهُ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: امام کا استسقاء میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1031
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان اور محمد بن ابراہیم بن عدی بن عروبہ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ (زیادہ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1031]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کے علاوہ اور کسی موقع پر دعا کرتے وقت (زیادہ) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے اور بارش کی دعا میں اس قدر ہاتھ بلند کرتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ مَا يُقَالُ إِذَا أَمْطَرَتْ:
باب: مینہ برستے وقت کیا کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1032
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَصَيِّبٍ الْمَطَرُ، وَقَالَ غَيْرُهُ: صَابَ وَأَصَابَ يَصُوبُ.
‏‏‏‏ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (سورۃ البقرہ میں) «كصيب‏» (کے لفظ «صيب‏») سے مینہ کے معنی لیے ہیں اور دوسروں نے کہا کہ «صيب‏ صاب يصوب» سے مشتق ہے اسی سے ہے «اصاب» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: Q1032]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا"، تَابَعَهُ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَعُقَيْلٌ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ نَافِعٍ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبیداللہ عمری نے نافع سے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی دیکھتے تو یہ دعا کرتے «صيبا نافعا» اے اللہ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔ اس روایت کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے اور اس کی روایت اوزاعی اور عقیل نے نافع سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1032]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش ہوتی دیکھتے تو دعا کرتے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» ”اے اللہ! نفع آور بارش برسا۔“ اس حدیث کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے، نیز اسے امام اوزاعی اور عقیل نے حضرت نافع سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں