الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي خِصَالٍ مُجْتَمَعَةٍ مِنْ أَفْضَل أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالنَّهْي عَنْ ضِدُّها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8967
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8967]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 527، 5970، ومسلم: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3890»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 527
حدیث نمبر: 8968
عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ فَقَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ
۔ سیدہ شفاء بنت عبد اللہ رضی اللہ عنہا، جو کہ مہاجر صحابیات میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور ادا کرنا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8968]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 24/ 791، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27634»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8969
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8969]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 26، 1519، ومسلم: 83، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7580»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 26
حدیث نمبر: 8970
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى الْجَدْعَاءِ وَاضِعٌ رِجْلَهُ فِي غَرْزِ الرَّحْلِ يَتَطَاوَلُ يَقُولُ أَلَا تَسْمَعُونَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ مَا تَقُولُ قَالَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ قُلْتُ فَمُذْ كَمْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ يَا أَبَا أُمَامَةَ قَالَ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً
۔ سُلیم بن عامر سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جدعاء اونٹنی پر سوار تھے، اپنا پاؤں رکاب میں رکھا ہوا تھا اور کھڑے ہو کر اونچے ہوئے اور فرمایا: کیا تم سن رہے ہو؟ لوگوں کے پیچھے سے ایک آدمی نے کہا: آپ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے پروردگار کی عبادت کرو، پانچ نمازیں ادا کرو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! تم نے یہ حدیث کب سنی تھی؟ انھوں نے کہا: اس وقت سنی تھی، جب میری عمر تیس سال تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8970]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22514»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 8971
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ) وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ عَلَيْكَ أَوْ لَكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا
۔ سیدناابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو نصف ایمان ہے، الحمد للہ سے ترازو بھر جاتا ہے، اور سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سے آسمانوں اور زمین کا درمیانی خلا بھر جاتا ہے، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیری مخالفت میں یا تیرے حق میں دلیل ہو گا، اور ہر آدمی صبح کو اپنا نفس بیچ رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اس کو آزاد کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8971]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23296»
وضاحت: فوائد: … صدقہ، صدقہ کرنے والے کے ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ منافق عدمِ ایمان کی وجہ سے صدقہ و خیرات سے اجتناب کرتا ہے۔
جو صبر شریعت میں محبوب ہے، وہ مراد ہے، یعنی نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں سے اجتناب پر صبر کرنا اور اسی طرح جسمانی اور روحانی پریشانیوں پر صبر کرنا۔
ہر صبح کو ہر انسان اپنے جسم کا سودا کر رہا ہوتا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو بیچتا ہے اور جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی غفلت میں پڑھ کر اور شیطان کے پیچھے چل کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے، اس معاملے میں انسانوں کییہ دو ہی قسمیں ہیں، ہر انسان آسانی سے اپنی ذات کا فیصلہ کر سکتاہے۔
جو صبر شریعت میں محبوب ہے، وہ مراد ہے، یعنی نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں سے اجتناب پر صبر کرنا اور اسی طرح جسمانی اور روحانی پریشانیوں پر صبر کرنا۔
ہر صبح کو ہر انسان اپنے جسم کا سودا کر رہا ہوتا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو بیچتا ہے اور جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی غفلت میں پڑھ کر اور شیطان کے پیچھے چل کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے، اس معاملے میں انسانوں کییہ دو ہی قسمیں ہیں، ہر انسان آسانی سے اپنی ذات کا فیصلہ کر سکتاہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 223
حدیث نمبر: 8972
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا بَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَلَانَ الْكَلَامَ وَتَابَعَ الصِّيَامَ وَصَلَّى وَالنَّاسُ نِيَامٌ
۔ سیدناابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ ان کے اندر سے ان کے باہر کے سماں کو اور باہر سے ان کے اندر کے منظر کو دیکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اِن کو ان کے لیے تیار کیا ہے، جو کھانا کھلاتے ہیں، نرم کلام کرتے ہیں، تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو اس وقت نماز پڑھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8972]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن ان كان ابن معانق سمعه من ابي مالك، لكن له شواھد، أخرجه الطبراني في الكبير: 3467، وابن خزيمة: 2137، وعبد الرزاق: 20883، و البيھقي: 4/ 300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23293»
وضاحت: فوائد: … آخر میں رات کے قیام کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن ان كان ابن معانق سمعه من ابي مالك
حدیث نمبر: 8973
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ لِلَّهِ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جو نرم کلام کرتا ہے، کھانا کھلاتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے قیام کرتے ہوئے رات گزارتا ہے، جبکہ اس وقت لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8973]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 1/ 321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6615»
الحكم على الحديث: حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 8974
وَعَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَامَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ
۔ سیدہ درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہترین وہ ہے جو سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا ہو، سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا ہو، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8974]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 539، والطبراني في الكبير: 24/ 657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27980»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 539
حدیث نمبر: 8975
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ قَالَ احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: اگر مجھ میں اتنا کچھ کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کو شرّ سے روکے رکھنا، کیونکہ یہ بھی صدقہ ہو گا جو تو اپنے نفس پر کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8975]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في خلق افعال العباد: 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10891»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 8976
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَحَجَّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَصَامَ رَمَضَانَ (وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا) كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِهِ أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأُخْبِرُ النَّاسَ قَالَ ذَرِ النَّاسْ يَا مُعَاذُ فَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَةٍ مِائَةُ سَنَةٍ الْفِرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے پانچ نمازیں ادا کیں، حرمت والے گھر کا حج کیا، رمضان کے روزے رکھے، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے، وہ اس کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی علاقے میں سکونت اختیار کیے رکھے، جس میں پیدا ہوا تھا۔ راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ کا ذکر کیا تھا یا نہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس حدیث کی خبر دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاذ! رہنے دو اور لوگوں کو نہ بتلاؤ (تاکہ وہ دوسرے نیک عمل بھی کرتے رہیں) کیونکہ جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت کا فرق ہے، جنت کا سب سے اعلی اور ممتاز درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، اس لیے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8976]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2530، وابن ماجه: 4331، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22437»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک خوبصورت نقطے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ جتنی احادیث میں آسان عمل پر بڑے اجرو ثواب کی بشارتیں بیان کی گئی ہے، ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے نیک اعمال سے غفلت برتی جائے، اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہوا کہ اس حدیث کا علم بھی ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاص مصلحت کی وجہ سے اس حدیث کو بیان کرنے سے منع فرمایا تھا۔
جنت کے درجوں کے حصول کے لیے اجتہاد اور محنت کی ضرورت ہے۔
جنت کے درجوں کے حصول کے لیے اجتہاد اور محنت کی ضرورت ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح