🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالطَّاعَةِ مُطْلَقًا
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8957
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا أَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا وَلَا أَعْجَبَهُ أَحَدٌ قَطُّ إِلَّا ذُو تُقًى
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دنیا کی کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ خوش نہیں کرتی تھی اور کوئی شخص بھی پسند نہیں تھا، ما سوائے پرہیزگار کے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8957]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، ابن لھيعة تفرد به، ثم ان في متنه نكارة، وان رواه عنه يحييٰ بن اسحاق وھو من قدماء اصحابه، أخرجه ابويعلي: 4552، والطبراني في الاوسط: 539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24904»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزز اور پسندیدہ شخص وہی ہے جو پرہیز گار ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسند بھی وہی ہوتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث: حديث ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8958
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْجَبُ مِنَ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس نوجوان پر تعجب کرتے ہیں، جس میں شہوات کی طرف کوئی میلان نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8958]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 853، وابويعلي: 1749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17506»
وضاحت: فوائد: … جو نوجوان امورِ خیر کا عادی ہو اور شرّ سے دور رہنے کا قوی عزم رکھتا ہو،ا س پر اللہ تعالیٰ کو تعجب ہوتاہے، حالانکہ نوجوانی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ شہوات کی طرف میلان رکھا جائے۔

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي خِصَالٍ مُجْتَمَعَةٍ مِنْ أَفْضَل أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالنَّهْي عَنْ ضِدُّها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8959
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ رَقَبَةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ قَالَ لَا إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكَّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تو نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن مسئلہ بڑا پیش کر دیا ہے، جواب یہ ہے کہ تو مکمل غلام آزاد کر یا کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دے۔ میں نے کہا: کیا عِتْقُ النَّسَمَۃ اور فَکُّ الرَّقَبَۃ ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عِتْقُ النَّسَمَۃ سے مراد یہ ہے کہ تم خود مکمل غلام کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَۃ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دو، زیادہ دودھ والے جانور کا عطیہ دینا، ظالم رشتہ دار پر مہربانی کرنا اور اس سے نیکی کرنا، پس اگر تم کو اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا دینا، پیاسے کو پانی پلا دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا، اور اگر تم کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو روک لینا، ما سوائے امورِ خیر کے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8959]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الدارقطني: 2/ 135، والطيالسي: 739، واليبھقي: 10/ 272، وابن حبان: 374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18850»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ خیر کا کم از کم مرتبہ یہ ہے آدمی اپنے زبان کا غلط استعمال نہ کرے، کیونکہ اگر کسی آدمی میں کوئی عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو یہ تواس کے بس کی بات ہے کہ اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھے، ہاں اگر خیر کی بات ہو تو وہ کرے۔
لیکن صورتحال یہ ہے کہ لوگوں بڑے بڑے عمل تو کرسکتے ہیں، لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8960
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ قِيلَ فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قِيلَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جَهْدُ الْمُقِلِّ قِيلَ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ قِيلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قِيلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد کہ جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ کسی نے کہا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لمبا قیام کرنا۔ کسی نے کہا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر۔ کسی نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ کے حرام کردہ امور کو ترک کر دیا‘ اس کی یہ ہجرت (یعنی حرام کاموں کو چھوڑ دینا) افضل ہے۔ کسی نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال وجان سمیت مشرکین سے جہاد کرنا۔ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کون سا قتل (یعنی شہادت) بلند مرتبہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8960]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه مختصرا ومطولا ابوداود: 1325، 1449، والنسائي: 5/ 58، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15476»
وضاحت: فوائد: … حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے محفوظ و سالم رہتا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8961
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُرِيقَ دَمُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْمُوجِبَتَانِ قَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور جس کا خون بہا دیا جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے نا پسندیدہ امور کو ترک کر دیا۔ اس نے کہا: کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8961]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه القطعة الأولي والرابعة مسلم: 756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15280»
وضاحت: فوائد: … حقیقی مجاہد اور مہاجر وہی ہے جو اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو ترک کر دے‘ اگر ایک انسان ہجرت (یعنی ترک وطن) اور جہاد کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے پرہیز نہیں کرتا تو ایسی ہجرت اور جہاد کا کیا فائدہ جو اس کے نفس میں ہی نیکی کا رجحان پیدا نہ کر سکے؟ ہجرت اور جہاد تو اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے‘ وہ پابندی اپنا وطن چھوڑنے کی صورت میں ہو یا اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کرنے کی صورت میںیا شریعت کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی صورت میں۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8962
عَنْ مَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ثُمَّ الْجِهَادُ ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ كَمَا بَيْنَ مَطْلَعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا
۔ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، پھر جہاد کرنا، پھر حج مبرور، یہ عمل تو باقی اعمال سے اس طرح فضیلت لے جاتا ہے، جیسے سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان فاصلہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8962]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19219»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8963
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر کوئی شرط لگاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرضی نمازیں ادا کرو، فرضی زکوۃ ادا کرو، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرو اور کافرسے بری ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8963]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19366»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8964
عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ تَعَالَى وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا قَالَ فَإِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ وَقَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ كُفَّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کے ہاں سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمت والی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: تو کسی ہنر مند کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8964]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2518، ومسلم: 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21657»
وضاحت: فوائد: … خیر کا کم از کم مرتبہ یہ ہے کہ آدمی لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے، جبکہ آج بڑی بڑی نیکیوں کا دعوی کرنے والے اس کم سے کم مرتبے سے محروم ہیں۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2518
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8965
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ فَذَكَرَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ …۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8965]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في خلق افعال العباد: 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9026»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8966
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا بَلَى قَالَ الرَّجُلُ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ قَالُوا بَلَى قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین مخلوق کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، جب کبھی کہیں سے کوئی خوفناک آواز آتی ہے تو وہ اس پر سوار ہو کر تیار ہو جاتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں بھی نہ بتلا دوں، جس کا مرتبہ اس سے کچھ کم ہے۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ایک ریوڑ میں ہو اور نماز ادا کرتا ہو اور زکوۃ دیتا ہو۔ اب کیا میں تمہیں بد ترین آدمی کے بارے میں نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8966]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مسلم: 1889دون قوله: الا اخبركم بشر البرية۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9131»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرنا، اس کی مفصل حقیقت جاننے کے لیے ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۳۵۵۲)

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں