الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالطَّاعَةِ مُطْلَقًا
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8947
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں گے تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا اور دن کو سورج کو نکال دوں گا اور انہیں گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8947]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صدقة بن موسي ضعفوه، أخرجه الطيالسي في مسنده: 2586، والبزار: 664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8693»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8948
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ثُمَّ قَالَ عَلَى مَكَانِكُمْ اثْبُتُوا ثُمَّ أَتَى الرِّجَالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ثُمَّ تَخَلَّلَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُنَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا قَالَ ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى أَتَى الرِّجَالَ فَقَالَ إِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِينَ وَأَسْوَاقَهُمْ وَمَعَكُمُ النَّبْلُ فَخُذُوا بِنُصُولِهَا لَا تُصِيبُوا بِهَا أَحَدًا فَتُؤْذُوهُ أَوْ تَجْرَحُوهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں یہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیچوں بیچ سے عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں یہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کے پاس واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں داخل ہو اور تمہارے پاس نیزہ ہو تو اس کے پھلکے کو پکڑ کر رکھو تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو مار دو اور اس طرح اس کو تکلیف پہنچاؤ یا زخمی کر دو۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8948]
تخریج الحدیث: «قوله منه: اذا دخلتم مساجد الي آخر الحديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19717»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8949
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس میں عاجزی پیدا کر لے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے اور عاجز اور بے بس وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنے خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ تعالیٰ پر تمنا کر نے لگے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8949]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن ابي مريم أخرجه الترمذي: 2459، وابن ماجه: 4260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17253»
وضاحت: فوائد: … بہرحال عقل مندییہی کہ آخرت کو ترجیح دی،
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8950
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى حَتَّى تَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی برائیاں کرنے کے بعد نیکیاں کرتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس نے گلے کو دبا دینے والی تنگ زرہ پہن رکھی ہو، پھر جب وہ نیکی کرتا ہے تو اس کا ایک کڑا کھل جاتا ہے، پھر جب وہ کوئی اور نیکی کرتا ہے تو دوسرا کڑا کھل جاتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ زرہ زمین پر گر جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8950]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17440»
وضاحت: فوائد: … برائیاں آدمی کے سینے کو تنگ کر دیتی ہیں، لیکن برا آدمی نیکیوں والی راحت سے اس قدر محروم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس تنگی کو محسوس تک نہیں کر سکتا، اس کے برعکس نیکیوں سے انشراحِ صدر ہوتا ہے اور دل و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8951
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام: 160] أَوْ أَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهُ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً مَنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جس نے نیکی کی، میں اس کو دس گنا یا اس سے بھی زیادہ عطا کروں گا اور جس نے برائی کی، تو اس کا بدلہ اسی کی مثل ہو گا یا میں اس کو بھی معاف کر دوں گا، جس نے زمین بھرنے کے بقدر گناہ کیے اور پھر مجھے اس حال میں ملا کہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو اس کو اس کے گناہوں کے بقدر بخشش عطا کر دوں گا، جو ایک بالشت میرے قریب ہوا، میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا، جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوا، میں دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہو جاؤں گا اور جو میری طرف چل کر آئے گا، میں اس کی طرف دوڑ کر آؤں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8951]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21687»
وضاحت: فوائد: … توبہ سے ہر قسم کا گناہ معاف ہو جاتا ہے، بشرطیکہ وہ خالص ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8952
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ جِئْتُهُ بِأَسْرَعَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کہا: جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب ہو کر مجھے ملتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو کر اسے ملتا ہوں، اسی طرح اگر وہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ دو ہاتھ کے پھیلاؤ کے بقدر میرے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے جلدی اس کے قریب ہوتا ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8952]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8178»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8953
عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْفُسْطَاطِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شِبْرًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَقْبَلَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَاشِيًا أَقْبَلَ اللَّهُ إِلَيْهِ مُهَرْوِلًا وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ
۔ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ، جبکہ وہ فسطاط میں منبر پر بیان کررہے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک بالشت اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، اور جب بندہ ایک ہاتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہے، جو چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے، اللہ تعالیٰ دوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8953]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 1646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21702»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8954
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ دَعْهُمْ يَعْمَلُوا
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ جب بندے یہ حق ادا کر دیں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس چیز کی لوگوں کو خوشخبری نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8954]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22356»
وضاحت: فوائد: … اس میں امت ِ مسلمہ کے شرف کا بیان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو اپنی رحمت کا مستحق قرار دیا ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ انتہائی قابل غور ہے، یعنی زیادہ اجرو ثواب والے اعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ مزید عمل کرنا ترک کر دے، دیکھیں اس قسم کی احادیث کے اولین مخاطَب صحابۂ کرام تھے، لیکن انھوں نے ان کی وجہ سے کسی عمل کو ترک کرنا گوارا نہ کیا،نیز اگلی حدیث پر غور کریں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا ہماری عملی زندگی سے تعلق یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ انتہائی قابل غور ہے، یعنی زیادہ اجرو ثواب والے اعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ مزید عمل کرنا ترک کر دے، دیکھیں اس قسم کی احادیث کے اولین مخاطَب صحابۂ کرام تھے، لیکن انھوں نے ان کی وجہ سے کسی عمل کو ترک کرنا گوارا نہ کیا،نیز اگلی حدیث پر غور کریں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا ہماری عملی زندگی سے تعلق یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8955
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو حقیر نہ جان، پس اگر کچھ دینے کے لیے تیرے پاس کچھ نہ ہو تو اپنے بھائی کو ہنس مکھ اور کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8955]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21852»
وضاحت: فوائد: … کسی کو مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا، ہر معاشرے میں اس کو معمولی نیکی سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اس معاملے میں غفلت کرنے والے زیادہ افراد نظر آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہ کیا جائے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو توشۂ آخرت تیار کیا جائے۔
سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔
سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8956
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کروں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8956]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 15، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14447»
الحكم على الحديث: صحیح