🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ التَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9424
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَحَتَّى يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْهُ وَلَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اللہ اور اس کا رسول اس کو باقی سب چیزوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو جائیں اور وہ کفر سے نجات پانے کے بعد اس کی طرف لوٹنے کی بہ نسبت آگ میں پھینکے جانے کو زیادہ پسند سمجھے اور کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، والد اور تمام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9424]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13183»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنا عین ایمان ہے، اس لیے اس حکم کو سب سے مقدم رکھنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9425
عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ وَاللَّهِ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ عِنْدَهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ) ) فَقَالَ عُمَرُ فَلَأَنْتَ الْآنَ وَاللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْآنَ يَا عُمَرُ) )
۔ زہرہ کے دادے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہیں، ما سوائے اپنی جان کے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی ایک اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک مجھے اپنے نفس سے زیادہ محبوب نہیں سمجھے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اب آپ ہی مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب ٹھیک ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9425]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3694، 6264، 6632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18211»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9426
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ أَسْلَمُوا وَكَانَ فِيمَنْ أَسْلَمَ فَبَعَثُوا وَفْدَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَتِهِمْ وَإِسْلَامِهِمْ فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ مَنْ قَدْ عَرَفْتَ جِئْنَا مِنْ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ وَأَسْلَمْنَا فَمَنْ وَلِيُّنَا قَالَ ( (اللَّهُ وَرَسُولُهُ) ) قَالُوا حَسْبُنَا رَضِينَا
۔ سیدنا فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ اسلام لائے اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے، پس انھوں نے اپنی بیعت اور اسلام کے ساتھ اپنے وفد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قبول فرمایا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، ہم نے اسلام تو قبول کر لیا، اب ہمارا ولی کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ انھوں نے کہا: ہمیں یہ کافی ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9426]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني: 18/ 851، والدارمي: 2108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18200»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9427
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَخْرُجُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے میری امت کے وہ لوگ ہیں، جو میرے بعد آئیں گے اور یہ پسند کریں گے کہ اپنے اہل اور مال کو خرچ کر کے میرا دیدار کر لیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9427]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21826»
وضاحت: فوائد: … یہ نیک آرزو ہے، کسی عمل کا نام نہیں ہے، ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتنی محبت پیدا کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کرنے کاشوق پیدا ہو جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9428
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ وَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ وَيَقُولُهَا مَنْ حَوْلَهُمْ حَتَّى يَقُولُهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلَى الْأَرْضِ) )
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو تلاش کرتا ہے اور اس کے لیے لگا رہتا ہے، یہاں تک اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کے درپے تھا، خبردار! اب اس پر میری رحمت ہو چکی ہے، جبریل علیہ السلام کہتے ہیں: فلاں آدمی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو چکی ہے، پھر حاملین عرش اس جملے کو دوہراتے ہیں، پھر ان کے ارد گرد والے فرشتے کہتے ہیں،یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں والے یہی کلمہ کہتے ہیں، پھر اسی بیان کو زمین پر اتار دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9428]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الاوسط: 1262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22764»
وضاحت: فوائد: … جب آدمی اپنے اعمالِ صالحہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو جاتا ہے، تو آسمانوں اور زمینوں میں اس کی مقبولیت عام ہو جاتی ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ عمل میں اخلاص ہونا چاہیے اور عمل کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش نہیں ہونا چاہیے، اگر دوسرا مقصد ہوا تو ممکن ہے کہ عارضی طور پر مقبولیت مل جائے، وگرنہ انجام میں مذمت کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9429
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ ( (أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ) ) قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا) ) قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ لَا صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ) ) وَفِي رِوَايَةٍ ( (فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكَ مَا أَحْبَبْتَ) ) قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بَعْدَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ مَا فَرِحُوا بِهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی آدمی آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرے، پس ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اور تو نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے زیادہ عمل تو نہیں کیے، نہ زیادہ نماز ہے اور نہ زیادہ روزے ہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرے گا۔ ایک روایت میں: پس بیشک تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تو پسند کرتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ مسلمان قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنے زیادہ خوش ہوئے ہوں، جتنے اس دن ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9429]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7153، 6171، ومسلم: 2639، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12036»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9430
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ) ) قَالَ فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں جو خوشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے ہوئی کہ بیشک تو اس کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ تجھے محبت ہے قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنی خوشی کسی چیز سے نہیں ہوئی تھی، پس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں اس محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میرے عمل ان کے اعمال جیسے نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9430]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13404»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ان کے عمل، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے دو خلفاء کے اعمال کی طرح کے نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نیکیاں کرنے اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے اور اپنے دل میں نیک لوگوں کی محبت رکھے، بالخصوص نبی کریم اور صحابہ کرام۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ حُبِّ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9431
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُلْقَى حُبُّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيُحِبُّ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ فَيُلْقِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ فَيُوضَعُ لَهُ الْبُغْضُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ فَيُبْغَضُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس جبریل آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پاس تم بھی اس سے محبت کرو، پھر اس کی محبت اہل زمین میں ڈال دی جاتی ہے اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں بندے سے بغض رکھتا ہوں، پس تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر جبریل آسمانوں میں یہ اعلان کر تے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر اہل زمین میں بھی اس کا بغض رکھ دیا جاتا ہے اور وہ بھی اس سے بغض کرنے لگ جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9431]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7485، ومسلم: 2637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10623»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9432
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ رَبَّكُمْ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ قَالَ وَإِذَا أَبْغَضَ فَمِثْلُ ذَلِكَ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل علیہ السلام اہل آسمان سے کہتے ہیں: بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں بھی وہ آدمی مقبول ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس آدمی سے بغض رکھتا ہے، اس کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9432]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7614»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ کسی مسلمان کی قبولیت اور عدم قبولیت کے فیصلے عرش پر کیے جاتے ہیں اور پھر ان کو نشر کر دیا جاتا ہے، جس آدمی کے عمل میں اخلاص نہیں ہو گا، اس کا عمل اس کے لیے مذمت کا سبب بنے گا، کیونکہ ایسا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیںہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9433
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا رَضِيَ عَنِ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهُ وَإِذَا سَخِطَ عَلَى الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو خیر کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے، جن پر ابھی تک اس نے عمل نہیں کیا ہوتا، اسی طرح جب وہ کسی بندے سے ناراض ہو جاتا ہے تو شرّ کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی مذمت کرتا ہے، جن کا ابھی تک اس نے ارتکاب نہیں کیا ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9433]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1331، وابن حبان: 368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11358»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ اس کو سات قسم کی نیکیاں کرنے کی توفیق دے گا، لیکن ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا تذکرۂ خیر لوگوں میں عام کر دے گا، اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔ دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں لوگوں کی معائب و نقائص پر پردہ تو ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کی نیکیوں کو مخفی نہیں رہنے دیتا، اگرچہ ان کو خلوت میں سر انجام دیا گیا ہو، جب کسی بندۂ خدا کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں