🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ حُبِّ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9434
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْوَاسِطِيِّ عَنْ أَبِي طَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمِقَةَ مِنَ اللَّهِ قَالَ شَرِيكٌ هِيَ الْمَحَبَّةُ وَالصَّيْتُ مِنَ السَّمَاءِ فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَيُنَادِي جِبْرِيلُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمِقُ يَعْنِي يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ أَرَى شَرِيكًا قَدْ قَالَ فَيَنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ قَالَ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ إِنَّ رَبَّكُمْ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ قَالَ أَرَى شَرِيكًا قَدْ قَالَ فَيَجْرِي لَهُ الْبُغْضُ فِي الْأَرْضِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک محبت اور شہرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے آتی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے محبت کرتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم سب اس سے محبت کرو، پھر زمین میں بھی اس کی محبت اتر آتی ہے، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے بغض رکھتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہوں، پس تو بھی اس سے بغض رکھ، پھر جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر زمین میں بھی اس کے لیے بغض اتار دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9434]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22626»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9435
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ وَقَالَتْ ابْنِي ابْنِي قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بچہ راستے پر پڑا تھا، وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحابہ بھی تھے، جب اس بچے کی ماں نے لوگوں کو دیکھا تو اسے یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ بچہ روند دیا جائے گا، پس وہ یہ کہتے ہوئے دوڑی کہ میرا بیٹا، میرابیٹا اور پھر اس کو اٹھا لیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں تو نہیں ڈالے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9435]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 3476، وابويعلي: 3747، والحاكم: 1/ 58، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13501»
وضاحت: فوائد: … کوئی اللہ تعالیٰ سے محبت کر کے تو دیکھے، اس کی طرف سے جوابی کاروائی محبت کرنے والے کی سوچ سے بڑھ کر ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَبَّةِ الصَّالِحِينَ وَصُحْبَتِهِمْ وَالْجُلُوسِ مَعَهُمْ وَزَيَارَتِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ وَعَدْمٍ إِبْدَائِهِمْ
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9436
عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِسْلَامَ مَا فَرِحُوا بِهَذَا مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَسٌ فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَإِذَا كُنَّا مَعَهُ فَحَسْبُنَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک شخص کسی آدمی سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس کے عمل جیسے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ پس میں نے صحابہ کرام کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کسی چیز کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے خوش ہوئے، ما سوائے اسلام کے۔ پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل جتنے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، پس جب ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ مل جائے گا تو وہی کافی ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9436]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13349»
وضاحت: فوائد: … اس میں اہل خیر و صلاح لوگوں کے ساتھ محبت رکھنے کی فضیلت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا بھی بیان ہے کہ وہ ان سے محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے کم مرتبہ لوگوں کو بھی بلند تر درجوں پر فائز کر کے محبوبین کے ساتھ ملا دے گا۔ لیکن اس بشارت کے ساتھ ساتھ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے وعید بھی ہے جو بدکردار لوگوں کے ساتھ خصوصی تعلق اور محبت رکھتے ہیں اور حقیقی محبت نہ ہونے کی صورت میں خوشامد، چاپلوسی اور دو رخی سے کام لیتے ہوئے پرخلوص محبتوں کے دعوے کرتے ہیں، ممکن ہے کہ ان کا حشر بھی ان کے ساتھ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9437
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِطُ وَقَالَ مُؤْمِلٌ مَنْ يُخَالِلُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس ہر ایک کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی اختیار کیے ہوئے ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9437]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 4833، والترمذي: 2378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8015»
وضاحت: فوائد: … ضرب المثل ہے: خربوزہ، خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ہر دوست کو اپنے دوست کا طرزِ حیات، عادات و اطوار اور طریقہ و سیرت اختیار کرنا پڑتا ہے، نمازی لوگ بے نمازوں کی مجلسوں میں جانے کی وجہ سے اپنی نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر گانا اور موسیقی سن کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنی پڑتی ہے، اس لیے دوستی لگاتے وقت غور و فکر کرنا چاہیے، اگر کسی کا دین اور اخلاق پسند ہے تو اسے دوست بنا لیا جائے۔ اچھا آدمی اس وجہ سے بدنام ہو جاتا ہے کہ برے لوگ اس کے دوست ہوتے ہیں۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ برے آدمی کو سمجھانے کے لیے اس سے حسنِ اخلاق سے پیش آنا اور بات ہے اور کسی سے دوستی لگانا اور بات ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9438
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو صرف مؤمن کا ساتھی بن اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر متقی آدمی۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9438]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4832، والترمذي: 2395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11357»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ صاحب ِ ایمان لوگ اس کے دوست ہوں اور پرہیزگار لوگ اس کے مہمان بنیں،یہ بات علیحدہ ہے کہ ہر مہمان کی میزبانی کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9439
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ بِأَعْمَالِهِمْ قَالَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُعِيدُهَا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس جیسے عمل کر نے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت رکھے گا۔ میں نے کہا: تو بیشک میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے ایکیا دو دفعہ یہ بات دوہرائی۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9439]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5126 21379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21707»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9440
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن ان کو مل نہیں پاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9440]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19859»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی اخلاص کے ساتھ نیک لوگوں سے محبت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے دل کے قرب کو دیکھ کر ان ہی لوگوں میں اس کا شمار کر لیتا ہے، اس میں نیک لوگوں سے محبت دینے کی ترغیب ہے۔ لیکن ان روایات سے یہ مفہوم کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ اگر نیک لوگوں سے محبت ہو تو اعمالِ صالحہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9441
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً قَالَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ إِنْ لَمْ يُحْذِكَ مِنْ عِطْرِهِ عَلِقَكَ مِنْ رِيحِهِ وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السَّوْءِ مَثَلُ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُحْرِقْكَ نَالَكَ مِنْ شَرَرِهِ وَالْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ مُؤْتَجِرًا أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے، اور نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی طرح ہے کہ اگر اس نے تجھے کوئی عطر نہ دیا تو تیرے ساتھ اس کی خوشبو لگ جائے گی، اور برے ہم مجلس کی مثال لوہار کی دھونکنی کی سی ہے کہ اگر اس نے تجھے جلا نہ دیا تو اس کی چنگاریاں تجھ پر ضرور پڑیں گے، اور وہ امانت دار خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں ایک ہے، جو بنیّت ِ ثواب وہ کچھ دے دیتا ہے، جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9441]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه بعضه البخاري: 2101، ومسلم: 2628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19854»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9442
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي كَبْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ مُخْتَصَرًا
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا تھا کہ نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ اوپر والی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9442]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19894»
وضاحت: فوائد: … نیک ہم نشین نیکیوں کا سبب بنے گا اور برا ہم مجلس برائیوں کا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9443
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَفَدْتُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الْوِفَادَةِ لُقِيُّ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَغَزَوْتُ مَعَهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کہیں روانہ ہوا، اس روانگی پر آمادہ کرنے والی چیز سیدنا ابی بن کعب اور دوسرے صحابہ کی ملاقات تھی، پس میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کو ملا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوے بھی کیے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9443]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 7361، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18259»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام سے محبت نے زِرّ بن حبیش کو آنے پر مجبور کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں