الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ حُقوقِ الصُّحْبَةِ وَالْمُؤَاخَاةِ فِي اللَّهِ تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کے لیے صحبت اور بھائی چارے کے حقوق کا بیان
حدیث نمبر: 9464
عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ قَالَ إِنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ دَعَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ السُّلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَسَةَ هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلَا كَذِبٌ وَلَا تُحَدِّثُنِيهِ عَنْ آخَرَ سَمِعَهُ مِنْهُ غَيْرُكَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَصَافَوْنَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ مِنْ أَجْلِي وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي
۔ ابو ظبیہ کہتے ہیں: شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے ابن عبسہ! کیا تم ایسی حدیث بیان کرسکتے ہو، جو تم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور اس میں کسی زیادتی اور جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو، نیز تم نے وہ حدیث کسی اور آدمی سے بیان نہیں کرنی، جو اُس نے سنی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تحقیق میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی، جو میری وجہ سے آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، میری محبت کی وجہ سے ایک دوسروں کی زیارت کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی، میری محبت میری وجہ سے خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری وجہ سے ایک دوسروں کی مدد کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9464]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19662»
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي زِيَارَةِ الصَّاحِبِ وَعِبَادَتِهِ إِذَا مَرِضَ
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9465
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا مَرَّ بِهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ فُلَانًا قَالَ لِقَرَابَةٍ قَالَ لَا قَالَ فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُدُّهَا قَالَ لَا قَالَ فَلِمَ تَأْتِيهِ قَالَ إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ أَنَّهُ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے نکلا، وہ کسی دوسرے گاؤں میں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو مقرر کر دیا، پس جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو اس فرشتے نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: جی فلاں کو ملنے کا ارادہ ہے، فرشتے نے کہا: کسی رشتہ داری کی وجہ سے؟ اس نے کہا: جی نہیں، فرشتے نے کہا: تو پھر اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے کہ اس کی خاطر تو جا رہا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اس نے پوچھا: تو پھر اس کے پاس کیوں جا رہا ہے؟ اس نے کہا: بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں، فرشتے نے کہا: دراصل میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا قاصد ہوں اور یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ اس آدمی سے تیری اس محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے محبت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9465]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7906»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9466
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَارَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ فِي اللَّهِ أَوْ عَادَهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ طِبْتَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) بَعْدَ قَوْلِهِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے بھائی کی زیارت یا عیادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پاکیزہ ہوا اور تو نے جنت سے ٹھکانہ تیار کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: تو بھی پاکیزہ ہے اور تیرا چلنا بھی پاکیزہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9466]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 1443، والترمذي: 2008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8308»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9467
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَهُوَ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ وَفِي لَفْظٍ فَهُوَ فِي أَخْرَافِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغوں میں رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9467]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2568، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22809»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9468
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ قِيلَ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَا
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی تیمارداری کی، وہ اتنی دیر جنت کے چنے ہوئے میوے میں رہا۔ کسی نے کہا: جنت کے خُرْفَۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا چنا ہوا میوہ۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9468]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22748»
وضاحت: فوائد: … لیکن ہمارے ہاں بڑی مصیبتیہ ہے کہ ہم تیمار داری اور عیادت جیسا عظیم حق ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کو بنیاد نہیں بناتے، بلکہ اپنے ذاتی تعلقات اور شخصی مراسم کو سامنے رکھتے ہیں۔ ہم اس شخص کی تیمارداری کرنے کے لیے جائیں گے، جس کے ساتھ ہمارا کوئی دنیوی تعلق ہے یا جو ہماری عیادت کرنے کے لیے آیا ہو گا یا جو مالدار ہو گا، ایسے تعلق کو مسکراہٹوں اور احسانات کا تبادلہ کہتے ہیں۔ بیچ میں للہیت کا فقدان ہے۔ ایسے لوگ شاذ و نادر ہیں جو اپنے بھائی کی تیمارداری کرنے کے لیے اسلام کو بنیاد بناتے ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انْطَلِقُوْا بِنَا إِلَی الْبَصِیْرِ الَّذِی فِی بَنِیْ وَاقِفٍ نَعُوْدُہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً أَعْمٰی۔ ہمیں اس صاحبِ بصیرت آدمی کے پاس لے چلو جو بنو واقف قبیلے
کا ہے، تاکہ ہم اس کی تیمار داری کر سکیں۔ اور وہ نابینا آدمی تھا۔ (أخرجہ أبوسعید بن الأعرابی فی معجمہ: ۱۳۳/۱، صحیحہ:۵۲۱)
بیمار آدمی کا حق ہے کہ دوسرے لوگ اس کی تیمار داری کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق ادا کرنے میں اعلی و ادنی اور امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں، نہ کہ مال ومنال اور اپنے دوستانہ جذبات کا، بیمار پرسی کرنا باعث ِ اجر و ثواب عمل ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انْطَلِقُوْا بِنَا إِلَی الْبَصِیْرِ الَّذِی فِی بَنِیْ وَاقِفٍ نَعُوْدُہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً أَعْمٰی۔ ہمیں اس صاحبِ بصیرت آدمی کے پاس لے چلو جو بنو واقف قبیلے
کا ہے، تاکہ ہم اس کی تیمار داری کر سکیں۔ اور وہ نابینا آدمی تھا۔ (أخرجہ أبوسعید بن الأعرابی فی معجمہ: ۱۳۳/۱، صحیحہ:۵۲۱)
بیمار آدمی کا حق ہے کہ دوسرے لوگ اس کی تیمار داری کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق ادا کرنے میں اعلی و ادنی اور امیر و غریب کا کوئی امتیاز نہیں کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم انسانیت کا احترام کریں، نہ کہ مال ومنال اور اپنے دوستانہ جذبات کا، بیمار پرسی کرنا باعث ِ اجر و ثواب عمل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي عِبَادَةِ الْمَرِيضِ مُطْلَقًا وَثَوَابِ ذلك
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9469
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ شَامِتًا قَالَ لَا بَلْ عَائِدًا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ عَائِدًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مَشَى فِي خِرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ابو موسی، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی بیمارپرسی کرنے کے لیے آئے، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: تیمارداری کرنے کے لیے آئے ہو یا مصیبت پر خوش ہونے کے لیے؟ انھوں نے کہا: تیمار داری کرنے کے لیے۔ یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ واقعی تیمار داری کرنے کے لیے آئے ہیں تو سنیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بندہ اپنے مسلمان بھائی کی تیمار داری کرنے کے لیے جاتا ہے تو وہ جنت کے چنے ہوئے میووںمیں چل رہا ہوتا ہے اور جب وہ (مریض کے پاس) بیٹھتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اگر یہ صبح کا وقت ہو تو شام تک اور شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9469]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3099، وابن ماجه: 1442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 612»
وضاحت: فوائد: … ہمیں چاہئے کہ اپنے و پرائے، ادنی و اعلی، آشنا و ناآشنا، محسن و غیر محسن اور امیر و غریب کو مدنظر رکھے بغیر اسلام کے رشتے کو سامنے رکھ کر بیماروں کی تیمار داری کیا کریں، کیونکہ ایسا کرنے میںہی للہیت پائی جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9470
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَى بَلْ جِئْتُ عَائِدًا فَقَالَ عَلِيٌّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَادَ مَرِيضًا بَكَرًا شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ
۔ (دوسری سند) عبداللہ بن نافع کہتے ہیں: سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: عیادت کرنے کے لیے آئے ہو یا محض زیارت کرنے کے لیے؟ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں عیادت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی صبح کے وقت کسی مریض کی تیمارداری کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کو رخصت کرنے کے لیے اس کے ساتھ اس کے مکان تک جاتے ہیں اور یہ سارے فرشتے شام تک اس کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ بن جاتا ہے، اور اگر وہ شام کو عیادت کرتا ہے تو اسی طرح ستر ہزار فرشتے اس کو رخصت کرنے کے لیے جاتے ہیں اور صبح تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ بن جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9470]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 975»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9471
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ مِنْ أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ وَمِنْ أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان اپنے بھائی کی تیمار داری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتوں کو بھیجے گا، یہ اس کے لیے دعائے رحمت کریں گے، اگر وہ دن کی کسی گھڑی میں یہ عمل کرے تو دعا کا یہ سلسلہ شام تک اور اگر رات کو عیادت کرے تو یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9471]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 955»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9472
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ عَادَ مَرِيضًا مَشَى فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مریض کی عیادت کرتا ہے، وہ جنت کے چنے ہوئے میووں میں چلتا ہے اور جب وہ اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو وہ رحمت میں ٹھہر جاتا ہے، اور جب اس کے پاس سے نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتوں کو اس کے ساتھ مقرر کر دیا جاتا ہے، وہ اس دن اس کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9472]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم (9469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1166»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ ( (مَرِضْتُ فَلَمْ يَعُدْنِي ابْنُ آدَمَ وَظَمِئْتُ فَلَمْ يَسْقِنِي ابْنُ آدَمَ فَقُلْتُ أَتَمْرَضُ يَا رَبِّ قَالَ يَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِي مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُعَادُ فَلَوْ عَادَهُ كَانَ مَا يَعُودُهُ لِي وَيَظْمَأُ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُسْقَى فَلَوْ سُقِيَ كَانَ مَا سَقَاهُ لِي) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں بیمار ہو گیا، لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی اور میں پیاسا ہو گیا، لیکن ابن آدم نے مجھے پانی نہیں پلایا، میں نے کہا: اے میرے ربّ! کیا تو بھی بیمار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا: زمین میں میرے بندوں میں سے ایک بندہ بیمار ہوا، لیکن اس کی تیمار داری نہیں کی گئی، اگر آدم کا بیٹا اس کی عیادت کرتا تو میرے لیے ہوتی، اسی طرح ایک آدمی کو پیاس لگی، لیکن اس کو پانی نہیں پلایا گیا، اگر اس کو پانی پلایا جاتا تو وہ پلائی ہوئی چیز میرے لیے ہوتی۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9473]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2569، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9231»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تکالیف کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح