الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنَ الظُّلْمِ وَالْبَاطِلِ والاعانة عَلَيْهما
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9770
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ مِنْ قَوْلِهِ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ الْخَ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: … پھر مذکورہ حدیث کے الفاظ اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ سے لے کر آخر تک بیان کیے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9770]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/183، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16115»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9771
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ كَانَتْ يَعْنِي عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ لَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ) )
۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال یا عزت پر ظلم کر رکھا ہو تو وہ اس کے پاس جا کر تصفیہ کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آجائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9771]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9613»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر دنیا میں کی گئیں دست درازیاں دنیا میں ہی معاف نہ کروا لی گئیںیا ان کی تلافی نہ کر دی گئی تو آخرت میں ان کا معاملہ نہایت خطرناک ہو گا، لیکن ہمارے ماحول میں حقوق العباد کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، جو کہ باعث ِ ہلاکت امر ہے۔ ہمارے ہاں انسان کو بحیثیت انسان نہیں دیکھا جاتا، بلکہ کسی سے حسنِ سلوک یا بد سلوکی کرنے کے لیےرشتوں اور دوستیوں کا تعین کیا جاتا ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا سرے سے انسان کا امتیاز ہی نہیں ہے۔ یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6534
حدیث نمبر: 9772
عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبِي وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ قَالَ ( (لَا وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ) )
۔ عباد بن کثیر شامی، جو کہ فلسطین کا ایک باشندہ تھا، اپنے خاندان کی فسیلہ نامی ایک خاتون سے روایت کرتا ہے، اس نے اپنے باپ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدمی کا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت میں سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عصبیت تو یہ ہے کہ بندہ ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9772]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 5119، وابن ماجه: 3949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17114»
وضاحت: فوائد: … اسلام نے حکم دیا ہے کہ رشتہ داروں سے محبت کی جائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور عصبیت سے بچے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 9773
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَثَلُ الَّذِي يُعِينُ عَشِيرَتَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ مَثَلُ الْبَعِيرِ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يُمَدُّ بِذَنَبِهِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے رشتہ داروں کا ناحق چیز پر تعاون کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے، جس کو کنویں میں گرا دیا جائے اور پھر اس کو اس کی دم سے کھینچا جائے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9773]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن عند من يصحح سماع عبد الرحمن من ابيه، وضعيف عند من يقول: انه لم يسمع منه الااليسير، فقد مات ابوه وعمره ست سنوات، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3726»
وضاحت: فوائد: … مراد یہ ہے کہ وہ آدمی ایسے اونٹ کی طرح ہلاک ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن عند من يصحح سماع عبد الرحمن من ابيه
حدیث نمبر: 9774
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ابْنَ آدَمَ اعْمَلْ كَأَنَّكَ تَرَى وَعُدَّ نَفْسَكَ مَعَ الْمَوْتَى وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! تو عمل کر، گویا کہ تو دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مردوں کے ساتھ شمار کر اور مظلوم کی بد دعا سے بچ۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9774]
تخریج الحدیث: «حديث قابل للتحسين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8503»
وضاحت: فوائد: … اگر اس حدیث پر عمل کیا جائے تو آخرت کی تیاری فکر مندی سے ہو سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث قابل للتحسين
حدیث نمبر: 9775
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مظلوم کی دعا قبول کی جاتی ہے، اگرچہ وہ برا ہی کیوں نہ ہو، اس کی برائی اس کے نفس پر ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9775]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي معشر، أخرجه الطيالسي: 2330، وابن ابي شيبة: 10/ 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8781»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مظلوم کی بد دعا سے بچنے کے لیے عام اور مطلق حکم دیئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي معشر
حدیث نمبر: 9776
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتُفْتَحُ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان تین افراد کی دعا ردّ نہیں جاتی: عادل حکمران، روزے دار جب افطاری کرے اور مظلوم کی دعا تو بادلوں پر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9776]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده دون قوله: يوم القيمة، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابي مدلة، أخرجه ابن ماجه: 1752، والترمذي: 3598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9741»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده دون قوله: يوم القيمة
11. بَاب مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنَ الْحَسَدِ وَالْبَغْضَاءِ وَالْغَش
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9777
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعْرِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ) )
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے والی امتوں کی بیماری تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہے، یعنی حسد اور بغض، یہ بیماری مونڈ دینے والی ہے، دین کو، سر کو نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! تم اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گے، جب تک آپس میں محبت نہیں کرو گے، کیا میں تمہیں ایسی چیز بتا دوں کہ اگر اس پر عمل کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے، آپس میں سلام کو عام کرو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9777]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، يعيش بن الوليد لم يدرك الزبير، ولقصة افشاء السلام شاھد من حديث ابي ھريرة عند مسلم، أخرجه الترمذي: 2510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1412»
وضاحت: فوائد: … کسی شخص کا دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور یہ تمنا کرنا کہ اس کی نعمت و خوشحالی ختم ہو جائے اور وہ اسے مل جائے حسد کہلاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے حسد سے منع فرمایا ہے، بلکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدََ یَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔)) … حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
(ابوداود، وفیہ راوٍ مجہول، لکن لہ شاہد عن انس عند ابن ماجہ وفیہ عیسی بن ابی عیسی ضعیف)
حسد ایک قبیح وصف ہے جس سے بغض، کینہ، کدورت، باہمی دشمنی اور قطع تعلقی جیسی صفات ِ بد جنم لیتی ہیں۔ خود حسد کرنے والا ذہنی اذیت اور قلبی بے سکونی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلم معاشرہ میں شرّ و فساد جنم لیتا ہے اور لوگ خیر و بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دراصل حسد، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پرراضی نہ ہونے کی ایک صورت ہے، کیونکہ ہم کسی آدمی سے اس کی جن خوبیوں اور اہلیتوں کی بنا پر حسد کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوتی ہیں، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو کر کسی کے بارے میں یہ تمنائے بد نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اپنی خوبیوں سے محروم ہو جائے۔
(ابوداود، وفیہ راوٍ مجہول، لکن لہ شاہد عن انس عند ابن ماجہ وفیہ عیسی بن ابی عیسی ضعیف)
حسد ایک قبیح وصف ہے جس سے بغض، کینہ، کدورت، باہمی دشمنی اور قطع تعلقی جیسی صفات ِ بد جنم لیتی ہیں۔ خود حسد کرنے والا ذہنی اذیت اور قلبی بے سکونی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مسلم معاشرہ میں شرّ و فساد جنم لیتا ہے اور لوگ خیر و بھلائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دراصل حسد، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پرراضی نہ ہونے کی ایک صورت ہے، کیونکہ ہم کسی آدمی سے اس کی جن خوبیوں اور اہلیتوں کی بنا پر حسد کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوتی ہیں، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو کر کسی کے بارے میں یہ تمنائے بد نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اپنی خوبیوں سے محروم ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 9778
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بھاؤ چڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9778]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7713»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1663
حدیث نمبر: 9779
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ) ) فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَنْطِفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ قَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ فِي يَدِهِ الشِّمَالِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ الْمَرَّةِ الْأُولَى فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ فَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيَالِيَ الثَّلَاثَ فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ وَتَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبَّرَ حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا فَلَمَّا مَضَتِ الثَّلَاثُ لَيَالٍ وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هَجْرٌ ثَمَّ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ( (يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ) ) فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ لِأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِيَ بِهِ فَلَمْ أَرَكَ تَعْمَلُ كَثِيرَ عَمَلٍ فَمَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ قَالَ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا وَلَا أَحْسُدُ عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الَّتِي بَلَغَتْ بِكَ وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تمہارے پاس جنتی آدمی آنے والا ہے۔ پس ایک انصاری آدمی آیا، وضو کی وجہ سے اس کی داڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا اور اس نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنے جوتے لٹکائے ہوئے تھے، اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی اور وہی آدمی اسی پہلے والی کیفیت کے ساتھ آیا، جب تیسرا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرما دی کہ تمہارے پاس جنتی آدمی آنے والا ہے۔ اور (اللہ کا کرنا کہ) وہی بندہ اپنی سابقہ حالت کے ساتھ آ گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اس آدمی کے پیچھے چل پڑے اور اس سے کہا: میرا ابو جان سے جھگڑا ہو گیا ہے اور میں نے ان کے پاس تین دن نہ جانے کی قسم اٹھا لی ہے، اگر تم مجھے اپنے پاس جگہ دے دو، یہاں تک کہ یہ مدت پوری ہو جائے، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، تشریف لائیے۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس نے اس آدمی کے ساتھ تین راتیں گزاریں، وہ رات کو بالکل قیام نہیں کرتا تھا، البتہ جب بھی وہ جاگتا اور اپنے بستر پر پہلو بدلتا تو وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا اور تکبیرات پڑھتا، یہاں تک کہ نمازِ فجر کے لیے اٹھتا، علاوہ ازیں اس کا یہ وصف بھی تھا کہ وہ صرف خیر و بھلائی والی بات کرتا تھا، جب تین راتیں گزر گئیں اور قریب تھا کہ میں اس کے عمل کو حقیر سمجھوں، تو میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرے اور میرے ابو جان کے مابین نہ کوئی غصے والی بات ہوئی اور نہ قطع تعلقی، تیرے پاس میرے ٹھہرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین بار یہ فرماتے ہوئے سنا: ابھی ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اور تین بار تو ہی آیا، پس میں نے ارادہ کیا کہ تیرا عمل دیکھنے کے لیے تیرے گھر میں رہوں اور پھر میں بھی تیرے عمل کی اقتدا کروں، لیکن میں نے تجھے دیکھا کہ تو تو زیادہ عمل ہی نہیں کرتا، اب یہ بتلا کہ تیرے اندر وہ کون سی صفت ہے کہ جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث بیان کی (اور اس کا مصداق بنا)؟ اس نے کہا: میرا عمل تو وہی ہے جو تو نے دیکھ لیا ہے، پھر جب میں جانے لگا تو اس نے مجھے دوبارہ بلایا اور کہا: میرا عمل تو وہی ہے، جو تو نے دیکھ لیا ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ میرے نفس میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی دھوکہ نہیں ہے اور جس مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے جو خیر عطا کی ہے، میں اس پر اس سے حسد نہیں کرتا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بس یہی چیز ہے، جس نے تجھے اس مقام پر پہنچا دیا ہے اور یہ وہ عمل ہے کہ جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9779]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 20559، والبزار: 1981، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12727»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين