🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغِنَى مَعَ الْحِرْصِ
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9810
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ فَوَافَتْ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ فَقَالَ أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ وَجَاءَ بِشَيْءٍ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَابْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ
۔ بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بحرین سے مصالحت کر لی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مال لے کر بحرین سے واپس آئے اور انصار کو ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نمازِ فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے تو انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم کو پتہ چل گیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر واپس آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والے والی ہے، اللہ قسم کی ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا کوئی ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے خوف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کو تم پر فراخ کر دیا جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کی گئی اور پھر تم اس میں اس طرح پڑ جاؤ، جیسے وہ لوگ پڑ گئے تھے اور پھر وہ تم کو اس طرح غافل کر دے، جیسے ان لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9810]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17366»
وضاحت: فوائد: … کوئی شک نہیں ہے کہ دنیوی مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں کو اس نعمت نے دھوکہ دیا ہے، لیکن سرمایہ دار اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہوں احادیث نمبر (۹۲۶۳، ۹۲۷۵)۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2961
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الْمَالِ
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9811
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ كَمْ مَالُكَ قَالَ أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى الثَّالِثَ وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا فَقُلْتُ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ فَمُرْ بِنَا إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ فَقَالَ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ أُبَيٌّ هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُثْبِتُهَا قَالَ فَأَثْبِتْهَا
۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی سوال کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ کبھی اس کے سر کی طرف دیکھتے اور کبھی پاؤں کی طرف، آپ اس پر غربت کی کوئی علامت دیکھنا چاہتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے کہا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: جی چالیس اونٹ ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا اور مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھر دیتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تم کیا بیان کر رہے ہو؟ میں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسے ہی پڑھایا ہے، انھوں نے کہا: اس کو ہمارے پاس آنے کا حکم دو، پس سیدنا ابی رضی اللہ عنہ آ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارے حوالے سے یہ کیا کہتے ہیں؟ سیدناابی نے کہا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسے ہی پڑھایا تھا، انھوں نے کہا: تو کیا میں ان الفاظ کو ثابت کر دوں؟ انھوں نے کہا: جی کر دو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9811]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21428»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9812
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کو اس طرح کی ایک اور وادی مل جائے اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کے نفس کو بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ آیایہ قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9812]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6436، 6437، ومسلم: 1049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3501»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6436
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9813
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَيَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو یہ بات بیان فرماتے: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، مٹی ہی ہے، جو اس کے منہ کو بھر سکتی ہے، اور ہم نے مال تو اس لیے بنایا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9813]
تخریج الحدیث: «ضعيف الا قوله صلي الله عليه وآله وسلم: لَوْ كَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰي وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَاُ فَمَهُ اِلَّا التُّرْابُ فانه صحيح بالشواھد، مجالد ضعيف، أخرجه البيھقي بي شعب الايمان: 10280، والبزار في مسنده: 3640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24780»

الحكم على الحديث:
ضعيف الا قوله صلي الله عليه وآله وسلم : لَوْ كَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9814
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ وَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنتا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آیایہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی طرف کہہ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والی کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9814]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12253»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1048
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9815
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس کھجور کے درختوں کی ایک وادی ہو تو وہ اس طرح کی ایک اور وادی کی تمنا کرے گا، پھر ایک اور وادی کی خواہش کرنے لگے گا، یہاں تک کہ اس میں کئی وادیوں کی خواہش پیدا ہو جائے گی، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9815]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 3636، وابويعلي: 1899، وابن حبان: 3232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14720»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9816
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں اس چیز کی بھی تلاوت کرتے تھے: اگر ابن آدم کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش شروع کر دے گا، بس مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9816]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 5032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19495»
وضاحت: فوائد: … انسان ہمیشہ مزید کی تلاش میں رہتا ہے اور قناعت نہیں کرتا، اگر دنیوی وسیع رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہیزگاری ملی ہوئی ہو اور مال و دولت کے شرعی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہو تو پھر غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۳۱)۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9817
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعَفُ جِسْمُهُ وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْعُمْرِ وَالْمَالِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بزرگ عمر رسیدہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو رہا ہوتا ہے، لیکن ابھی تک اس کا دل دو چیزوں کی محبت کے سلسلے میں جوان ہوتا ہے، لمبی عمر اور مال۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9817]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه ومختصرا منه البخاري: 6420، ومسلم: 1046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8403»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9818
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم ادھیڑ عمری میں پہنچ جاتا ہے اور ابھی تک اس کی دو چیزیں باقی ہوتی ہیں، حرص اور امید۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9818]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6421، ومسلم: 1047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12166»
وضاحت: فوائد: … ادھیڑ عمری میں بھییہ شعور نہیں آتا کہ دنیائے فانی سے روانگی کا وقت بالکل قریب آ چکا ہے، لہٰذا ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول ہو جانا چاہیے، بس دنیا کی طرف سے ملنے والا پروٹوکول اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی اس کا چسقا نہیں بھول پاتا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6421
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9819
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ أَفْسَدَا لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر دو بھیڑیئے بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ ان کا اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنا بندے کے مال اور شرف پر حریص ہونے سے اس کے دین کا نقصان ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9819]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15876»
وضاحت: فوائد: … مال اور شرف کی حرص بندے کے دین میں فساد برپا کر دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ جائز طریقے سے دنیوی مال و دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اندر اتنی عاجزی و انکساری پیدا کر لے کہ وہ اس چیز کا طلبگار نہ رہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں