الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنْ هَجْرِ الْمُسْلِمِ وَتَرْوِيعِهِ وَالاضْرَارِ به
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9790
عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً وَقَالَ مَرَّةً أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنِ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان (کی غیبت یا اس کی توہین یا اس کو اذیت پہنچا کر) کوئی لقمہ کھایا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی طرح کا لقمہ جہنم سے کھلائے گا، جس نے کسی مسلمان (کی اہانت کرنے کا) لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی مثل کا لباس جہنم سے پہنائے گا اور جو آدمی کسی آدمی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت والے دن شہرت کے مقام پر کھڑا کریں گے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9790]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4881، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18174»
وضاحت: فوائد: … ابن اثیر نے النھایۃ میں پہلے دو جملوں کا مفہوم یہ بیان کیا: ایک آدمی کسی کا دوست بنتا ہے، پھر وہ اس کے دشمن کے پاس جا کر اسی دوست پر عیب جوئی کرتا ہے، تاکہ وہ اس بنا پر اس کو کوئی انعام وغیرہ دے کر دنیوی فائدہ پہنچائے۔ جو آدمی کسی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی مال و منال اور جاہ و حشمت والے لوگوںمیں کوئی مقام بنا کر تقوی و صلاحیت کا اظہار کرے، تاکہ اسے بھی مال مل جائے اور اس کا مرتبہ بھی بلند ہو۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 9791
عَنْ أَبِي صِرْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو نقصان پہنچایا، اللہ تعالیٰ اس کو نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی پر مشقت ڈالی، اللہ تعالیٰ اس پر مشقت ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9791]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بشواھده، أخرجه ابوداود: 3635، وابن ماجه: 2342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15847»
وضاحت: فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۷۱۰)
الحكم على الحديث:
حديث حسن بشواھده
حدیث نمبر: 9792
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ثُمَّ قَالَ إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ فَلْيُغَمِّدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلَهُ إِيَّاهُ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رضی اللہ عنہ ایسی قوم کے پاس آئے جو ننگی تلوار لے دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو اس طرح کرتا ہے، کیا میں نے تم کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تلوار ننگی کر کے اس کو دیکھے اور پھر وہ دوسرے کو پکڑانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو کسی چیز میں ڈھانک کر دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9792]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الحاكم: 4/ 290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:20429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20700»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کی حفاظت کے لیےیہ حکم دیا جا رہا ہے، تاکہ نادانستہ طور پر بھی تلوار کسی کو لگ نہ جائے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9793
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى نَبْلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَزِعَ فَضَحِكَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَا يُضْحِكُكُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبْلَ هَذَا فَفَزِعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا
۔ عبد الرحمن بن لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابۂ کرام نے ہم کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، ایک آدمی سو گیا، کچھ ساتھی اس کی طرف گئے اور اس کے تیر پکڑ لیے، جب وہ بیدار ہوا تو گھبرا گیا، لوگ ہنس پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی کوئی بات نہیں ہے، بس ہم نے اس کے تیر پکڑ لیے تو وہ گھبرا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلمان کو گھبرا دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9793]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23452»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَأْخُذَنَّ أَحَدُکُمْ مَتَاعَ أَخِیہِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِیہِ فَلْیَرُدَّہَا۔)) … کوئی آدمی ہر گز اپنے بھائی کا سامان نہ اٹھائے، نہ ہنسی مذاق میں اور نہ حقیقت میں سچے طور پر، جس نے اپنے بھائی کی لاٹھی بھی لی ہے، تو وہ اسے واپس کر دے۔ (ابوداود: ۵۰۰۳، ترمذی: ۲۱۶۰)
مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو انتہائی محترام و محفوظ چیزیں ہیں، ہنسی مذاق میں بھی کسی کی ہتک کر دینایا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
آج کل تو لوگ جان بوجھ پہلے کسی کی چیز چرا لیتے ہیں، اور پھر ملنے کی خوشی میں اس پر کچھ کھلانے پلانے کا جرمانہ ڈال دیتے ہیں، ایسا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو انتہائی محترام و محفوظ چیزیں ہیں، ہنسی مذاق میں بھی کسی کی ہتک کر دینایا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
آج کل تو لوگ جان بوجھ پہلے کسی کی چیز چرا لیتے ہیں، اور پھر ملنے کی خوشی میں اس پر کچھ کھلانے پلانے کا جرمانہ ڈال دیتے ہیں، ایسا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنَ التَّجَمْسِ وَسُوءِ الظَّنِّ
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9794
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں کو نہ تکلیف دو، نہ ان کو عار دلاؤ اور نہ ان کے عیوب تلاش کرو، کیونکہ جس نے اپنے بھائی کا عیب تلاش کیا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جائے گا حتی کہ وہ اس کو اس کے گھر کے اندر ذلیل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9794]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22765»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر، کتنی حرمت ہے صاحب ِ اسلام کی، کاش ہمارا مزاج یہ بن جاتا کہ ہم اپنی اصلاح کرتے اور دوسروں کے مثبت پہلو دیکھ کر ان کی قدر کرتے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9795
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ امْرَأً) اطَّلَعَ بِغَيْرِ إِذْنِكَ فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی تیری اجازت کے بغیر تجھ پر جھانکتا ہے اور تو اس کو کنکری مار کر اس کی آنکھ کو پھوڑ دیتا ہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9795]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6902، ومسلم: 2158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7311»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6902
حدیث نمبر: 9796
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَأُوا عَيْنَهُ فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کے لیے دیت ہو گی نہ قصاص۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9796]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8985»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8985
حدیث نمبر: 9797
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ مَعَهُ فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھانکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلکا لے کر اس کی طرف جھکے، لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9797]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12078»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6889
حدیث نمبر: 9798
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو، پس بیشک بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ میں نہ لگ جاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، مقابلہ بازی میں نہ پڑو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9798]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10080»
وضاحت: فوائد: … مسلمانوں اور مومنوں کا اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رشتہ بیان کیا ہے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا یہ بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسرے مسلمان کا خیر خواہ بنے اور اس کے لیے دل میں وسعت پیدا کرے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9799
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اچھا گمان رکھنا حسنِ عبادت میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9799]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، قاله زبير علي زئي، أخرجه ابوداود: 4993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7943»
وضاحت: فوائد: … مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان از خود تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کا موقع نہ دے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن