🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الْخمَاسِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدٍ
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10008
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ وَلَا كَاهِنٌ وَلَا مَنَّانٌ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس میں یہ پانچ چیزیں پائی جائیں گی، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، جادو پر ایمان لانے والا، قطع رحمی کرنے والا، نجومی اور احسان جتلانے والا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10008]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه البزار: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11781/2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11803»

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّدَاسِيَّاتِ
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10009
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِيعُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10009]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7713»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2564
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10010
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعَ وَهَاتِ) )
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10010]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2408، ومسلم: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18328»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2408
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10011
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعْنَهُ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا شِغَارَ وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَنَبَ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ان سے یہ معاہدہ لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، کچھ خواتین نے کہا: اے اللہ کے رسول! بعض خواتین نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں ہماری مدد کی تھی، کیا ہم اسلام میں ان کی مدد کر سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ ایسی مدد ہے، نہ شغار ہے، نہ عَقْر ہے، نہ جلب ہے اور نہ جنب ہے اور جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10011]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 3222، والترمذي: 1601،و النسائي: 4/ 16، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13063»
وضاحت: فوائد: … نوحہ میں ایک دوسرے کی مدد کو اِسْعَاد کہتے ہیں، دورِ جاہلیت میں خواتین نوحہ کرنے میں باقاعدہ ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اسلام میں تو سرے سے نوحہ سے ہی منع کر دیا۔
عَقْر کی صورت یہ تھی کہ جو آدمی اپنی زندگی میں سخاوت کرتا تھا، لوگ اس کی قبر پر اونٹ نحر کرتے اور کہتے کہ ہم اس میت کو اس کے عمل کا بدلہ دے رہے ہیں، اسلام نے اس رسم سے بھی منع کر دیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 3222
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10012
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ وَعَنْ صَلَاتَيْنِ وَعَنْ نِكَاحَيْنِ سَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دنوں کے روزے سے، دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرمایا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عید الفطر اور عید الاضحی کے روزوں سے اور بھانجی اور اس کی خالہ کو اور بھتیجی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10012]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 1268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11660»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10013
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَبْسًا الْغَفَّارِيَّ وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبْسٌ يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ وَلَا يُرَدُّ فَيَسْتَعْتِبُ) ) فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشْئًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا) )
۔ علیم کہتے ہیں: ہم ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک صحابی بھی ہمارے پاس موجود تھے، یزید راوی کہتے ہیں: میرا خیال یہی ہے کہ وہ سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت لوگ طاعون میں نکل رہے تھے، اتنے میں عبس نے تین بار کہا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے، عُلَیم نے کہا: تم یہ دعا کیوں کرتے ہو؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اس وقت اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں اور نہ اس کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکے۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے مر جاؤ، بیوقوفوں کی حکومت، پولیس کی کثرت، انصاف کے بکنے، خون کے کم قیمت ہو جانے اور قطع رحمی سے پہلے اور قبل اس کے کہ لوگ قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر کیف و سرور میں آئیں اور کسی آدمی کو صرف اس لیے (امامت کے لیے) آگے کریں کہ وہ گاگا کر تلاوت کرتا ہے، اگرچہ وہ ان میں سب سے کم فہم و فقہ والا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10013]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 1610، والطبران في الكبير: 18/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16136»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10014
عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ قَالَ قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالَ فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا عُمِّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ) ) وَفِي رِوَايَةٍ ( (إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمْرِ إِلَّا خَيْرًا) ) قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشَأً يَنْشَؤُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ وَسَفْكَ الدَّمِ
۔ شداد بن ابی عمار شامی سے مروی ہے کہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف کھینچ لے، لوگوں نے کہا: تم یہ کیوں کہتے ہو جبکہ تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤمن کو زیادہ عمر ملتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، میں نے یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں چھ چیزوں سے ڈرتا ہوں: بیوقوفوں کی حکومت، انصاف کے فروخت ہونے، پولیس کی کثرت، قطع رحمی اور لوگوں کا قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر مزے لینا اور قتل۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10014]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابن ابي شيبة: 15/244، والطبراني في الكبير: 18/ 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24470»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره أخرجه ابن ابي شيبة: 15/244
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّبَاعِيَّاتِ
سات سات امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10015
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ) ) قَالَهَا ثَلَاثًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جس نے زمین کے نشانات بدلے، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کیلیے ذبح کیا، اللہ ایسے غلام پر لعنت کرے جس نے اپنے آقا کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا مالک بنایا، اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جس نے اندھے کو رستے سے بھٹکا دیا، اللہ ایسے شخص پرلعنت کرے جس نے چوپائے سے بدفعلی کی اور اللہ ایسے شخص پرلعنت کرے جس نے قومِ لوط والا فعل کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10015]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2915 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2915»
وضاحت: فوائد: … مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، خدا کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔ اس حدیث میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے، زمین کے نشانات بدلنے، نابینے کو رستہ بھٹکانے، والدین کو برا بھلا کہنے، غلام کا اپنے آقا کو بدلنے، چوپائے سے بدفعلی کرنے اور لواطت یعنی مرد کا مرد سے برائی کرنے کی قباحت و شناعت کا بیان ہے کہ ایسے بدنصیبوں کے حق میں لعنت کی بددعا کی گئی ہے۔
زمین کے نشانات سے مراد دو مختلف مالکوں کی زمینوں کے درمیان حد فاصل اور راستوں کی علامتیں اور سنگ ِ میل ہیں۔ یہ حدیث اسلام کی عالمگیریت اور ہر دور سے اس کی مکمل ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اگرچہ زمانہ قدیم میں بھی مسافر کی صحیح راہنمائی کے لیے شاہراہوں پر کچھ نشانات لگائے جاتے تھے، بہرحال عصر حاضر کی پختہ سڑکوں پر موڑوں کی نشاندہی، فاصلوں کے تعین، اترائی و چڑھائی کی نشاندہی اور مختلف آبادیوں اور شہروں کے نام اور ان کی طرف تیروں کے نشانات نے اس حدیث ِ مبارکہ کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری باتیہ ہے کہ عہد پارینہ کی بہ نسبت زمین کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اس لیے حدبندی زیادہ ضروری امر ہو گیا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے ایسی پابندیاں روزِ اول سے ہی نافذ کر دی تھیں۔ نیز سنگ ِ میل وغیرہ کو بدلنا اور اندھے کو غلط راستے پر لگادینا اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اسلام نے احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ خیال رکھا۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے میں لواطت کی قباحت کا بیان ہے، زمین کے کئی خطوں میں بسنے والے لوگ اس غیر فطرتی اور انتہائی گندے فعل میں مبتلا ہیں، بہرحال ایسا کرنے والے ملعون ہیں اوراسلام کے نزدیک ان کی سزا قتل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10016
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَالْمُشَاغَرَةِ وَالْمُكَامَعَةِ وَالْوِصَالِ وَالْمُلَامَسَةِ
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان امور سے منع فرمایا ہے: دانتوں کو باریک کرنا، تل بھرنا، بالوں کو اکھاڑنا، شغار، مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا، عورت کے بال کے ساتھ مزید بال ملانا اور بیع ملامسہ۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10016]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4049، وابن ماجه: 3655، والنسائي: 8/ 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17340»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. فَصْلٌ مِنْهُ فِي السُّبَاعِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدٍ
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10017
عَنْ أَبِي حَرِيزٍ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ خَطَبَ النَّاسَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ سَبْعَةَ أَشْيَاءَ وَإِنِّي أُبْلِغُكُمْ ذَلِكَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْهُ مِنْهُنَّ النَّوْحُ وَالشِّعْرُ وَالتَّصَاوِيرُ وَالتَّبَرُّجُ وَجُلُودُ السِّبَاعِ وَالذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ
۔ ابو حریز کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات اشیاء کو حرام قرار دیا ہے، میں تم کو آپ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور ان سے منع بھی کرتا ہوں، نوحہ کرنا، شعر پڑھنا، تصویریں بنانا، عورت کا غیر شوہر کے سامنے زیبائش کرنا، درندوں کے چمڑے، سونا اور ریشم۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 10017]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17059»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں