🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الثلاثِيَّاتِ الْمَبْدُونَةِ بِعَدَدِ
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9978
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (ثَلَاثٌ مِنْ عَمَلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ النِّيَاحَةُ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ) ) وَكَذَا قُلْتُ لِسَعِيدٍ وَمَا هُوَ قَالَ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جاہلیت کے تین امور ہیں، اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے، نوحہ کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح جاہلیت کی پکار پکارنا کہ اے آلِ فلاں، اے آلِ فلاں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9978]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 3141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7550»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9979
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ( (ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والدین کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9979]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 1536، والترمذي: 1905، 3448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8564»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9980
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ الْإِمَامَ وَلَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نہ تین افراد سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا، ایک وہ آدمی جو کسی بیابان میں زائد پانی پر قبضہ کر لے اور مسافر کو اس سے روک دے، دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیا کے لیے حکمران کی بیعت کرے، اگر وہ اس کو دنیوی مال دے تو وہ بیعت کے تقاضے پورا کرتا ہے اور اگر کچھ نہ دے تو وہ پورا نہیں کرتا، تیسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد اپنا سامان فروخت کرے اور اس بات پر قسم اٹھائے کہ اس نے یہ سامان اتنی قیمت کا لیا ہے، پس اس سے خریدنے والا اس قسم کی وجہ سے اس کی تصدیق کرے، جبکہ حقیقت میں اس کا معاملہ جھوٹ پر ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9980]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2358، ومسلم: 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7435»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2358
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9981
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعَ وَهَاتِ) )
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9981]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2408، ومسلم: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18328»
وضاحت: فوائد: … قیل و قال: اس سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے باتیں کی جائیں اور بغیر تحقیق کے لوگوں کی باتیں بیان کی جائیں۔
کثرت سے سوال کرنا: اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے مال و متاع کا سوال کیا جائے یا غیر ضروری مسائل اور لوگوں کے حالات کے بارے میں پوچھا جائے۔
آجکل گپ شب کے بہانے ان ہی دو چیزوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔
روک لینا اور مانگنا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی پر جس چیز کا خرچ کرنا ضروری ہو، وہ اس کو خرچ نہ کرے اور جس چیز میں اس کا حق نہ ہو، وہ لوگوں سے اس کا سوال کرے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2408
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9982
عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا فَقَالَ ( (لَا هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ) ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطُّهُورِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصَ لَنَا فِيهِ
۔ بنو ثقیف کے ایک آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین چیزوں کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کسی ایک میں بھی رخصت نہیں دی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں لوٹا دیں، وہ غلام تھا اور ہم سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کا اور پھر اس کے رسول کا آزاد شدہ ہے۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا کہ ہمارے علاقے میں بڑی سردی پڑتی ہے، اس لیے ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت نہ دی، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت چاہی کہ ہمیں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کی بھی رخصت نہ دی۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9982]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرج منه قصة ابي بكرة الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 4273، وفي شرح معاني الآثار: 3/ 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17671»
وضاحت: فوائد: … جب کافروں کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں کدو کا برتن استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، عذر کے وقت غسل اور وضو کے بجائے تیمم کرنا درست ہے، لیکن ان لوگوں کا عذر اس لائق نہیں تھا کہ ان کو یہ رخصت دی جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9983
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ) ) قِيلَ وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ قَالَ ( (نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِمْ) )
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد جنت میں داخل نہیں ہوں گے، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا۔ اور جو آدمی شراب پر ہمیشگی والی حالت پر مرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔ کسی نے کہا: غوطہ کی نہر سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ زانی عورتوں کی شرمگاہوں سے نکلنے والی نہر ہو گی، ان کی شرمگاہوں کی بدبو جہنمیوں کو تکلیف دے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9983]
تخریج الحدیث: «قوله منه: ثلاثةلايدخلون الجنة: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر۔ حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي حريز، أخرجه ابن حبان: 5346، وابويعلي: 7248، والحاكم: 4/ 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19798»

الحكم على الحديث:
قوله منه: ثلاثةلايدخلون الجنة: مدمن خمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9984
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) ) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ خَسِرُوا وَخَابُوا قَالَ فَأَعَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ ( (الْمُسْبِلُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلْفِ الْكَاذِبِ أَوِ الْفَاجِرِ وَالْمَنَّانُ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین افراد سے نہ کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟یہ تو خسارہ پانے والے اور ناکام ہونے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار وہی بات دوہرائی اور پھر فرمایا: کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتلانے والا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9984]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم:106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:) 21318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21644»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم:106
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9985
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرَ وَالدَّيْنَ وَالْغُلُولَ) )
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی روح اس حال میں اس کے جسم سے جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، ایک تکبر، دوسری قرض اور تیسری خیانت۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9985]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 1572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22727»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9986
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (ثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ فَمَاتَ وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ وَثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رِدَاءَهُ فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ وَإِزَارَهُ الْعِزَّةُ وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کے (جرم کی سنگینی) بارے میں سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا، اپنے امام کی نافرمانی کی اور اس نافرمانی کے دوران ہی فوت ہو گیا، (۲) وہ لونڈی یا غلام جو آقا سے بھاگ گیااور اسی حالت میں مر گیا، اور (۳) وہ عورت کہ جس کا خاوند اس سے غائب تھا، جبکہ اس نے اس کے دنیا کے اخراجات پورے کیے ہوئے تھے، لیکن اس خاتون نے اپنے خاوند کے بعد (غیروں کے لیے) بناؤ سنگھار کیا، پس تو ان نافرمانوں کے بارے میں سوال نہ کر۔ تین افراد اور بھی ہیں، ان کے (جرم کی سنگینی) کے بارے میں بھی سوال نہ کر، (۱) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی چادر چھیننا چاہی یعنی تکبر کرنا چاہا، پس بیشک اس کی چادر تکبر ہیں اور اس کا ازار اس کی بڑائی ہے، (۲) وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے معاملے میں شک کیا اور (۳) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9986]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3749، وابن حبان: 4559، والحاكم: 1/ 119، والطبراني في الكبير: 18/ 790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24441»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9987
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِابْنِ السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثَةٌ لَتُتَابِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُتَابِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتِ اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّؤُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن سائب سے کہا: یا تو تو تین چیزوں پر میری موافقت کرے گا، یا میں تجھ سے مقابلہ کروں گی، انھوں نے کہا: وہ کون سی چیزیں ہیں؟ اے ام المؤمنین! میں آپ کی موافقت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱)دعا میں سجع کلام سے بچ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایسے نہیں کرتے تھے، (۲)لوگوں کو ایک ہفتے میں ایک دفعہ وعظ کر، اگر تو انکار کرے تو دو بار کر لے، اگر یہ بھی تسلیم نہ کرے تو تین دفعہ کر لیا کر، لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس حالت میں نہ پاؤں کہ تو لوگوں کے پاس آئے، جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں اور تو آ کر ان کی بات کو کاٹ دے، تو نے ان کو چھوڑے رکھنا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ خود تجھے جرأت دلائیں اور بات کرنے کا حکم دیں تو پھر تو ان سے باتیں کر۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9987]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 199، وابن حبان: 978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26340»
وضاحت: فوائد: … کیا کمال نصیحتیں کی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے، یہ اسلام کے سنہری قوانین ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں