🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ وَالتَّرْهِيبِ مِنَ الْكَذِبِ فيه
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9918
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضِحْكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ عَلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور پھر لوگوں کو گوز مار کر ہنسنے کے بارے میں وعظ کیا اور فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اس چیز پر کیوں ہنستا ہے، جو وہ خود بھی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9918]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16324»
وضاحت: فوائد: … خاص طور پر جب کسی کی نادانستہ طور پر ہوا خارج ہو جائے، تو ہم مجلس ایسی سنجیدگی اختیار کریں کہ یوں لگے کہ ان کو اس حرکت کا علم ہی نہیں ہوا، تاکہ متعلقہ بندے کو شرمندگی نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2855
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9919
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9919]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البيھقي: 10/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8462»
وضاحت: فوائد: … اگر بسا اوقات اور مخصوص مواقع پر میانہ روی کے ساتھ ہنسی مذاق کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا،لیکن اگر اس میں افراط اختیار کیا اور حد سے بڑھا جائے تو ایسا کرنے والوں کا رعب اور جمال ختم ہو جاتا ہے،دل پر مردہ پن غالب آ جاتا ہے، بیوقوفوں کو جرأت ملتی ہے اور نتیجہ شرّ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، کہنے والے نے کیا خوب کہا:
أُھَازِلُ حَیْثُ الْھَزْلُ یَحْسُنُ بِالْفَتٰی وَاِنِّیْ اِذْ اَجِدُ الرِّجَالَ لَذُوْ جِدٍّ
میں اس وقت مذاق کر لیتا ہوں، جب نوجوان کو مذاق اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب میں مردوں کو پاتا ہوں تو سنجیدگی والا ہوتا ہوں۔
بسا اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسی مذاق کر رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچ کے دائرے سے نہیں نکلتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوتاہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9920
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْمَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوہو، اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9920]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4998، والترمذي: 1991، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13853»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9921
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ وَكِلَاهُمَا بَدْرِيٌّ وَكَانَ سُوَيْبِطٌ عَلَى الزَّادِ فَجَاءَهُ نُعَيْمَانُ فَقَالَ أَطْعِمْنِي فَقَالَ لَا حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ نُعَيْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاكًا مَزَّاحًا فَقَالَ لَأُغِيظَنَّكَ فَجَاءَ إِلَى أُنَاسٍ جَلَبُوا ظَهْرًا فَقَالَ ابْتَاعُوا مِنِّي غُلَامًا عَرَبِيًّا فَارِهًا وَهُوَ ذُو لِسَانٍ وَلَعَلَّهُ يَقُولُ أَنَا حُرٌّ فَإِنْ كُنْتُمْ تَارِكِيهِ لِذَلِكَ فَدَعُونِي لَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ غُلَامِي فَقَالُوا بَلْ نَبْتَاعُهُ مِنْكَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ فَأَقْبَلَ بِهَا يَسُوقُهَا وَأَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّى عَقَلَهَا ثُمَّ قَالَ لِلْقَوْمِ دُونَكُمْ هُوَ هَذَا فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا قَدِ اشْتَرَيْنَاكَ قَالَ سُوَيْبِطٌ هُوَ كَاذِبٌ أَنَا رَجُلٌ حُرٌّ فَقَالُوا قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ وَطَرَحُوا الْحَبْلَ فِي رَقَبَتِهِ فَذَهَبُوا بِهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرَ فَذَهَبَ هُوَ وَأَصْحَابٌ لَهُ فَرَدُّوا الْقَلَائِصَ وَأَخَذُوهُ فَضَحِكَ مِنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تجارت کی غرض سے بصری کی طرف نکلے، سیدنا نعیمان اور سیدنا سویبط رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، یہ دونوں بدری صحابی تھے، زادِ سفر سیدنا سویبط رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، انھوں نے کہا: جی نہیں،یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آجائیں۔ سیدنا نعیمان بہت زیادہ ہنسانے والے اور مذاق کرنے والے آدمی تھے، پس انھوں نے کہا: میں تجھے ضرور ضرور غصہ دلاؤں گا، پس وہ ایسے لوگوں کے پاس گئے جو سواریاں لے کر جا رہے تھے اور ان سے کہا: تم لوگ مجھ سے ایک پھرتیلا اور چست عربی غلام خرید لو، البتہ وہ زبان دراز ہے، ممکن ہے کہ وہ یہ کہے کہ وہ تو آزاد شخص ہے، اگر اس کی اس بات کی وجہ سے تم نے اس کو چھوڑ دینا ہے تو پھر سودا ہی رہنے دو اور مجھ پر میرے غلام کو خراب نہ کرو، انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تجھ سے دس اونٹنیوں کے عوض خریدیں گے، پس سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ اس ساتھی کو کھینچ کر لے آئے اور اس کو لوگوں کے سامنے لا کر باندھ دیا اور ان کو کہا: یہ لو، وہ غلام یہ ہے، پس لوگ آئے اور انھوں نے اس سے کہا: ہم نے تجھے خرید لیا ہے، سیدنا سویبط رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جھوٹا ہے، میں تو آزاد آدمی ہوں، انھوں نے کہا: اس نے ہمیں تیری ساری بات بتلا دی ہے، پھر انھوں نے اس کی گردن میں رسی ڈالی اور اس کو لے گئے، اتنے میں اُدھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آ گئے اور انھوں نے ان کو واقعہ کی خبر دی، پس وہ اور ان کے ساتھی گئے اور ان کی اونٹنیاں واپس کر کے اس کو واپس لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایک سال تک اس واقعہ سے ہنستے رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9921]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح، أخرجه ابن ماجه: 3719، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27222»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9922
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ اور وہ ان کے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9922]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 3443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23567»
وضاحت: فوائد: … ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((تَاْکُلُ تَمْرًا وَبِکَ رَمَدٌ۔)) … تو کھجور کھاتا ہے، جبکہ تیری آنکھ خراب ہے۔
خشک کھجور کو ذرا زور سے چبانا پڑتا ہے، جبکہ اس سے آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے۔
دوسرے کنارے سے مراد دوسری طرف سے چبانا ہے، دراصل اس صحابی نے بے تکلفی سے بات کی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے۔

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْجِدَالِ وَالْمِرَاءِ
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9923
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9923]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10419»
وضاحت: فوائد: … مجتہدین میں اختلافِ رائے تو یقینی ہے، اس حدیث میں مذکورہ اختلاف سے مراد اس کی ناجائز صورت ہے یا ایسا اختلاف مراد ہے، جو ناجائز صورت تک پہنچا دیتا ہے، جیسے نفس قرآن کے بارے میں اختلاف کرنا یا ایسے معنی میں اختلاف کرنا جس میں سرے سے اجتہاد ہی جائز نہ ہو یا ایسا اختلاف جو شک و شبہ اور فتنہ و فساد کا باعث بنے۔
شارح ابودود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے میں شک کرنا، یا اس موضوع پر غور و خوض کرنا کہ یہ کتاب محدَث ہے یا قدیم،یا متشابہ آیات میں مجادلانہ انداز میں بحث مباحثہ کرنا۔ ان سب امور کا نتیجہ انکار اور کفر کی صورت میں نکلتا ہے۔ یا قرآن مجید کی سات قراء ت پر مناظرہ کرنا اور کسی ایک قراء ت کو حق تسلیم کر لینا اوردوسری کو باطل یا تقدیر والی آیات پر غیر ضروری بحث کرنا یا ان آیات کو موضوعِ بحث بنا کر مضامینِ قرآن میں ٹکراؤ پیدا کرنا، جن کے معانی میں ظاہری طور پر تضاد پایا جاتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۶۰۳ کے تحت، مفہوم پیش کیا گیا)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷)
ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں موافقت پیدا نہ کر سکے تو اس کو اپنے علم و فہم کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ} … (سورۃ النسائ: ۵۹)!
پھر انھوں نے ایک مثال دی:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … (سورۃ النسائ: ۷۸) کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {مَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ} … (سورۃ النسائ: ۷۹) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
تناقض: پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔
(اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۃ الشوریٰ: ۳۰) … تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔)
لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا ہے، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے بیان کیا گیا)۔
اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذا: ضَرَبُوا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُ اللّٰہِ یُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضَا،فَـلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَاعَلِمْتُمْمِنْہُفَقُوْلُوا،وَمَاجَھِلْتُمْفَکِلُوْہٗاِلٰی عَالِمِہِ۔)) … تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے ایک حصے کی وجہ سے اس کے دوسرے حصے کو نہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کے سپرد کر دو۔ (احمد، ابن ماجہ)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9924
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58]
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ نہیں ہوتی، مگر اس طرح کہ وہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیںیا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (سورۂ زخرف: ۵۸) [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9924]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواھده، أخرجه الطبراني: 8067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22557»

الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9925
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَةِ وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9925]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مكحول لم يسمع من ابي ھريرة، ومنصورُ بن آذِين مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8615»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9926
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ آدمی ہے جو سخت جھگڑالوہو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9926]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26223»
وضاحت: فوائد: … مجادلہ اور مخاصمہ اس قدر قبیح صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے موصوف سے بغض رکھتے ہیں، جھگڑا جیسا بھی ہو، بالآخر جھگڑالو کو قابل مذمت بنا کے ہی چھوڑتا ہے۔
جھگڑالو آدمی اپنی تمام تر صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، فسق وفجور بکتا ہے، دوسروں کی حرمتیں پامال کرتا ہے، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جاتا ہے، اس میں تکبر اور نخوت جیسے شیاطین ابھر آتے ہیں، الغرض وہ آپے سے باہر ہو کر لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی کا مصداق بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں حتی الوسع اپنے حق کی خاطر بھی جھگڑا کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَأِنْ کَانَ مُحِقًّا۔)) (ابوداود) … میں اس شخص کے لیے جنت کی اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔
جھگڑالوسے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ نفرت فرماتے ہیںاور اگر غور کیاجائے تو لڑائی جھگڑے میں اتنی بڑی قباحتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی اللہ کا محبوب نہیں ٹھہر سکتا:
۱۔ جھگڑا لو شخص اپنی اصلیت و اوقات پر نظر نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پانی کی بوندسے اسے خوبصورت وجود عطا کرتے ہوئے عقلِ سلیم جیسی عظیم نعمت سے ہمکنار فرمایا، اس قدر عظیم احسان کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی،تعصب اور باہم دست و گریبان ہونے سے باز نہ آئے اور کبرو نخوت کا شکار رہے تو وہ کبھی بھی اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔
۲۔ لڑائی جھگڑا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کئی گناہ شامل ہوجاتے ہیں، مثلاً ہاتھ اور زبان کا ناروا استعمال، بغض،حسد، تہمت اور گالم گلوچ وغیرہ۔غرض کہ آدمی لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے، ایمان و اسلام کی تمام اقدار کھو دیتا ہے،اور فسق و فجور تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میںایمان کی رتی ہو وہ شخص ضدی، ہٹ دھرم اور جھگڑالونہیں ہوتا۔ نیز جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے اُس پر کسی وقت بھی اپنا عذاب نازل فرمادیتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2668
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَشْقِيقِ الْكَلَامِ وَالتَّشَدُّقِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي الْبَيَانِ فِي الْقَوْلِ
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9927
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ آدمیوں میں سے اس بلاغت جھاڑنے والے شخص کو سخت ناپسند کرتا ہے جو (منہ پھاڑ پھاڑ کر تکلف و تصنّع سے گفتگو کرتے ہوئے) اپنی زبان کو گائے کے جگالی کرنے کی طرح بار بار پھیرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9927]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 5005، والترمذي: 2853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6543»
وضاحت: فوائد: … تصنع کے ساتھ منہ بھر کر، رگیں پھلا کر، باچھیں کھول کر اور بڑھکیں مار مار کر بات کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، ایسے لوگ بال کی کھال اتارتے ہیں، لایعنی بحثیں کرتے ہیں، ماورائے عقل باتوں میں دخل دیتے ہیں، مبالغہ کرتے ہوئے فصاحت و بلاغت چھانٹتے ہیں اور سامعین و حاضرین سے داد وصول کرنے کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔ جبکہ شریعت ِ اسلامیہ سادگی، تواضع اور قدرتی انداز کو پسند کرتی ہے، شریعت کا تقاضا ہے کہ قول و فعل میں غلو نہ کیا جائے اور تمام معاملات سادگی کے ساتھ نبٹائے جائیں۔
قارئین کرام! شاید آپ اس بات میں ہمارے ساتھ موافقت کریں کہ تکلف و تصنع اور فصاحت و بلاغت نے دیرپا اثرات نہیں چھوڑے، فی الوقت سامعین سے بلّے بلّے وصول کر لینا اور لوگوں کو حیطۂ حیرت میں ڈال دیناتو ممکن ہے، لیکن خطابات کے ایسے انداز سے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارے وطن کی زمین گواہ ہے کہ جو لوگ بظاہر متقی ہیں، سادہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنی تقریر کے عملی تقاضے پورے کرنے والے ہوتے ہیں، تو عوام الناس کو ان کی تقاریر سے استفادہ کرنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں