الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ وَتَقْبِيحِهِ وَالْوَسمِ فِيهِ
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 10147
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ دَعُوا الْكَسْعَةَ فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ) )
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری آدمی کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مارا (اور اس وجہ سے لڑائی ہو گئی)، انصاری نے آواز دی: او انصاریو! مہاجر نے آواز لگائی: او مہاجرو!، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جاہلیت والی پکار پکارنے کی کیا وجہ ہے، اس طرح کی شرارتیں چھوڑ دو، یہ قابل مذمت ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10147]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3519، ومسلم: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15196»
وضاحت: فوائد: … مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3519
حدیث نمبر: 10148
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لَطْمِ خُدُودِ الدَّوَابِّ وَقَالَ ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَكُمْ عَصِيًّا وَسِيَاطًا) )
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں کے رخساروں پر مارنے سے منع کیا اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے استعمال کے لیے لاٹھیاں اور کوڑے بنائے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10148]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتدليس بقية بن الوليد، ولابھام الرجل الذي روي عنه ارطاة بن المنذر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17312»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ تم سزا دیتے وقت لاٹھیوں اور کوڑوں پر اکتفا کیوں نہیںکرتے کہ ہاتھوں سے چہروں پر مارنا شروع کر دیتے ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتدليس بقية بن الوليد