الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ وَالرِّيحِ وَالدِّيكَةِ
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 10137
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِنْ شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے، وہ کہتا ہے: اے زمانے کی ناکامی! جبکہ میں زمانہ ہوں، دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور اگر چاہوں تو ان دونوں کو قبض کر لوں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10137]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7669»
وضاحت: فوائد: … عربوں کی عادت تھی کہ وہ زمانے کی مذمت کرتے تھے اور نوازل و حوادث کے وقت اسی کو برا بھلا کہتے تھے اور اپنے شعروں میں بھی اس چیز کا بہت زیادہ ذکر کرتے تھے، کیونکہ ان کا نظریہیہ تھا کہ یہ سب کچھ زمانے کا ہیر پھیر ہے اور وہی مصائب سے دوچار کرتا ہے، لیکن در حقیقتیہ فاعل کو برا بھلا کہنا تھا اور ہر چیز کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ۔} … اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی(زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔ (سورۂ جاثیہ: ۲۴)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں، فلاسفہ اور علم کلام
کے قائل یہی کہتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دہریہ اور دوریہ تھے، وہ خالق کے بھی منکر تھے، ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئیادوار کے وہ قائل تھے۔ دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی چیز ہے، نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نظریے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں، فلاسفہ اور علم کلام
کے قائل یہی کہتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دہریہ اور دوریہ تھے، وہ خالق کے بھی منکر تھے، ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئیادوار کے وہ قائل تھے۔ دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی چیز ہے، نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نظریے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2246
حدیث نمبر: 10138
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنَّهَا مِنْ رُوحِ اللَّهِ) فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهَا وَمِنْ خَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَمِنْ شَرِّ مَا فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ اس کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، پس جب تم ہوا میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَمِنْ خَیْرِ مَا فِیْھَا، وَمِنْ خَیْرِ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ،وَنَعُوْذُبِکَمِنْشَرِّھٰذِہِالرِّیْحِ وَمِنْ شَرِّ مَافِیْھَا، وَمِنْ شَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ۔ (اےاللہ! بے شک ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا، اس میں موجود بھلائی کا اور اس خیر کا سوال کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا اور اس ہوا کے شرّ سے، اس میں موجود شرّ سے اور اس شرّ سے پناہ مانگتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10138]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة: 935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21456»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا چلتی ہے، اس میں پائی جانے والی خیر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس میں پائے جانے والا شرّ کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی جس مخلوق میں خیر اور شرّ، دونوں کے عناصر پائے جاتے ہوں، اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرنا چاہیے اور اس کے شرّ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10139
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ثَنَا صَالِحُ بْنُ سُفْيَانَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو النَّضْرِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ إِنَّهُ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرغ کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔ ابو نضر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرغ کو گالی دینے سے منع کیا اور فرمایا: یہ نماز کے لیے گویا اذان دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10139]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم (10125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22019»
وضاحت: فوائد: … نماز کے لیے اذان دینے سے مراد یہ ہے کہ مرغ عام طور پر طلوعِ فجر اور زوال کے وقت آواز نکالتاہے، اس سے لوگوں کو نماز فجر اور نماز ظہر کا احساس ہو جاتا ہے، بہرحال مرغ کی آواز کے بعد نماز کے وقت کییقین دہانی کرنا ضروری ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث رقم (10125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22019
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ وَتَقْبِيحِهِ وَالْوَسمِ فِيهِ
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 10140
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ وَلَا تَقُلْ قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی کو سزا دے تو چہرے پر مارنے سے گریز کرے اور نہ یہ کہے کہ اللہ تیرے چہرے کو اور اس آدمی کے چہرے کو بھلائی سے دور کرے، جو تیرے چہرے کے مشابہ ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10140]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البيھقي في الاسماء والصفات: ص 291، والحميدي: 1120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9602»
وضاحت: فوائد: … قَبَّح کے معانی بدصورت بنانے، برا بنانے، بھلائی سے دور کرنے،مذمت کرنے اور برا ٹھہرانے کے ہیں، سب کا مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔
یہ حدیث احترامِ انسانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہر سلیم الفطرت شخص تسلیم کرتا ہے کہ تربیتی مراحل میں بعض اوقات سزاؤں کا مرحلہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے نہ صرف اس ضابطے کو برقرار رکھا، بلکہ مقامِ انسانیت کو مجروح ہونے سے بچایا۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: امام نووی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: علمائے کرام کا خیال ہے کہ چہرہ نرم و نازک اور پیاری چیز ہے، تمام محاسن کا مجموعہ ہے، یہ حواس خمسہ (دیکھنا، سونگنا، چکھنا، سننا، چھونا) کے اکثر حصے پر بھی مشتمل ہے، یہ اندیشہ ہے
کہ کسی ضرب کی وجہ سے چہرہ بھدا، بھونڈا اور بدشکل دکھائی دے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مارنے سے نہ صرف بھونڈا پن اور عیب داری نظر آئے گی، بلکہ وہ انتہائی واضح لگے گی، ان وجوہات کی بنا پر شریعت ِ اسلامیہ نے چہرے پر مارنے سے منع کر دیا ہے۔ (فتح الباری: ۵/ ۲۲۹)
حافظ ابن حجر دوسرے مقام پر اس حدیث ِ مبارکہ کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو جس صورت پر پیدا کیا گیا، جنت میں اور جنت سے اترنے کے بعد، بلکہ وفات تک وہی صورت قائم رہییا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ابتدائے تخلیق سے ایک وجود عطا کر دیا گیا، جبکہ ان کی اولاد اپنی تخلیق کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں آخرت کے منکر اور زمانے کی بقا کے قائلین دہریوں کا ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان نطفے سے پیدا ہوتا ہے اور نطفہ انسان سے نکلتا ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں، بلکہ ازل سے انسانی تخلیق کا یہ نظام چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے خود انسانِ اوّل آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا۔ نیز اس حدیث میں ماہرینِ علمِ طبیعات کا بھی ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان، ایک فطرت اور اس کی تاثیر کا فعل ہے۔ یہ حدیث قدریوں کا بھی ردّ کرتی ہے جو تقدیر خداوندی کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ انسان اپنے افعال کی تخلیق خود کرتا ہے،نہ کہ اللہ تعالی۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۴)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث میں عَلٰی صُوْرَتِہِ میں ہ ضمیر کا مرجع لفظِ آدم ہے، نہ کہ لفظِ اللہ، کیونکہیہی قریب ہے اور صحیح بخاری کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت میں اس کییوں وضاحت کی گئی ہے: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ طَوْلُہٗسِتُّوْنَ ذِرَاعًا۔)) (صحیحہ: ۴۴۹) … اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔
رہا مسئلہ اس حدیث کا: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَۃِ الرَّحْمٰنِ۔)) … اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو رحمن کی صورت پر پیدا کیا۔
تویہ منکر ہے، میں نے اس کی تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۷۵، ۱۱۷۶) میں بیان کی ہے اور شیخ تویجری رحمتہ اللہ علیہ جیسے ہم عصروں کی تصحیح کا ردّ بھی کیا ہے۔ (صحیحہ: ۸۶۲)
دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں: یہ روایت ان لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہے، جو لفظِ آدم کو ہ ضمیر کا مرجع بناتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس ہیئت پر پیدا کیا تھا، اسی پر ان کو وجود بخشا، یعنی ان کو اپنی اولاد کی طرح نہ اپنی تخلیق کے دوران مختلف احوال سے گزرنا پڑا اور نہ رحموں میں پہلے نفطہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور خلق تامّ جیسے مراحل طے کرنا پڑے، بلکہ جونہی اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی تو ان کو کامل و مکمل، معتدل و مناسب اور ٹھیک و درست بنا دیا۔
امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر مفصّل اور مفید گفتگو کی ہے، آپ اس کا مراجعہ کر لیں۔ (صحیحہ: ۴۴۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی انسان کو سزا دیتے وقت اس کے چہرے کا احترام کیا جائے، لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اپنے ملازموں کو اور بعض آباء و اساتذہ اپنے بچوں اور شاگردوں کو سزا دیتے وقت چہرے پر تھپڑ مارتے ہیں۔ ایسے کرنے سے اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔
یہ حدیث احترامِ انسانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہر سلیم الفطرت شخص تسلیم کرتا ہے کہ تربیتی مراحل میں بعض اوقات سزاؤں کا مرحلہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے نہ صرف اس ضابطے کو برقرار رکھا، بلکہ مقامِ انسانیت کو مجروح ہونے سے بچایا۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: امام نووی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: علمائے کرام کا خیال ہے کہ چہرہ نرم و نازک اور پیاری چیز ہے، تمام محاسن کا مجموعہ ہے، یہ حواس خمسہ (دیکھنا، سونگنا، چکھنا، سننا، چھونا) کے اکثر حصے پر بھی مشتمل ہے، یہ اندیشہ ہے
کہ کسی ضرب کی وجہ سے چہرہ بھدا، بھونڈا اور بدشکل دکھائی دے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مارنے سے نہ صرف بھونڈا پن اور عیب داری نظر آئے گی، بلکہ وہ انتہائی واضح لگے گی، ان وجوہات کی بنا پر شریعت ِ اسلامیہ نے چہرے پر مارنے سے منع کر دیا ہے۔ (فتح الباری: ۵/ ۲۲۹)
حافظ ابن حجر دوسرے مقام پر اس حدیث ِ مبارکہ کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو جس صورت پر پیدا کیا گیا، جنت میں اور جنت سے اترنے کے بعد، بلکہ وفات تک وہی صورت قائم رہییا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ابتدائے تخلیق سے ایک وجود عطا کر دیا گیا، جبکہ ان کی اولاد اپنی تخلیق کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں آخرت کے منکر اور زمانے کی بقا کے قائلین دہریوں کا ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان نطفے سے پیدا ہوتا ہے اور نطفہ انسان سے نکلتا ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں، بلکہ ازل سے انسانی تخلیق کا یہ نظام چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے خود انسانِ اوّل آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا۔ نیز اس حدیث میں ماہرینِ علمِ طبیعات کا بھی ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان، ایک فطرت اور اس کی تاثیر کا فعل ہے۔ یہ حدیث قدریوں کا بھی ردّ کرتی ہے جو تقدیر خداوندی کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ انسان اپنے افعال کی تخلیق خود کرتا ہے،نہ کہ اللہ تعالی۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۴)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث میں عَلٰی صُوْرَتِہِ میں ہ ضمیر کا مرجع لفظِ آدم ہے، نہ کہ لفظِ اللہ، کیونکہیہی قریب ہے اور صحیح بخاری کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت میں اس کییوں وضاحت کی گئی ہے: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ طَوْلُہٗسِتُّوْنَ ذِرَاعًا۔)) (صحیحہ: ۴۴۹) … اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔
رہا مسئلہ اس حدیث کا: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَۃِ الرَّحْمٰنِ۔)) … اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو رحمن کی صورت پر پیدا کیا۔
تویہ منکر ہے، میں نے اس کی تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۷۵، ۱۱۷۶) میں بیان کی ہے اور شیخ تویجری رحمتہ اللہ علیہ جیسے ہم عصروں کی تصحیح کا ردّ بھی کیا ہے۔ (صحیحہ: ۸۶۲)
دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں: یہ روایت ان لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہے، جو لفظِ آدم کو ہ ضمیر کا مرجع بناتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس ہیئت پر پیدا کیا تھا، اسی پر ان کو وجود بخشا، یعنی ان کو اپنی اولاد کی طرح نہ اپنی تخلیق کے دوران مختلف احوال سے گزرنا پڑا اور نہ رحموں میں پہلے نفطہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور خلق تامّ جیسے مراحل طے کرنا پڑے، بلکہ جونہی اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی تو ان کو کامل و مکمل، معتدل و مناسب اور ٹھیک و درست بنا دیا۔
امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر مفصّل اور مفید گفتگو کی ہے، آپ اس کا مراجعہ کر لیں۔ (صحیحہ: ۴۴۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی انسان کو سزا دیتے وقت اس کے چہرے کا احترام کیا جائے، لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اپنے ملازموں کو اور بعض آباء و اساتذہ اپنے بچوں اور شاگردوں کو سزا دیتے وقت چہرے پر تھپڑ مارتے ہیں۔ ایسے کرنے سے اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 10141
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چہرے پر داغنے سے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10141]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14477»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2116
حدیث نمبر: 10142
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخَرَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ فَعَلَ هَذَا) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ ( (لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ) ) ( (لَا يَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ وَلَا يَضْرِبَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ) )
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک ایسا گدھا گزارا گیا، جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں سے دھواں نکل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ کاروائی کی ہے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اس کو داغا ہے، کوئی آدمی نہ چہرے پر داغا کرے اور نہ چہرے پر مارا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10142]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14513»
وضاحت: فوائد: … چہرے کا حکم صرف انسانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ جانوروں کے لیے بھییہی حکم ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2117
حدیث نمبر: 10143
- عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُضْرَبَ الصُّوَرُ يَعْنِي الْوَجْهَ.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہروں پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10143]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5541، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4779»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5541
حدیث نمبر: 10144
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الصُّوَرِ وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ چہروں پر نشان لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10144]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5991»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5991
حدیث نمبر: 10145
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کی اپنے بھائی سے لڑائی ہو جائے تو وہ چہرے پر مارنے سے گریز کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10145]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8422»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2612
حدیث نمبر: 10146
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10146]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه عبد الرزاق: 17951، والبزار: 2063، وابويعلي: 1179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11908»
وضاحت: فوائد: … لوگ لڑائی جھگڑے میں جذبات میں آکر ان فرمودات ِ نبویہ کو بھول جاتے ہیں اور مد مقابل کو جیسے ضرب لگانا آسان ہو، لگاتے ہیں، اگرچہ وہ چہرے پر تھپڑ اور مُکّا مارنے کی صورت میں ہو۔ ایسا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکم عدولی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره