الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ ﷺ
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
حدیث نمبر: 10107
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ: لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ، فَوَاللهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ دَاخِلًا وَخَارِجًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ يَعْنِي الْحَكَمَ.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میرے ابو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے کے لیے چلے گئے، تاکہ مجھے مل سکیں، ابھی تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملعون شخص تم پر ضرور ضرور داخل ہونے والا ہے۔ پس اللہ کی قسم! میں خوفزدہ ہو کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حکم داخل ہوا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10107]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 1625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20018»
وضاحت: فوائد: … یہ حکم بن ابی العاص تھا، یہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا چچا اور مروان کا باپ تھا، یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا اور پھر مدینہ منورہ میںسکونت اختیار کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو طائف کی طرف بھیج دیا، پھر یہ وہیں رہا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کو مدینہ میں بلا لیا، پھر یہیں اس نے وفات پائی۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں کہا: حکم بن ابی العاص پر لعنت کرنے اور اس کو جلاوطن کرنے سے متعلقہ کافی ساری احادیث ہیں، ان سب کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بہرحال یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی امرِ عظیم کی وجہ سے ایسے کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بردبار اور چشم پوش تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 10108
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَقُولُ لَا يَتَزَوَّجُ وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ فَاشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ الْبَائِتَ وَحْدَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مخنث مردوں،مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں اور تبتل اختیار کرنے والے ان مردوں اور عورتوں پر لعنت کی ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے، اور بیابان میں اکیلے سوار پر بھی لعنت کی،یہ باتیں صحابہ پر بڑی گراں گزریں،یہاں تک کہ ان کے چہروں سے واضح ہونے لگا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اکیلا رات گزارنے والابھی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10108]
تخریج الحدیث: «صحيح دون لعنة راكب الفلاة والبائت وحده، وھذا اسناد ضعيف لجھالة طيب بن محمد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7878»
الحكم على الحديث:
صحيح دون لعنة راكب الفلاة والبائت وحده
حدیث نمبر: 10109
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَقُولُ لَا يَتَزَوَّجُ وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ فَاشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ الْبَائِتَ وَحْدَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو قریب ہے کہ تو ایسے لوگ دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح اور اس کی لعنت میں شام کریں گے، ان کے ہاتھوں میں گائیوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10109]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2857، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7878»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو ایسے گناہ سے محفوظ رہنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2857
حدیث نمبر: 10110
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُجَيْرٍ ثَنَا سَيَّارٌ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ أَوْ قَالَ يَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ مَعَهُمْ أَسْيَاطٌ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي غَضَبِهِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں اس امت میں ایسے افراد ہوں گے کہ ان کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اس کے غصے میں شام۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10110]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 8000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22502»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
13. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ أَوْ سَبَهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ اهْلُ لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةٌ وَأَجْرٌ وَرَحْمَةٌ
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
حدیث نمبر: 10111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ایک معاہدہ لیتا ہوں، تو نے ہر گز اس کی مخالفت نہیں کرنی، میں صرف اور صرف ایک بشر ہوں، پس جس مؤمن کو میں تکلیف دوں، یا اس کو گالی دوں، یا اس کو کوڑے لگاؤں، یا اس پر لعنت کروں، پس تو اس چیز کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور تقرب کا ایسا سبب بنا کہ جس کے ذریعے تو اس کو قیامت کے دن اپنے قریب کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10111]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 338، وابويعلي: 1262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11310»
وضاحت: فوائد: … کتنی دلچسپ بات ہے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعائیں بھی دوسروں کے لیے باعث ِ تزکیہ و طہارت اور باعث ِ اجر و ثواب بن جاتی ہیں،یہ دراصل رحمۃ للعالمین کا لقب پانے والے کی عظمت و منقبت ہے، امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس موضوع سے متعلقہ ایک حدیث پر یہ باب قائم کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی پر لعنت کریںیا کسی کو گالی اور بدعا دیں اور وہ اس کا اہل نہ ہو، تو یہ اس کے لیے تزکیہ، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10112
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ يَعْنِي ابْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْمَدَائِنِ فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حُذَيْفَةُ إِلَى سَلْمَانَ فَيَقُولُ سَلْمَانُ يَا حُذَيْفَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ وَيَرْضَى وَيَقُولُ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَضَبِي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلْدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت عمرو بن ابی قرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمائی ہوئی بعض باتیں بیان کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت حذیفہ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت سلمان نے فرمایا: "اے حذیفہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی کبھی غصہ آتا تھا، تو آپ (غصے میں) کچھ فرما دیتے تھے، اور جب راضی ہوتے تو بھی کچھ فرماتے تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبہ دیا اور فرمایا: 'میری امت میں سے جس کسی شخص کو میں نے اپنے غصے کی حالت میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو، تو میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے دوسرے لوگوں کو آتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، لہٰذا (اے اللہ!) میری اس بددعا یا سخت کلامی کو قیامت کے دن اس شخص کے لیے رحمت، دعا اور باعثِ اجر بنا دینا۔' [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10112]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24107»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 10113
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَجُلًا فَقَالَ احْتَفِظِي بِهِ قَالَ فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ وَمَضَى الرَّجُلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا حَفْصَةُ مَا فَعَلَ الرَّجُلُ قَالَتْ غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ فَرَفَعَتْ يَدَيْهَا هَكَذَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ قَبْلُ لِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا صَفِّي يَدَيْكِ فَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا اور فرمایا: اس کی حفاظت کر کے رکھنا۔ لیکن انھوں نے غفلت برتی اور وہ بندہ نکل گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: حفصہ! اس آدمی کا کیا بنا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے غفلت ہو گئی اور وہ نکل گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں کو کاٹ دے۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے ہاتھ اس طرح بلند کر لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئی اور پوچھا: حفصہ! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے یہ بد دعا دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں کو سیدھا کر لے، پس بیشک میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا ہے کہ میں اپنی امت کے جس فرد کو بد دعا دوں، وہ اس کو اس کے لیے بخشش کا ذریعہ بنا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10113]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12458»
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد
حدیث نمبر: 10114
عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَسِيرٍ فَلَهَوْتُ عَنْهُ فَذَهَبَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْأَسِيرُ قَالَتْ لَهَوْتُ عَنْهُ مَعَ النِّسْوَةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَا لَكِ قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ أَوْ يَدَيْكِ فَخَرَجَ فَآذَنَ بِهِ النَّاسَ فَطَلَبُوهُ فَجَاءُوا بِهِ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ فَقَالَ مَا لَكِ أَجُنِنْتِ قُلْتُ دَعَوْتَ عَلَيَّ فَأَنَا أُقَلِّبُ يَدَيَّ أَنْظُرُ أَيُّهُمَا يُقْطَعَانِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَوْ مُؤْمِنَةٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَطُهْرًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قیدی میرے پاس لائے، لیکن میں اس سے غافل ہو گئی اور وہ بھاگ گیا، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا: قیدی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی میں دوسری خواتین کے ساتھ غافل ہو گئی تھی، پس وہ نکل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں یا پاؤں کو کاٹ دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور لوگوں میں اس قیدی کا اعلان کیا، پس انھوں نے اس کو تلاش کیا اور پکڑ کر لے آئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے، پاگل ہو گئی ہے تو؟ میں نے کہا: جی آپ نے مجھ پر بد دعا کی ہے، اب میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی ہوں کہ کون سا ہاتھ پہلے کٹتا ہے، ہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! بیشک میں ایک بشر ہوں اور بشر کی طرح ہی غصے ہو جاتا ہوں، پس میں جس مؤمن مردیا عورت پر بد دعا کروں تو اس کو اس کے لیے پاکیزگی اور طہارت کا سبب بنا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10114]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24763»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 10115
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي بِهِ قَالَ بِهَزَفِيهِ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چادر اور ازار پہنا ہوا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور یہ دعا کی: اے اللہ! میں ایک بشر ہوں، پس میں تیرے جس بندے کو ماروں یا تکلیف دوں تو تو نے اس کی وجہ سے مجھے سزا نہیں دینی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10115]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25530»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25530
حدیث نمبر: 10116
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثَرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى غَمُّوهُ وَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ يُفَرِّجُونَ عَنْهُ حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ فَرَهِقُوهُ فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ وَوَثَبَ عَلَى الْعَتَبَةِ فَدَخَلَ وَقَالَ اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْقَوْمُ فَقَالَ كَلَّا وَاللَّهِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ لَقَدِ اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَضِيقُ كَمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عرب اعوان وانصاری اس کثرت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اتنا ہجوم ہوا کہ مہاجرین کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کشادگی پیدا کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دہلیز کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر وہ اس قدر قریب ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی چادر پکڑا دی اور خود جلدی سے دہلیز پر چڑھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ! ان پر لعنت کر۔ سیدہ نے کہا: لوگ تو ہلاک ہو گئے ہیں، (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کر دی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اے ابو بکر کی بیٹی! میں نے اپنے ربّ سے ایک شرط لگائی ہے، وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گا، میں نے اپنے ربّ سے کہا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور بشر کی طرح ہی تنگ ہو جاتا ہوں، پس جس مؤمن کے حق میں میری طرف سے غصہ کی حالت میں کوئی بات نکل جائے تو اس کو اس کے حق میں کفارہ بنا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10116]
تخریج الحدیث: «قوله: انما انا بشر اضيق بما يضيق به البشر الي آخره صحيح، وھذا اسناد فيه ابن ابي الزناد مختلف فيه، وعبد الرحمن بن الحارث مختلف فيه، أخرجه ابويعلي: 4507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25273»
الحكم على الحديث:
قوله : انما انا بشر اضيق بما يضيق به البشر الي آخره صحيح