🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ أَوْ سَبَهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ اهْلُ لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةٌ وَأَجْرٌ وَرَحْمَةٌ
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10117
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا وَسَبَّهُمَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا مَا أَصَابَ هَذَانِ مِنْكَ خَيْرًا قَالَتْ فَقَالَ أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَهِدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً وَكَذَا وَكَذَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر خوب سختی کی اور برا بھلا کہا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ کی طرف سے خیر پائی (یہ تو ٹھیک ہے) لیکن ان بیچاروں کو آپ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ سے جو معاہدہ کیا ہے، کیا تو اس کو نہیں جانتی، میں نے اپنے ربّ سے کہا: اے اللہ! میں نے جس مؤمن کو برا بھلا کہا، یا کوڑے لگائے، یا لعنت کی تو تو اس کو اس کے حق میں بخشش اور عافیت کا سبب قرار دے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10117]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24682»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10118
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ لَا يَسْبِقْنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر نکلے، جب راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا کہ اس پانی میں قلت ہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وارد ہونے والے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ کوئی آدمی پانی کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبقت نہ لے جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ کچھ افراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبقت لے جا چکے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر لعنت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10118]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23787»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رفقاء صحابۂ کرام تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لعنت پر مشتمل بد دعاان کے لیے باعث ِ تزکیہ و رحمت ہو گی۔
ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10119
عَنْ أَبِي السَّوَّارِ عَنْ خَالِهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُنَاسٌ يَتْبَعُونَهُ فَاتَّبَعْتُهُ مَعَهُمْ قَالَ فَفَجِئَنِي الْقَوْمُ يَسْعَوْنَ قَالَ وَأَبْقَى الْقَوْمُ قَالَ فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَنِي ضَرْبَةً إِمَّا بِعَسِيبٍ أَوْ قَضِيبٍ أَوْ سِوَاكٍ أَوْ شَيْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَوْجَعَنِي قَالَ فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ قَالَ وَقُلْتُ مَا ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لِشَيْءٍ عَلَّمَهُ اللَّهُ فِيَّ قَالَ وَحَدَّثَنِي نَفْسِي أَنْ آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحْتُ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّكَ رَاعٍ لَا تَكْسِرَنَّ قُرُونَ رَعِيَّتِكَ قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ أَوْ قَالَ صَبَّحْنَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّ أُنَاسًا يَتْبَعُونِي وَإِنِّي لَا يُعْجِبُنِي أَنْ يَتَّبِعُونِي اللَّهُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ أَوْ سَبَبْتُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَأَجْرًا أَوْ قَالَ مَغْفِرَةً وَرَحْمَةً أَوْ كَمَا قَالَ
۔ ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10119]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2076، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22877»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ لَا أَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ مَنْ هُمْ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً
۔ اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10120]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 2330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24203»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مسلمان کے حق میں بددعائیہ کلمات کہہ دیں تو وہ اس کے حق میں رحمت ثابت ہوں گے، رحمۃ للعالمین ہوں تو ایسے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب مَا جَاءَ فِي لَعْنِ الْإِبِلِ وَالدِّيْكَةِ
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10121
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَتَضَايَقَ بِهِمُ الطَّرِيقُ فَأَبْصَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ حَلْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْجَارِيَةِ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ پر کچھ بعض افراد کا سامان لدا ہوا تھا اور ایک لونڈی بھی سوار تھی، جب لوگ دو پہاڑوں کے درمیانی راستے میں چلے اور راستہ تنگ ہو گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، تو کہا: چل چل، اے اللہ! اس اونٹنی پر لعنت کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لونڈی کا مالک کون ہے؟ ہمارے ساتھ اس سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ کو نہ چلایا جائے، جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کی گئی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10121]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2596، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20004»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2596
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10122
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ قَالَ عِمْرَانُ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ يَعْنِي النَّاقَةَ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے، ایک انصاری خاتون ایک اونٹنی پر تھی، اس نے اس کو ڈانٹا اور اس پر لعنت کر دی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر جو سامان لدا ہوا ہے، وہ اتار لو اور اس کو چھوڑ دو، کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں، وہ لوگوں کے بیچ میں چل رہی تھی اور کوئی بھی اس کے درپے نہیں ہو رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10122]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2595، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20111»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2595
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10123
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ يَسِيرُ فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا قَالَ أَخِّرْهَا فَقَدْ أُجِبْتَ فِيهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی پر لعنت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ متعلقہ آدمی نے کہا: جی میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کو پیچھے کر دے، اس پر کی گئی بددعا قبول کرلی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10123]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي في الكبري: 8815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9518»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10124
عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ وَقَالَ لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَرْكَبِيهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، انھوں نے اپنے اونٹ پر لعنت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس اونٹ کو ردّ کر دیا جائے اور فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی چیز نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس پر سوار نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10124]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26740»

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10125
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرغ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آواز نکالی، ایک آدمی نے اس وجہ سے اس پر لعنت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس پر لعنت نہ کر، بیشک یہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10125]
تخریج الحدیث: «صحيح بلفظ ابي داود، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 5101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17160»
وضاحت: فوائد: … جو چیز اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر معاون ہو، وہ مدح کی مستحق ہوتی ہے، نہ مذمت کی۔
سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَسُبُّوا الدِّیْکَ فَاِنَّہُ یُوْقِظُ لِلصَّلاَ ۃِ۔)) … مرغ کو گالی نہ دیا کرو، کیونکہیہ نماز کے لیے جگاتاہے۔
عام تجربہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرغ کے اندر جو فطرت ودیعت رکھی ہے، اس کی وجہ سے وہ فجر سے پہلے اور زوال کے وقت لگاتار آواز نکالنا شروع کر دیتا ہے، اس طرح سے نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بہرحال یہ ایک علامت ہے، اس کے بعد وقت کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح بلفظ ابي داود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنْ سَبِّ الْمُسْلِمِ وَقِتَالِهِ وَأَنَّ إِثْمَ ذَلِكَ عَلَى الْبَادِيءِ مَالَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10126
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10126]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 48، ومسلم: 64، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3647»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 48
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں