الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. أَبْوَابُ ذِكْرِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ زَكَرِيَّا وَيَحْيَ وَعِيْسَى وَ أُمِّهِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
اللہ تعالیٰ کے نبیوں زکریا،یحییٰ اور عیسی اور اس کی ماں سیدہ مریم علیہم السلام کے ذکر کے ابواب
حدیث نمبر: 10407
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (كَانَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَامُ نَجَّارًا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10407]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9246»
وضاحت: فوائد: … زکریا علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کمائی کرتے تھے، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد بڑھئی کا پیشہ اختیار کرنے کییا مطلق کمائی کرنے کی ترغیب دلانا ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2379
حدیث نمبر: 10408
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وُلْدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولادِ آدم میں سے کوئی بھی نہیں ہے، مگر اس نے خطا کی ہے، یا پھر خطا کا ارادہ کیا ہے، ما سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10408]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، علي بن زيد بن جدعان ضعيف، ويوسف بن مھران لين الحديث، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 562، وابويعلي: 2544، والحاكم: 2/ 591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2294»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان خوبصورت الفاظ کے ساتھ یحییٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا:
یٰــیَحْـیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّ بَرًّا بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا۔ وَسَلٰمٌ عَلَیْہِیَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَیَمُوْتُ وَیَوْمَیُـبْعَثُ حَیًّا۔ … اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔اور اپنی طرف سے شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش، نافرمان نہ تھا۔ اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔(سورۂ مریم: ۱۲ تا ۱۵)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے، اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا کر دیا، نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے، بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے، مگر یہ جواب دیتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا، جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، انھوں نے کہا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے۔ لغت میں محبت، شفقت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے، بظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگیعطا فرمائی۔ یحییٰ علیہ السلام ہر میل کچیل, ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا, آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے, ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے, کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی, کبھی
ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے, کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا, کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خُو آپ میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن۔ یہی تینوں مقامات گھبراہٹ کے ہیں اور انجان ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے، موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے، جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، انھیں کبھی نہ دیکھا۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔ امام قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔
یٰــیَحْـیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّ بَرًّا بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا۔ وَسَلٰمٌ عَلَیْہِیَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَیَمُوْتُ وَیَوْمَیُـبْعَثُ حَیًّا۔ … اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔اور اپنی طرف سے شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش، نافرمان نہ تھا۔ اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔(سورۂ مریم: ۱۲ تا ۱۵)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: بمطابق بشارت الٰہی زکریا علیہ السلام کے ہاں یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے، اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی، اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد، کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا کر دیا، نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے، بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے، مگر یہ جواب دیتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ یحییٰ علیہ السلام کا وجود زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا، جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، انھوں نے کہا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے۔ لغت میں محبت، شفقت، رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے، بظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگیعطا فرمائی۔ یحییٰ علیہ السلام ہر میل کچیل, ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا, آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے, ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے, کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی, کبھی
ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوئے, کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا, کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خُو آپ میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن۔ یہی تینوں مقامات گھبراہٹ کے ہیں اور انجان ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے، جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے، موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے، جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا، انھیں کبھی نہ دیکھا۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے، دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی۔ امام قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
40. بَابُ وَصِيَّةِ نَبِيُّ اللَّهِ يَحْيَى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ
اللہ کے نبی یحییٰ علیہ السلام کی بنی اسرائیل کو کی گئی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 10409
عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَامُ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ يَعْمَلَ بِهِنَّ وَأَنْ يَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ فَكَادَ أَنْ يُبْطِئَ فَقَالَ لَهُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّكَ قَدْ أُمِرْتَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ تَعْمَلَ بِهِنَّ وَأَنْ تَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ فَإِمَّا أَنْ تُبَلِّغَهُنَّ وَإِمَّا أُبَلِّغَهُنَّ فَقَالَ لَهُ يَا أَخِي إِنِّي أَخْشَى إِنْ سَبَقْتَنِي أَنْ أُعَذَّبَ أَوْ يُخْسَفَ بِي قَالَ فَجَمَعَ يَحْيَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ وَقَعَدَ عَلَى الشُّرَفِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ وَآمُرَكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ أَوَّلُهُنَّ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِوَرِقٍ أَوْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي عَمَلَهُ إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ فَأَيُّكُمْ يَسُرُّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ وَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ فَاعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَآمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْصِبُ وَجْهَهُ بِوَجْهِ عَبْدِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ مِنْ مِسْكٍ فِي عِصَابَةٍ كُلُّهُمْ يَجِدُ رِيحَ الْمِسْكِ وَإِنَّ خَلُوفَ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوا يَدَيْهِ إِلَى عُنُقِهِ وَقَرَّبُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَقَالَ هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْتَدِيَ نَفْسِي مِنْكُمْ فَجَعَلَ يَفْتَدِي نَفْسَهُ مِنْهُمْ بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ حَتَّى فَكَّ نَفْسَهُ وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ كَثِيرًا وَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ فَأَتَى حِصْنًا حَصِينًا فَتَحَصَّنَ فِيهِ وَإِنَّ الْعَبْدَ أَحْصَنُ مَا يَكُونُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِذَا كَانَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) ) قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ بِالْجَمَاعَةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَةِ الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى قَالَ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَادْعُوا الْمُسْلِمِينَ بِمَا سَمَّاهُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، انھوں نے لوگوں کو بتانے میں دیر کی، عیسی علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ کو پانچ کلمات کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، اب آپ ان کو بتلائیںیا میں بتلا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اے میرے بھائی! اگر آپ مجھ سے پہلے بتلا دیں تو مجھے یہ ڈر ہو گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے عذاب دیا جائے یا مجھے دھنسا دیا جائے۔ پس یحییٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا،یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، پھر وہ اونچی جگہ پر بیٹھے، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں، پہلا حکم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، پس بیشک مشرک کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے اپنے خالص مال چاندییا سونے کے عوض غلام خریدا، لیکن ہوا یوں کہ وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنے لگا، اب تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرے گی کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم کو رزق دیا ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میں تم کو نماز کا حکم دیتا ہوں، پس بیشک اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی خاطر اس وقت تک متوجہ کیے رکھتے ہیں، جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، اس لیے جب نماز پڑھو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوا کرو، اور میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں، ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور سارے لوگ کستوری کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے، اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس کو اس کے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھ دیا ہو اور اس کی گردن کاٹنے کے لیے اس کو قریب کرے اور وہ آگے سے کہے: اگر میں اپنے نفس کے عوض اتنا فدیہ دے دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟ پھر اس نے کم مقدار اور زیادہ مقدار فدیہ دینا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بچا لیا، اور میں تم کو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کا دشمن جلدی کرتے ہوئے اس کا تعاقب کر رہا ہو، لیکن وہ مضبوط قلعے میں پہنچ کر قلعہ بند ہو گیا، اور بیشک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ حفاظت میں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میںمصروف ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے، (وہ پانچ چیزیںیہ ہیں:) جماعت، امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، پس جو آدمی ایک بالشت کے بقدر جماعت سے نکل گیا، اس نے واپس پلٹنے تک اپنی گردن سے اسلام کا معاہدہ اتار پھینکا اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری، وہ جہنم کی جماعت میں سے ہوگا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزے بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے اور یہ گمان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہے، پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام سے پکارو، یعنی مسلمان، مؤمن، اللہ تعالیٰ کے بندے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10409]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2863، 2864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17302»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
41. بَابُ ذِكْرِ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَبْدِ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ أُمِّهِ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
اللہ کے نبی، بندے اور رسول عیسی بن مریم علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ مریم بنت عمران رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر
حدیث نمبر: 10410
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأُمَّهُ) ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ}
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔سیدنا ابو ہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کا یہ حصہ پڑھ لو: بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10410]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3431، ومسلم: 2366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7182»
وضاحت: فوائد: … حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں مزید تفصیل اگلے ابواب میں آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3431
42. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانِ
سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10411
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (خَيْرُ نِسَائِهَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔“ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10411]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3432، ومسلم: 2430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 640»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رحمتہ اللہ علیہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایسی خصوصیات عطا کیں کہ جو دوسری خواتین کا مقدر نہ بن سکیں، سیدہ مریم رحمتہ اللہ علیہ کو طاہر بنایا، مخصوص امور کے لیے ان کا انتخاب کیا، جبریل علیہ السلام نے ان سے کلام کیا، ان کے اندر روح پھونکی، وہ خاوند کے بغیر ایک عظیم پیغمبر کی ماں بن گئیں، ان کے بچے نے بچپنے میں کلام کیا اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی شہادت دی، سیدہ مریم نے اپنے ربّ کے کلمات اور کتب کی تصدیق کی اور وہ عبادت گزاروں میں تھی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انس کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3432
حدیث نمبر: 10412
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ ( (تَدْرُونَ مَا هَذِهِ) ) فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ) )
۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10412]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2710، والطبراني: 2168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2668»
وضاحت: فوائد: … موسی علیہ السلام کا فرعون کے محل میں دفاع کرنے والی سیدہ آسیہ علیہا السلام ہی تھیں، اس خاتون کی عظمت کو سلام، جس نے فرعون کے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کر لیا، مندرجہ ذیل روایت پر غور کریں:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ
وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
سیدہ خدیجہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب معروف ہیں اور سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ
وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
سیدہ خدیجہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب معروف ہیں اور سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10413
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہانوں کی عورتوں میں یہ خواتین تجھے کافی ہیں: مریم بنت ِ عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور فرعون کی بیوی آسیہ۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10413]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 3878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12418»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 3878
حدیث نمبر: 10414
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار اور فاطمہ جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، ما سوائے مریم بنت عمران کے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10414]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 1169، والنسائي في الكبري: 8514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11641»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
43. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ
اللہ کے نبی عیسی بن مریم علیہ السلام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10415
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِهِ حِينَ يُولَدُ إِلَّا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10415]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10783»
وضاحت: فوائد: … پردے سے مراد وہ جھلی ہے، جس میں بچہ رحمِ مادر میں لپٹا ہوا ہوتا ہے اور بوقت ِ ولادت بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔
شیطانیہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی،یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۱۰)
شیطانیہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی،یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۴۱۰)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3286
حدیث نمبر: 10416
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ) ) قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دنیا و آخرت میں عیسی بن مریم علیہ السلام کا سب سے زیادہ قریبی ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے، پس میرے اور عیسی علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10416]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8231»
وضاحت: فوائد: … علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں، جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے اصول کو باپ سے اور دین کی فروعات کو ماؤں سے تشبیہ دی،یعنی انبیاء و رسل کے ادیان کے اصول یکساں تھے، البتہ شریعت کی فروعات مختلف ہوتی تھیں۔
اگرچہ عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے مابین تقریبا چھ صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن ان دو ہستیوں کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آیا، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیسی علیہ السلام کے قریب تر ہیں۔
اگرچہ عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے مابین تقریبا چھ صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن ان دو ہستیوں کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آیا، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیسی علیہ السلام کے قریب تر ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2365