الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَ قِرَاءَتِهِ وَحُسْنِ صُوْتِهِ
داود علیہ السلام کی فضیلت، قراء ت اور ان کی آواز کی خوبصورتی کا بیان
حدیث نمبر: 10397
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْقَرَاءَةُ وَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ فَتُسْرَجُ وَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام پر تلاوت کو آسان کر دیا گیا تھا، وہ اپنی سواری کے بارے میں حکم دیتے، پس اس پر زین کسی جاتی، لیکن اس عمل سے پہلے وہ زبور کی تلاوت مکمل کر لیتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10397]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2073، 3417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8145»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کے لیے وقت کو مختصر کر دیتے ہیں،یعنی ایسی خاص توفیق سے نوازتے ہیں کہ وہ تھوڑے وقت میں بڑا عمل کر لیتے ہیں۔ باقاعدگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اس برکت کو محسوس کرتے ہیں، نبی کی تو شان ہی نرالی ہوتی ہے۔
پہلےیہ حدیث ِ مبارکہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوشع علیہ السلام کی نماز عصر کی خاطر سورج کو روک لیا تھا، وہ جو چاہتا ہے، کر دیتا ہے، کون سا اس نے کسی کو جواب دینا ہے۔
واقعۂ معراج پر غور کریں، اللہ تعالیٰ نے زمان و مکاں کو مختصر کر دیا۔
پہلےیہ حدیث ِ مبارکہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوشع علیہ السلام کی نماز عصر کی خاطر سورج کو روک لیا تھا، وہ جو چاہتا ہے، کر دیتا ہے، کون سا اس نے کسی کو جواب دینا ہے۔
واقعۂ معراج پر غور کریں، اللہ تعالیٰ نے زمان و مکاں کو مختصر کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2073
حدیث نمبر: 10398
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ يَقْرَأُ فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، جبکہ وہ تلاوت کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو موسی کو تو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10398]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 2/ 181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25857»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10399
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ يَقْرَأُ فَقَالَ لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَفِي لَفْظٍ لَقَدْ أُعْطِيَ أَبُو مُوسَى مَزَامِيرَ دَاوُدَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: اس کو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے: ابو موسی کو داود علیہ السلام کی بانسریاں دے دی گئی ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10399]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 2/ 180، وابن ماجه: 1341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8806»
وضاحت: فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری جن کا نام عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہما بھی خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
33. باب مَا جَاءَ فِي صَوْمِهِ وَ صَلَاتِهِ
داود علیہ السلام کے روزے اور نماز کا بیان
حدیث نمبر: 10400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ رات کا نصف حصہ سوتے، پھر ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر باقی چھٹا حصہ سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10400]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1131، 3420، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6491»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1131
34. بَابُ ذِكْرٍ وَفَاتِهِ وَ كَيْفِيَّتِهِ وَ مُدَّةٍ عُمْرِهِ عَلَيْهِ السَّلامُ
داود علیہ السلام کی وفات، وفات کی کیفیت اور ان کی عمر کا بیان
حدیث نمبر: 10401
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتِ الْأَبْوَابُ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ قَالَ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَغُلِّقَتِ الدَّارُ فَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ لَهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ وَاللَّهِ لَتُفْتَضَحَنَّ بِدَاوُدَ فَجَاءَ دَاوُدُ فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي شَيْءٌ فَقَالَ دَاوُدُ أَنْتَ وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَمَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ فَرُمِلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ رُوحُهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَقَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمَا الْأَرْضُ فَقَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ اقْبِضِي جَنَاحًا جَنَاحًا) ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلَتِ الطَّيْرُ وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَغَلَبَتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَجِيَّةُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی داود علیہ السلام شدید غیرت سے متصف تھے، جب وہ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر دیئے جاتے اور ان کے گھر والوں کے پاس کوئی نہ آ سکتا، یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے آتے، ایک دن روٹین کے مطابق وہ باہر چلے گئے اور گھر کو بند کر دیا گیا، لیکن جب ان کی بیوی گھر کی طرف متوجہ ہوئی تو انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی گھر کے درمیان میں کھڑا ہے، انھوں نے اس شخص کے بارے میں کہا: یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوا، جبکہ گھر بند تھا؟ اللہ کی قسم! ہمیں داود کے ساتھ رسوا ہونا پڑے گا، اتنے میں داود علیہ السلام آگئے، جب انھوں نے گھر کے بیچ میں ایک آدمی کو دیکھا تو انھوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں، جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا، بلکہ کوئی چیز مجھ سے بچ نہیں سکتی، داود علیہ السلام نے کہا: اللہ کی قسم! تو تو ملک الموت ہے، اللہ کے حکم کو مرحبا، داود علیہ السلام نے اس جگہ پر دفن ہونا تھا، جہاں ان کی روح قبض ہوئی، اُدھر جب فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو سورج طلوع ہو گیا، سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: داود پر سایہ کرو، پس پرندوں نے ان پر سایہ کیا،یہاں تک کہ زمین نے ان دونوں پر اندھیرا کر دیا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: ایک ایک پر بند کرو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دکھایا کہ پرندوں نے کیسے کیا، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک بند کیا، اس دن لمبے پروں والے شکرے ان پر غالب آ گئے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10401]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان المطلب بن عبد الله لم يسمع من ابي ھريرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9422»
وضاحت: فوائد: … لفظ الْمَصْرَجیَّۃُ لکھنا، یہ کاتب کی غلطی ہے، یہ لفظ دراصل یوں ہے: الْمَضْرَحیَّۃُ، ہم نے اصل لفظ کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب قرضے والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، اَوْ اَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ مَسَحَ ظَھْرَہُ فَاَخْرَجَ مِنْہُ مَا ھُوَ مِنْ ذَرَارِیِّ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَجَعَلَ یَعْرِضُ ذُرِّیَّتَہُ عَلَیْہِ فَرَاٰی فِیْھِمْ رَجُلًا یَزْھَرُ، فَقَالَ: اَیْ رَبِّ! مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا اِبْنُکَ دَاوُدُ، قَالَ: اَیْ رَبِّ! کَمْ عُمْرُہُ؟ قَالَ: سِتُّوْنَ عَامًا، قَالَ: رَبِّ! زِدْ فِیْ عُمْرِہِ، قَالَ: لَا، اِلَّا اَزِیْدُہُ مِنْ عُمْرِکَ، وَکَانَ عُمَرُ آدَمَ اَلْفَ عَامٍ فَزَادَہُ اَرْبَعِیْنَ عَامًا، فَکَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ بِذٰلِکَ کِتَابًا وَ اَشْھَدَ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ وَاَتَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ لِتَقْبِضَہُ قَالَ: اِنَّہُ قَدْ بَقِیَ مِنْ عُمْرِیْ اَرْبَعُوْنَ عَامًا، فَقِیْلَ: اِنَّکَ قَدْ وَھَبْتَھَا لِاِبْنِکَ دَاوُدَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَ اَبْرَزَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ الْکِتَابَ وَ شَھِدَتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَاَتَّمَھَا لِدَاوُدَ مِائَۃَ سَنَۃٍ وَاَتَّمَھَا لِآدَمَ عُمْرَہُ اَلْفَ سَنَۃٍ۔)) … بیشک سب سے پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ کو چھو کر اس سے ان کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کو نکالا اور اس اولاد کو ان پر پیش کیا، انھوں نے اس میں ایک خوش نما اور تابناک آدمی دیکھا اور کہا: اے میرے ربّ! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ تیرا بیٹا داود ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ساٹھ سال، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: نہیں، الا یہ کہ تیری عمر سے اضافہ کیا جائے۔ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، انھوں نے اپنی عمر میں سے داود کی عمر میں چالیس سال اضافہ کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو لکھ لیا اور فرشتوں کوگواہ بنا لیا، جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا اور ان کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئے تو انھوں نے کہا: ابھی تک میری عمر کے تو چالیس سال باقی ہیں، ان سے کہا گیا کہ آپ نے وہ چالیس سال تو اپنے بیٹے داود کو ہبہ کر دیئے تھے، آدم علیہ السلام نے کہا: میں نے تو ایسے نہیں کیا تھا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ظاہر کر دیا اور فرشتوں نے گواہی دے دی، لیکن پھر داود علیہ السلام کی عمر بھی سو سال پوری کر دی اور آدم علیہ السلام کی ایک ہزار پوری کر دی۔
(مسند طیالسی: ۲۶۹۲، مسند ابو یعلی: ۲۷۱۰، مسند احمد: ۲۲۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب قرضے والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، اَوْ اَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ مَسَحَ ظَھْرَہُ فَاَخْرَجَ مِنْہُ مَا ھُوَ مِنْ ذَرَارِیِّ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَجَعَلَ یَعْرِضُ ذُرِّیَّتَہُ عَلَیْہِ فَرَاٰی فِیْھِمْ رَجُلًا یَزْھَرُ، فَقَالَ: اَیْ رَبِّ! مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا اِبْنُکَ دَاوُدُ، قَالَ: اَیْ رَبِّ! کَمْ عُمْرُہُ؟ قَالَ: سِتُّوْنَ عَامًا، قَالَ: رَبِّ! زِدْ فِیْ عُمْرِہِ، قَالَ: لَا، اِلَّا اَزِیْدُہُ مِنْ عُمْرِکَ، وَکَانَ عُمَرُ آدَمَ اَلْفَ عَامٍ فَزَادَہُ اَرْبَعِیْنَ عَامًا، فَکَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ بِذٰلِکَ کِتَابًا وَ اَشْھَدَ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ وَاَتَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ لِتَقْبِضَہُ قَالَ: اِنَّہُ قَدْ بَقِیَ مِنْ عُمْرِیْ اَرْبَعُوْنَ عَامًا، فَقِیْلَ: اِنَّکَ قَدْ وَھَبْتَھَا لِاِبْنِکَ دَاوُدَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَ اَبْرَزَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ الْکِتَابَ وَ شَھِدَتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَاَتَّمَھَا لِدَاوُدَ مِائَۃَ سَنَۃٍ وَاَتَّمَھَا لِآدَمَ عُمْرَہُ اَلْفَ سَنَۃٍ۔)) … بیشک سب سے پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پیٹھ کو چھو کر اس سے ان کی قیامت تک پیدا ہونے والی اولاد کو نکالا اور اس اولاد کو ان پر پیش کیا، انھوں نے اس میں ایک خوش نما اور تابناک آدمی دیکھا اور کہا: اے میرے ربّ! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ تیرا بیٹا داود ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ساٹھ سال، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: نہیں، الا یہ کہ تیری عمر سے اضافہ کیا جائے۔ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، انھوں نے اپنی عمر میں سے داود کی عمر میں چالیس سال اضافہ کر دیا، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو لکھ لیا اور فرشتوں کوگواہ بنا لیا، جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا اور ان کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتے ان کے پاس آئے تو انھوں نے کہا: ابھی تک میری عمر کے تو چالیس سال باقی ہیں، ان سے کہا گیا کہ آپ نے وہ چالیس سال تو اپنے بیٹے داود کو ہبہ کر دیئے تھے، آدم علیہ السلام نے کہا: میں نے تو ایسے نہیں کیا تھا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ظاہر کر دیا اور فرشتوں نے گواہی دے دی، لیکن پھر داود علیہ السلام کی عمر بھی سو سال پوری کر دی اور آدم علیہ السلام کی ایک ہزار پوری کر دی۔
(مسند طیالسی: ۲۶۹۲، مسند ابو یعلی: ۲۷۱۰، مسند احمد: ۲۲۷۰)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
35. بَابُ ذِكْرِ نَبِيُّ اللَّهِ سُلَيْمَانَ وَعِظَم مُلْكِهِ
اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام اور ان کی بادشاہت کے عظیم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10402
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ ثِنْتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَهُ الثَّالِثَةُ فَسَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں عطا کر دیں اور ہم تیسری کے بارے میں بھی امید رکھتے ہیں، انھوں نے یہ سوال کیا کہ ان کا حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے موافق ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز عطا کر دی، انھوں نے ایسی بادشاہت کا سوال کیا، جو ان کے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز بھی دے دی اور انھوں نے تیسرا سوال یہ کیا کہ جو آدمی اپنے گھر سے صرف نماز ادا کرنے کے لیے نکلے اور اس مسجد میں آئے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح صاف ہو جائے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، پس ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ چیز بھی عطا کر دی ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10402]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6644»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10403
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ فَدَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ) ) قَالَ ( (فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي قَالَ فَرَدَّهُ خَاسِئًا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شیطان نے گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے مجھ پر حملہ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت دی اور میں نے اس کو دھکا دیا، پھر میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سارے صبح کے وقت اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنی بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی: اے میرے ربّ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس کو ناکام و نامراد لوٹا دیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10403]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 461، 3423، ومسلم: 541، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7956»
وضاحت: فوائد: … سلیمان علیہ السلام کو اپنے باپ داود علیہ السلام سے نبوت اور بادشاہت وراثت میں ملی، سلیمان علیہ السلام انفرادی خصوصیت و فضیلت کے مالک تھے، وہ پوری تاریخ انسانیت میں اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں پر ہی نہیں تھی، بلکہ جنات، حیوانات اور چرند پرند حتی کہ ہوا تک ان کے ماتحت تھی۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ نمل میں (۱۶ تا ۴۴) اور سورۂ ص میں (۳۰ تا ۴۰) میں بہت خوبصورت انداز میں سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ نمل میں (۱۶ تا ۴۴) اور سورۂ ص میں (۳۰ تا ۴۰) میں بہت خوبصورت انداز میں سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 461
36. بَابُ مَا جَاءَ فِي شَيْءٍ مِنْ حِكْمَةٍ فِي الْقَضَايَا
فیصلوں میں سلیمان علیہ السلام کی حکمت کا بیان
حدیث نمبر: 10404
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا فَقَالَتِ الصُّغْرَى يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقُّهُ فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى) ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ عَلِمْنَا مَا السِّكِّينُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، دونوں کے ساتھ ایک ایک بیٹا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بیٹا لے گیا، پس دونوں فیصلہ کر لے داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انھوں نے بڑی کے حق میں اس بچے کا فیصلہ کر دیا، پھر وہ دونوں چلی گئیں،سلیمان علیہ السلام نے ان کو بلایا اور کہا: چھری لے آؤ، تاکہ میں اس بچے کو اِن دونوں خواتین میں تقسیم کر دوں، یہ بات سن کر چھوٹی خاتون نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، یہ اسی بڑی کا بیٹا ہے، اس کو چیرا مت دو، اس خاتون کی یہ بات سن کر سلیمان علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس دن ہمیں پتہ چلا کہ چھری کو سِکِّیْن بھی کہتے ہیں، ہم تو اس کو مُدْیَۃ ہی کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10404]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3427، 6769، ومسلم: 1720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8263»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! کیا دانائی تھی سلیمان علیہ السلام کی۔ اس مقام پر یہ سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ داود علیہ السلام نے بڑی خاتون کے حق میں فیصلہ کیوں کیا اور سلیمان علیہ السلام نے اس کو تبدیل کیوں کر دیا؟ کیونکہ داود علیہ السلام نے کچھ قرائن اور اسباب کی بنا پر بڑی خاتون کے حق میں فیصلہ کیا ہو گا اور اسی کو ظن غالب کی روشنی میں حق سمجھا ہو گا، لیکن ان کی شریعت کی روشنی میں سلیمان علیہ السلام کے لیے از سرِ نو فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود ہو گی، اس لیے آپ علیہ السلام نے ایک عمدہ حیلہ استعمال کیا اور معاملے کی حقیقت واضح ہو گئی۔ درج ذیل حدیث پر غور کریں:
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّہُ یَأْتِینِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّہُ صَدَقَ فَأَقْضِیَ لَہُ بِذٰلِکَ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا ہِیَ قِطْعَۃٌ مِنْ النَّارِ فَلْیَأْخُذْہَا أَوْ فَلْیَتْرُکْہَا۔)) … میں تو محض ایک انسان ہوں اور میرے پاس مقدمہ آتا ہے، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ بلیغ ہو اور میں یہ گمان کر کے فیصلہ کر دوں کہ وہ سچا ہے، پس جس شخص کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہو گا، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس کو لے لے، یا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۸، صحیح مسلم: ۳۲۳۱)
اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ اصل صورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مخفی رہ جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہری شواہد و قرائن کا اعتبار کرنا ہے۔
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّہُ یَأْتِینِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّہُ صَدَقَ فَأَقْضِیَ لَہُ بِذٰلِکَ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا ہِیَ قِطْعَۃٌ مِنْ النَّارِ فَلْیَأْخُذْہَا أَوْ فَلْیَتْرُکْہَا۔)) … میں تو محض ایک انسان ہوں اور میرے پاس مقدمہ آتا ہے، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے سے زیادہ بلیغ ہو اور میں یہ گمان کر کے فیصلہ کر دوں کہ وہ سچا ہے، پس جس شخص کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہو گا، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس کو لے لے، یا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری: ۲۲۷۸، صحیح مسلم: ۳۲۳۱)
اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ اصل صورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مخفی رہ جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہری شواہد و قرائن کا اعتبار کرنا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3427
37. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ نِسَائِهِ وَ سَرَارِيهِ
سلیمان کی بیویوں اور لونڈیوں کی کثرت کا بیان
حدیث نمبر: 10405
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَنَسِيَ أَنْ يَقُولَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَأَطَافَ بِهِنَّ قَالَ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ) ) وَفِي لَفْظٍ ( (لَوْ أَنَّهُ كَانَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَوَلَدَتْ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يَضْرِبُ بِالسَّيْفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا: آج رات میں سو خواتین کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر ایک ایک لڑکا جنم دے گی اور وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے، پس سب خواتین کے پاس گئے اور حق زوجیت ادا کیا، لیکن صرف ایک خاتون کا بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی ادھورا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر انھوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو ان کی قسم بھی نہ ٹوٹتی اور ان کی حاجت بھی پوری ہو جاتی، ایک روایت میں ہے: اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ہر خاتون نے لڑکا پیدا کرنا تھا، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار سے جہاد کرتا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5242، ومسلم: 1654، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7701»
وضاحت: فوائد: … سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت ہر اعتبار سے بے مثال تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5242
38. بابُ قِصَّةِ الْعُزَيْرِ وَمَا جَاءَ فِي ذَلِكَ
عزیر علیہ السلام کے قصے اور اس معاملے کی روایت کا بیان
حدیث نمبر: 10406
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے، ایک چیونٹی نے ان کو ڈسا، پس انھوں نے سامان کو ہٹانے اور نیچے سے چیونٹیوں کو نکالنے اور ان کو جلانے کا حکم دیا، سو ان کو جلا دیا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10406]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3319، ومسلم: 2241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9800»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3319