🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ ذِكْرِ هَلَاكِ فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ وَدَسِ جِبْرِيلَ لا الطَّيِّنَ فِي فِيهِ
فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10377
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَسْتُهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فرعون نے غرق ہوتے وقت کہا: میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، مگر وہی کہ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میں نے سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کی رحمت اس کو پا لے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10377]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2820»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10378
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10378]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3154»
وضاحت: فوائد: … برے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا اصل قانون یہ ہے کہ جو آدمی جس انداز میں زندگی گزارتا ہے، اسی انداز میں اس کو موت آتی ہے۔ سجدوں میں ان لوگوں کی روحیں پرواز کر گئیں جو اپنے زندگی میں کثرت سے سجدے کرنے کے عادی تھے اور برائی کی حالت میں ان لوگوں کو موت کا پیغام قبول کرنا پڑا جو برائیوں کے دلدادہ تھے۔ فرعون کی زندگی بغاوت اور سرکشی کی سنگین مثالوں سے بھری ہوئی تھی،اس لیے اسی کے مطابق ہی اس کاخاتمہ ہونا تھا۔
حدیث نمبر (۸۶۳۳)میں اس کی مزید تفصیل بیان ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3154
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ قِصَّةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ بَنِي إِسْرَئِيلَ إِذْ «قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهَا كَمَا لَهُمْ آلِهَةً» ‏‏‏‏
موسی علیہ السلام کا بنی اسرئیل کے ساتھ قصہ جب انھوں نے کہا: اے موسی ہمارا بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10379
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ قَالَ وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ قَالَ فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} إِنَّهَا لَسُنَنٌ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً) )
۔ سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ سے حنین کی طرف نکلے، راستے میں کافروں کا بیری کا ایک درخت تھا، وہ اس کے مجاور بنتے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اس کو ذات انواط کہا جاتا تھا، راوی کہتے ہیں: پس جب ہم ایک سرسبز اور بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ایک ذات انواط بنا دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کر دی ہے، جو موسی علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی، انھوں نے کہا: تو ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دے، جیسے ان کے معبود ہیں، بیشک تم جاہل قوم ہو۔ یہ بنی اسرائیل کے طریقے تھے، تم ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے سب طریقوں کو اختیار کر لو گے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10379]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 2180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22242»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَاء ِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّہُمْ قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْـہَلُوْنَ۔} … اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بیشک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو۔ (سورۂ اعراف:۱۳۸) حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا: یہ بنی اسرائیل کا شوق بت پرستی کا عالم تھا کہ اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہمارے لئے بھی کوئی ایسی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں، جیسے کہ ان کے معبود ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے، ایک قول کے مطابق لحم قبیلہ کے تھے، یہ گائے کی شکل بناکر اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسکے جواب میں فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے بالکل نا واقف ہو، تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 2180
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ قِصَّةِ عِبَادِتِهِمُ الْعِجْلَ فِي غَيْبَةِ كَلِيمِ اللَّهِ عَنْهُمْ وَالْقَانِهِ الْوَاحَ التَّوْرَاةِ عِنْدَ مَا عَابَنَ ذَلِكَ فَانْكَسَرَتْ
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10380
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدہ کرنے کی طرح نہیں ہے، بیشک جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بتلایا کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں یہ رویہ اختیار کر لیا ہے، تو انھوں نے تختیاں نہیں پھینکی، لیکن جب انھوں نے خود مشاہدہ کیا تو ان کو پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گئیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10380]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 2/ 321، وابن حبان: 6213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2447»
وضاحت: فوائد: … جب موسی علیہ السلام چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے اور اللہ تعالیٰ سے تورات وصول کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو وہیں بتلا دیا تھا کہ ان کی قوم بچھڑے کو معبود بنا چکی ہے، آپ علیہ السلام نے یہ بات سن لی اور تورات کی تختیاں اٹھائے رکھیں، لیکن جب آ کر وہی منظر دیکھا تو کیفیت کچھ اور تھی۔
موسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر جو کچھ ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس انداز میں بیان کیا: {وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہِ غَضْبَانَ اَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْ بَعْدِیْ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّکُمْ وَاَلْقَی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِیَجُرُّہٗ اِلَیْہِ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ فَلاَ تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآئَ وَلَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔} … اور جب موسی علیہ السلام اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیااپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کر لی اور جلدی سے تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے، ہارون علیہ السلام نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے!
ان لوگوں نے مجھ کو بے حقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں، اب تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ اور مجھ کو ان ظالموں کے ساتھ مت شمار کرو۔ (سورۂ اعراف: ۱۵۰)
ہر انسان طبعی طور پر سننے اور دیکھنے میں فرق محسوس کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے مزید اطمینانِ قلب کے لیے اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتاہے۔ جو تعجب اور حیرانی دیکھ کر ہوتی ہے، وہ سن کر نہیں ہو سکتی۔ اور جو یقین و ایقان دیکھ کر حاصل ہوتا ہے وہ صرف سن کا نہیں ہوتا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي جُبْن بَنِي إِسْرَئِيلَ وَ خَوْفِهِمْ مِنْ قِتَالِ الْجَبَّارِينَ
بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10381
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَكُونَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} [المائدة: 24] وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رائے دی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے کہا: انصاریو! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے مخاطب ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں ہوں گے، جیسا کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا تھا: تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ہے، اے اللہ کے رسول! اگر آپ اونٹوں کے جگروں پر مارتے ہوئے سفر کرتے جائیں،یہاں تک کہ برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10381]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 2874، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12045»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ٰیقَوْمِ ادْخُلُواالْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْاخٰسِرِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْھَاقَوْمًاجَبَّارِیْنَ وَاِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَاحَتّٰییَخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنْ یَّخْرُجُوْامِنْھَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۔ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْھِمُ الْبَابَ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَآاَبَدًا مَّا دَامُوْافِیْھَا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا ٓ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَا ٓاَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَاوَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃ’‘ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃًیَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِفَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔} … اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اس نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جاؤ، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بے شک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔دو آدمیوں نے کہا، جو ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرتے تھے، ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، تم ان پر دروازے میں داخل ہو جاؤ، پھر جب تم اس میں داخل ہوگئے تو یقینا تم غالب ہو اور اللہ ہی پر پس بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔ انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک ہم ہرگز اس میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں، سو تو اور تیرا رب جاؤ، پس دونوں لڑو، بے شک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔ فرمایا پھر بے شک وہ ان پر چالیس سال حرام کر دی گئی ہے، زمین میں سر مارتے پھریں گے، پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔ (سورۂ مائدہ: ۲۱۔ ۲۶)بنی اسرائیل کے مورثِ اعلییعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا، لیکنیوسف علیہ السلام کے امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہو گئے تھے اور پھر تب سے مصر ہی میں رہے، جب تک کہ موسی علیہ السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر مصر سے نکال نہیں لے گئے، اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی، جو ایک بہاد ر قوم تھی۔ جب موسی علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لیے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا، چنانچہ موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت ِ الٰہی کی بشارت بھی سنائی، لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہ ہوئے اور پہلے مرحلے میں ہی ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے دست بردار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کی کوئی پرواہ نہ کی اور بدترین بزدلی، سوئے ادبی اور تمرد وسرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ اے موسی! تو اور تیرا ربّ جا کر لڑو۔ اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام سے مشورہ کیا تو انھوں نے قلت ِ تعداد اور قلت ِ وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کا بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
برک الغماد ایک مقام کانام ہے، ایک قول کے مطابق یہ مکہ مکرمہ سے آگے پانچ دنوں کی مسافت پر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً پندرہ دنوں کی مسافت پر پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہجر کے اُس پار یا حبشہ میں ایک شہر کا نام ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 2874
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ قِصَّتِهِ مَعَ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام کے ساتھ واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10382
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقِسَانِيُّ قَالَ الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ وَقَالَ مُحَمَّدٌ ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ خَضِرٌ إِذْ مَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ لَا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ خَضِرٌ فَسَأَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ وَجَعَلَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ الْحُوتَ آيَةً فَقِيلَ لَهُ إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے حُر بن قیس فزاری کے درمیانیہ مباحثہ ہونے لگا کہ وہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ انھوں نے جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستے کا سوال کیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ خضر علیہ السلام تھے، اتنے میں وہاں سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، سیدنا ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا: میرا اور میرے اس دوست کی اس موضوع پر بحث ہو رہی ہے کہ موسی علیہ السلام کا وہ صاحب کون تھا کہ جس سے ملاقات کرنے کے لیے راستہ کا انھوں نے سوال کیا تھا، تو کیا تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات بیان کر رہے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہفرماتے ہوئے سنا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے موسی! کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں، جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ خضر ہے، موسی علیہ السلام نے ان کی ملاقات کا راستہ دریافت کیا، جواباً اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے بطور نشانی قرار دیا اور ان سے کہا گیا: جب تو مچھلی کو گم پائے تو لوٹ آنا، پھر ان دونوں کا وہی قصہ پیش آیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔کہ ان کے اور [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10382]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 78، 7478، ومسلم: 2380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21426»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 78
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10383
حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعَمُ أَوْ يَقُولُ لَيْسَ مُوسَى صَاحِبُ خَضِرٍ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ كَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا فَقَالُوا لَهُ مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ قَالَ أَنَا فَأَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَيْهِ إِنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ قَالَ رَبِّ فَأَرِنِيهِ قَالَ قِيلَ تَأْخُذْ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ قَالَ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ وَجَعَلَ هُوَ وَصَاحِبُهُ يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ رَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ فَحَبَسَ اللَّهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ الْمَاءُ فَاسْتَيْقَظَ مُوسَى فَقَالَ {لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} [الكهف: 62] وَلَمْ يُصِبِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ} {فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا} [الكهف: 63-64] فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا {وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا} [الكهف: 61] قَالَ أَمْسَكَ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّاقِ فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَكَانَ لِمُوسَى عَلَيْهِ عَجَبًا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ ثَوْبٌ فَسَلَّمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ قَالَ أَنَا مُوسَى قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ {أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا} [الكهف: 66] قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَّمَكَهُ اللَّهُ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحُمِلَ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمْ يُعْجِبْهُ وَنَظَرَ فِي السَّفِينَةِ فَأَخَذَ الْقَدُومَ يُرِيدُ أَنْ يَكْسِرَ مِنْهَا لَوْحًا فَقَالَ حُمِلْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ وَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُقَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا {قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 75] قَالَ إِنِّي نَسِيتُ وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ قَالَ الْخَضِرُ مَا يُنْقِصُ عِلْمِي وَلَا عِلْمَكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ {فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا} [الكهف: 77] فَرَأَى غُلَامًا فَأَخَذَ رَأْسَهُ فَانْتَزَعَهُ فَقَالَ {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا} [الكهف: 74-75] قَالَ سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى قَالَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا جِدَارٌ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ أَرَانَا سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَرَفَعَ يَدَهُ هَكَذَا رَفْعًا فَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ فَرَفَعَهُمَا لِبَطْنِ كَفَّيْهِ رَفْعًا فَقَالَ {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ} [الكهف: 78] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَتِ الْأَوْلَى نِسْيَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِ
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف شامی کا خیال ہے کہ جس موسی کی خضر سے ملاقات ہوئی تھی، وہ بنی اسرائیل والے موسی نہیں ہیں، انھوں نے کہا: اللہ کے دشمن نوف نے جھوٹ بولا ہے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، لوگوں نے ان سے پوچھا: لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے؟ انھوں نے کہا: میں ہوں، اُدھر سے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کر دی کہ میرا ایک بندہ تجھ سے زیادہ علم والا ہے، انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو پھر وہ مجھے دکھاؤ، ان سے کہا گیا کہ تم ایک مچھلی پکڑو اور اس کو ایک ٹوکرے میں ڈالو، جہاں تم اس کو گم پاؤ گے، تو وہ وہاں ہو گا، پس انھوں نے مچھلی پکڑی اور اس کو ایک ٹوکرے میں رکھا اور انھوں نے اور ان کے ایک ساتھی نے ساحل کی طرف چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے، موسی علیہ السلام وہاں سو گئے، مچھلی نے ٹوکرے میں حرکت کی اور سمندر میں کود گئی، اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے داخل ہونے والی جگہ کا پانی روک لیا (اور یوں ایک غار سی نظر آنے لگی)، جب پانی مضطرب ہوا تو موسی علیہ السلام بیدار ہو گئے (اور کہیں آگے جا کراپنے نوجوان سے) کہا: لا ہمارا کھانا دے، ہمیں تو اپنے اس سفر سے تھکاوٹ اٹھانی پڑی۔ موسی علیہ السلام نے اس مقام سے آگے گزر کر تھکاوٹ محسوس کی، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا، آگے سے اس نوجوان نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم چٹان پر ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے، وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے مجھے بھلا دیا۔ چنانچہ وہیں سے وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے۔ پس انھوں نے اپنے قدموں کے نشانات کو ڈھونڈنا شروع کر دیا، اور اس مچھلی نے انوکھے طریقہ سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کا چلاؤ روک لیا اور وہ جگہ طاق کی طرح نظر آنے لگی،یہ مچھلی کے لیے انوکھا اور موسی علیہ السلام کے لیےعجیب کام تھا، بہرحال وہ دونوں بالآخر اس چٹان تک پہنچ گئے، مطلوبہ مقام پر پہنچ کر انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی ہے، اس نے کپڑا ڈھانپا ہوا ہے، موسی علیہ السلام نے اس کو سلام کہا، اس نے آگے سے کہا: تیری علاقے میں سلام کیسے آ گیا؟ انھوں نے کہا: میں موسی ہوں، خضر علیہ السلام نے کہا: بنو اسرائیل کا موسی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں آپ کی تابعداری کروں کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اے موسی! بیشک مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ تم اس کو نہیں جانتے اور تم کو اسی کی طرف سے ایسا علم دیا گیا ہے کہ میں اس کی معرفت نہیں رکھتا، پھر وہ دونوں ساحل پر چل پڑے (اور خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام پر پابندی لگا دی کہ انھوں نے اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرنا)، وہاں سے ایک کشتی گزری، انھوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا، اس لیے ان کو بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا گیا، لیکن اس چیز نے ان کو تعجب میں ڈالا، پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کو دیکھا اور کلہاڑا لے کر اس کی ایک تختی کو توڑنا چاہا، موسی علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے ہمیں اجرت کے بغیر سوار کر لیا اور اب تم اس کشتی کو توڑ کر سب سواروں کو غرق کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہ کر سکے گا۔ موسی علیہ السلام نے کہا: بیشک میں بھول گیا تھا، پھر ایک پرندہ آیا اور اس نے سمندر سے اپنی چونچ بھری، خضر علیہ السلام نے اس کو دیکھ کر کہا: اے موسی! میرے اور تیرے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں اتنی کمی کی ہے، جتنی کہ اس پرندے نے اس سمندر میں کی ہے، پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ وہ دونوں ایک گاؤں والوں کے پاس آ کر ان سے کھانا طلب کیا، لیکن انھوں نے ان کی مہمان داری سے صاف انکار کر دیا۔ نیز خضر علیہ السلام نے وہاں ایک لڑکا دیکھا اور اس کو پکڑ کر اس کا سر اکھاڑ دیا، موسی علیہ السلام نے کہا: کیا تو نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا، بیشک تو نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی، انھوں نے کہا: کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہر گز صبر نہیں کر سکتے۔ عمرو نے اپنی روایت میں کہا: یہ پہلے کام سے زیادہ سخت کام تھا، پھر وہ دونوں چل پڑے، جب خضر علیہ السلام نے دیوار کو گرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اس کو سیدھا کر دیا، سفیان راوی نے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اس طرح بلند کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو رکھا اور پھر ان کو ہتھیلیوں کی اندرونی سمت کی طرف سے بلند کیا، موسی علیہ السلام نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے، اس نے کہا: بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پہلی بار تو موسی علیہ السلام بھول گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے، کاش وہ صبر کرتے تاکہ وہ ہم پر اپنے مزید معاملات بیان کرتے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 122، 3278، 3401، ومسلم: 2380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21431»
وضاحت: فوائد: … مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ کہف مع التفسیر، خضر کون تھے؟ دیکھیں: حدیث نمبر (۱۰۳۹۵)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 122
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ الْخَسْفِ بِقَارُونَ وَ قِصَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ مُوسَى مَعَهُ
قارون کا دھنسنا اور موسی علیہ السلام کا اس کے ساتھ قصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10384
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي بَيْنَ بُرْدَيْنِ مُخْتَالًا خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی دو چادریں زیب ِ تن کر کے تکبر سے چل رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10384]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 2952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11373»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10385
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ فَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے صادق و مصدوق خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگوں میں ایک آدمی تھا، وہ دو چادریں زیب ِ تن کر کے اترا کے چل رہا تھا، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا اور اس نے زمین کو حکم دیا، پس وہ اس کو نگل گئی، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قیامت کے دن تک دھنستا رہے گا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10385]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5789، ومسلم: 2088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10459»
وضاحت: فوائد: … قارون، موسی علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ درج بالا احادیث میں جس شخص کا ذکر ہے، اس سے مراد قارون ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَبَغٰی عَلَیْھِمْ وَاٰتَیْنٰہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗلَتَنُوْٓاُبِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ اِذْ قَالَ لَہٗقَوْمُہٗلَاتَفْرَحْاِنَّاللّٰہَلَایُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ۔ وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ۔ قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَھْلَکَ مِنْ قَبْلِہِ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّاَکْثَرُ جَمْعًا وَلَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِھِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۔ فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہِ فِیْ زِیْنَتِہِ قَالَ الَّذِیْنَیُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ٰیلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَقَارُوْنُ اِنَّہٗلَذُوْحَظٍّعَظِیْمٍ۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْر’‘ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ۔ فَخَسَفْنَا بِہٖوَبِدَارِہِالْاَرْضَفَمَاکَانَلَہٗمِنْفِئَۃٍیَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ۔ وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَہٗبِالْاَمْسِیَقُوْلُوْنَ وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہِ وَیَقْدِرُ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا وَیْکَاَنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ۔ تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔} … بے شک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا، پس اس نے ان پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے کہ بلا شبہ ان کی چابیاںیقینا ایک طاقتور جماعت پر بھاری ہوتی تھیں۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا مت پھول، بے شک اللہ پھولنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپناحصہ مت بھول اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔اس نے کہا مجھے تو یہ ایک علم کی بنا پر دیا گیا ہے، جو میرے پاس ہے۔ اور کیا اس نے نہیں جانا کہ بے شک اللہ اس سے پہلے کئی نسلیں ہلاک
کر چکا ہے جو اس سے زیادہ طاقتور اور زیادہ جماعت والی تھیں اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔پس وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں نکلا۔ ان لوگوں نے کہا جو دنیا کی زندگی چاہتے تھے، اے کاش! ہمارے لیے اس جیسا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بلاشبہ وہ یقینا بہت بڑے نصیب والا ہے۔اور ان لوگوں نے کہا جنھیں علم دیا گیا تھا، افسوس تم پر! اللہ کا ثواب اس شخص کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لایا اور اس نے اچھا عمل کیا اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کرنے والے ہیں۔تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر نہ اس کے لیے کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرنے والوں سے تھا۔اور جن لوگوں نے کل اس کے مرتبے کی تمنا کی تھی انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ کہہ رہے تھے افسوس! اب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہم پر احسان کیا تو وہ ضرور ہمیں دھنسا دیتا، افسوس! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقتیہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پاتے۔ یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ (سورۂ قصص: ۷۴۔ ۸۳) انسان کے اندر جو صلاحیت پائی جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، لہٰذا محسِنِ حقیقی اور منعمِ حقیقی سے کبھی بھی غفلت نہیں برتنی چاہیے، وگرنہ اللہ تعالیٰ کے کیے گئے احسان وبالِ جان بن جاتے ہیں، اس ضمن میں سب سے زیادہ سبق آموز مثال قارون کی ہے، کتنے خزانوں کا مالک تھا، لیکن اس کے مال و دولت نے اس کو کفایت نہ کیا، بلکہ اس کے لیے زمین میں دھنس جان کا سبب بن گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5789
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمِّ قَارُونَ وَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ
قارون، فرعون اور ہامان کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10386
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جس نے اس نماز کی محافظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی محافظت نہیں کی،یہ ا س کے حق میں نور ہو گی نہ دلیل اور ایسا شخص قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10386]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الدارمي: 2/ 301، وابن حبان: 1467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6576»
وضاحت: فوائد: … فرعون بادشاہت کی وجہ سے، قارون مال و دولت کی وجہ سے، ہامان وزارت کی وجہ سے اور ابی بن خلف تجارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور رہے۔ کون سی وجہ ہے کہ بے نماز کو نماز کی ادائیگی کا وقت نہیں ملتا؟ غور کر لے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں