الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ ذِكْرِ قِصَّتِهِ مَعَ مَلَكِ الْمَوْتِ وَ وَفَاتِهِ وَ مَكَان قَبْرِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
حدیث نمبر: 10387
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عَيَانًا قَالَ فَأَتَى مُوسَى فَلَطَمَهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَأَتَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ يَا رَبِّ عَبْدُكَ مُوسَى فَقَأَ عَيْنِي وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَعَنَفْتُ بِهِ وَقَالَ يُونُسُ لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ اذْهَبْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى جِلْدِ أَوْ مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُهُ سَنَةٌ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ مَا بَعْدَ هَذَا قَالَ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ قَالَ فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ قَالَ يُونُسُ فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَيْنَهُ وَكَانَ يَأْتِي النَّاسَ خُفْيَةً
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملک الموت (موت والا فرشتہ) لوگوں کے پاس آتا تھا اور وہ اس کو دیکھتے تھے، اسی طرح وہ موسی علیہ السلام کے پاس آیا لیکن انھوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے میرے ربّ! تیرے بندے موسی نے (طمانچہ مار کر) میری آنکھ پھوڑ دی، اگر تو نے اسے معزز نہ بنایا ہوتا تو میں بھی اس پر سختی کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: تو میرے بندے کے پاس واپس جا اور اس سے کہہ کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال تم زندہ رہو گے۔ موسی علیہ السلام نے (فرشتے کی یہ بات سن کر) کہا: اس کے بعد پھر کیا ہو گا؟ جواب ملا: پھر تجھے موت آئے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھیں ایک بو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی۔ یونس راوی نے کہا: پس اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو آنکھ عطا کر دی، اس کے بعد فرشتہ لوگوں کے پاس مخفی انداز میں آنے لگ گیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10387]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في الصحيحة، قال الالباني: والطرق عن ابي ھريرة ثلاثة: الأولي: عن طاوس عن أبي ھريرة: فأخرجه الشيخان وغيرھما، الثانية: عن ھمام عنه: فأخرجاه أيضا وغيرھما، والسياق لمسلم، وھو أتم، الثالثه: عن عمار بن أبي عمار: فأخرجه أحمد، وابن جرير الطبري في التاريخ 1/224۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10917»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10388
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعْ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ فَقَالَ أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ملک الموت کو موسی علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا، پس جب وہ ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، پس وہ اپنے ربّ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے، جس کا موت کا ارادہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کی آنکھ واپس لوٹا دی اور اس سے کہا: تو اس کی طرف لوٹ جا اور اس کو کہہ کہ وہ اپنا ہاتھ بیل کی کمر پر رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال زندگی مل جائے گی، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا: پھر موت ہو گی، انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ اس کو پاک زمین سے ایک پتھر کی پھینک تک قریب کر دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمھیں سرخ ٹیلے کے نیچے راستے کی ایک طرف ان کی قبر دکھاتا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10388]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7634»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10389
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى فَرَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے سیر کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔ ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10389]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12532»
وضاحت: فوائد: … سوال یہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے موت والے فرشتے کو تھپڑ کیوں مارا؟ اس کے دو جوابات ہیں: (۱)موسی علیہ السلام کو یہ علم نہ ہو سکا کہ وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کا قا صد تھا، جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آیا تھا، انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی عام آدمی ہے، جو ان کو قتل کرنا چاہتا ہے، اس لیے انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ اقدام کیا۔ (۲)اللہ تعالیٰ نے فرشتے کا امتحان لینے کے لیے موسی علیہ السلام کو اجازت دی تھی کہ وہ اس کو تھپڑ ماریں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو پرکھنے کے لیے جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)
موسی علیہ السلام نے بیت المقدس کے قرب کا سوال اس بنا پر کیا کہ وہ شرف والی جگہ تھی، انبیائے کرام وغیرہ کا مدفن ہونے کی وجہ سے افضل ہو گی، جبکہ بعض علما کا خیال ہے کہ انھوں نے بیت المقدس کا سوال نہیں کیا، کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ فتنہ و فساد میں پڑ جائیں۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ دفن ہونے کے لیے فضیلت و عظمت والے
مقام کا تعین کرنا چاہیے اور نیکوکار لوگوں کے قبرستان کے قریب دفن ہونا چاہیے۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)
موسی علیہ السلام نے بیت المقدس کے قرب کا سوال اس بنا پر کیا کہ وہ شرف والی جگہ تھی، انبیائے کرام وغیرہ کا مدفن ہونے کی وجہ سے افضل ہو گی، جبکہ بعض علما کا خیال ہے کہ انھوں نے بیت المقدس کا سوال نہیں کیا، کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ فتنہ و فساد میں پڑ جائیں۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ دفن ہونے کے لیے فضیلت و عظمت والے
مقام کا تعین کرنا چاہیے اور نیکوکار لوگوں کے قبرستان کے قریب دفن ہونا چاہیے۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)
الحكم على الحديث: صحیح
30. بَابُ ذِكْرِ نُبُوَّةِ يُوشَعَ بَنِ نُونِ وَ قِيَامِهِ بِأَعْبَاءِ بَنِي إِسْرَئِيلَ بَعْدَ وَفَاةِ مُوسَى وَ هٰرُونَ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلامُ وَ مُعْجِزَتِهِ
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی¤ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
حدیث نمبر: 10390
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلَى بَشَرٍ إِلَّا لِيُوشَعَ بْنِ نُونٍ لَيَالِيَ سَارَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج کو کسی بشر کے لیے نہیں روکا گیا، ما سوائے یوشع بن نون علیہ السلام کے، یہ ان دنوں کی بات ہے، جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10390]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8298»
وضاحت: فوائد: … سورج اللہ تعالیٰ کے نظام کے مطابق صدہا صدیوں سے اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے، اس کی آمد و رفت میں ایک لمحہ کا فرق نہیں آیا، صرف یوشع بن نون کے لیے سورج کو روک لیا گیا تھا، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا، یقینا اس سے جہاد کی برکت و اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس کو فتح کیا، نہ کہ موسی علیہ السلام نے، سورج کو بیت المقدس کی فتح کے موقع پر روکا گیا تھا، نہ کہ اریحا کی فتح کے موقع پر۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس کو فتح کیا، نہ کہ موسی علیہ السلام نے، سورج کو بیت المقدس کی فتح کے موقع پر روکا گیا تھا، نہ کہ اریحا کی فتح کے موقع پر۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10391
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا إِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلَى بَشَرٍ إِلَّا لِيُوشَعَ لَيَالِيَ سَارَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَفِي رِوَايَةٍ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لَا يَتَّبِعُنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سَقْفَهَا وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا قَالَ فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ وَفِي رِوَايَةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ عِنْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَغَنِمُوا الْغَنَائِمَ قَالَ فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ وَكَانُوا إِذَا غَنِمُوا الْغَنِيمَةَ بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهَا النَّارَ فَأَكَلَتْهَا فَقَالَ فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ فَبَايَعَتْهُ قَالَ فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ يَدُهُ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ قَالَ أَجَلْ قَدْ غَلَلْنَا صُورَةَ وَجْهِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَنَا الْغَنَائِمَ رَحْمَةً بِنَا وَتَخْفِيفًا لِمَا عَلِمَ مِنْ ضَعْفِنَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سورج کسی بشر کے لیے کبھی بھی نہیں روکا گیا، سوائے یوشع بن نون کے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے، ایک روایت میں ہے: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا، اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بن چکا ہے (یعنی اس نے نکاح کر لیا ہے) اور رخصتی کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک نہیں کی، وہ آدمی بھی (میرے لشکر میں شریک) نہ ہو، جس نے کوئی گھر بنانا شروع کیا ہے، لیکن ابھی تک چھت نہیں ڈالی اور جو آدمی بکریاںیا ایسے حاملہ جانور خرید چکا ہے، کہ جن کے بچوں کی ولادت کا اسے انتظار ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ نہ آئے۔(یہ اعلان کرنے کے بعد) وہ غزوہ کے لیے روانہ ہو گیا، جب وہ ایک گاؤں کے پاس پہنچے تو نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا، یا قریب تھا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ کہ غروبِ آفتاب سے پہلے دشمنوں سے مقابلہ ہوا)۔ اس وقت اس نبی نے سورج سے کہا: تو بھی (اللہ تعالیٰ کا) مامور ہے اور میں بھی (اسی کا) مامور ہوں۔ اے اللہ! تو اس سورج کو میرے لیے کچھ دیر تک روک لے۔ پس اسے روک دیا گیا، (وہ جہاد میں مگن رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی اور کافی غنیمتیں حاصل ہوئیں۔ اس لشکر والوں نے (اس وقت کے شرعی قانون کے مطابق) غنیمتوں کا مال جمع کیا، اسے کھانے کے لیے آگ آئی، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا اصول یہ تھا کہ جب وہ غنیمت کا مال حاصل کرتے تو اللہ تعالیٰ آگ بھیجتا جو اسے کھا جاتی۔ اس نبی نے (آگ کے نہ کھانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے) کہا: تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے، لہٰذا ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے۔ انھوں نے بیعت کی۔ بیعت کے دوران ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا۔ اس وقت انھوں نے کہا: تم میں خیانت ہے۔ اب تیرے قبیلے کا ہر آدمی میری بیعت کرے گا (تاکہ مجرم کا پتہ چل سکے)، انھوں نے بیعت شروع کی، بالآخر دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ نبی نے کہا: تم میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم نے گائے کے چہرے کی مانند بنی ہوئی سونے کی ایک مورتی کی خیانت کی ہے۔ پھر وہ گائے کے چہرے کی طرح کی بنی ہوئی چیز لے کر آئے اور اسے زمین پر مالِ غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ متوجہ ہوئی اور مالِ غنیمت کھا گئی۔ ہم (امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کسی کے لیے بھی مالِ غنیمت حلال نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ ہم ضعیف اور بے بس ہیں تو غنیمتوں کو ہمارے لیے حلال قرار دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ رحم کرتے ہوئے اورہماری کمزوری کی بنا پر ہمارے ساتھ تخفیف کرتے ہوئے ہمیں غنیمت کا مال کھانے کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10391]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3124، 5157، و مسلم: 1747، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8221»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل کسی امت کے لیے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا، یہ امت ِ محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
بُضْْع امرأۃ: حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: اس لفظ کا اطلاق شرمگاہ، شادی اور جماع پر ہوتا ہے، اس حدیث میں یہ تینوں معانی مراد لینا مناسب ہے، اور اس کا اطلاق مہر اور طلاق پر بھی ہوتا ہے۔
ولمایبنِ بھا: یعنی ابھی وہ خاوند اس پر داخل نہیں ہوا، اس ترکیب میں لمّا لانے سے معلوم ہو رہا ہے کہ اسے ایسا ہونے کی توقع ہے۔
خلِفات: یہ خلِفۃ کی جمع ہے، اس کا معنی حاملہ اونٹنی ہے۔ اونٹنی کے علاوہ دوسرے جانوروں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا رہتا ہے۔
اس حدیث کی شرح: …
۱۔ مہلب نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کے فتنے کی وجہ سے انسان کا نفس بے صبری و بے قراری کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس میں دنیا میں طویل عمر پانے کی حرص پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کر لیا ہو، لیکن ابھی رخصتییا جماع وغیرہ نہ ہوا ہو اور اسے سفرِ جہاد میں نکلنا پڑ جائے، تو اس کے دل میں یہی خیال رہے گا کہ اسے جلدی واپس چلے جانا چاہیے، اس طرح سے شیطان اس کے دل کو یوں مشغول کر دے گا، کہ وہ اپنے سفر کے مقصد سے غافل ہو جائے گا۔
۲۔ ابن منیر نے کہا: عام لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ادائیگی ٔحج کو شادی پر مقدم کرتے ہیں، ان کا خیالیہ ہے کہ حج سے پاکدامنی کا حصول ہوتا ہے، اس حدیث سے ایسے لوگوں کا ردّ ہوتا ہے، بہتر یہ ہے کہ شادی کو حج پر ترجیح دی جائے، کیونکہ اسی میں پاکدامنی ہے،جیسا کہ اس حدیث میں اس چیز کو جہاد پر ترجیح دی گئی۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ اس موضوع پر درج ذیل دو احادیث مروی ہے:
أ: ((الحج قبل التزویج۔)) … حج، شادی سے پہلے ہے۔
اس کی سند میں دو راوی غیاث بن ابراہیم اور میسرہ بن عبد ربہ کذاب ہیں۔
ب: ((من تزوج قبل ان یحج، فقد بدأ بالمعصیۃ۔)) … جس نے حج سے پہلے شادی کی، اس نے معصیت سے ابتدا کی۔
اس کی سند میں محمد بن ایوب یروی الموضوعات، اس کا باپ لیس بشیئ اور احمد بن جمہور متہم بالوضع ہے۔
مزید تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۲۲۱، ۲۲۲) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ (صحیحہ: ۲۰۲)
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر احسان کرتے ہوئے مال غنیمت بھی حلال کر دیا اور ساری زمین کو جائے نماز قرار دیا اور مجبوری کے وقت ہر حالت میں نماز پڑھنے کی گنجائش دی، مثلا پیدل چلتے ہوئے یا سوار ہو کر۔
بَابُ مَاجَائَ فِیْ دُخُوْلِ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ بَیْتَ الْمُقَدَّسِ وَقُوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی لَھُمْ:{وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ}
بنی اسرائیل کا بیت المقدس میں داخل ہونے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ}کا بیان
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
بُضْْع امرأۃ: حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: اس لفظ کا اطلاق شرمگاہ، شادی اور جماع پر ہوتا ہے، اس حدیث میں یہ تینوں معانی مراد لینا مناسب ہے، اور اس کا اطلاق مہر اور طلاق پر بھی ہوتا ہے۔
ولمایبنِ بھا: یعنی ابھی وہ خاوند اس پر داخل نہیں ہوا، اس ترکیب میں لمّا لانے سے معلوم ہو رہا ہے کہ اسے ایسا ہونے کی توقع ہے۔
خلِفات: یہ خلِفۃ کی جمع ہے، اس کا معنی حاملہ اونٹنی ہے۔ اونٹنی کے علاوہ دوسرے جانوروں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا رہتا ہے۔
اس حدیث کی شرح: …
۱۔ مہلب نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کے فتنے کی وجہ سے انسان کا نفس بے صبری و بے قراری کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس میں دنیا میں طویل عمر پانے کی حرص پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کر لیا ہو، لیکن ابھی رخصتییا جماع وغیرہ نہ ہوا ہو اور اسے سفرِ جہاد میں نکلنا پڑ جائے، تو اس کے دل میں یہی خیال رہے گا کہ اسے جلدی واپس چلے جانا چاہیے، اس طرح سے شیطان اس کے دل کو یوں مشغول کر دے گا، کہ وہ اپنے سفر کے مقصد سے غافل ہو جائے گا۔
۲۔ ابن منیر نے کہا: عام لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ادائیگی ٔحج کو شادی پر مقدم کرتے ہیں، ان کا خیالیہ ہے کہ حج سے پاکدامنی کا حصول ہوتا ہے، اس حدیث سے ایسے لوگوں کا ردّ ہوتا ہے، بہتر یہ ہے کہ شادی کو حج پر ترجیح دی جائے، کیونکہ اسی میں پاکدامنی ہے،جیسا کہ اس حدیث میں اس چیز کو جہاد پر ترجیح دی گئی۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ اس موضوع پر درج ذیل دو احادیث مروی ہے:
أ: ((الحج قبل التزویج۔)) … حج، شادی سے پہلے ہے۔
اس کی سند میں دو راوی غیاث بن ابراہیم اور میسرہ بن عبد ربہ کذاب ہیں۔
ب: ((من تزوج قبل ان یحج، فقد بدأ بالمعصیۃ۔)) … جس نے حج سے پہلے شادی کی، اس نے معصیت سے ابتدا کی۔
اس کی سند میں محمد بن ایوب یروی الموضوعات، اس کا باپ لیس بشیئ اور احمد بن جمہور متہم بالوضع ہے۔
مزید تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۲۲۱، ۲۲۲) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ (صحیحہ: ۲۰۲)
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر احسان کرتے ہوئے مال غنیمت بھی حلال کر دیا اور ساری زمین کو جائے نماز قرار دیا اور مجبوری کے وقت ہر حالت میں نماز پڑھنے کی گنجائش دی، مثلا پیدل چلتے ہوئے یا سوار ہو کر۔
بَابُ مَاجَائَ فِیْ دُخُوْلِ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ بَیْتَ الْمُقَدَّسِ وَقُوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی لَھُمْ:{وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ}
بنی اسرائیل کا بیت المقدس میں داخل ہونے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ}کا بیان
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10392
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ} [البقرة: 58] فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرئیل سے کہا گیا: تم دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور زبان سے حِطَّۃ کہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ لیکن انھوں نے اس بات کو بدل ڈالا اور دروازے سے سرینوں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے اور زبان سے حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ (گندم بالی میں)کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10392]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3403، 4641، ومسلم: 3015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8213»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10393
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} [البقرة: 58] قَالَ دَخَلُوا زَحْفًا {وَقُولُوا حِطَّةٌ} قَالَ بَدَّلُوا فَقَالُوا حِنْطَةٌ فِي شَعْرَةٍ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا کہ دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔ لیکن وہ سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور ان کو حکم دیا کہ حِطَّۃ کہو، لیکن انھوں نے اس حکم کو بد ڈالا اور کہا: حِنْطَۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ (گندم بالی میں)۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10393]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8095»
وضاحت: فوائد: … حِطَّۃ کا معنی ہے: ہمارے گناہ معاف کر دے، یعنی بنی اسرائیل کو استغفار کرنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
بنی اسرائیلی کی سرتابی و سرکشی کییہ صورتحال تھی کہ وہ لوگ احکام الٰہی کا تمسخر و استہزا کرتے تھے، دراصل جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہو جائے تو اس کا معاملہ احکام الہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہو جاتا ہے۔
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا: بنی اسرائیل چالیس برسوں کے بعد یوشع علیہ السلام کے ساتھ میدان تیہ سے نکلے اور جمعہ کی شام کو بیت المقدس کو فتح کر لیا، ان ہی کے لیے سورج کو کچھ دیر کے لیے روکا گیا تھا، جب انھوں نے اس کو فتح کر لیا تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر نے کے لیے شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی، ان کا علاقہ ان کو لوٹا دیا اور ان کو میدانِ تیہ اور گمراہی سے بچایا۔
لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری کی اور گویا اس کے حکم کے ساتھ مذاق کیا۔
بنی اسرائیلی کی سرتابی و سرکشی کییہ صورتحال تھی کہ وہ لوگ احکام الٰہی کا تمسخر و استہزا کرتے تھے، دراصل جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہو جائے تو اس کا معاملہ احکام الہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہو جاتا ہے۔
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا: بنی اسرائیل چالیس برسوں کے بعد یوشع علیہ السلام کے ساتھ میدان تیہ سے نکلے اور جمعہ کی شام کو بیت المقدس کو فتح کر لیا، ان ہی کے لیے سورج کو کچھ دیر کے لیے روکا گیا تھا، جب انھوں نے اس کو فتح کر لیا تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر نے کے لیے شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی، ان کا علاقہ ان کو لوٹا دیا اور ان کو میدانِ تیہ اور گمراہی سے بچایا۔
لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری کی اور گویا اس کے حکم کے ساتھ مذاق کیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
31. بَابُ عَدَدِ مَنْ جَاوَزَ النَّهْرَ مَعَ طَالُوْتَ
خضر علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام کا ذکر
حدیث نمبر: 10394
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُسَمَّ خَضِرًا إِلَّا لِأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ الْفَرْوَةُ الْحَشِيشُ الْأَبْيَضُ وَمَا يُشْبِهُهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَظُنُّ هَذَا تَفْسِيرًا مِنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خضر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب وہ خشک زمین، جس پر کوئی سبزہ نہ ہوتا، پر بیٹھتے تھے تو وہ سر سبز ہو کر ہلنے لگتی تھی۔ راوی کہتا ہے: فَرْوَۃ سے مراد سفید گھاس اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں، عبد اللہ راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ عبد الرزاق نے یہ تفسیر بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10394]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8211»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10395
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ إِنَّمَا سُمِّيَ خَضِرًا إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَحْتَهُ خَضْرَاءُ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خضر کے نام کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ خشک زمین، جس پر کوئی سبزہ نہ ہوتا، پر بیٹھتے تو وہ ان کے نیچے سبز ہو جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10395]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8098»
وضاحت: فوائد: … خضر کو تین طرح سے پڑھا گیا ہے: خَضِر، خِضْر، خِضَر۔
یہ لقب ہے، وہب بن عقبہ نے کہا کہ خضر کا نام بلیاء بن ملکان تھا۔
خضر علیہ السلام کی حیات اور نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، موت و حیات میں سے کسی ایک چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہر فریق نے دور دور کی دلیلیں پیش کی ہیں، ہمارا نظریہیہ ہے کہ یہ عوام سے متعلقہ موضوع نہیں ہے اور اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے، بہرحال یہ بات قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہے کہ انبیاء و رسل کا مرتبہ صوفیاء اور اولیاء سے زیادہ ہوتا ہے، صرف ایک گزارش کرتے ہیں:
خضر علیہ السلام کی حیات:
اس معاملے میں اصل قانون تو موت ہی ہے، جب تک کسی خاص دلیل کی روشنی میں زندگی کو ثابت نہ کر دیا جائے اور قرآن و حدیث میں کوئی ایسی خاص دلیل نہیں ہے جو آج تک خضر علیہ السلام کی حیات پر دلالت کرے، جبکہ درج ذیل تین دلائل سے ان کی موت کا اشارہ ملتا ہے:
۱۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَاْئِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ۔ } … اور ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ فوت ہو گئے تو کیا وہ ہمیشہ کے لیے رہ جائیں گے۔
(سورۂ انبیائ: ۳۴)
جب کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بابت کہا کہ چلو ایک دن اس نے مر ہی جانا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا کہ موت تو ہر انسان کو آنی ہے، کوئی بھی اس اصول سے مستثنی نہیں ہے، یہاں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی۔ یہ آیت خضر علیہ السلام کو بھی شامل ہے۔
۲۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْل’‘ مُّصَدِّق’‘ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖوَلَتَنْصُرُنَّہٗقَالَئَاَقْرَرْتُمْوَاَخَذْتُمْعَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ۔} … جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، پھر پوچھا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ (سورۂ آل عمران: ۸۱)
خضر علیہ السلام نبی ہیںیا ولی، بہرحال وہ اس معاہدے اور میثاق میں داخل ہیں، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے تک زندہ تھے تو ان کا شرف اسی میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر اس معاہدے کی پاسداری کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرتے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ کسی دلیل سے ان کی آمد کا علم نہیں ہوتا۔
اٰیت میں انبیائh سے وعدہ لینے کا ذکر ہے اس لیے خضر علیہ السلام اگر نبی تسلیم کیے جائیں تو پھر وہ اس اٰیت میں مذکور میثاق میں سے داخل ہوں گے ورنہ نہیں۔ اور پہلی بات راجح ہے۔ (عبداللہ رفیق)
۳۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صَلَّی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلَاۃَ الْعِشَائِ فِیْ آخِرِ حَیَاتِہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہِ، فَاِنَّ رَأْسَ مِائَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْمَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔)) … نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہمیں نمازِ عشا پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: کیا خیال ہے تمہارا اس رات کے بارے، (ذرا غور کرو کہ آج) جو زمین کی پشت پر موجود ہے، وہ سو برس تک باقی نہیں رہے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۰۱، صحیح مسلم: ۲۵۳۷)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: وکذالک وقع بالاستقراء فکان آخر من ضبط أمرہ ممن کان موجودا حینئذ أبو الطفیل عامر بن واثلۃ، وقد أجمع أھل الحدیث علی انہ کان آخر الصحابۃ موتا، وغایۃ ما قیل فیہ انہ بقی الی سنۃ عشر ومائۃ وھی رأس مائۃ سنۃ من مقالۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واللہ اعلم۔ … اور تحقیقی طور پر اسی طرح واقع ہوا، پس آخری صحابی جس کے حالات قلم بند کیے اور جو اس وقت موجود تھا، وہ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ہے، اس پر محدثین کا اتفاق ہے کہ وہ صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے، زیادہ سے زیادہیہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو ۱۱۰ھمیں فوت ہوئے، (نہ کہ پہلی صدی کے آخر میں) تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو سو سال اسی کی وفات پر ہی پورے ہوئے تھے۔ واللہ اعلم۔
(فتح الباری: ۲/ ۹۵)
حافظ ابن حجر نے یہ بھی کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۸۲)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق انسانوں سے ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں خضر علیہ السلام کا زندہ ہونا فرض کر لیں تو وہ اس حدیث کا مصداق بنیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ابن جوزی نے کہا: یہ احادیث ِ صحیحہ، خضر علیہ السلام کی حیات کے دعوی کو جڑ سے کاٹ دیتی ہیں۔
خضر علیہ السلام کی نبوت:
حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں خضر علیہ السلام کی نبوت اور موت کے بارے میں گفتگو کی ہے، انھوں نے ان کی نبوت کے بارے میں کہا: خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (سورۂ کہف) میں ذکر کی ہے، یہ واقعہ کئی وجوہات سے خضر کی نبوت پر دلالت کرتاہے، بعض وجوہات یہ ہیں:
۱۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَیْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰہُ مِّنْ لَّدُنَّا عِلْمًا} … تو ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے ہاں سے ایک رحمت عطا کی اور اسے اپنے پاس سے ایکعلم سکھایا تھا۔ (سورۂ کہف: ۶۵)
۲۔ موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام سے یہ کہنا: {ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰٓی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا۔ قَالَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖخُبْرًا۔ قَالَ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّلَآ اَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا۔ قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلََا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ حَتّیٰٓ اُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا۔} … موسیٰ نے اس سے کہا کیا میں تیرے پیچھے چلوں؟ اس (شرط) پر کہ تجھے جو کچھ سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ بھلائی مجھے سکھا دے۔ اس نے کہا بے شک تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا۔اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والا پائے گا اور میں تیرے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ کہا پھر اگر تو میرے پیچھے چلا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھنا، یہاں تک کہ میں خود تیرے لیے اس کا کچھ ذکر کروں۔ (سورۂ کہف: ۶۶ تا ۷۰)
اگر خضر علیہ السلام صرف ولی ہوتے تو موسی علیہ السلام ان کو اس انداز میں خطاب نہ کرتے اور نہ وہ اس انداز میں جواب دیتے، دیکھیں موسی علیہ السلام اُن سے اُن کی صحبت کا سوال کر رہے ہیں، تاکہ وہ اُن سے وہ چیز حاصل کر لیں، جو اللہ تعالیٰ نے صرف اُن کو عطا کی ہے۔ اگر خضر علیہ السلام نبی نہ ہوتے تو وہ تو سرے سے معصوم ہی نہ تھے، جبکہ موسی علیہ السلام عظیم پیغمبر تھے اور معصوم تھے، سو آپ علیہ السلام کو ان سے کیا رغبت ہونی تھی۔
۳۔ خضر علیہ السلام نے لڑکے کو قتل کیا تھا، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی صورت میں ہو سکتا ہے، یہ ان کی نبوت پر مستقل دلیل اور ان کی عصمت پر واضح برہان ہے، کیونکہ ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی خیال کی روشنی میں کسی کو قتل کر دے۔ پھر خضر علیہ السلام کا یہ وجہ بیان کرنا کہ اس لڑکے نے بڑے ہو کر کافر بننا تھا اور اپنے والدین کو بھی کفر پر آمادہ کرنا تھا۔ ابن جوزی نے ان ہی وجوہات کی روشنی میں خضر علیہ السلام کی نبوت ثابت کی ہے۔
۴۔ جب خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کے لیے اپنے افعال کی وضاحت کی تو کہا: {رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ وَمَا فَعَلْتُہٗعَنْاَمْرِیْ} … تیرے رب کی طرف سے رحمت کے لیے اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا (سورۂ کہف: ۸۲)یعنییہ افعال میرے نفس کی اختراع نہیں، بلکہ مجھے ان کے بارے میں حکم دیا گیا اور میری طرف وحی کی گئی۔
۵۔ حدیث نمبر (۱۰۳۹۴، ۱۰۳۹۵) کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خضر علیہ السلام کی جو خصوصیت بیان کی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا معجزہ تھا۔
ان وجوہات سے پتہ چلتا ہے کہ خضر علیہ السلام نبی تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الیاس علیہ السلام:
تبویب میں الیاس علیہ السلام کاذ کر موجود ہے، لیکن باب کے اندر ان سے متعلقہ کوئی حدیث نہیں ہے، البتہ قرآن مجید میں ان کا ذکر ملتا ہے:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِٓ اَلََا تَتَّقُوْنَ۔ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ۔ اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْن۔ فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ۔ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ۔ سَلٰم’‘ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِنَّہٗمِنْعِبَادِنَاالْمُؤْمِنِیْنَ۔} … اور بلاشبہ الیاسیقینا رسولوں میں سے تھا۔جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں؟ کیا تم بعل کو پکارتے ہواور بنانے والوں میں سے سب سے بہتر کو چھوڑ دیتے ہو؟اللہ کو،جو تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، سو یقینا وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں۔مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں۔اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کے لیےیہ بات چھوڑ دی۔کہ سلام ہو الیاسین پر۔بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ (سورۂ صافات: ۱۲۳۔ ۱۳۱)
الیاس علیہ السلام، ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے، یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے، اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں کہ اس جگہ کا نام سامرہ تھا، جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے، یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے۔
یہ لقب ہے، وہب بن عقبہ نے کہا کہ خضر کا نام بلیاء بن ملکان تھا۔
خضر علیہ السلام کی حیات اور نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، موت و حیات میں سے کسی ایک چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہر فریق نے دور دور کی دلیلیں پیش کی ہیں، ہمارا نظریہیہ ہے کہ یہ عوام سے متعلقہ موضوع نہیں ہے اور اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے، بہرحال یہ بات قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہے کہ انبیاء و رسل کا مرتبہ صوفیاء اور اولیاء سے زیادہ ہوتا ہے، صرف ایک گزارش کرتے ہیں:
خضر علیہ السلام کی حیات:
اس معاملے میں اصل قانون تو موت ہی ہے، جب تک کسی خاص دلیل کی روشنی میں زندگی کو ثابت نہ کر دیا جائے اور قرآن و حدیث میں کوئی ایسی خاص دلیل نہیں ہے جو آج تک خضر علیہ السلام کی حیات پر دلالت کرے، جبکہ درج ذیل تین دلائل سے ان کی موت کا اشارہ ملتا ہے:
۱۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَاْئِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ۔ } … اور ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ فوت ہو گئے تو کیا وہ ہمیشہ کے لیے رہ جائیں گے۔
(سورۂ انبیائ: ۳۴)
جب کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بابت کہا کہ چلو ایک دن اس نے مر ہی جانا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیا کہ موت تو ہر انسان کو آنی ہے، کوئی بھی اس اصول سے مستثنی نہیں ہے، یہاں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی۔ یہ آیت خضر علیہ السلام کو بھی شامل ہے۔
۲۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْل’‘ مُّصَدِّق’‘ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖوَلَتَنْصُرُنَّہٗقَالَئَاَقْرَرْتُمْوَاَخَذْتُمْعَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ۔} … جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے، پھر پوچھا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے، فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ (سورۂ آل عمران: ۸۱)
خضر علیہ السلام نبی ہیںیا ولی، بہرحال وہ اس معاہدے اور میثاق میں داخل ہیں، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے تک زندہ تھے تو ان کا شرف اسی میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر اس معاہدے کی پاسداری کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرتے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ کسی دلیل سے ان کی آمد کا علم نہیں ہوتا۔
اٰیت میں انبیائh سے وعدہ لینے کا ذکر ہے اس لیے خضر علیہ السلام اگر نبی تسلیم کیے جائیں تو پھر وہ اس اٰیت میں مذکور میثاق میں سے داخل ہوں گے ورنہ نہیں۔ اور پہلی بات راجح ہے۔ (عبداللہ رفیق)
۳۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صَلَّی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلَاۃَ الْعِشَائِ فِیْ آخِرِ حَیَاتِہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہِ، فَاِنَّ رَأْسَ مِائَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْمَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔)) … نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہمیں نمازِ عشا پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: کیا خیال ہے تمہارا اس رات کے بارے، (ذرا غور کرو کہ آج) جو زمین کی پشت پر موجود ہے، وہ سو برس تک باقی نہیں رہے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۰۱، صحیح مسلم: ۲۵۳۷)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: وکذالک وقع بالاستقراء فکان آخر من ضبط أمرہ ممن کان موجودا حینئذ أبو الطفیل عامر بن واثلۃ، وقد أجمع أھل الحدیث علی انہ کان آخر الصحابۃ موتا، وغایۃ ما قیل فیہ انہ بقی الی سنۃ عشر ومائۃ وھی رأس مائۃ سنۃ من مقالۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واللہ اعلم۔ … اور تحقیقی طور پر اسی طرح واقع ہوا، پس آخری صحابی جس کے حالات قلم بند کیے اور جو اس وقت موجود تھا، وہ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ہے، اس پر محدثین کا اتفاق ہے کہ وہ صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے، زیادہ سے زیادہیہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو ۱۱۰ھمیں فوت ہوئے، (نہ کہ پہلی صدی کے آخر میں) تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو سو سال اسی کی وفات پر ہی پورے ہوئے تھے۔ واللہ اعلم۔
(فتح الباری: ۲/ ۹۵)
حافظ ابن حجر نے یہ بھی کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۸۲)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق انسانوں سے ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں خضر علیہ السلام کا زندہ ہونا فرض کر لیں تو وہ اس حدیث کا مصداق بنیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ابن جوزی نے کہا: یہ احادیث ِ صحیحہ، خضر علیہ السلام کی حیات کے دعوی کو جڑ سے کاٹ دیتی ہیں۔
خضر علیہ السلام کی نبوت:
حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں خضر علیہ السلام کی نبوت اور موت کے بارے میں گفتگو کی ہے، انھوں نے ان کی نبوت کے بارے میں کہا: خضر علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (سورۂ کہف) میں ذکر کی ہے، یہ واقعہ کئی وجوہات سے خضر کی نبوت پر دلالت کرتاہے، بعض وجوہات یہ ہیں:
۱۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَیْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰہُ مِّنْ لَّدُنَّا عِلْمًا} … تو ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے ہاں سے ایک رحمت عطا کی اور اسے اپنے پاس سے ایکعلم سکھایا تھا۔ (سورۂ کہف: ۶۵)
۲۔ موسی علیہ السلام کا خضر علیہ السلام سے یہ کہنا: {ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰٓی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا۔ قَالَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِہٖخُبْرًا۔ قَالَ سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّلَآ اَعْصِیْ لَکَ اَمْرًا۔ قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلََا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ حَتّیٰٓ اُحْدِثَ لَکَ مِنْہُ ذِکْرًا۔} … موسیٰ نے اس سے کہا کیا میں تیرے پیچھے چلوں؟ اس (شرط) پر کہ تجھے جو کچھ سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ بھلائی مجھے سکھا دے۔ اس نے کہا بے شک تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا۔اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والا پائے گا اور میں تیرے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ کہا پھر اگر تو میرے پیچھے چلا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھنا، یہاں تک کہ میں خود تیرے لیے اس کا کچھ ذکر کروں۔ (سورۂ کہف: ۶۶ تا ۷۰)
اگر خضر علیہ السلام صرف ولی ہوتے تو موسی علیہ السلام ان کو اس انداز میں خطاب نہ کرتے اور نہ وہ اس انداز میں جواب دیتے، دیکھیں موسی علیہ السلام اُن سے اُن کی صحبت کا سوال کر رہے ہیں، تاکہ وہ اُن سے وہ چیز حاصل کر لیں، جو اللہ تعالیٰ نے صرف اُن کو عطا کی ہے۔ اگر خضر علیہ السلام نبی نہ ہوتے تو وہ تو سرے سے معصوم ہی نہ تھے، جبکہ موسی علیہ السلام عظیم پیغمبر تھے اور معصوم تھے، سو آپ علیہ السلام کو ان سے کیا رغبت ہونی تھی۔
۳۔ خضر علیہ السلام نے لڑکے کو قتل کیا تھا، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی صورت میں ہو سکتا ہے، یہ ان کی نبوت پر مستقل دلیل اور ان کی عصمت پر واضح برہان ہے، کیونکہ ولی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی خیال کی روشنی میں کسی کو قتل کر دے۔ پھر خضر علیہ السلام کا یہ وجہ بیان کرنا کہ اس لڑکے نے بڑے ہو کر کافر بننا تھا اور اپنے والدین کو بھی کفر پر آمادہ کرنا تھا۔ ابن جوزی نے ان ہی وجوہات کی روشنی میں خضر علیہ السلام کی نبوت ثابت کی ہے۔
۴۔ جب خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کے لیے اپنے افعال کی وضاحت کی تو کہا: {رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ وَمَا فَعَلْتُہٗعَنْاَمْرِیْ} … تیرے رب کی طرف سے رحمت کے لیے اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا (سورۂ کہف: ۸۲)یعنییہ افعال میرے نفس کی اختراع نہیں، بلکہ مجھے ان کے بارے میں حکم دیا گیا اور میری طرف وحی کی گئی۔
۵۔ حدیث نمبر (۱۰۳۹۴، ۱۰۳۹۵) کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خضر علیہ السلام کی جو خصوصیت بیان کی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا معجزہ تھا۔
ان وجوہات سے پتہ چلتا ہے کہ خضر علیہ السلام نبی تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الیاس علیہ السلام:
تبویب میں الیاس علیہ السلام کاذ کر موجود ہے، لیکن باب کے اندر ان سے متعلقہ کوئی حدیث نہیں ہے، البتہ قرآن مجید میں ان کا ذکر ملتا ہے:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِٓ اَلََا تَتَّقُوْنَ۔ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ۔ اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْن۔ فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ۔ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ۔ سَلٰم’‘ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِنَّہٗمِنْعِبَادِنَاالْمُؤْمِنِیْنَ۔} … اور بلاشبہ الیاسیقینا رسولوں میں سے تھا۔جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں؟ کیا تم بعل کو پکارتے ہواور بنانے والوں میں سے سب سے بہتر کو چھوڑ دیتے ہو؟اللہ کو،جو تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، سو یقینا وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں۔مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں۔اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کے لیےیہ بات چھوڑ دی۔کہ سلام ہو الیاسین پر۔بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ (سورۂ صافات: ۱۲۳۔ ۱۳۱)
الیاس علیہ السلام، ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے، یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے، اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں کہ اس جگہ کا نام سامرہ تھا، جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے، یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10396
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهْرَ قَالَ وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابہ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو اور چودہ پندرہ افراد تھے،، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10396]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3958، 3959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18754»
وضاحت: فوائد: … موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد بنی اسرائیل کے مطالبے پر طالوت کو بادشاہ بنایا گیا، لیکن بنی اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق ان کی بادشاہت پر اعتراض کرنا شروع کر دیا، دوسرے پارے کے آخر میں اسی بادشاہ کا ذکر ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح