الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ ذِكْرِ مَا أَصَابَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ حُمَّى الْمَدِينَةِ
اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
حدیث نمبر: 10670
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ ذُكِرَ أَنَّ الْحُمَّى صَرَعَتْهُمْ فَمَرِضَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ قَالَتْ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ الْعَنْ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَقُوا قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ صَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ قَالَ فَكَانَ الْمَوْلُودُ يُولَدُ بِالْجُحْفَةِ فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتَّى تَصْرَعَهُ الْحُمَّى
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ وبا والا علاقہ اور لوگ بخار میں مبتلا تھے، سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ انہیں جب شدت کا بخار ہوتا تو وہ یوں کہنے لگتے: ہر شخص اپنے اہلِ خانہ میں صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو شدید بخار ہوتا تو وہ یوں کہتے: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا، جہاں میرے اردگرد اذخر اور جلیل نامی گھاس ہو، اور میں کبھی مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور کیا شامہ اور جلیل نامی پہاڑ میرے لیے ظاہر ہوں گے، اے اللہ!عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما کہ انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان صحابہ کییہ پریشانی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہمارے لئے مدینہ منورہ کو مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی بڑھ کر محبوب بنا دے۔ اور اس کی فضا کو صحت والا بنا دے، اور ہمارے لئے یہاں کے صاع اور مد میں برکت فرما اور یہاں کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے عروہ کہتے ہیں آپ کی اس دعا کا نتیجہیہ ہوا کہ جحفہ کے علاقے میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا وہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچتا تھا حتی کہ اسے بخار چت گرا دیتا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10670]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26770»
وضاحت: فوائد: … مدینہ منورہ کے علاقے میں پایا جانے والا بخار مشہور تھا، یہاں تک کہ عمرۂ قضا میں طواف کے دوران مکہ کے مشرکوں نے صحابہ کے بارے میں کہا تھا کہ یثرت (مدینہ) کے بخار نے ان کو کمزور کر دیا ہے، اس لیے پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک طرف صحابۂ کرام کے ذہنوں میں اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ کو چھوڑنے کا طبعی غم موجود تھا، دوسری طرف وہ جس شہر میں آئے تھے، اس میں پائے جانے والے بخار کی لپیٹ میں آ گئے، اسی بنا پر سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما نے یہ اشعار کہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے مسلمان امراض سے راحت پا گئے اور انہیں مدینہ محبوب ہو گیا۔
اس وقت جحفہ دار الشرک تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے بخار کے جحفہ میں منتقل ہو جانے کی دعا کی، تاکہ وہ لوگ اس بخار میں مبتلا رہیں اور کافروں اور سرکشوں کی مدد نہ کر سکیں، اس دعا کے بعد سب سے زیادہ بخار اسی علاقے میں پایا جاتا تھا، بلکہ اگر کوئی آدمی جحفہ مقام سے پانی پیتا تو اسے بخار چڑھ جاتا۔
اس وقت جحفہ دار الشرک تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے بخار کے جحفہ میں منتقل ہو جانے کی دعا کی، تاکہ وہ لوگ اس بخار میں مبتلا رہیں اور کافروں اور سرکشوں کی مدد نہ کر سکیں، اس دعا کے بعد سب سے زیادہ بخار اسی علاقے میں پایا جاتا تھا، بلکہ اگر کوئی آدمی جحفہ مقام سے پانی پیتا تو اسے بخار چڑھ جاتا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1889
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي مِبْلَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رضي الله عنه وَبَنَائِهِ الله بِعَائِشَة رضی اللہ عنہا
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10671
عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِي جَوْفِهِ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مکہ میں حاملہ ہو گئی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں جب مکہ سے سفر ہجرت پر روانہ ہوئی تو ایام حمل پورے ہو چکے تھے، میں مدینہ منورہ آئی اور قباء میں قیام کیا، وہیں میں نے بچے کو جنم دیا، میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائی اور میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب مبارک داخل ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے حق میں برکت کی دعا کی، اسلام کے دور میں یہ سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10671]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3909، 5469، ومسلم: 2146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27477»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3909
حدیث نمبر: 10672
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قبل از ہجرت) ماہِ شوال میں مجھ سے نکاح کیا تھا اور (بعد ازہجرت) ماہ شوال میں میری رخصتی ہوئی، تو کونسی بیوی مجھ سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منظورِ نظر تھی، اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ اپنے خاندان کی عورتوں کی ماہِ شوال میں شادی کریں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10672]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26235»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۵۵۲)، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس میں اور اس حدیث والے باب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا ذکر ہے۔
دورِ جاہلیت میں شوال میں شادی کرنے کو ناپسند کیا جاتا تھا، یہ ایک باطل نظریہ اور بے بنیاد خیال تھا، امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوال کے مہینے میں نکاح کرنا اور شادی کرنا مستحب ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شوال کا ذکر کر کے دراصل جاہلیت کی توہم پرستی کا ردّ کر رہی ہیں۔
دورِ جاہلیت میں شوال میں شادی کرنے کو ناپسند کیا جاتا تھا، یہ ایک باطل نظریہ اور بے بنیاد خیال تھا، امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوال کے مہینے میں نکاح کرنا اور شادی کرنا مستحب ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شوال کا ذکر کر کے دراصل جاہلیت کی توہم پرستی کا ردّ کر رہی ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1423
حدیث نمبر: 10673
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ كُنْتُ صَاحِبَةَ عَائِشَةَ الَّتِي هَيَّأَتْهَا وَأَدْخَلَتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي نِسْوَةٌ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا عِنْدَهُ قِرًى إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ قَالَتْ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ عَائِشَةَ فَاسْتَحْيَتِ الْجَارِيَةُ فَقُلْنَا لَا تَرُدِّي يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذِي مِنْهُ فَأَخَذَتْهُ عَلَى حَيَاءٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ نَاوِلِي صَوَاحِبَكِ فَقُلْنَا لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا قَالَ إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تُكْتَبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں روانہ کرتے وقت ان کو تیار کیا، چند دوسری خواتین بھی میرے ساتھ تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں دودھ کے ایک پیالے کے سوا مزید کوئی مہمانی نہ پائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دودھ نوش فرمایا اور پھر وہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تھما دیا، انھوں نے دلہن ہونے کی وجہ سے دودھ نوش کرنے میں جھجک محسوس کی، لیکن ہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ یوں نہ واپس کرو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیالہ پکڑ لو، انہوں نے جھجکتے ہوئے پیالہ لے کر اس سے نوش کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنی ان سہیلیوں کو دے دو، تو ہم نے عرض کیا، ہمیں اس کی حاجت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ اور بھوک کو یکجا نہ کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کو کسی چیز کی حاجت تو ہو مگر وہ ویسے ہی کہہ دے کہ مجھے حاجت نہیں تو کیا یہ بھی جھوٹ لکھا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ کو جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے اور چھوٹا جھوٹ چھوٹا ہی لکھا جاتا ہے۔ شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ وہ ایک دن قبیلہ بنو عبد الاشھل کی ایک خاتون سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے اس کے سامنے کھانا پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے کھانے کی طلب نہیں،انہوں نے کہا: میں نے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان کی شادی کی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ کرتے وقت تیار کیا تھا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملوانے کے لئے بلایا، آپ آکر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے نوش فرمایا اور پھر آپ نے باقی ماندہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیا، انہوں نے سر جھکا لیا اور شرما گئیں۔ سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جھڑک دیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے پیالہ پکڑ لو، چنانچہ انہوں نے پیالہ لے کر اس سے کچھ پی لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اپنی سہیلی کو دے دو۔ سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ لیں اور نوش فرمائیں، اس کے بعد مجھے عنایت فرمائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ لے کر اس میں سے کچھ نوش کیا اور پھر وہ مجھے تھما دیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے بیٹھ کر اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسے گھمانے لگی اور اپنے ہونٹ اس پر پھیرنے لگی تاکہ میرے ہونٹ اس مبارک مقام پر لگ جائیں، جہاں منہ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں میرے پاس موجود خواتین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں بھی دو، تو انہوں نے کہا ہمیں حاجت نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرو، پس کیا تو اس بات سے باز نہیں آئے گی کہ مجھے حاجت نہیں ہے؟ میں نے کہا: اماں جان! میں آئندہ ایسے نہ کہوں گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10673]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو شداد مجھول الحال، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 24/ 400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28019»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ الْأَذَانِ وَزِيَادَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ الحَ
اذان کی مشروعیت اور حضر کی نماز میں دو رکعت کے اضافے کا بیان
حدیث نمبر: 10674
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ لَا أَشْتَهِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جِئْتُهُ فَدَعَوْتُهُ لِجِلْوَتِهَا فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَانْتَهَرْتُهَا وَقُلْتُ لَهَا خُذِي مِنْ يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطِي تِرْبَكِ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ خُذْهُ فَاشْرَبْ مِنْهُ ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ قَالَتْ فَجَلَسْتُ ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتَيَّ ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ وَأَتْبَعُهُ بِشَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي نَاوِلِيهِنَّ فَقُلْنَ لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا فَهَلْ أَنْتِ مُنْتَهِيَةٌ أَنْ تَقُولِي لَا أَشْتَهِيهِ فَقُلْتُ أَيْ أُمَّهْ لَا أَعُودُ أَبَدًا
شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ وہ ایک دن قبیلہ بنو عبد الاشھل کی ایک خاتون سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے اس کے سامنے کھانا پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے کھانے کی طلب نہیں،انہوں نے کہا: میں نے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان کی شادی کی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ کرتے وقت تیار کیا تھا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملوانے کے لئے بلایا، آپ آکر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے نوش فرمایا اور پھر آپ نے باقی ماندہ سیّدہ عائشہc کو دیا، انہوں نے سر جھکا لیا اور شرما گئیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جھڑک دیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے پیالہ پکڑ لو، چنانچہ انہوں نے پیالہ لے کر اس سے کچھ پی لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اپنی سہیلی کو دے دو۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ لیں اور نوش فرمائیں، اس کے بعد مجھے عنایت فرمائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ لے کر اس میں سے کچھ نوش کیا اور پھر وہ مجھے تھما دیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے بیٹھ کر اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسے گھمانے لگی اور اپنے ہونٹ اس پر پھیرنے لگی تاکہ میرے ہونٹ اس مبارک مقام پر لگ جائیں، جہاں منہ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں میرے پاس موجود خواتین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں بھی دو، تو انہوں نے کہا ہمیں حاجت نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرو، پس کیا تو اس بات سے باز نہیں آئے گی کہ مجھے حاجت نہیں ہے؟“ میں نے کہا: اماں جان! میں آئندہ ایسے نہ کہوں گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10674]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28143»
وضاحت: فوائد: … مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر ہو چکی تھی اور اب مسلمان پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کے لیے حاضر ہو رہے تھے، اس کے لیے وہ وقت کا اندازہ تو لگاتے تھے، لیکن پھر بھی کوئی پہلے پہنچ جاتا اور کوئی دیر سے، مذکورہ بالا حدیث کے مطابق مشورہ کیا گیا تو طے پایا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لیے اکٹھا کرنے کے لیے ان الفاظ کے ساتھ آواز دیں گے: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 10675
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ
امام نافع سے مروی ہے کہ سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت انتظار کیا کرتے تھے، اس وقت کوئی بھی اذان دینے والا نہیں ہوتا تھا، ایک دن صحابہ نے اس بارے میں گفتگو شروع کی، بعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس جیسا ناقوس بنا لو۔ بعض نے کہا کہ ناقوس تو نہیں ہونا چاہیے، البتہ یہودیوں کی طرح کا ایک سینگ مقرر کر لو۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس طرح کیوں نہیں کرتے کہ کسی کو بھیج دیا کرو جو نماز کا اعلان کر دیا کرے؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! اُٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10675]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 604، ومسلم: 377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6357»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 604
حدیث نمبر: 10676
عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا قَالَ وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں نماز کی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعت کے ساتھ مزید دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا تھا، ما سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کی طاق نماز ہے اور ما سوائے نمازِ فجر کے، کیونکہ ان میں قراء ت طویل ہوتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہوتے تو پہلے کی طرح نماز ادا فرماتے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10676]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، الشعبي لم يسمع من عائشة، ويغني عنه الحديث بالطريق الأول، أخرجه ابن خزيمة: 305، 944، وابن حبان: 2738،، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 415، وابن ابي شيبة: 14/ 132، واسحاق بن راھويه: 1635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26570»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات ثابت ہے کہ جب نماز فرض ہوئی تو فجر، ظہر، عصر اور عشا کی نمازوں کی فرض رکعات کی تعداد دو دو تھی اور نماز مغرب کی تین رکعات تھیں، پھر رکعتوں کی اس تعداد کو سفرکے ساتھ خاص کیا گیا اور حضر کے لیے ظہر، عصر اور عشا کی چار چار رکعات فرض کر دیگئیں، فجر اور مغرب کی تعداد وہی رہی، البتہ حضر میں نمازِ فجر میں طویل قراء ت مطلوب اور مستحب ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف بھذه السياقة
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُنَاوَاةِ الْيَهُودِ وَمُنَافِقِي الْمَدِينَةِ للنبي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
حدیث نمبر: 10677
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا {اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} قَالَ هَاتُوا قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ قَالَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذَكِّرُ قَالَ يَلْتَقِي الْمَاءَانِ فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ أَنَّثَتْ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي قَالَ بَعْضُهُمْ يَعْنِي الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَهَا قَالُوا صَدَقْتَ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوزن کا جوہر آب دونوں ملتے ہیں، جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا جوہر آب غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتاؤ کہیعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نسا کی بیماری تھی، انہیں صرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ گرج کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیں۔ اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ اس جگہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10677]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
وضاحت: فوائد: … جب یوسف رضی اللہ عنہ کے بھائیوں نے اپنے باپ یعقوب رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو غلہ لینے کے لیے ان کے ساتھ بھیجیں، تو اس وقت انھوں نے ان سے پکا عہد لیا تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ واپس لائیں گے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{قَالَ لَنْ اُرْسِلَہ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِہٖٓاِلَّآاَنْیُّحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔} … اس نے کہا میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد دوگے کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لاؤ گے، مگر یہ کہ تمھیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انھوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں، ضامن ہے۔ (سورۂ یوسف: ۶۶)
اس حدیث کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہو رہی ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِنَ الْیَہُودِ نَبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا فَقَالُوا: یَا أَبَا الْقَاسِمِ! حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْہُنَّ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ، وَلٰکِنْ اجْعَلُوا لِی ذِمَّۃَ اللّٰہِ، وَمَا أَخَذَ یَعْقُوبُ عَلَیْہِ السَّلَام عَلٰی بَنِیہِ، لَئِنْ حَدَّثْتُکُمْ شَیْئًا فَعَرَفْتُمُوہُ لَتُتَابِعُنِّی عَلَی الْإِسْلَامِ۔)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ لَکَ، قَالَ: ((فَسَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ۔)) قَالُوْا: أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْہُنَّ، أَخْبِرْنَا أَیُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ مَائُ الْمَرْأَۃِ وَمَائُ الرَّجُلِ، کَیْفَیَکُونُ الذَّکَرُ مِنْہُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ ہٰذَا النَّبِیُّ الْأُمِّیُّ فِی النَّوْمِ؟ وَمَنْ وَلِیُّہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ؟ قَالَ: ((فَعَلَیْکُمْ عَہْدُ اللّٰہِ وَمِیثَاقُہُ، لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُکُمْ لَتُتَابِعُنِّی۔)) قَالَ: فَأَعْطَوْہُ مَا شَائَ مِنْ عَہْدٍ وَمِیثَاقٍ، قَالَ: ((فَأَنْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِیلَیَعْقُوبَ عَلَیْہِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِیدًا، وَطَالَ سَقَمُہُ، فَنَذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا، لَئِنْ شَفَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ سَقَمِہِ لَیُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ، وَکَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ أَلْبَانُہَا؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَنْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَائَ الرَّجُلِ أَبْیَضُ غَلِیظٌ، وَأَنَّ مَائَ الْمَرْأَۃِ أَصْفَرُ رَقِیقٌ، فَأَیُّہُمَا عَلَا کَانَ لَہُ الْوَلَدُ وَالشَّبَہُ بِإِذْنِ اللّٰہِ، إِنْ عَلَا مَائُ الرَّجُلِ عَلٰی مَائِ الْمَرْأَۃِ کَانَ ذَکَرًا بِإِذْنِ اللّٰہِ، وَإِنْ عَلَا مَائُ الْمَرْأَۃِ عَلٰی مَائِ الرَّجُلِ کَانَ أُنْثَی بِإِذْنِ اللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَنْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ ہٰذَا النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) قَالُوْا: وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِیُّکَ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ فَعِنْدَہَا نُجَامِعُکَ أَوْ نُفَارِقُکَ، قَالَ: ((فَإِنَّ وَلِیِّیْ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام، وَلَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیًّا قَطُّ إِلَّا وَہُوَ وَلِیُّہُ۔)) قَالُوْا: فَعِنْدَہَا نُفَارِقُکَ، لَوْ کَانَ وَلِیُّکَ سِوَاہُ مِنِ الْمَلَائِکَۃِ لَتَابَعْنَاکَ وَصَدَّقْنَاکَ، قَالَ: ((فَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوہُ؟)) قَالُوْا: إِنَّہُ عَدُوُّنَا، قَالَ: فَعِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلٰی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّٰہِ} إِلٰی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} فَعِنْدَ ذٰلِکَ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} الآیۃ۔ یہودیوں کی ایک جماعت ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے ابو القاسم! ہمیں چند باتیں بتائو، انہیں صرف نبی جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی ہے پوچھو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو مدنظررکھنا اور اسے بھی مدنظر رکھنا جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے ذمہ داری لی تھی کہ اگر میں تمہیں تمہارے سوالوں کے درست جوابات دے دوں تو پھر اسلام کے مطابق میری پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تمہارا حق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جو مرضی سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں چار باتوں کے بارے میںبتاؤ،یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر کونسا کھانا حرام کیا تھا، آدمیکا آب جوہر عورت کے آب جوہر پر غالب آ جائے تو مذکرکیسے بنتا ہے اور یہ اُمّی نبی نیند میں کیسے ہوتا ہے اورفرشتوں میں سے اس کا دوست کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق دیتا ہوںہے کہ اگر میں نے تمہیں جواب دیدیے تو تم میری اتباع کرو گے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر پختہ عہد دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام سخت بیمار پڑ گئے تھے اوران کی بیماری لمبی ہو گئی تھی، بالآخر انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیاد ہ پسندیدہ کھانا حرام قرار دیں گے، اورانہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹوں کا گوشت اور سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیںاور جس نے موسیٰ علیہ السلام پرتورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو آدمی کا آب جوہر سفید اور گاڑھا ہوتاہے اور عورت کا پانی زرد اور باریک ہوتا ہے، ان میں سے جو بھی غالب آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے مشابہت ہو جاتی ہے، اگر آدمی کا آب جوہر عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مذکر بن جاتا ہے اوراگر عورت کا آب جوہر آدمی کے مادۂ منویہ پرغالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے یہی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو اس اُمّی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ یہی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: آپ بھی اب اسی طرح ہیں، ہمیں بتائو فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے؟ یہ بتانے کے بعد یا تو ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دوست جبریل علیہ السلام ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے، یہی جبریل علیہ السلام اس کے دوست رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: تب تو ہم آپ سے علیحدہ ہوتے ہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی ا تباع کرتے اور تصدیق کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جبریل کی تصدیق میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ … … کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ … اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا کہ وہ نہیں جانتے۔ پس اس وقت یہ لوگ دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴، مسند طیالسی: ۲۷۳۱)
فوائد: … یہ پوری آیاتیوں ہیں:
قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۔ اَوَکُلَّمَا عٰھَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَمَّا جَاء َھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیری طرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔ اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷۔۱۰۱)
یہیہودیوں کی ہٹ دھرمی تھی، ان کے پاس پہلے والے چار سوالات کے جوابات کے انکار کی کوئی صورت نہیں تھی، سو انھوں نے جبریل علیہ السلام کے بارے میںیہ بات گھڑ لی۔
{بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} … دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد نے کہا: پہلا غضب تورات کو ضائع کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے۔ جبکہ قتادہ نے کہا: پہلا غضب عیسی علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا۔
مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہی دشمن تھا، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں میں اضافہ ہو گیا، مدینہ میں منافقوں اور یہودیوں کی صورت میں اندرونی دشمن اور مکہ کے مشرکوں اور دوسرے قبائل اور مملکتوں کیصورت میں بیرونی دشمن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کے مختصر عرصے میں بڑی خوبصورت منصوبہ بندی کے ساتھ ہر قریبی دشمن سے نجات حاصل کر لی اور دور والے دشمنوں سے نبٹنے کے لیے اپنے صحابہ کو منہج دے کر خود وفات پا گئے۔
{قَالَ لَنْ اُرْسِلَہ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِہٖٓاِلَّآاَنْیُّحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔} … اس نے کہا میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد دوگے کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لاؤ گے، مگر یہ کہ تمھیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انھوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں، ضامن ہے۔ (سورۂ یوسف: ۶۶)
اس حدیث کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہو رہی ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِنَ الْیَہُودِ نَبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمًا فَقَالُوا: یَا أَبَا الْقَاسِمِ! حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْہُنَّ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ، وَلٰکِنْ اجْعَلُوا لِی ذِمَّۃَ اللّٰہِ، وَمَا أَخَذَ یَعْقُوبُ عَلَیْہِ السَّلَام عَلٰی بَنِیہِ، لَئِنْ حَدَّثْتُکُمْ شَیْئًا فَعَرَفْتُمُوہُ لَتُتَابِعُنِّی عَلَی الْإِسْلَامِ۔)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ لَکَ، قَالَ: ((فَسَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ۔)) قَالُوْا: أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُکَ عَنْہُنَّ، أَخْبِرْنَا أَیُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ مَائُ الْمَرْأَۃِ وَمَائُ الرَّجُلِ، کَیْفَیَکُونُ الذَّکَرُ مِنْہُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ ہٰذَا النَّبِیُّ الْأُمِّیُّ فِی النَّوْمِ؟ وَمَنْ وَلِیُّہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ؟ قَالَ: ((فَعَلَیْکُمْ عَہْدُ اللّٰہِ وَمِیثَاقُہُ، لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُکُمْ لَتُتَابِعُنِّی۔)) قَالَ: فَأَعْطَوْہُ مَا شَائَ مِنْ عَہْدٍ وَمِیثَاقٍ، قَالَ: ((فَأَنْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِیلَیَعْقُوبَ عَلَیْہِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِیدًا، وَطَالَ سَقَمُہُ، فَنَذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا، لَئِنْ شَفَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ سَقَمِہِ لَیُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ، وَکَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ أَلْبَانُہَا؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَنْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَائَ الرَّجُلِ أَبْیَضُ غَلِیظٌ، وَأَنَّ مَائَ الْمَرْأَۃِ أَصْفَرُ رَقِیقٌ، فَأَیُّہُمَا عَلَا کَانَ لَہُ الْوَلَدُ وَالشَّبَہُ بِإِذْنِ اللّٰہِ، إِنْ عَلَا مَائُ الرَّجُلِ عَلٰی مَائِ الْمَرْأَۃِ کَانَ ذَکَرًا بِإِذْنِ اللّٰہِ، وَإِنْ عَلَا مَائُ الْمَرْأَۃِ عَلٰی مَائِ الرَّجُلِ کَانَ أُنْثَی بِإِذْنِ اللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَنْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ ہٰذَا النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) قَالُوْا: وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِیُّکَ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ فَعِنْدَہَا نُجَامِعُکَ أَوْ نُفَارِقُکَ، قَالَ: ((فَإِنَّ وَلِیِّیْ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام، وَلَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیًّا قَطُّ إِلَّا وَہُوَ وَلِیُّہُ۔)) قَالُوْا: فَعِنْدَہَا نُفَارِقُکَ، لَوْ کَانَ وَلِیُّکَ سِوَاہُ مِنِ الْمَلَائِکَۃِ لَتَابَعْنَاکَ وَصَدَّقْنَاکَ، قَالَ: ((فَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوہُ؟)) قَالُوْا: إِنَّہُ عَدُوُّنَا، قَالَ: فَعِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلٰی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّٰہِ} إِلٰی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} فَعِنْدَ ذٰلِکَ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} الآیۃ۔ یہودیوں کی ایک جماعت ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے ابو القاسم! ہمیں چند باتیں بتائو، انہیں صرف نبی جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مرضی ہے پوچھو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو مدنظررکھنا اور اسے بھی مدنظر رکھنا جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے ذمہ داری لی تھی کہ اگر میں تمہیں تمہارے سوالوں کے درست جوابات دے دوں تو پھر اسلام کے مطابق میری پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تمہارا حق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جو مرضی سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں چار باتوں کے بارے میںبتاؤ،یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر کونسا کھانا حرام کیا تھا، آدمیکا آب جوہر عورت کے آب جوہر پر غالب آ جائے تو مذکرکیسے بنتا ہے اور یہ اُمّی نبی نیند میں کیسے ہوتا ہے اورفرشتوں میں سے اس کا دوست کون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق دیتا ہوںہے کہ اگر میں نے تمہیں جواب دیدیے تو تم میری اتباع کرو گے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر پختہ عہد دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام سخت بیمار پڑ گئے تھے اوران کی بیماری لمبی ہو گئی تھی، بالآخر انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیاد ہ پسندیدہ کھانا حرام قرار دیں گے، اورانہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹوں کا گوشت اور سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیںاور جس نے موسیٰ علیہ السلام پرتورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو آدمی کا آب جوہر سفید اور گاڑھا ہوتاہے اور عورت کا پانی زرد اور باریک ہوتا ہے، ان میں سے جو بھی غالب آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے مشابہت ہو جاتی ہے، اگر آدمی کا آب جوہر عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مذکر بن جاتا ہے اوراگر عورت کا آب جوہر آدمی کے مادۂ منویہ پرغالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے یہی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو اس اُمّی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ یہی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: آپ بھی اب اسی طرح ہیں، ہمیں بتائو فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے؟ یہ بتانے کے بعد یا تو ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دوست جبریل علیہ السلام ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے، یہی جبریل علیہ السلام اس کے دوست رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: تب تو ہم آپ سے علیحدہ ہوتے ہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی ا تباع کرتے اور تصدیق کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جبریل کی تصدیق میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ … … کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ … اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا کہ وہ نہیں جانتے۔ پس اس وقت یہ لوگ دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴، مسند طیالسی: ۲۷۳۱)
فوائد: … یہ پوری آیاتیوں ہیں:
قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖوَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰیلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ۔ وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ۔ اَوَکُلَّمَا عٰھَدُوْا عَہْدًا نَّبَذَہ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَمَّا جَاء َھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائل کا دشمن ہو تو بے شک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔اور بلاشبہ یقینا ہم نے تیری طرف واضح آیات نازل کی ہیں اور ان سے کفر نہیں کرتے مگر جو فاسق ہیں۔ اور کیا جب کبھی انھوں نے کوئی عہد کیا تو اسے ان میں سے ایک گروہ نے پھینک دیا، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷۔۱۰۱)
یہیہودیوں کی ہٹ دھرمی تھی، ان کے پاس پہلے والے چار سوالات کے جوابات کے انکار کی کوئی صورت نہیں تھی، سو انھوں نے جبریل علیہ السلام کے بارے میںیہ بات گھڑ لی۔
{بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ} … دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد نے کہا: پہلا غضب تورات کو ضائع کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے۔ جبکہ قتادہ نے کہا: پہلا غضب عیسی علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے تھا۔
مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ہی دشمن تھا، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں میں اضافہ ہو گیا، مدینہ میں منافقوں اور یہودیوں کی صورت میں اندرونی دشمن اور مکہ کے مشرکوں اور دوسرے قبائل اور مملکتوں کیصورت میں بیرونی دشمن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کے مختصر عرصے میں بڑی خوبصورت منصوبہ بندی کے ساتھ ہر قریبی دشمن سے نجات حاصل کر لی اور دور والے دشمنوں سے نبٹنے کے لیے اپنے صحابہ کو منہج دے کر خود وفات پا گئے۔
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10678
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَهِيَ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ فَمَسَخَهُمْ فَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حَتَّى يُهْلِكَهُمْ وَلَكِنْ هَذَا خَلْقٌ كَانَ فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَلَى الْيَهُودِ مَسَخَهُمْ فَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بندروں اور خنزیروں کے متعلق دریافت کیا کہ کیایہ یہودیوں کی مسخ شدہ نسل سے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کبھی نہیں ہو اکہ کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پرلعنت کرتے ہوئے انہیں مسخ کر دے اور انہیں ہلاک کر دے اور پھر ان کی نسل چلے، در حقیقت یہ مخلوق ان کے مسخ کئے جانے سے پہلے کی ہے، اللہ تعالیٰ جب یہود پر غضب ناک ہوا تو اس نے ان کو ان مخلوقات کی مانند بنا دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10678]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 307، وابويعلي: 5314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3747»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مُسِخَتْ اُمَّۃٌ قَطُّ، فَیَکُوْنُ لَھَا نَسْلٌ۔)) … جس امت کو بھی (کسی دوسری شکل میں) مسخ کیا گیا، اس کی نسل نہیں ہوئی۔
(معجم اوسط طبرانی:۴۲۹، صحیحۃ:۲۲۶۴)
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنی امتوں کو مسخ کیا گیا اب ان کا کوئی نشان باقی نہیں ہے، بندر اور خنزیر وغیرہ مستقل جنسیں ہیں،یہ کسی انسان کی مسخ شدہ شکلیں نہیں ہیں، بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میںمسخ ہونے والے بنو اسرائیل ہلاک ہو گئے، اس حالت میں ان کی نسل آگے نہ چل سکی۔
(معجم اوسط طبرانی:۴۲۹، صحیحۃ:۲۲۶۴)
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنی امتوں کو مسخ کیا گیا اب ان کا کوئی نشان باقی نہیں ہے، بندر اور خنزیر وغیرہ مستقل جنسیں ہیں،یہ کسی انسان کی مسخ شدہ شکلیں نہیں ہیں، بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میںمسخ ہونے والے بنو اسرائیل ہلاک ہو گئے، اس حالت میں ان کی نسل آگے نہ چل سکی۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 10679
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لَنَا جَارٌ مِنْ يَهُودَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا مِنْ بَيْتِهِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ سَلَمَةُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعًا فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي فَذَكَرَ الْبَعْثَ وَالْقِيَامَةَ وَالْحِسَابَ وَالْمِيزَانَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَقَالَ ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ شِرْكٍ أَصْحَابِ أَوْثَانٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنٌ بَعْدَ الْمَوْتِ فَقَالُوا لَهُ وَيْحَكَ يَا فُلَانُ تَرَى هَذَا كَائِنًا إِنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَوَدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدُّنْيَا يُحَمُّونَهُ ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطْبَقُ بِهِ عَلَيْهِ وَأَنْ يَنْجُوَ مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا قَالُوا لَهُ وَيْحَكَ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ قَالَ نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ قَالُوا وَمَتَى تَرَاهُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا فَقَالَ إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمُرَهُ يُدْرِكْهُ قَالَ سَلَمَةُ فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَآمَنَّا بِهِ وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا فَقُلْنَا وَيْلَكَ يَا فُلَانُ أَلَسْتَ بِالَّذِي قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ قَالَ بَلَى وَلَيْسَ بِهِ
قبیلہ بنو عبدالاشہل کے سیدنا محمود بن لبید سلمہ بن سلامہ بن وقش سے روایت ہے، یہ اصحاب بدر میں سے تھے، کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبدالا شھل کا ایک یہودی ہمارا ہمسایہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے کچھ دن پہلے ایک دن وہ اپنے گھر سے نکل کر قبیلہ عبدالاشھل کی ایک محفل میں آکھڑا ہوا، سلمہ کہتے ہیں کہ میں اس روز وہاں پر موجود سب سے کم سن تھا۔ میں ایک چادر اوڑھے اپنے گھر کے سامنے لیٹا ہوا تھا۔ اس یہودی نے مرنے کے بعد جی اُٹھنے قیامت، حساب وکتاب، میزان اور جنت وجہنم کا ذکر کیا۔ اس نے یہ باتیں ایسے لوگوں کے سامنے کی تھیں، جو مشرک اور بت پرست تھے، وہ مرنے کے بعد جی اُٹھنے پر ایمان واعتقاد نہ رکھتے تھے، انہوں نے اس سے کہا: ارے یہ کیا؟ تو بھی کہتا ہے کہ یہ کچھ ہو گا اور لوگ مرنے کے بعد ایک ایسے جہان میں اُٹھائے جائیں گے، جہاں جنت اور جہنم ہو گی اور لوگوں کو ان کے اعمال کی جزادی جائے گی؟ اس نے کہا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کی قسم اُٹھائی جاتی ہے! میں تو یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ دنیا میں آگ کا ایک بہت بڑا تنور ہو اور لوگ اس میں داخل ہو جائیں اور پھر اسے اوپر سے بند کر دیا جائے اور میں کل کو جہنم کی آگ سے بچ جاؤں۔ لوگوں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس، اس کی علامت کیا ہے؟ تو اس نے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں سے ایک نبی مبعوث ہو گا لوگوں نے اس سے پوچھا ہم اس کو کب دیکھ سکیں گے؟ اس نے میری طرف دیکھا، میں ان میں سب سے کم سن تھا اور اس نے کہا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اپنی عمر تمام ہونے سے پہلے پہلے اسے دیکھلے گا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کچھ دن رات ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیج دیا اور وہ ہمارے درمیان زندہ موجود تھے۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آئے اور اس نے بغض وحسد کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کفر کیا، ہم نے اس سے کہا: اے فلاں! تجھ پر افسوس! کیا تو ہی وہ شخص نہیں، جس نے ہم سے اس نبی کے متعلق باتیں کی تھیں اور بتلایا تھا؟ اس نے کہا! ہاں، کیوں نہیں، لیکنیہ وہ نبی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10679]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 6327، والحاكم: 3/ 417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15935»
وضاحت: فوائد: … یہودیت اور عیسائیت کے مذہبی ادب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاقے اور صحابۂ کرام کے تعین کے بارے میں واضح علامتیں موجود تھیں، لیکن کوئی چیز ہٹ دھرمی، سرکشی اور بغاوت کا حل نہیں کر سکتی۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن