🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُنَاوَاةِ الْيَهُودِ وَمُنَافِقِي الْمَدِينَةِ للنبي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10680
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَ فَقَالَ ارْفَعْ أَوِ اكْشِفْ ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ أَرْفَعُهُ قَالَ فَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ
سیدنا مسور بن مخرمہ زہری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، ایک یہودی میرے پاس سے گزرا اور اس نے کہا ان کی پشت پر سے کپڑا اوپر اُٹھاؤ، تو میں آپ کا کپڑا اوپر کو اٹھانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10680]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ام بكر بنت المسور، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 20/ 32، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19115»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ مذاق یا اس کو اس کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے اس کے منہ پر چھینٹے مارے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة حال ام بكر بنت المسور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10681
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّهُ نَبِيٌّ أَوْ غَيْرُ نَبِيٍّ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ اقْرَأْ عَلَيَّ أَوْ قُصَّ عَلَيَّ فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ هَذَا الْحَدِيثُ مُنْكَرٌ
سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عجمی قوم جرامقہ کا ایک فرد صحابہ کرام کے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہارے وہ صاحب کہاں ہیں جو نبی ہونے کے دعوے دار ہیں؟ میں ان سے کچھ دریافت کر نا چاہتا ہوں، تاکہ جان لوں کہ وہ نبی ہیںیا نہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے کچھ تلاوت کریں یا بیان کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سامنے کتاب اللہ کی چند آیات کی تلاوت کی، جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام بھی ایسی ہی تعلیم لے کر آئے تھے۔ عبداللہ بن احمد نے کہا کہ یہ حدیث منکر ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10681]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ايوب بن جابر اليمامي، وعبدُ الرحمن المعلم لين الحديث، ولم يعرفه الحافظان: الحسيني وابن حجر، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 2054، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21176»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ايوب بن جابر اليمامي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں