🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَبْدَى النَّارِيخ وَاسْتِشَارَةِ عُمَرَ رضي الله عنه الْصَحَابَةَ فِي ذَلِكَ
تاریخ کی ابتداء اور اس بارے میں امیر المؤمنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صحابہ کرام سے مشاورت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10651
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10651]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3851، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2110»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3851
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10652
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10652]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2017»
وضاحت: فوائد: … پہلی حدیث میں چالیس سال کی عمر میں نزولِ وحی کا ذکر ہے اور دوسری میں تینتالیس برس کا؟ جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ دوسری حدیث میں فترہ وحی کا زمانہ شمار نہیں کیا گیا، وگرنہ وحی کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چالیس برس کی عمر میں ہی ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟ دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۰۶۵) کے فوائد۔ خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (۱۷یا۱۸) سن ہجری میں امت مسلمہ کے لیے امتیازی تاریخ کا سلسلہ شروع کیا اور اس کی ابتدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کے واقعہ سے کی۔
مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ اپنے کیلنڈروں میں ہفتہ کے دنوں، مہینے کی تاریخوں اور سن کا ذکر کرنے میں اسلامی روایات کا خیال رکھتے، ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کے دن کو پہلے ذکر کرتے، کیونکہیہ پہلا دن ہے، اسلامی مہینوں (محرم، صفر، ربیع الاول …)کے پابند ٹھہرتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان ہی مہینوں کو مرتب کیا ہے اور سن میںہجری سن کی پیروی کرتے، جس میں نبی کریم کے عروج کی طرف بھی اشارہ ہے اور عظیم خلیفہ کے عظیم کارنامے کی طرف بھی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ ان کی انتہائی دور رسی، دور اندیشی اور قانون دانی پر دلالت کرتا ہے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاء فِي إِسْلَامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10653
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ قَالَ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا حَوْلَهُمَا بِالسِّلَاحِ قَالَ فَقِيلَ بِالْمَدِينَةِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ فَاسْتَشْرَفُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَيَقُولُونَ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى جَاءَ إِلَى جَانِبِ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ قَالُوا فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهَا إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ مِنْهُ فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ فِيهَا فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ قَالَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي قَالَ فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا قَالَ فَذَهَبَ فَهَيَّأَ لَهُمَا مَقِيلًا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ هَيَّأْتُ لَكُمَا مَقِيلًا فَقُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ فَقِيلَا فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْيَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ وَيْلَكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ أَسْلِمُوا قَالُوا مَا نَعْلَمُهُ ثَلَاثًا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو حرہ کی ایک جانب میں تشریف فرما ہوئے اور انصار کو اپنی آمد کی اطلاع بھجوائی۔ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے آپ دونوں کو سلام کہا اور عرض کیا آپ امن اور اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر شہر میں تشریف لائیں۔ چناں چہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی اپنی سواری پر سوار ہوئے اور لوگوں نے اسلحہ تان کر آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ مدینہ منورہ میں خبر پھیل گئی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ چناں چہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف امڈکر آئے، تاکہ آپ کی زیارت کرلیں، اور وہ خوشی سے کہتے جاتے اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں۔ آپ چلتے چلتے سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب آپہنچے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے اہلِ خانہ سے باتیں کرنے لگیں گے۔ تو عبداللہ بن سلام اپنے اہلِ خانہ کے نخلستان میں اہلِ خانہ کے لیے کھجوریں چن رہے تھے انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر سنی، وہ اس قدر تیزی اور جلدی سے آپ کی خدمت میں آئے کہ وہ کھجوریں اٹھائے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے آکر آپ کی گفتگو سنی۔اس کے بعد وہ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے رشتہ داروں کے گھروں میں سے کس کا گھر یہاں سے قریب ترین ہے۔ توسیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ میرا گھر اور میرا دروازہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا آپ جا کر ہمارے لئے جگہ بنائیں۔سیدناانس رضی اللہ عنہ کہتے ہیںیہ سن کرسیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے جا کر آپ کے لئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے جگہ تیار کی۔ اور آ کر عرض کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں آپ دونوں کے لئے جگہ تیار کر آیا ہوں۔ اللہ کے نام کی برکت سے اٹھ کر تشریف لائیں اور آرام فرمائیں۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر آئے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آگئے۔ اور کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور دعوتِ حق اور دینِ حق لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار اور ابنِ سراد ہوں، اور میں ان کا سب سے بڑا عالم اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں۔آپ ان یہودیوں کو بلوائیں۔ اور ان سے میری بابت دریافت فرمائیں۔ یہودی آئے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے یہودیو! اللہ سے ڈرو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم یقینا جانتے ہو کہ میں واقعی اللہ کا رسول ہوں۔ اور میں تمہارے پاس دینِ حق اور دعوتِ حق لے کر آیا ہوں۔ تم اسلام قبول کر لو۔ تو وہ بولے، ہم اس بات کو نہیں جانتے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10653]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3911، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13237»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو قینقاع سے تھا، یہ بنو خزرج کے حلیف تھے، ایک قول کے مطابق دورِ جاہلیت میں ان کا نام حصین تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبد اللہ رکھا، مذہباً یہودی تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ اس وقت یہ مسلمان ہو گئے، یہ (۴۳) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی فضلیت اور قبولیت ِ اسلام کی مزید تفصیل مناقبِ صحابہ میں بیان ہو گی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3911
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. مَا جَاءَ فِي بِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10654
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا فَقَالُوا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ قَالَ وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَلِكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةْ
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں بنو عمرو بن عوف کے قبیلہ میں چودہ راتیں قیام فرمایا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ماموں قبیلہ بنو نجار کے معززین کے ہاں پیغام بھجوایا، وہ ہتھیار سجا کر آگئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:وہ منظر گویا اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے ہیں اور بنو نجار کے معززین کی جماعت آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے اپنا سامان رکھا، اس وقت تک چونکہ مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی اس لئے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں نماز ادا فرما لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا اور بنو نجار کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلب فرمایا، وہ آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو نجار! تم میرے ساتھ اپنے اس قطعہ ارضی کی قیمت طے کرو۔ لیکن انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ سے لیں گے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قطعہ میں مشرکین کی قبریں تھیں اور کچھ کھیتیاں(اور کھنڈرات) اور کھجوروں کے کچھ درخت تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو اکھیڑدیا جائے، پس ان کو اکھاڑ دیا گیا اور کھیتوں (یا کھنڈرات) کے متعلق حکم دیا اور ان کو مسمار کر کے برابر کر دیا گیا اور کھجوروں کے درختوں کو کاٹ دینے کا حکم دیا اور انہیں کاٹ دیا گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجوروں کے تنوں کو مسجد کے قبلہ کے رُخ ایک قطار میں کھڑا کر کے دیوار بنا دی گئی، اور دونوں پہلوؤں کی دیواروں کی جگہ پتھر چُن دئیے گئے، صحابہ کرام ان پتھروں کو اُٹھا اُٹھا کر لاتے اور یہ شعر پڑھتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ یہ کلمات فرما رہے تھے: اَللَّہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ (یااللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرمایا۔) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10654]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2774، 3932، ومسلم: 524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13240»
وضاحت: فوائد: … جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو چکے تو دعوت الی اللہ کے ساتھ ساتھ وہاں کے دینی اور دنیوی امور کو بھی منظم کرنا شروع کیا۔
اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے وہ زمین خریدی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی،یہ تقریبا (۱۰۰) ہاتھ لمبی اور (۶۰) ہاتھ چوڑی جگہ تھی۔ معلوم ہوا کہ مسلم حکومت وحکمرانی کا آغاز مسجد سے ہوتا ہے، کاش عصر حاضر کا سیاسی اور مذہبی طبقہ بھی اس راز کا شعور رکھتا ہوتا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2774
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. المُواحَاةُ وَالْمُحَالَفَةُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ
مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10655
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَهْيَمْ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا أَصْدَقْتَهَا قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے مابین مواخات اور بھائی چارہ قائم کر دیا،سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا سارا مال نصف نصف کرتا ہوں، میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس کی عدت پوری ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں، سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل وعیال اور مال میں برکت فرمائے، لیکن مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، مجھے بازاراور منڈی کا راستہ بتلا دو۔ لوگوں نے ان کو منڈی کا راستہ بتلادیا، وہ اس میں چلے گئے اور جب واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور کچھ گھی تھا، جو وہ بطورِ منافع کما کر لائے تھے، اس کے بعد ایک موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ لگاہواتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا؟ جواب دیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے اسے مہر کے طور پر کیا ادا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نواۃ کے برابر سونا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ وہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10655]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2049، 2293، ومسلم: 1427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13006»
وضاحت: فوائد: … مشہور قول اور اکثر اہل علم کی رائے کے مطابق نواۃ سے مراد سونے کا وہ سکہ ہے، جس کی قیمت پانچ درہم چاندی تھی، اس رائے کی تائید سنن بیہقی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَھَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَۃَ دَرَاھِمَ۔ … نواۃ کے وزن کے برابر سونے کے عوض، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2049
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10656
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَحَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي الَّتِي بِالْمَدِينَةِ
سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات اور بھائی چارہ میرے اس گھر میں کرایا تھا، جو مدینہ منورہ میں ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10656]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7340، ومسلم: 2529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12499»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7340
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10657
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ بَلَى بَلَى قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔؟یہ سن کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10657]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14031»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14031
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10657M
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ بَلَى بَلَى قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔؟یہ سن کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10657M]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14031»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2529
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10658
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
۔(دوسری سند) عاصم احول سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں کرائی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10658]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14032»
وضاحت: فوائد: … یہ انصار کا کرم اور ان کی خوبی تھی کہ وہ مہاجرین کو اپنے گھر ٹھہرانے اور ان کی میزبانی کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حقیقی نمونہ تھے کہ {وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖفَاُولٰیِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} … اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ سورۂ حشر: ۹)
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس محبت و ایثار کو انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ کرا کے مزید پختہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر انصاری اور اس کے نزیل (مہاجر مہمان) کو بھائی قرار دیا،یہ کل نوے آدمی تھے، آدھے مہاجرین سے اور آدھے انصار سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان غمگساری پر اور اس بات پر بھائی چارہ کرایا کہ قرابت داروں کے بجائے وہی موت کے بعد ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، بعد میں وراثت تو منسوخ کر دی گئی، لیکن بھائی چارگی باقی رہی۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14032
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10659
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں آپس کا عہدوپیمان نہیں ہے، البتہ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں جو عہد وپیمان ہو چکا ہے، اسلام اسے مزید مضبوط اور پختہ کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10659]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16883»
وضاحت: فوائد: … عہد و پیمان کی دو قسمیں ہیں: (۱) عہدوپیمان کی وہ صورتیں جن سے اسلامی تعلیمات کی مخالفت ہوتی ہو، مثلا دو افراد کا آپس میں یہ معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، اس سے اللہ تعالیٰ کے میراث سے متعلقہ قوانین متاثر ہوں گے، اسی طرح خواتین کا آپس میں معاہدہ کرنا کہ وہ ایک دوسری کے اموات پر مل کر نوحہ کریں گی، وغیرہ وغیرہ۔ عہد و پیمان کییہ قسم ہر صورت میں ممنوع ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑھے گا کہ اسلام سے پہلے اس کا تعین کیا گیایا بعد میں۔
(۲) عہد وپیمان کی وہ قسم جس سے حق کی تائید ہوتی ہو، جیسے صلہ رحمی کو برقرار رکھنے، حق کی تائید کرنا اور مظلوم وغیرہ کی مدد کرنا، ایسے معاہدے شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہیں اور اسلام ان میں مزید تاکید پیدا کرتا ہے۔
ان احادیث میں ان ہی دو قسمیں کو ذکر کیا گیا ہے، اول الذکر سے روکا گیا ہے اور ثانی الذکر کی رغبت دلائی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2530
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں