الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. المُواحَاةُ وَالْمُحَالَفَةُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ
مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10660
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَلْفِ فَقَالَ مَا كَانَ مِنْ حَلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَمَسَّكُوا بِهِ وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ
قیس بن عاصم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہدوپیمان کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عہد و پیمان دورِ جاہلیت میں کر چکے ہو، انہیں پورا کرو، البتہ اسلام میں از سرِ نو ایسے عہدو پیمان نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10660]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 18/ 864، والحميدي: 1206، والبزار: 1915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20889»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10661
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهِدْتُ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَهُ شِدَّةً وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ
سیدناعبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ابھی لڑکا ہی تھا کہ اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین کے معاہدہ میں شامل ہوا تھا، اب بھی مجھے بیشِ قیمت سرخ اونٹ بھی مل جائیں تو تب بھی میں اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہیں کروں گا۔ امام زہری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام نے لوگوں کے کئے ہوئے جس معاہدہ کو پایا، اس نے اسے مزید پختہ کیا اور اب اسلام میں اس قسم کے عہدوپیمان اور معاہدوں کی گنجائش نہیں ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10661]
تخریج الحدیث: «ھذا مرسل، لكن ورد معناه في احاديث موصولة صحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1655»
وضاحت: فوائد: … جنگ فجار کے بعد ہی ذیقعدہ کے مہینے میں پانچ قبائل کے درمیان ایک عہد نامہ طے پایا، جسے حلف الفضول کہتے ہیں، ان قبائل کے نام یہ ہیں: بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو اسد، بنوزہرہ اور بنو تیم۔
اس کی وجہ یہ ہوئی کہ زبید (یمن) کا ایک آدمی سامان تجارت لے کر مکہ آیا، عاص بن وائل نے اس سے سامان خرید لیا، لیکن قیمت ادا نہ کی، اس نے بنو عبد الدار، بنو مخزوم، بنو جمح، بنو سہم اور بنو عدی سے فریاد کی، لیکن انھوں نے کوئی توجہ نہ دی، چنانچہ اس نے جبل ابو قبیس پر چڑھ کر چند اشعار میں اپنی مظلومیت کا نقشہ بیان کیا اور آواز لگائی کہ کوئی اس کا حق دلانے کے لیے اس کی مدد کرے۔ اس پر زبیر بن عبد المطلب نے دوڑ دھوپ کی، چنانچہ مذکورہ قبائل کے افراد بنو تیم کے سردار عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں اکٹھے ہوئے اور آپس میں عہد و پیمان کیا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے، خواہ مکہ کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا، یہ سب اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور عاص بن وائل سے زبیدہ کا حق لے کر اس کے حوالے کیا۔
اس عہد و پیمان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچاؤں کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر بیس برس تھی اور شرف رسالت سے مشرف ہونے کے بعد اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔
ان افراد نے اس معاہدے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے خوشبو کا ایک ٹب بھرا، اس کو کعبہ کے پاس مسجد حرام میں رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ ڈبوئے اور پھر یہ خوشبوزدہ ہاتھ کعبہ کو لگائے، اسی بنا پر اس معاہدے میں شریک افراد کو مُطَیَّبِین (خوشبودار بنائے گئے افراد) کہا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے معاہدوں کی تعریف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ کسی دنیوی لالچ میں پڑ کر ایسے معاہدوں کو نہیں توڑنا چاہیے، بلکہ ان کو اسلام میں بھی برقرار رکھنا چاہیے۔
اس کی وجہ یہ ہوئی کہ زبید (یمن) کا ایک آدمی سامان تجارت لے کر مکہ آیا، عاص بن وائل نے اس سے سامان خرید لیا، لیکن قیمت ادا نہ کی، اس نے بنو عبد الدار، بنو مخزوم، بنو جمح، بنو سہم اور بنو عدی سے فریاد کی، لیکن انھوں نے کوئی توجہ نہ دی، چنانچہ اس نے جبل ابو قبیس پر چڑھ کر چند اشعار میں اپنی مظلومیت کا نقشہ بیان کیا اور آواز لگائی کہ کوئی اس کا حق دلانے کے لیے اس کی مدد کرے۔ اس پر زبیر بن عبد المطلب نے دوڑ دھوپ کی، چنانچہ مذکورہ قبائل کے افراد بنو تیم کے سردار عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں اکٹھے ہوئے اور آپس میں عہد و پیمان کیا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے، خواہ مکہ کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا، یہ سب اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور عاص بن وائل سے زبیدہ کا حق لے کر اس کے حوالے کیا۔
اس عہد و پیمان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچاؤں کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر بیس برس تھی اور شرف رسالت سے مشرف ہونے کے بعد اس کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔
ان افراد نے اس معاہدے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے خوشبو کا ایک ٹب بھرا، اس کو کعبہ کے پاس مسجد حرام میں رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ ڈبوئے اور پھر یہ خوشبوزدہ ہاتھ کعبہ کو لگائے، اسی بنا پر اس معاہدے میں شریک افراد کو مُطَیَّبِین (خوشبودار بنائے گئے افراد) کہا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے معاہدوں کی تعریف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ کسی دنیوی لالچ میں پڑ کر ایسے معاہدوں کو نہیں توڑنا چاہیے، بلکہ ان کو اسلام میں بھی برقرار رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: ھذا مرسل
حدیث نمبر: 10662
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت میں جو معاہدے اور عہدوپیمان ہوئے، اسلام نے ان کو مزید پختہ اور مضبوط کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10662]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه الدارمي: 2526، وابويعلي: 2336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2909»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 10663
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتِ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ قَدْ كَفَوْنَا الْمَؤُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ فَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلَّا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ بِهِ وَدَعَوْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا: ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان سے زیادہ خرچ کرنے والا اور قلت کے باوجود ان سے بڑھ کر ہمدردی کرنے والا کسی کو نہیں پایا، انہوں نے ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا اور ہمیں اپنی ہر خوشی میں شریک رکھا، ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا ثواب یہ لوگ ہی لے جائیں گے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی بات نہیں ہے، جب تک تم ان کے حسنِ سلوک پر ان کی جو تعریف کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرتے ہو، (اللہ تمہیں بھی اس کا اجروثواب دے گا)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10663]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ابي شيبة: 9/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13153»
وضاحت: فوائد: … اگر احسان کرنے والے کو اسی کی طرح کا بدلہ دینا ناممکن ہے تو پھر اس انداز میں ان کی تعریف کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ ریاکاری کے اسباب پیدا نہ ہوں اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 10664
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین یہ معاہدہ تحریر کیا تھا کہ یہ سب مل کر ایک دوسرے کے خون بہا ادا کریں گے،ایک دوسرے کے قیدیوں کو معروف طریقہ سے رہا کرائیں گے اور مسلمانوں کے مابین اصلاحِ احوال کریں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10664]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتدليس الحجاج، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2443»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لتدليس الحجاج
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ نِسَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
اہلِ مدینہ کی خواتین کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 10665
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ قُلْنَا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ وَقَالَ تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَهُ فِي مَعْرُوفٍ قُلْنَا نَعَمْ فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ وَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَنَهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا وَسَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12] قَالَتْ نُهِينَا عَنِ النِّيَاحَةِ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، وہ جا کر دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کہا، ان عورتوں نے سلام کا جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: ہم اللہ کے رسول اور اللہ کے رسول کے قاصد کو مرحبا اور خوش آمدید کہتی ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان امور پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کرو گی،تم از خود کوئی بات بنا کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی اور نوحہ نہیں کرو گی۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر ہم نے گھر کے اندر سے اپنے ہاتھ آگے کو بڑھائے اور انھوں نے باہر ہی سے اپنا بڑھایا، ہاتھ ملائے بغیر ہی محض اشارے سے بیعت ہوئی۔ پھر انھوں نے فرمایا: یا اللہ! گواہ رہنا۔ انھوں نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عیدین کے موقعہ پر نوجوان لڑکیوں کو اور حیض والی خواتین کو بھی باہر، عیدگاہ کی طرف عید کے لیے لے جایا کریں اور انھوں نے ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا، نیز فرمایا کہ ہمارے لیے جمعہ کی حاضری ضروری نہیں۔ اسمٰعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے دریافت کیا کہ حدیث میں وارد لفظ {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس لفظ کے ذریعے ہمیںنوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10665]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون ذكر عمر فيه، أخرجه ابوداود: 1139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21078»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیعت تو انصاری خواتین کے ساتھ خاص تھی، ویسے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواتین و حضرات سے بیعت لینے کے مختلف سلسلے جاری رہے۔
ویسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درج ذیل آیت کی روشنی میں خواتین سے بیعت لیا کرتے تھے:
{ ٰٓیاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیںکریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
اگلی حدیث میں بھییہی آیت مراد ہے۔
ویسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درج ذیل آیت کی روشنی میں خواتین سے بیعت لیا کرتے تھے:
{ ٰٓیاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیںکریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
اگلی حدیث میں بھییہی آیت مراد ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون ذكر عمر فيه
حدیث نمبر: 10666
عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نِسَاءٍ نُبَايِعُهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا مَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا الْآيَةَ [الممتحنة: 12] قَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُصَافِحُنَا قَالَ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عورتوں کے ساتھ مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے قرآن پاک میں بیان کئے گئے اصولوں پر بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں گی، (آیت آخر تک)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان شقوں پر تم نے اتنا عمل کرنا ہے، جتنی تم میں طاقت اور قوت ہو گی۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تو ہمارے ساتھ ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ مصافحہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو خواتین سے عہد لینا، ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت سے عہد لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10666]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27549»
وضاحت: فوائد: … چونکہ غیر محرم خاتون کو ہاتھ لگانا حرام ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے وقت خواتین کے ہاتھ پرہاتھ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زبانی کلامی بیعت لیتے تھے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10667
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَتْ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رُقَيْقَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ أُبَايِعُكِ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكِي بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقِي وَلَا تَزْنِي وَلَا تَقْتُلِي وَلَدَكِ وَلَا تَأْتِي بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ يَدَيْكِ وَرِجْلَيْكِ وَلَا تَنُوحِي وَلَا تَتَبَرَّجِي تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اسلام کی بیعت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری اور زنانہیں کرو گی، اپنے بچوں کو قتل نہ کرو گی، اور از خود گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی، نوحہ نہیں کرو گی اور پہلی جاہلیت کی طرح سرِ عام بے پردہ نہ گھومو گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10667]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6850»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
6. بَابُ ذِكْرِ مَا أَصَابَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ حُمَّى الْمَدِينَةِ
اس امر کا بیان کہ مدینہ منورہ پہنچ کر مہاجرین بخار میں مبتلاہو گئے
حدیث نمبر: 10668
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِ
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہ شدید قسم کی وبائی زمین تھی، پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: یا اللہ! ہمارے لئے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کی فضا کو صحت والا کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے جُحفہ کے علاقے میں منتقل کر دے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10668]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6372، ومسلم: 376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24792»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6372
حدیث نمبر: 10669
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ يَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَفِي مُدِّهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر صدیق، ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا بلال سمیت کچھ صحابۂ کرام بیمار پڑ گئے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی عیادت کے لیے جانے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ جب انھوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کیسے ہیں؟ تو انہوں نے یہ شعر پڑھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا: ہر شخص کو اس کے اہلِ خانہ میں صبح بخیر کہا جاتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے قریب ہے۔ پھر جب انھوں نے سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں موت کے آنے سے پہلے ہی موت سے دو چار ہو گیا ہوں، موت ہر وقت بزدل آدمی کے سر پرکھڑی ہوتی ہے۔ جب سیدہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی فج (جو کہ مکہ کی ایک وادی ہے) میں گزار سکوں گا، جہاں میرے گرد اذخر گھاس اور جلیل نامی گھاس ہو۔ جب عیادت کے بعد سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان حضرات کی باتوں کے متعلق بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ! ہمارے لیے مدینہ منورہ کے صاع اور مد میں برکت فرما اور اس کی وباء کو مہیعہیعنی حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الأولى للهجرة/حدیث: 10669]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:1889، ومسلم: 376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24864»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري:1889