الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ مُحَمَّدِ بْن مَسْلَمَةَ رضي الله عنه قِبَلَ نَجْدِ وَ أَسْرِ تُمَامَةَ بْنِ أَثَالِ وَإِسْلَامِهِ
نجد کی جانب سیدنا محمد بن مسلمہ کی مہم، ثمامہ بن اثال کی گرفتاری اور اس کے قبولِ اسلام کا بیان
حدیث نمبر: 10783
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ قَالَ لَهُ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ قَالَ مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقُوا بِثُمَامَةَ فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الْأَدْيَانِ إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيَّ وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَإِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَى فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ صَبَأْتَ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجد کی طرف ایک گھڑسوار لشکر روانہ کیا، وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر لائے، جو اہل ِ یمامہ کا سردار تھا۔ مسلمانوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے دریافت فرمایا: ثمامہ! کیا پروگرام ہے؟ اس نے کہا: اے محمد! اچھا پروگرام ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قتل کیا تو یہ نہ سمجھنا کہ میں معمولی آدمی ہوں، بلکہ میری قوم میرے خون کا بدلہ لے کر چھوڑے گی اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں اور چھوڑ دیں تو میں آپ کا شکر گزار ہوں گا، اگر آپ کو مال کی ضرورت ہو تو فرمائیں جو مانگیں گے آپ کو دے دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ثمامہ! کیا پروگرام ہے؟ اس نے کہا: وہی جو میں آپ سے قبل ازیں کہہ چکا ہوں، اگر آپ احسان کریں گے تو آپ ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو میرا خون معمولی نہیں، میری قوم بدلہ لے کر رہے گی اور اگر آپ کو مال کی ضرورت ہے تو مانگیں آپ جتنا مال چاہیں گے آپ کو دے دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کے حال پر رہنے دیا۔ تیسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ثمامہ! کیا پروگرام ہے؟ اس نے کہا: میرا پروگرام وہی ہے، جو قبل ازیں آپ سے کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ مجھ پر احسان کریں تو آپ ایک شکر گزار پر احسان کریں گے، یعنی میں آپ کا احسان مند اور شکر گزار رہوں گا۔اور اگر آپ نے مجھے قتل کر دیا تو آپ ایک معزز کو قتل کریں گے، جس کی قوم آپ سے بدلہ لے کر رہے گی اور اگر آپ کو مال ودولت چاہیے تو فرمائیں، آپ جو چاہیں گے آپ کو دے دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ثمامہ کو لے جاؤ۔ صحابہ کرام ثمامہ کو مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں لے گئے، اس نے غسل کیا اور مسجد میں آکر کہنے لگا: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہ۔ِ اے محمد! اللہ کی قسم! میرے نزدیک روئے زمین پر آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسند کوئی چہرہ نہ تھا، اب آپ کا چہرہ انور مجھے تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب وپسند ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے آپ کے دین سے زیادہ ناپسند دوسرا کوئی دین نہ تھا، اب آپ کا دین مجھے تمام ادیان سے بڑھ کر محبوب وپسند ہے۔ اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی شہر مجھے آپ کے شہر سے زیادہ ناپسند نہ تھا، اب آپ کا شہر مجھے تمام شہروں سے بڑھ کر محبوب وپسند ہے۔ آپ کے گھڑ سوار لشکر نے مجھے پکڑ لیا تھا۔میں تو عمرہ کے لیے جا رہا تھا، اب آپ کا کیا ارشاد ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے خوش خبری دی اور اسے حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے، وہ جب مکہ پہنچا تو کسی کہنے والے نے اس سے کہا: کیا تم بے دین ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں میں بے دین نہیںہوا، بلکہ میں تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہوں۔ اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک بھی دانہ نہیں آئے گا، جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10783]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 462، 2422، ومسلم: 1764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9832»
وضاحت: فوائد: … ثمامہ بن اثال،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو سخت ناپسند کرتے تھے، چنانچہ محرم ۶ ہجری میں مسیلمہ کذاب کے حکم سے بھیس بدل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے نکلے، اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمد بن مسلمہ کو تیس سواروں کے ساتھ ضریہ کے اطراف میں، جو بصرہ کے راستہ میںمدینہ سے سات رات کے فاصلے پر واقع ہے، بنی بکر کی تادیب کے لیے بھیجا تھا، سواروں نے واپس آتے ہوئے راستہ میں ثمامہ کو پا لیا اور انہیں گرفتار کر کے مدینہ لے آئے اور مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ثمامہ کے مابین مندرجہ بالا گفتگو کا تبادلۂ خیال ہوا۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ بَنِي لِحْيَانِ الَّتِي صَلَّى فِيهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلَاةَ الْخَوْفِ بِعُسْفَانَ
عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
حدیث نمبر: 10784
عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ قَالُوا تَأْتِي عَلَيْهِمْ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَذِهِ الْآيَاتِ بَيْنَ الظَّهْرِ وَالْعَصْرِ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: 102] قَالَ فَحَضَرَتْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا السِّلَاحَ قَالَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ
سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَأْخُذُوْا اَسْلِحَتَہُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَائِکُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَۃٌ أُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ} … جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لیے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آ جائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے۔ (النسائ: ۱۰۲)جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آگئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10784]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1236، والنسائي: 3/ 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16696»
وضاحت: فوائد: … بنو لحیان وہی ہیں، جنھوں نے رجیع میں صحابۂ کرام کو قتل کیا تھا، یہ حجاز کے بہت اندر عسفان کی حدود میں آباد تھے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نمٹنے میں قدرے تاخیر کی، جب کفار کے مختلف گروہوں میں پھوٹ پڑ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمنوں سے کسی قدر مطمئن ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کا انتظام سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو سونپ کر دو سو صحابہ اور بیس گھوڑوں کے ساتھ ربیع الاول ۶ ہجری میں بنو لحیان کا رخ کیا اور یلغار کرتے ہوئے بطن غران تک جا پہنچے، اُدھر بنو لحیان کو خبر ہو گئی اور وہ پہاڑ کی چوٹیوں کی طرف بھاگ نکلے، سو ان کا کوئی آدمی ہاتھ نہ آ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عسفان کا قصد کیا اور وہاں سے دس سواروں کا دستہ آگے بھیجا، تاکہ ان کی آمد کا حال سن کر مرعوب ہو جائیں، اس دستے نے کراع الغمیم تک چکر لگایا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل چودہ دن مدینہ سے باہر گزار کر مدینہ واپس آ گئے۔
کتنی حیران کن بات ہے کہ دشمنان اسلام کا نظریہیہ تھا کہ عصر کی نماز مسلمانوں کو ان کی جانوں اور اولادوں سے بھی عزیز ہے اور وہ کبھی بھی اس کو ترک نہیں کریں گے، کاش عصر حاضر کے مسلمان بھی ان حقائق کو سمجھ جاتے۔ جب دشمن یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ عصر کی نماز میںمصروف مسلمانوں پر یکبارگی حملہ کر دینا ہے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے غفلت کو گوارہ نہ کیا، لیکن ہم مسلم معاشرہ میں رہتے ہوئے بانوے ترانوے فیصد لوگ بے نمازی ہیں۔ راجح قول کے مطابق عسفان مقام پر پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف اس طریقے کے مطابق ادا کی تھی،یہ چھیا سات سن ہجری کا واقعہ تھا۔
نماز خوف کی مختلف صورتوں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۲۹۴۷) کا باب۔
کتنی حیران کن بات ہے کہ دشمنان اسلام کا نظریہیہ تھا کہ عصر کی نماز مسلمانوں کو ان کی جانوں اور اولادوں سے بھی عزیز ہے اور وہ کبھی بھی اس کو ترک نہیں کریں گے، کاش عصر حاضر کے مسلمان بھی ان حقائق کو سمجھ جاتے۔ جب دشمن یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ عصر کی نماز میںمصروف مسلمانوں پر یکبارگی حملہ کر دینا ہے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے غفلت کو گوارہ نہ کیا، لیکن ہم مسلم معاشرہ میں رہتے ہوئے بانوے ترانوے فیصد لوگ بے نمازی ہیں۔ راجح قول کے مطابق عسفان مقام پر پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف اس طریقے کے مطابق ادا کی تھی،یہ چھیا سات سن ہجری کا واقعہ تھا۔
نماز خوف کی مختلف صورتوں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۲۹۴۷) کا باب۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10785
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ وَتَقُومَ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّوا مَعَهُ وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10785]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد أخرجه الترمذي: 3035، والنسائي: 3/ 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10775»
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّفَاعِ وَفِيهَا صَلَّى النَّبِيُّ ﷺ صَلَاةَ الْخَوْفِ
غزوۂ ذات الرقاع کا بیان، اس میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف ادا کی
حدیث نمبر: 10786
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ فَأُصِيبَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا وَجَاءَ زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَحَلَفَ أَنْ لَا يَنْتَهِيَ حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَقَالَ مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَكُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ قَالَ وَكَانُوا نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنَ الْوَادِي فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ قَالَ اكْفِنِي أَوَّلَهُ فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي وَأَتَى الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ثُمَّ عَادَ لَهُ بِثَالِثٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ فَقَالَ اجْلِسْ فَقَدْ أُتِيتَ فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ فَهَرَبَ فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَلَا أَهْبَبْتَنِي قَالَ كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا فَلَمَّا تَابَعَ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَأُرِيتُكَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم غزوۂ ذاتِ رقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، اس دوران مشرکین کی ایک عورت مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئی، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو اس عورت کا شوہر جو اس وقت موجود نہ تھا، وہ آچکا تھا، اس نے قسم اُٹھائی کہ وہ اپنی کارروائی سے اس وقت تک باز نہ آئے گا جب تک کہ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں قتل وغارت نہ کر دے، چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیچھا کرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو ہمارا پہرہ دے گا؟ ایک مہاجر اور ایک انصاری کا نام لیا گیا،ان دونوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم پہرہ دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم گھاٹی کے سامنے رہنا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صحابہ کرام نے وادی کی ایک جانب میں نزول کیا تھا، جب یہ دونوں آدمی گھاٹی کی طرف گئے تو انصاری نے مہاجر ساتھی سے کہا: تمہیں رات کا اول حصہ پسند ہے یا آخری، تاکہ میں اس حصے میں تمہاری طرف سے پہرہ دوں اور تم آرام کر لو۔ اس نے کہا: تم رات کے اول حصہ میں ڈیوٹی دو، چنانچہ مہاجر لیٹ گیا اور اسے نیند آگئی اور انصاری کھڑا ہو کر نماز میں مشغول ہو گیا، وہ دشمن آیا اس نے دور سے ایک آدمی کا وجود دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ ضرور ان کا نگران ہے، اس نے تیر مارا تیر آکر انصاری کو لگا۔ اس نے (نماز کے دوران ہی) تیر کو نکال کر رکھ دیا اور کھڑا نماز پڑھتا رہا، دشمن نے دوسرا تیر مارا، وہ بھی آ کر لگا، اس نے اسے نکال کر رکھ دیا اور نماز میں مشغول رہا، دشمن نے اسے تیسرا تیر مارا، وہ بھی آ لگا، اس نے اسے بھی نکال کر رکھ دیا۔ اس کے بعد رکوع اور سجدے کئے اور (نماز سے فارغ ہو کر) اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا اُٹھ کر بیٹھو دشمن آگیا ہے۔ وہ جلدی سے اُٹھا دشمن نے ان دو آدمیوں کو دیکھا تو جان گیا کہ وہ سنبھل گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ بھاگ گیا، مہاجر نے انصاری کو لہولہان دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! تم نے مجھے شروع ہی میں بیدار کیوں نہ کر دیا؟ انصاری نے کہا: میں ایک سورت شروع کر چکا تھا، میں نے اسے ادھورا چھوڑنا مناسب نہ سمجھا، جب پے در پے تیر آئے، تب میں نے جلدی سے رکوع کیا۔ (اور نماز مکمل کی) اور تمہیں آگاہ کیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ذمہ جو اس طرف سے پہرہ کی ذمہ داری لگائی تھی اس میں کوتاہی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میرے اس سورت کو مکمل کرنے سے پہلے میری جان چلی جاتی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10786]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14760»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10787
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِرَّةً فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ قَالَ فَذَهَبَ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ فَلَمَّا كَانَ الظُّهْرُ أَوْ الْعَصْرُ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَكَانَ لِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصفہ بن قیس بن عیلان بن الیاس بن مضر کے ساتھ نخل کے مقام پر لڑائی ہوئی، وہ لوگ مسلمانوں سے بدلہ لینے کی تاک میں رہتے تھے، اس قبیلہ کا غورث بن حارث نامی ایک شخص تھا، وہ تلوار لئے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچ گیا اور کہنے لگا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بچائے گا۔ پس تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلوار اُٹھالی اور فرمایا: اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: آپ اس آدمی کا ساسلوک کریں، جو غالب آکر اچھا سلوک کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، البتہ میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں نہ تو خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قتال کروں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے کہامیں تمہارے پاس ایک ایسے آدمی کے پاس سے آ رہا ہوں،جو لوگوں میں سب سے اچھا ہے، چنانچہ جب ظہر یا عصر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو نمازِ خوف پڑھائی، صحابۂ کرام کے دو حصے ہو گئے، ایک گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا اور ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعات پڑھائیں، وہ لوگ دو رکعات پڑھ کر ان لوگوں کی جگہ چلے گئے، جو دشمن کے سامنے تھے اور وہ لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی دو رکعات پڑھائیں، اس طرح لوگوں کی دو دو رکعات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10787]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 1778، وابن حبان: 2883، والحاكم: 3/ 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14991»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10788
عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ
صالح بن خوات ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی، اس نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنالی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے خود دوسری رکعت ادا کر لی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ماندہ رکعت پڑھی، پھر آپ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ یہ لوگ دوسری رکعت ادا کرکے (تشہد میں بیٹھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں:نماز خوف کییہ صورت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10788]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4129، ومسلم: 842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23524»
وضاحت: فوائد: … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے مدینہ منورہ واپس آ چکے تو سنا کہ بنو انمار، ثعلبہ اور محارب کے بدو اکٹھا ہو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینے کا انتظام سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو سونپا اور سات سو صحابہ کی معیت میں مدینہ سے دو دن کے فاصلے پر واقع مقام نخل کا رخ کیا، وہاں بنو غطفان کی ایک جمعیت سے آمنا سامنا ہوا، دونوں فریق ایک دوسرے کے قریب آئے اور بعض نے بعض کو خوفزدہ کیا، لیکن جنگ نہیں ہوئی،یہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف بھی ادا کی، پھر اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دل میں رعب ڈال دیا اور اس کی جمعیتپراگندہ ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ واپس آ گئے، یہ جمادی الاولی۷ ہجری کا واقعہ ہے۔
یہ غزوہ کب پیش آیا؟ اس کے بارے میں اختلاف ہے، ۴ سن ہجری اور ۵ سن ہجری کے بھی اقوال ہیں، البتہ امام بخاری کا میلان اس طرف ہے کہ یہ خیبر کے بعد واقع ہوا۔
اس غزوے کو غزوۂ ذات الرقاع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے قدم پیدل چلنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے تھے اور انھوں نے ان پر چیتھڑے لپیٹ لیے تھے اور چیتھڑوں کو عربی میں رقاع کہتے ہیں۔ مزید دو اقوال بھی ہیں، ایکیہ کہ اس غزوے کی جگہ کا نام ہی رقاع تھا اور دوسرا کہ اس کی زمین اور پہاڑ مختلف رنگ کے تھے، گویا کہ وہ رقاع پیوند تھے۔
یہ غزوہ کب پیش آیا؟ اس کے بارے میں اختلاف ہے، ۴ سن ہجری اور ۵ سن ہجری کے بھی اقوال ہیں، البتہ امام بخاری کا میلان اس طرف ہے کہ یہ خیبر کے بعد واقع ہوا۔
اس غزوے کو غزوۂ ذات الرقاع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے قدم پیدل چلنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے تھے اور انھوں نے ان پر چیتھڑے لپیٹ لیے تھے اور چیتھڑوں کو عربی میں رقاع کہتے ہیں۔ مزید دو اقوال بھی ہیں، ایکیہ کہ اس غزوے کی جگہ کا نام ہی رقاع تھا اور دوسرا کہ اس کی زمین اور پہاڑ مختلف رنگ کے تھے، گویا کہ وہ رقاع پیوند تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيبِيةِ وَصَدُ قُرَيْشِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ عَنْ دُخُولِ مَكَّةَ وَاجْرَاءِ الصُّلْحِ
عمرۂ حدیبیہ کا ذکر اور قریش کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخلہ سے روکنے اورصلح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 10789
عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ قَالَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ قَرِيبٍ مِنْ عُسْفَانَ أَتَاهُ عَيْنُهُ الْخُزَاعِيُّ فَقَالَ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشِيرُوا عَلَيَّ أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِيلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ فَإِنْ قَعَدُوا قَعَدُوا مَوْتُورِينَ مَحْرُوبِينَ وَإِنْ نَجَوْا وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مَحْزُونِينَ وَإِنْ يَحْنُونَ تَكُنْ عُنُقًا قَطَعَهَا اللَّهُ أَوْ تَرَوْنَ أَنْ نَؤُمَّ الْبَيْتَ فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ وَلَمْ نَجِئْ نُقَاتِلَ أَحَدًا وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرُوحُوا إِذًا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ كَانَ أَكْثَرَ مَشُورَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَرَاحُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُوَ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يَهْبِطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بَرَكَتْ بِهَا رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَلْ حَلْ فَأَلَحَّتْ فَقَالُوا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِّي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ بِهِ قَالَ فَعَدَلَ عَنْهَا حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ إِنَّمَا يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يَلْبَثْهُ النَّاسُ أَنْ نَزَحُوهُ فَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ وَقَالَ إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهَكَتْهُمُ الْحَرْبُ فَأَضَرَّتْ بِهِمْ فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ فَإِنْ أَظْهَرْ فَإِنْ شَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا وَإِنْ هُمْ أَبَوْا وَإِلَّا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي أَوْ لَيُنْفِذَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ قَالَ يَحْيَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ حَتَّى تَنْفَرِدَ قَالَ فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْنَاهُمْ مُدَّةً قَالَ بُدَيْلٌ سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا فَقَالَ إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا فَإِنْ شِئْتُمْ نَعْرِضُهُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ سُفَهَاؤُهُمْ لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أَنْ تُحَدِّثَنَا عَنْهُ بِشَيْءٍ وَقَالَ ذُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ فَقَالَ أَيْ قَوْمُ أَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ قَالُوا بَلَى قَالَ أَوَلَسْتُ بِالْوَالِدِ قَالُوا بَلَى قَالَ فَهَلْ تَتَّهِمُونِي قَالُوا لَا قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظٍ فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَمَنْ أَطَاعَنِي قَالُوا بَلَى فَقَالَ إِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِهِ فَقَالُوا ائْتِهِ فَأَتَاهُ قَالَ فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ فَقَالَ عُرْوَةُ عِنْدَ ذَلِكَ أَيْ مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ قَوْمَكَ هَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى وُجُوهًا وَأَرَى أَوْبَاشًا مِنَ النَّاسِ خَلْقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ نَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ فَقَالَ مَنْ ذَا قَالُوا أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ وَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَصْلِ السَّيْفِ وَقَالَ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ عُرْوَةُ يَدَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ أَيْ غُدَرُ أَوَلَسْتَ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا الْإِسْلَامُ فَأَقْبَلُ وَأَمَّا الْمَالُ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِهِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ وَإِذَا أَمَرَهُمْ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ وَإِذَا تَكَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ وَكِسْرَى وَالنَّجَاشِيِّ وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنْ يَتَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ وَإِذَا أَمَرَهُمْ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ وَإِذَا تَكَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ دَعُونِي آتِهِ فَقَالُوا ائْتِهِ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا فُلَانٌ وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ فَابْعَثُوهَا لَهُ فَبُعِثَتْ لَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ الْقَوْمُ يُلَبُّونَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالَ رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ فَلَمْ أَرَ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فَقَالَ دَعُونِي آتِهِ فَقَالُوا ائْتِهِ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِكْرَزٌ وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ سُهَيْلٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهُلَ مِنْ أَمْرِكُمْ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ فَجَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا فَدَعَا الْكَاتِبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا الرَّحْمَنُ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ مَا هُوَ وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ وَاللَّهِ مَا نَكْتُبُهَا إِلَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ثُمَّ قَالَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ سُهَيْلٌ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ لَا يَسْأَلُونِّي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ فَقَالَ سُهَيْلٌ وَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَةً وَلَكِنْ لَكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَكَتَبَ فَقَالَ سُهَيْلٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ سُبْحَانَ اللَّهِ كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ وَقَالَ يَحْيَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ يَرْصُفُ فِي قُيُودِهِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ سُهَيْلٌ هَذَا يَا مُحَمَّدُ أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ قَالَ فَوَاللَّهِ إِذًا لَا نُصَالِحُكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَجِزْهُ لِي قَالَ مَا أَنَا بِمُجِيرِهِ لَكَ قَالَ بَلَى فَافْعَلْ قَالَ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ مِكْرَزٌ بَلَى قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ فَقَالَ أَبُو جَنْدَلٍ أَيْ مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِيتُ وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ بَلَى قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ قَالَ بَلَى قُلْتُ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَسْتُ أَعْصِيهِ وَهُوَ نَاصِرِي قُلْتُ أَوَلَسْتَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ قَالَ بَلَى قَالَ أَفَأَخْبَرْتُكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُتَطَوِّفٌ بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا قَالَ بَلَى قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ قَالَ بَلَى قُلْتُ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ نَاصِرُهُ فَاسْتَمْسِكْ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِغَرْزِهِ وَقَالَ تَطَوَّفْ بِغَرْزِهِ حَتَّى تَمُوتَ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَعَلَى الْحَقِّ قُلْتُ أَوَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوفُ بِهِ قَالَ بَلَى قَالَ أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْعَامَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُتَطَوِّفٌ بِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُمَرُ فَعَمِلْتُ لِذَلِكَ أَعْمَالًا قَالَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ قَامَ فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ ذَلِكَ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ هَدْيَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ حَتَّى بَلَغَ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ [الممتحنة: 10] قَالَ فَطَلَّقَ عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ وَقَالَ يَحْيَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ فَقَدِمَ عَلَيْهِ أَبُو بَصِيرِ بْنُ أُسَيْدٍ الثَّقَفِيُّ مُسْلِمًا مُهَاجِرًا فَاسْتَأْجَرَ الْأَخْنَسُ بْنُ شَرِيقٍ رَجُلًا كَافِرًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَمَوْلًى مَعَهُ وَكَتَبَ مَعَهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْوَفَاءَ فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ فَقَالُوا الْعَهْدَ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فِيهِ فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى بَلَغَا بِهِ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ يَا فُلَانُ هَذَا جَيِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ فَقَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيْلُ أُمِّهِ مِسْعَرُ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ قَالَ وَيَتَفَلَّتُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ اللَّهَ وَالرَّحِمَ لَمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ حَتَّى بَلَغَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ [الفتح: 24] وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ وَلَمْ يُقِرُّوا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَحَالُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ (مسند أحمد: 19136)
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين الا بعض فقرات منه ساقھا باسناد فيه انقطاع او ارسال، قوله: قال الزھري: وكان ابو ھريرةيقول: ما رايت احدا من رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم۔ مرسل۔ أخرجه البخاري: 2711، 2712، 2731، 2732،ومسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19136»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10790
(مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ يُرِيدُ زِيَارَةَ الْبَيْتِ لَا يُرِيدُ قِتَالًا وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ سَبْعِينَ بَدَنَةً وَكَانَ النَّاسُ سَبْعَ مِائَةِ رَجُلٍ فَكَانَتْ كُلُّ بَدَنَةٍ عَنْ عَشَرَةٍ قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِعُسْفَانَ لَقِيَهُ بِشْرُ بْنُ سُفْيَانَ الْكَعْبِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ سَمِعَتْ بِمَسِيرِكَ فَخَرَجَتْ مَعَهَا الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ يُعَاهِدُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عَنْوَةً أَبَدًا وَهَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي خَيْلِهِمْ قَدِمُوا إِلَى كُرَاعِ الْغَمِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا وَيْحَ قُرَيْشٍ لَقَدْ أَكَلَتْهُمُ الْحَرْبُ مَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ خَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَ سَائِرِ النَّاسِ فَإِنْ أَصَابُونِي كَانَ الَّذِي أَرَادُوا وَإِنْ أَظْهَرَنِي اللَّهُ عَلَيْهِمْ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ وَهُمْ وَافِرُونَ وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا قَاتَلُوا وَبِهِمْ قُوَّةٌ فَمَاذَا تَظُنُّ قُرَيْشٌ وَاللَّهِ إِنِّي لَا أَزَالُ أُجَاهِدُهُمْ عَلَى الَّذِي بَعَثَنِي اللَّهُ لَهُ حَتَّى يُظْهِرَهُ اللَّهُ لَهُ أَوْ تَنْفَرِدَ هَذِهِ السَّالِفَةُ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَسَلَكُوا ذَاتَ الْيَمِينِ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحَمْضِ عَلَى طَرِيقٍ تُخْرِجُهُ عَلَى ثَنِيَّةِ الْمِرَارِ وَالْحُدَيْبِيَةِ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ قَالَ فَسَلَكَ بِالْجَيْشِ تِلْكَ الطَّرِيقَ فَلَمَّا رَأَتْ خَيْلُ قُرَيْشٍ قَتَرَةَ الْجَيْشِ قَدْ خَالَفُوا عَنْ طَرِيقِهِمْ نَكَصُوا رَاجِعِينَ إِلَى قُرَيْشٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ بَرَكَتْ نَاقَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ خَلَأَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَأَتْ وَمَا هُوَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ عَنْ مَكَّةَ وَاللَّهِ لَا تَدْعُونِي قُرَيْشٌ الْيَوْمَ إِلَى خُطَّةٍ يَسْأَلُونِي فِيهَا صِلَةَ الرَّحِمِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ انْزِلُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بِالْوَادِي مِنْ مَاءٍ يَنْزِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَأَعْطَاهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَنَزَلَ فِي قَلِيبٍ مِنْ تِلْكَ الْقُلُبِ فَغَرَزَهُ فِيهِ فَجَاشَ الْمَاءُ بِالرَّوَاءِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ عَنْهُ بِعَطَنٍ فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ فِي رِجَالٍ مِنْ خُزَاعَةَ فَقَالَ لَهُمْ كَقَوْلِهِ لِبُشَيْرِ بْنِ سُفْيَانَ فَرَجَعُوا إِلَى قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَإِنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَأْتِ لِقِتَالٍ إِنَّمَا جَاءَ زَائِرًا لِهَذَا الْبَيْتِ مُعَظِّمًا لِحَقِّهِ فَاتَّهَمُوهُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ خُزَاعَةُ فِي عَيْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمُهَا وَمُشْرِكُهَا لَا يُخْفُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كَانَ بِمَكَّةَ قَالُوا وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا جَاءَ لِذَلِكَ فَلَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُهَا أَبَدًا عَلَيْنَا عَنْوَةً وَلَا تَتَحَدَّثُ بِذَلِكَ الْعَرَبُ ثُمَّ بَعَثُوا إِلَيْهِ مِكْرَزَ بْنَ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَفِ أَحَدَ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا رَجُلٌ غَادِرٌ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِمَّا كَلَّمَ بِهِ أَصْحَابَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأَخْبَرَهُمْ بِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَعَثُوا إِلَيْهِ الْحُلَيْسَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْكِنَانِيَّ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ الْأَحَابِيشِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا مِنْ قَوْمٍ يَتَأَلَّهُونَ فَابْعَثُوا الْهَدْيَ فِي وَجْهِهِ فَبَعَثُوا الْهَدْيَ فَلَمَّا رَأَى الْهَدْيَ يَسِيلُ عَلَيْهِ مِنْ عَرْضِ الْوَادِي فِي قَلَائِدِهِ قَدْ أَكَلَ أَوْتَارَهُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّهِ رَجَعَ وَلَمْ يَصِلْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِعْظَامًا لِمَا رَأَى فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَدْ رَأَيْتُ مَا لَا يَحِلُّ صَدُّهُ الْهَدْيَ فِي قَلَائِدِهِ قَدْ أَكَلَ أَوْتَارَهُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّهِ فَقَالُوا اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ أَعْرَابِيٌّ لَا عِلْمَ لَكَ فَبَعَثُوا إِلَيْهِ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مَا يَلْقَى مِنْكُمْ مَنْ تَبْعَثُونَ إِلَى مُحَمَّدٍ إِذَا جَاءَ كُمْ مِنَ التَّعْنِيفِ وَسُوءِ اللَّفْظِ وَقَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّكُمْ وَالِدٌ وَأَنِّي وَلَدٌ وَقَدْ سَمِعْتُ بِالَّذِي نَابَكُمْ فَجَمَعْتُ مَنْ أَطَاعَنِي مِنْ قَوْمِي ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى آسَيْتُكُمْ بِنَفْسِي قَالُوا صَدَقْتَ مَا أَنْتَ عِنْدَنَا بِمُتَّهَمٍ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ جَمَعْتَ أَوْبَاشَ النَّاسِ ثُمَّ جِئْتَ بِهِمْ لِبَيْضَتِكَ لِتَفُضَّهَا إِنَّهَا قُرَيْشٌ قَدْ خَرَجَتْ مَعَهَا الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ يُعَاهِدُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عَنْوَةً أَبَدًا وَأَيْمُ اللَّهِ لَكَأَنِّي بِهَؤُلَاءِ قَدِ انْكَشَفُوا عَنْكَ غَدًا قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فَقَالَ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ أَنَحْنُ نَنْكَشِفُ عَنْهُ قَالَ مَنْ هَذَا يَا مُحَمَّدُ قَالَ هَذَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ قَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَكَافَأْتُكَ بِهَا وَلَكِنَّ هَذِهِ بِهَا ثُمَّ تَنَاوَلَ لِحْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ وَاقِفٌ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيدِ قَالَ يَقْرَعُ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ أَمْسِكْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلُ وَاللَّهِ لَا تَصِلُ إِلَيْكَ قَالَ وَيْحَكَ مَا أَفَظَّكَ وَأَغْلَظَكَ قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَذَا يَا مُحَمَّدُ قَالَ هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ أَغُدَرُ هَلْ غَسَلْتَ سَوْأَتَكَ إِلَّا بِالْأَمْسِ قَالَ فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَا كَلَّمَ بِهِ أَصْحَابَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ يُرِيدُ حَرْبًا قَالَ فَقَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَأَى مَا يَصْنَعُ بِهِ أَصْحَابُهُ لَا يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَسْقُطُ مِنْ شَعْرِهِ شَيْءٌ إِلَّا أَخَذُوهُ فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنِّي جِئْتُ كِسْرَى فِي مُلْكِهِ وَجِئْتُ قَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيَّ فِي مُلْكِهِمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ مِثْلَ مُحَمَّدٍ فِي أَصْحَابِهِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ قَوْمًا لَا يُسْلِمُونَهُ لِشَيْءٍ أَبَدًا فَرَوْا رَأْيَكُمْ قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ بَعَثَ خِرَاشَ بْنَ أُمَيَّةَ الْخُزَاعِيَّ إِلَى مَكَّةَ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ الثَّعْلَبُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ عَقَرَتْ بِهِ قُرَيْشٌ وَأَرَادُوا قَتْلَ خِرَاشٍ فَمَنَعَهُمُ الْأَحَابِيشُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا عُمَرَ لِيَبْعَثَهُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَخَافُ قُرَيْشًا عَلَى نَفْسِي وَلَيْسَ بِهَا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ أَحَدٌ يَمْنَعُنِي وَقَدْ عَرَفَتْ قُرَيْشٌ عَدَاوَتِي إِيَّاهَا وَغِلْظَتِي عَلَيْهَا وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى رَجُلٍ هُوَ أَعَزُّ مِنِّي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ إِلَى قُرَيْشٍ يُخْبِرُهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ لِحَرْبٍ وَأَنَّهُ جَاءَ زَائِرًا لِهَذَا الْبَيْتِ مُعَظِّمًا لِحُرْمَتِهِ فَخَرَجَ عُثْمَانُ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ وَلَقِيَهُ أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَحَمَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَدِفَ خَلْفَهُ وَأَجَارَهُ حَتَّى بَلَّغَ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ عُثْمَانُ حَتَّى أَتَى أَبَا سُفْيَانَ وَعُظَمَاءَ قُرَيْشٍ فَبَلَّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَرْسَلَهُ بِهِ فَقَالُوا لِعُثْمَانَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَطُفْ بِهِ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتَّى يَطُوفَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاحْتَبَسَتْهُ قُرَيْشٌ عِنْدَهَا فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ أَنَّ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ قُرَيْشًا بَعَثُوا سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو أَحَدَ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَقَالُوا ائْتِ مُحَمَّدًا فَصَالِحْهُ وَلَا يَكُونُ فِي صُلْحِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ عَنَّا عَامَهُ هَذَا فَوَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّهُ دَخَلَهَا عَلَيْنَا عَنْوَةً أَبَدًا فَأَتَاهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِينَ بَعَثُوا هَذَا الرَّجُلَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَا وَأَطَالَا الْكَلَامَ وَتَرَاجَعَا حَتَّى جَرَى بَيْنَهُمَا الصُّلْحُ فَلَمَّا الْتَأَمَ الْأَمْرُ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكِتَابُ وَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ أَوَلَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الذِّلَّةَ فِي دِينِنَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا عُمَرُ الْزَمْ غَرْزَهُ حَيْثُ كَانَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ عُمَرُ وَأَنَا أَشْهَدُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ أَوَلَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الذِّلَّةَ فِي دِينِنَا فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ لَنْ أُخَالِفَ أَمْرَهُ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي ثُمَّ قَالَ عُمَرُ مَا زِلْتُ أَصُومُ وَأَتَصَدَّقُ وَأُصَلِّي وَأَعْتِقُ مِنَ الَّذِي صَنَعْتُ مَخَافَةَ كَلَامِي الَّذِي تَكَلَّمْتُ بِهِ يَوْمَئِذٍ حَتَّى رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ خَيْرًا قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَا أَعْرِفُ هَذَا وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَوْ شَهِدْتُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُقَاتِلْكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهَا النَّاسُ وَيَكُفُّ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ عَلَى أَنَّهُ مَنْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِهِ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ وَمَنْ أَتَى قُرَيْشًا مِمَّنْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرُدُّوهُ عَلَيْهِ وَإِنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً وَإِنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ وَكَانَ فِي شَرْطِهِمْ حِينَ كَتَبُوا الْكِتَابَ أَنَّهُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ دَخَلَ فِيهِ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ دَخَلَ فِيهِ فَتَوَاثَبَتْ خُزَاعَةُ فَقَالُوا نَحْنُ مَعَ عَقْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِهِ وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَكْرٍ فَقَالُوا نَحْنُ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ وَأَنَّكَ تَرْجِعُ عَنَّا عَامَنَا هَذَا فَلَا تَدْخُلْ عَلَيْنَا مَكَّةَ وَأَنَّهُ إِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ خَرَجْنَا عَنْكَ فَتَدْخُلُهَا بِأَصْحَابِكَ وَأَقَمْتَ فِيهِمْ ثَلَاثًا مَعَكَ سِلَاحُ الرَّاكِبِ لَا تَدْخُلْهَا بِغَيْرِ السُّيُوفِ فِي الْقُرُبِ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ إِذْ جَاءَهُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْحَدِيدِ قَدْ انْفَلَتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَدْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجُوا وَهُمْ لَا يَشُكُّونَ فِي الْفَتْحِ لِرُؤْيَا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَوْا مَا رَأَوْا مِنَ الصُّلْحِ وَالرُّجُوعِ وَمَا تَحَمَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفْسِهِ دَخَلَ النَّاسَ مِنْ ذَلِكَ أَمْرٌ عَظِيمٌ حَتَّى كَادُوا أَنْ يَهْلَكُوا فَلَمَّا رَأَى سُهَيْلٌ أَبَا جَنْدَلٍ قَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ وَجْهَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ لُجَّتِ الْقَضِيَّةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكَ هَذَا قَالَ صَدَقْتَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِتَلْبِيبِهِ قَالَ وَصَرَخَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ أَتَرُدُّونَنِي إِلَى أَهْلِ الشِّرْكِ فَيَفْتِنُونِي فِي دِينِي قَالَ فَزَادَ النَّاسَ شَرًّا إِلَى مَا بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا إِنَّا قَدْ عَقَدْنَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ صُلْحًا فَأَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَأَعْطَوْنَا عَلَيْهِ عَهْدًا وَإِنَّا لَنْ نَغْدِرَ بِهِمْ قَالَ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَعَ أَبِي جَنْدَلٍ فَجَعَلَ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَقُولُ اصْبِرْ أَبَا جَنْدَلٍ فَإِنَّمَا هُمُ الْمُشْرِكُونَ وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِهِمْ دَمُ كَلْبٍ قَالَ وَيُدْنِي قَائِمَ السَّيْفِ مِنْهُ قَالَ يَقُولُ رَجَوْتُ أَنْ يَأْخُذَ السَّيْفَ فَيَضْرِبَ بِهِ أَبَاهُ قَالَ فَضَنَّ الرَّجُلُ بِأَبِيهِ وَنَفَذَتِ الْقَضِيَّةُ فَلَمَّا فَرَغَا مِنَ الْكِتَابِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحَرَمِ وَهُوَ مُضْطَرِبٌ فِي الْحِلِّ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْحَرُوا وَاحْلِقُوا قَالَ فَمَا قَامَ أَحَدٌ قَالَ ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِهَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ حَتَّى عَادَ بِمِثْلِهَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ دَخَلَهُمْ مَا قَدْ رَأَيْتَ فَلَا تُكَلِّمَنَّ مِنْهُمْ إِنْسَانًا وَاعْمِدْ إِلَى هَدْيِكَ حَيْثُ كَانَ فَانْحَرْهُ وَاحْلِقْ فَلَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ فَعَلَ النَّاسُ ذَلِكَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُكَلِّمُ أَحَدًا حَتَّى أَتَى هَدْيَهُ فَنَحَرَهُ ثُمَّ جَلَسَ فَحَلَقَ فَقَامَ النَّاسُ يَنْحَرُونَ وَيَحْلِقُونَ قَالَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فِي وَسَطِ الطَّرِيقِ فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ (مسند أحمد: 19117)
۔(دوسری سند) سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اورمروان بن حکم سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذبح کرنے کے لیے اپنے ساتھ ستر اونٹ بھی لے گئے، آپ کے رفقاء کی تعداد سات سو تھی۔ ہر دس آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو بشر بن سفیان کعبی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا۔ اس نے بتلایا کہ اللہ کے رسول! قریش کو آپ کی روانگی کی اطلاع ہو چکی ہے، وہ نئے نئے بچوں والی شیر دار اونٹنیاں لئے، چیتوں کی کھالیں اوڑھے آپ کے مقابلے اور راستہ روکنے کے لیے نکلے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کے ساتھ عہد کر چکے ہیں کہ وہ ہمیں زبردستی مکہ میں بالکل داخل نہیں ہونے دیں گے اور خالد بن ولید اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ کراع غمیم کی طرف بڑھتا آ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قریش کی ہلاکت! لڑائیوں نے ان کا ستیاناس کر دیا ہے، اگر یہ لوگ میرے اور میرے ان صحابہ کے سامنے سے ہٹ جاتے اور (حرم میںجانے دیتے) تو ان کو کیا تکلیف تھی، اگر ان لوگوں نے اپنے ارادے کے مطابق مجھے تکلیف دی لی تو (ٹھیک ہے)، اور اگر اللہ تعالی نے مجھے ان پر غالب کر دیا اور یہ اسلام میں داخل ہو گئے، جبکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، (تو ٹھیک)، بصورتِ دیگر اگر انھوں نے ایسا نہ کیا، تو یہ لڑیں گے، جبکہ ان کے پاس قوت بھی ہے، لیکن اب قریشی لوگ کیا گمان رکھتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں اس نکتے کو سامنے رکھ کر ان سے لڑتا رہوں،یہاں تک کہ اللہ تعالی اس دین کو غالب کر دے گا، یا پھر میری گردن کا یہ پہلو الگ ہو جائے گا (یعنی میں فوت ہو جاؤں گا)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، پس حمض بوٹی سے ہوتے ہوئے اور اپنی دائیں طرف چلتے ہوئے ایسے راستے پر ہو لیے، جو مرار گھاٹی اور حدیبیہکی طرف جار رہا تھا، یہ مکہ سے نشیبی جگہ تھی،یہ لشکر اس راستے پر ہو لیا، جب قریشیوں کے گھڑ سوار لشکر نے اِس لشکر کا غبار اور اس کے راستہ تبدیل کر لینے کو دیکھا تو وہ قریش کی طرف واپس پلٹ گئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی روانہ ہو گئے اور جب مِرار گھاٹی میں چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئے، لوگوں نے کہا: اونٹنی ضد کر گئی، اڑی کر گئی، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے ضدکی ہے اور نہ یہ اس کی عادت ہے، دراصل اسے اس اللہ نے آگے جانے سے روکا ہے، جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ اللہ کی قسم! یہ کافر مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں، جس کے ذریعے وہ مجھ سے صلہ رحمی کا سوال کریں گے تو میں ان کا وہ مطالبہ پورا کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: اتر جاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس علاقے میں تو پانی ہی نہیں ہے کہ اس کے پاس لشکر پڑاؤ ڈال سکے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کو دیا، اس نے وہ تیر کنویں میں گاڑھا اور بہت زیادہ پانی ابلنے لگا، (لوگوں نے پیا) یہاں تک کہ انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کر لیا، ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مطمئن ہوئے ہی تھے کہ بنو خزاعہ کے چند افراد سمیت بدیل بن ورقا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے وہی بات کہی، جو بشیر بن سفیان کو کہی تھی، سو وہ قریشیوں کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے قریش کی جماعت! تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جلدی کر رہے ہو، جبکہ وہ قتال کے لیے نہیں آئے، وہ تو صرف اس گھر کی زیارت اور اس کے حق کی تعظیم کے لیے آئے ہیں، لیکن قریشیوں نے اِن کی بات کی تصدیق نہیں کی، دراصل بنو خزاعہ کے مسلمان اور مشرک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دان تھے، مکہ میں جو کچھ ہوتا، یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مخفی نہیں رکھتے تھے۔ پس قریشیوں نے کہا: اگرچہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مقصد کے لیے آئے ہوں گے، لیکن نہیں، بخدا! یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ہم پر زبردستی گھس آئیں اور عرب لوگ مختلف باتیں کرنے لگیں۔ پھر انھوں نے بنو عامر بن لؤی کے ایک آدمی مکرز بن حفص بن اخیف کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو (اپنے صحابہ کو متنبہ کرتے ہوئے) فرمایا: یہ دھوکے باز آدمی ہے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وہی گفتگو جو اس سے پہلے اس کے ساتھیوں سے کی تھی،یہ بھی قریش کی طرف لوٹ گیا اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیانات کی خبر دی، قریش نے اب کی بار حلس بن علقمہ کنانی کو بھیجا،یہ آدمی مختلف قبائل کی جماعتوں کا سردار تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: یہ آدمی ان لوگوں میں ہے، جو اللہ تعالی کے حق اور حرمت کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، ہدی کے جانوروں کو اس کے سامنے لاؤ۔ صحابہ نے ایسے ہی کیا اور ہدیاں اس کے سامنے لے آئے، اب ہوا یوں کہ جب اس آدمینے وادی کے عرض میں ہدیاں اور ان کے گردنوں میں قلادے دیکھے اور دیکھا کہ زیادہ دیر ان کو ٹھہرانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، تو یہ آدمییہ منظر دیکھنے کے بعد ان چیزوں کی تعظیم کی وجہ سے واپس لوٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا ہی نہیں، اس نے واپس آ کر کہا: اے قریش کی جماعت! میں ایسی چیزیں دیکھ آیا ہوں، جن کو روکنا حلال نہیں ہے، ہدی کے جانور ہیں، ان کے گردنوں میں قلادے ہیں اور زیادہ دیر ٹھہرائے جانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، قریش نے جواباً کہا: تو بیٹھ جا، تو تو بدّو ہے اور تجھے کوئی علم نہیں ہے، اب کی بار انھوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو بھیجا، اس نے کہا: قریش کی جماعت! تم لوگ جن افراد کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیج رہے ہو اور ان کے تبصروں کی وجہ سے تمہیں جو سرزنش اور برے الفاظ سننے پڑ رہے ہیں، میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں، تم جانتے ہو کہ تم والد کے اور میں تمہارا بیٹا ہونے کے قائم مقام ہوں (لہذا میں تمہارا پاس و لحاظ رکھوں گا)، جس معاملے کا تمہیں سامنا کرنا پڑا، میں وہ باتیں بھی سن چکا ہوں۔ پھر میں نے اپنی قوم میں سے ان لوگوں کو جمع کیا، جنہوں نے میری بات مان لی، پھر میں آیا اور میں نے اپنی جان کے ساتھ تمہارا تعاون کیا، قریشیوں نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو اور تم ہمارے نزدیک قابل اعتماد آدمی ہو، پس یہ آدمی نکل پڑا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا: اے محمد! آپ نے جنگوں میں ثابت قدم نہ رہنے والے مختلف لوگوں کو جمع کر لیا اور پھر ان کو لے کر یہاں آ گئے، تاکہ ان کی اصل کو ہی ختم کر دیں،یہ قریش نکل پڑے ہیں، ان کے ساتھ حاملہ اور دودھ والی اونٹنیاں موجود ہیں (مراد کہ یہ ان کا کھانا پینا ہے)، انھوں نے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں اور انھوں نے اللہ تعالی سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ آپ کبھی بھی ان پر زبردستی نہ گھس سکیں گے، اور اللہ کی قسم ہے، مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ یہ لوگ کل (جب میدان سجے گا) تو تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے، انھوں نے اِس کییہ بات سن کر کہا: تو لات کے ختنے میں کٹ جانے چمڑے کے ٹکڑے کو چوسے، کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ جائیں گے؟ اس نے کہا: اے محمد! یہ آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابن ابی قحافہ ہیں۔ عروہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تیرا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں تجھ سے اس بات کا بدلہ لیتا، چلو یہ بات اس احسان کے بدلے ہو گئے، پھر عروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک پکڑی، جبکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اسلحہ سے لیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کے پاس کھڑے تھے، انھوں نے عروہ کے ہاتھ پر ضرب لگائی اور کہا: اپنے ہاتھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک سے دور رکھ، اللہ کی قسم! وگرنہ تیرا ہاتھ تجھ تک نہ پہنچ پائے گا (یعنی میں اس کو کاٹ دوں گا)، عروہ نے آگے سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، تو تو کس قدر سخت گیر آدمی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیئے، اس نے کہا: اے محمد! یہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ عروہ نے کہا: او دھوکے باز! تو نے تو کل اپنی شرمگاہ کو دھویا ہے (یعنی ماضی قریب میں ہی مال خرچ کر کے اپنی خیانت کے ضرر کودور کیا ہے)، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس آدمی سے اسی طرح کی گفتگو فرمائی، جیسے اس سے قبل اس کے ساتھیوں سے کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لڑائی کے ارادے سے نہیںآئے۔ پس یہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے چلا گیا اور اس نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کرتے ہیں تو یہ لوگ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی کی طرف) لپک پڑتے ہیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوکتے ہیں تو یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تھوک کی طرف لپک پڑتے ہیں اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بال گرتا ہے تو یہ اس کو اٹھا لیتے ہیں، پس عروہ قریش کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے قریش کی جماعت! میں کسریٰ کے ہاں اس کی مملکت میں اور قیصرونجاشی کے ہاں بھی ان کے ملکوں میں گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے کبھی کسی بادشاہ کا اتنا احترام نہیں دیکھا جتنا احترام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کے اصحاب میں ہے، میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ اسے کسی ناگوار حالت کے سپرد نہ کریں گے، اب تم غور کر لو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبل ازیں خراش بن امیہ خزاعی کو مکہ کی طرف بھیج چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ثعلب نامی ایک اونٹ پر سوار کرایا تھا، وہ جب مکہ میں پہنچا تو قریش نے اس کے اونٹ کی کونچیں کاٹ دی تھیں اسے بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن کچھ لوگوں نے انہیں ان کو قتل کرنے سے روک دیا، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدمت میں واپس آگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی طرف بطور سفیر بھیجنے کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے قریش کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے اور وہاں بنو عدی کا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو مجھے تحفظ دے سکے اور مجھے قریش سے جس قدر عداوت ہے، وہ سب اس سے بخوبی واقف ہیں، البتہ میں آپ کو ایک ایسے آدمی کے متعلق بتلاتا ہوں جو اہلِ مکہ کے ہاں مجھ سے زیادہ معزز اور محترم ہے اور وہ ہیں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلوا کر قریش کی طرف اپنا سفیر بنا کر بھیجا تاکہ ان کو بتلائیں کہ ہم لوگ لڑائی کے لیے نہیں، محض بیت اللہ کی حرمت کی تعظیم کرنے کی خاطر صرف زیارت و طواف کے لیےآئے ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ روانہ ہو کر مکہ مکرمہ آئے۔ ان کی ابان بن سعید بن العاص سے ملاقات ہو گئی، وہ اپنی سواری سے نیچے اترا اور آپ کو اپنے آگے بٹھا کر خود پیچھے بیٹھا اور اس نے عثمان رضی اللہ عنہ کو پناہ دی تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچا دیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ابو سفیان اور دیگر عظائے قریش کے پاس گئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جو پیغام دے کر بھیجا تھا، وہ پیغام ان تک پہنچایا۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ بیت اللہ کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیں، وہ بولے جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف نہ کریں میں نہیں کر سکتا۔ ان کو قریش نے اپنے ہاں روک لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں تک یہ افواہ پہنچی کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ قریش نے سہیل بن عمرو کو جو بنو عامر بن لؤی میں سے تھے کو بھیجا اور کہا کہ تم جا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی بات کرو۔ اس میںیہ شق ضرور ہو کہ وہ امسال بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں، تاکہ عرب کبھی یہ نہ کہہ سکیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زبردستی ہمارے ہاں آگئے، پھر سہیل آیا، اس سے آگے سارا وہی بیان ہے جو قبل ازیں پہلی سند سے حدیث میں بیان ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ صلح ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان سے فرمایا لکھو۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم تو سہیل بن عمر ونے کہا میں تو اس کلام کو نہیں سمجھتا۔ اس کی بجائے آپ لکھیں: بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ ہی لکھ دو،یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سہیل بن عمرو کے ساتھ کر رہے ہیں، سہیل بن عمرو پھر بولا کہ اگر میںیہ گواہی دیتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے کبھی بھی قتال نہ کرتا۔ آپ یوں لکھیں کہ یہ وہ معاہدہ جس کے تحت محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو عہد کرتے ہیں کہ دس سال تک آپس میں کوئی لڑائی نہ کریں گے۔ اس عرصہ میں لوگ اطمینان اور امن سے رہیں گے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز رہیں گے۔ نیزیہ کہ (مکہ سے) کوئی مسلمان اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو وہ اسے اہل مکہ کی طرف واپس بھیجیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے اگر کوئی قریش کے پاس آیا تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے، اس دوران ہمارے دل ایک دوسرے کی طرف سے صاف رہیں گے، خفیہ چوریاں نہ کریں گے اور نہ دلوں میں بغض رکھیں گے، معاہدہ صلح میںیہ شرط بھی تھی کہ دیگر قبائل میں سے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا، اسی طرح جو قریش کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا۔ خزاعہ قبیلہ نے جلدی سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقدوعہد میں آتے ہیں اور بنو بکر قبیلہ نے کہا کہ ہم قریش کے عقدوعہد میں آتے ہیں۔ نیزیہ کہ آپ اس سال عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں اور مکہ میں نہ آئیں، جب آئندہ سال ہو گا ہم آپ کو نہیں روکیں گے۔ آپ اپنے اصحاب کی معیت میں مکہ میں آسکیں گے اور تین دن قیام کریں گے۔ آپ کے ہمراہ محض اس قدر ہتھیار ہوں گے، جس قدر کسی سوار کے پاس دورانِ سفر ہوتے ہیں، آپ کی تلواریں میانوں میں رہیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھییہ تحریر لکھوا رہے تھے کہ ابو جندل رضی اللہ عنہ بن سہیل بن عمر بیڑیوں میں مقید کسی طرح بچ بچا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب کی بنیاد پر انہیں فتح کا کامل یقین تھا، لیکن جب انہوں نے یہ صورت حال دیکھی کہ آپ کفار کے ساتھ صلح کر رہے ہیں اور عمرہ کئے بغیر واپسی کے لیے آمادہ ہوئے ہیں۔ اور آپ نے بظاہر اپنے خلاف شرائط کو قبول کر لیا ہے تو صحابہ کو شدید دھچکا لگا، قریب تھا کہ کچھ لوگ ہلاک ہو جاتے۔ سہیل نے ابو جندل کو دیکھا تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے چہرے پر تھپڑ مارا اور کہا: اے محمد! آپ کے اور میرے درمیان صلح کا معاہدہ اس کے آنے سے پہلے طے پا چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ٹھیک ہے۔ تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے کپڑوں کو پکڑ کر سختی سے جھنجوڑا۔ ابو جندل رضی اللہ عنہ بلند آواز سے چیخے: ارے مسلمانو! کیا تم مجھے مشرکین کی طرف واپس کر دو گے تاکہ وہ دین کی وجہ سے مجھے مزید سزائیں دیں؟ لوگوں کے دلوں میں جو برے خیالات آچکے تھے، یہ دیکھ کر ان کے خیالات مزید منتشر ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جندل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: صبر کرو اور اللہ سے ثواب وجزا کی امید رکھو،تم اور تمہارے علاوہ جس قدر کمزور لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ تم سب کی رہائی کی کوئی راہ نکال دے گا، ہم ان لوگوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر چکے ہیں، اس بارے میں ہم ان کو اور وہ ہمیں عہد دے چکے ہیں، ہم وعدہ خلافی ہرگز نہیں کریں گے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ کی طرف لپک کر گئے اور اس کے پہلو بہ پہلو چلنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ابو جندل! صبر کرو، یہ لوگ مشرک ہیں، ان کا خون کتوں کا سا ہے۔ ساتھ ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی تلوار کا دستہ ابو جندل رضی اللہ عنہ کے قریب کرتے گئے، مجھے لگتا تھا کہ وہ تلوار ابو جندل رضی اللہ عنہ کے باپ کو مار دیں گے، اس نے اپنے باپ کو بچا لیا اور یہ قضیہ مکمل ہو گیا، اس کے بعد راوی نے ساری تفصیل ذکر کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو اونٹ نحر کرنے اور بال منڈوانے کا حکم دیا، انہوں نے تعمیل میں توقف کیا،یہاں تک کہ پہلے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ کو نحر کیا اور سر منڈوایا جیسا کہ پہلی سند سے مفصل بیان ہو چکا ہے، اس کے بعد لوگ اُٹھ کر اپنے اپنے اونٹوں کو نحر کرنے لگے اور بال منڈانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ اور مدینہ کے درمیان ابھی راستہ ہی میں تھے کہ سورۂ فتح نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10790]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19117»
وضاحت: فوائد: … حدیبیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریشیوں کے درمیان جو صلح نامہ طے ہوا، صحابہ کی ایک بڑی جماعت اس کو ناپسند کر رہی تھی، جس میں قابل ذکر ہستی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں اپنے جانور ذبح کیے اور سر منڈوائے، واپس چل پڑے،لوٹتے ہوئے راستے میں سورۂ فتح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی، جس میں اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس صلح کو بااعتبار نتیجہ کھلم کھلا فتح قرار دیا، اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ ادا کیا اور ۸ سن ہجری میںمکہ مکرمہ کو فتح کر لیا اور مکہ مکرمہ سے مشرکین کا سلسلہ ختم کر دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10791
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا جِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ عَبِيدِنَا قَدْ أَتَوْكَ لَيْسَ بِهِمْ رَغْبَةٌ فِي الدِّينِ وَلَا رَغْبَةٌ فِي الْفِقْهِ إِنَّمَا فَرُّوا مِنْ ضِيَاعِنَا وَأَمْوَالِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ جِيرَانُكَ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ لَجِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے کہا: اے محمد! ہم آپ کے ہمسائے اور حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام جنہیں نہ تو دین کا کچھ شوق ہے اور فقہ کی کچھ رغبت، وہ آپ کے پاس آگئے ہیں،یہ لوگ محض ہمارے اہل اور اموال میں سے فرار ہو کر آئے ہیں، آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ان کی بات تو درست ہے، یہ واقعی آپ کے ہمسائے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے بھی کہا: ان کی بات تو درست ہے، یہ لوگ آپ کے ہمسائے اور حلیف بھی ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10791]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك النخعي سييء الحفظ، أخرجه بنحوه مطولا الترمذي: 3715، وأخرجه بنحوه ابوداود: 2700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1336»
الحكم على الحديث: ضعیف
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَصْ كِتَابِ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ وَشُرُوطِهِ
معاہدہ صلح حدیبیہ کی عبارت اور اس کی دفعات کا بیان
حدیث نمبر: 10792
عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا لَا نُقِرُّ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لِعَلِيٍّ امْحُ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ أَنْ يَكْتُبَ فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا يُدْخِلَ مَكَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَلَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدٌ إِلَّا مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَّبِعَهُ وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالقعدہ کے مہینے میں عمرہ کا قصد کیا، لیکن اہلِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان سے یہ معاہدہ ہوا کہ آپ آئندہ سال مکہ میں تین دن قیام کر سکیں گے، جب معاہدہ کی عبارت لکھنے لگے تو انہوں نے لکھا: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے اتفاق کیا ہے، قریش کہنے لگے: ہم تو اس کا اقرار ہی نہیں کرتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تو ہم آپ کو کسی بھی بات سے نہ روکتے، آپ تو محمد بن عبداللہ ہیں (یہی لکھو)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: رسول اللہ کا لفظ کو مٹا دو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی یہ نہیں مٹاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کاغذ لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھی طرح لکھ نہیں سکتے تھے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس لفظ کو مٹا دو۔ انہوں نے عرض کیا: میں تو ان الفاظ کو مٹا نہیں سکتا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس لفظ کو مٹا دیا۔ اس کے بعد سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لفظ کی جگہ یوں لکھا: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے، وہ مکہ میں اسلحہ لے کر داخل نہ ہوں گے، ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ بھی نیام کے اندر ہوں گی اور وہ اہل مکہ میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں لے جا سکیں گے، مگر وہ جو اس کی پیروی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو1 اور اگر ان کے ساتھیوں میں سے کوئی مستقل طور پرمکہ مکرمہ میں رہنا چاہے تو یہ اسے نہیں روکیں گے، اگلے سال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ آئے اور مقرر وقت گزر گیا تو قریشی لوگ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے رسول سے کہیں کہ مقرر وقت گزر گیا ہے، اب یہاں سے نکل لے جائیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10792]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1844، 2699، ومسلم: 1783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18838»
الحكم على الحديث: صحیح