الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ الرَّضْوَانِ
بیعتِ رضوان کا بیان
حدیث نمبر: 10803
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ الْعَامَ مَعَهُمْ فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ
۔(دوسری سند) طارق بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ سعید بن مسیب کے سامنے بیعت والے درخت کا ذکر کیا گیا،انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ اس سال (یعنی حدیبیہ والے سال) وہ بھی صحابہ کے ساتھ تھے، لیکن جب وہ صحابہ کے ساتھ اگلے سال گئے تو وہ اس درخت کو بھول چکے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10803]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24076»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10804
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: تم آج روئے زمین کے تمام لوگوں سے افضل ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10804]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4154، 4840، ومسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14364»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10805
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10805]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14837»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10806
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ فَضَرَبَ بِهَا يَدَهُ عَلَى يَدِهِ وَقَالَ هَذِهِ لِعُثْمَانَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا تھا، ان کے جانے کے بعد بیعتِ رضوان ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بیعت کے دوران اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: یہ عثمان کی طرف سے ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10806]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3698، 3130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5772»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10807
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا قَالَ جَابِرٌ فَخَرَجْتُ فِي فِئَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ وَبَيْنَهُمَا قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِيلًا فَسَقَيْنَا فِي أَسْقِيَتِنَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ فَقَالَ أَوْرِدْ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَوْرَدَ ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَأَنَخْتُهَا فَقَامَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ فِيمَا ذَكَرَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ سے واپس ہوئے تو ہم نے سقیا کے مقام پر نزول کیا۔(وہاں پانی کی قلت تھی) سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہے جو ہمیں پانی پلائے گا؟ پس میں چند انصاری نوجوانوں کو لے کر روانہ ہوا، یہاں تک کہ ہم مقامِ اثایہ کے پانی پر پہنچے، جو وہاں سے تقریباً تئیس(۲۳) میل دور تھا اور ہم اپنے مشکیزے بھر لائے، رات کا اندھیرا چھا چکا تھا، ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی کو اس کا اونٹ پانی کے حوض کی طرف کھینچ رہا تھا، اس نے بھی کہاکہ پی لے۔ ہم نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، چنانچہ اس اونٹ نے پانی پیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر اسے بٹھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر عشاء کی نماز ادا کی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت (رات کا قیام) کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10807]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه بنحوه مسلم: 3010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15130»
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْاكْوَعِ وَهُوَ يَتَضَمَّنُ تَلْخِيْصَ الْبَابَينِ اللَّذِيْنِ قَبْلَهُ
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا واقعہ یہ دراصل گزشتہ دو ابواب کی تلخیص پر مشتمل ہے
حدیث نمبر: 10808
عَنْ إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبَاهَا فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِالْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ وَبَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ يَا سَلَمَةُ بَايِعْنِي قَالَ قَدْ بَايَعْتُكَ فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايِعْ وَرَآنِي أَعْزَلًا فَأَعْطَانِي حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ أَلَا تُبَايِعُنِي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَايَعْتُ أَوَّلَ النَّاسِ وَأَوْسَطَهُمْ وَآخِرَهُمْ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايِعْ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ دَرَقَتُكَ أَوْ حَجَفَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِينِي عَمِّي عَامِرٌ أَعْزَلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ فَقَالَ إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ اللَّهُمَّ ابْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَضَحِكَ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ قَالَ وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَحُسُّ فَرَسَهُ وَأَسْقِيهِ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ الشَّجَرَةَ فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا وَاضْطَجَعْتُ فِي ظِلِّهَا فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا وَهُمْ مُشْرِكُونَ يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلْتُ عَنْهُمْ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا آلَ الْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَشَدَدْتُ عَلَى الْأَرْبَعَةِ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي أَكْرَمَ مُحَمَّدًا لَا يَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي يَعْنِي فِيهِ عَيْنَاهُ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِابْنِ مِكْرَزٍ يَقُودُ بِهِ فَرَسَهُ يَقُودُ سَبْعِينَ حَتَّى وَقَفْنَاهُمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ دَعُوهُمْ يَكُونُ لَهُمْ بُدُوُّ الْفُجُورِ وَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُنْزِلَتْ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ [الفتح: 24] ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا يُقَالُ لَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقِيَ الْجَبَلَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ كَانَ طَلِيعَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ غُلَامِهِ رَبَاحٍ وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيهُ
ایاس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میرے والد سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حدیبیہ کے مقام پر پہنچے، ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے، وہاں پچاس بکریاں تھیں اور وہاں کا پانی ان کے لیے بھی نا کافی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یا تو دعا کییا اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالا، پس کنواں تو جوش مارنے لگا۔ ہم نے پانی خود پیا اور جانوروں کو بھی پلایا، بعدازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کے نیچے سب لوگوں کو بیعت کے لیے پکارا، سب سے پہلے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے بیعت لیتے رہے، یہاں تک کہ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم بیعت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو سب سے پہلے بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ بیعت کرو۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بغیر اسلحہ کے یعنی خالی ہاتھ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ڈھال عطا فرمائی اور پھر لوگوں سے بیعت لیتے رہے۔ یہاں تک کہ جب آخری لوگ بیعت کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابن اکوع! کیا تم میری بیعت نہیں کر و گے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو سب سے پہلے بھی اور لوگوں کے وسط میں بھی بیعت کر چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بیعت کرو۔ چنانچہ میں نے سہ بارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جو ڈھال دی ہے، وہ کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرا چچا عامر بغیر اسلحہ کے یعنی خالی ہاتھ ملے تو میں نے وہ ڈھال ان کو دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو اس آدمی کی مانند ہو، جس نے کہا تھا یا اللہ مجھے ایسے دوست مہیا کر جو مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما کر مسکرا دئیے، اس کے بعد مشرکین ہمارے ساتھ صلح کی کوششیں کرتے رہے، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض ایک دوسرے کی طرف بھی گئے۔ میں اس وقت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا خدمت گزار تھا، میں ان کے گھوڑے کو سہلاتا، اسے پانی پلاتا اور میں ان کے کھانے میں سے کھانا کھاتا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے اپنے اہل وعیال اور اموال کو چھوڑ کر ان سے لا تعلق ہو چکا تھا۔ جب ہماری اہل مکہ سے صلح ہوئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے، ایک درخت کے نیچے جا کر میں نے اس کے کانٹے صاف کئے اور اس کے سائے میں لیٹ گیا،مکہ کے باشندوں میں سے چار مشرک میرے پاس آگئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنے لگے،میں ان کو چھوڑ کر ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا، انہوں نے اپنے ہتھیار درخت کے ساتھ لٹکائے اور لیٹ گئے، وہ ابھی اسی حال میں تھے کہ وادی کے پست حصے کی جانب سے ایک پکارنے والے نے پکارا: اے مہاجرین! ابن زُنیم رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ میں اپنی تلوار سونت کر ان چاروں کی طرف دوڑا، میں نے ان کے ہتھیار اپنے قبضہ میں لے لئے اور میں نے ان سے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت سے نوازا ہے! اگر تم میں سے کسی نے اپنا سر اوپر کو اُٹھایا تو میں اسے قتل کر دوں گا، میں ان کو ہانک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور میرے چچا عامر نے ابن مکرز کو گرفتار کر لیا، وہ اسے اپنے گھوڑے پر کر رہا تھا، ان کے ساتھ مزید ستر مشرکین تھے، یہاں تک کہ ہم سب آکر رک گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا: ان کو چھوڑ دو، گناہ کا آغاز انہی کے ذمہ ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے در گزر فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی: {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ} … اور وہ ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کوتم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا۔ (سورۂ فتح: ۲۴) اس کے بعد ہم مدینہ منورہ کی طرف واپس چل دئیے، ہم واپسی پر لحی جمل نامی ایک مقام پر ٹھہرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اس آدمی کے حق میں مغفرت کی دعا کی جو اس رات پہاڑ پر چڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کا پہرہ دے، پس میں اس رات دو یا تین مرتبہ پہاڑ پر چڑھا، پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا اونٹ دوسرے اونٹوں میں پہنچانے کے لیے اپنے غلام رباح رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجا، میں بھی سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار اسے دوڑاتا ہوا، رباح کے ہمراہ تھا، صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ عبدالرحمن بن عیینہ فرازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر ان سب کو لے گیا اور اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10808]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16633»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے تین بار بیعت لی،یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اشارہ تھا کہ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ تین ایسے مواقع پر حاضر ہوں گے کہ ان کو ان میں اچھی خاصی تگ و دو کرنا پڑے گی، پھر ایسے ہی ہوا اور وہ تین مواقع صلح حدیبیہ، غزوۂ ذی قرد اور غزوۂ خیبر میں پیش آئے۔
آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۵۶)۔
آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۵۶)۔
الحكم على الحديث: صحیح