الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَصْ كِتَابِ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ وَشُرُوطِهِ
معاہدہ صلح حدیبیہ کی عبارت اور اس کی دفعات کا بیان
حدیث نمبر: 10793
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ وَادَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثٍ مَنْ أَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَرُدُّوهُ وَمَنْ أَتَى إِلَيْنَا مِنْهُمْ رَدُّوهُ إِلَيْهِمْ وَعَلَى أَنْ يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُهُ فَيَدْخُلُونَ مَكَّةَ مُعْتَمِرِينَ فَلَا يُقِيمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا وَلَا يُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ
۔(دوسری سند) سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن مشرکین کے ساتھ تین باتوں کا معاہدہ کیا، ایکیہ کہ اگر کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر قریش کے ساتھ آ ملا تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے، لیکن اگر مکہ والوں میں سے کوئی مسلمانوں کے پاس آیا تو وہ اسے واپس کریں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب آئندہ سال مکہ میں عمرہ کے ارادے سے آئیں گے اور صرف تین دن قیام کریں گے اور وہ ہتھیاروں کی نمائش نہیں کریں گے، ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ بھی نیاموں کے اندر اور صرف کمان وغیرہ ہو گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10793]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18887»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18887
حدیث نمبر: 10794
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَكْتُبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، ان کے وفد میں سہیل بن عمرو بھی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِلکھو۔ سہیل نے کہا: ہم تو نہیں جانتے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِکیا ہے؟ آپ وہی کلمہ لکھیں جسے ہم جانتے ہیں، بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ لکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو یہ معاہدہ محمد رسول اللہ کی طرف سے ہے۔! اس جگہ یہ بات ہے جبکہ عام روایات میں یہ ہے کہ مکہ والوں میں اگر کوئی مسلمان ہو جائے تو وہ آپ کے ساتھ نہیں جا سکے گا۔
اس پر پھر سہیل بولا کہ اگر ہم یہ مانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی اقتدا کر لیتے، آپ اس طرح کریں کہ اپنا اور اپنے والد کا نام لکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو یہ معاہدہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شرط طے کی کہ اگر آپ لوگوں میں سے کوئی (ہمارے پاس) آیا تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے، لیکن ہمارا جو آدمی آپ کے پاس آیا، آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے۔ یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جو آدمی ہمیں چھوڑ کر ان کی طرف جائے، اللہ تعالیٰ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10794]
اس پر پھر سہیل بولا کہ اگر ہم یہ مانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی اقتدا کر لیتے، آپ اس طرح کریں کہ اپنا اور اپنے والد کا نام لکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو یہ معاہدہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شرط طے کی کہ اگر آپ لوگوں میں سے کوئی (ہمارے پاس) آیا تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے، لیکن ہمارا جو آدمی آپ کے پاس آیا، آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے۔ یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جو آدمی ہمیں چھوڑ کر ان کی طرف جائے، اللہ تعالیٰ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10794]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13863»
وضاحت: فوائد: … بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِکے بجائیبِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ اور محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھنا، وغیرہ وغیرہ، ان سب کو تسلیم کرنے میں مصلحت تھی، جبکہ شریعت کی کسی شق کی مخالفت بھی نہیں ہو رہی تھی اور واقعی حدیبیہ کی صلح بلحاظ انجام مسلمانوں کے حق میں کھلم کھلا فتح کا پیغام تھا۔
حدیبیہ کے مقام پر طرفین کے درمیان طویل گفتگو کے بعد درج ذیل شرطیں طے پائیں:
۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر اپنے صحابہ سمیت واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال عمرہ کے لیے مکہ آئیں گے، صرف تین دن قیام کریں گے، ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہو گا، صرف میان کے اندر تلواریں ہوں گی۔
۲۔ فریقین میں دس سال کے لیے جنگ بندی رہے گی۔
۳۔ جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں داخل ہونا چاہے، داخل ہو سکتا ہے اور جو قریش کے عہد میں داخل ہونا چاہے، وہ بھی داخل ہو سکتا ہے۔
۴۔ قریش کا جو آدمی مسلمانوں کی پناہ میں چلا جائے گا، مسلمان اسے قریش کے حوالے کر دیں گے، لیکن مسلمانوں کا جو آدمی قریش کی پناہ میں آئے گا، قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔
حدیبیہ کے مقام پر طرفین کے درمیان طویل گفتگو کے بعد درج ذیل شرطیں طے پائیں:
۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر اپنے صحابہ سمیت واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال عمرہ کے لیے مکہ آئیں گے، صرف تین دن قیام کریں گے، ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہو گا، صرف میان کے اندر تلواریں ہوں گی۔
۲۔ فریقین میں دس سال کے لیے جنگ بندی رہے گی۔
۳۔ جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں داخل ہونا چاہے، داخل ہو سکتا ہے اور جو قریش کے عہد میں داخل ہونا چاہے، وہ بھی داخل ہو سکتا ہے۔
۴۔ قریش کا جو آدمی مسلمانوں کی پناہ میں چلا جائے گا، مسلمان اسے قریش کے حوالے کر دیں گے، لیکن مسلمانوں کا جو آدمی قریش کی پناہ میں آئے گا، قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1784
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ الرَّضْوَانِ
بیعتِ رضوان کا بیان
حدیث نمبر: 10795
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُوَ رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَبَايَعُوهُ عَلَى أَنْ لَا يَفِرُّوا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں سے بیعت لے رہے تھے تو یہ اپنے ہاتھوں سے درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک سے اوپر کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ وہ میدان سے فرار نہیں ہوں گے، اس روز صحابہ کی تعداد ایک ہزار چارسو تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10795]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20559»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1858
حدیث نمبر: 10796
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، کیکریا ببول کے درخت کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم میدان سے فرار نہ ہوں گے، ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10796]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14883»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام نے موت پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، جیسا کہ آگے روایات آ رہی ہیں، اسی طرح بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت، اسلام اور جہاد پر بھی بیعت کی گئی اور ایک حدیث میں ہے کہ صحابۂ کرام نے خلیفہ کی بات سننے، اس کی اطاعت کرنے اور حکومت و امارت کے اہل لوگوں سے حکومت نہ چھیننے پر بیع کی، ایک روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام نے صبر پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔
ان تمام روایات میں معنی و مفہوم کے اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے، سب روایات کا مدّعا یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حقیقت پر بیعت کر رہے ہیں کہ وہ صبر کریں گے اور دشمن سے مرعوب ہو کر بھاگیں گے نہیں، بلکہ دشمن کے مقابلے میںڈٹے رہیں گے، یہاں تک کہ یا تو شہیدہو جائیں گے اور یہ پھر کامیاب ہو کر لوٹیں گے۔
ان تمام روایات میں معنی و مفہوم کے اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے، سب روایات کا مدّعا یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حقیقت پر بیعت کر رہے ہیں کہ وہ صبر کریں گے اور دشمن سے مرعوب ہو کر بھاگیں گے نہیں، بلکہ دشمن کے مقابلے میںڈٹے رہیں گے، یہاں تک کہ یا تو شہیدہو جائیں گے اور یہ پھر کامیاب ہو کر لوٹیں گے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1856
حدیث نمبر: 10797
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ الْعَبَّاسُ آخِذًا بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوَاثِقُنَا فَلَمَّا فَرَغْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ قَالَ فَسَأَلْتُ جَابِرًا يَوْمَئِذٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ قُلْتُ لَهُ أَفَرَأَيْتَ يَوْمَ الشَّجَرَةِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى بَايَعْنَاهُ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا أَرْبَعَ عَشَرَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ كُلُّنَا إِلَّا الْجَدَّ بْنَ قَيْسٍ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرٍ وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ مِنَ الْبُدْنِ لِكُلِّ سَبْعَةٍ جَزُورٌ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیعت لے رہے تھے، جب ہم بیعت سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں سے بیعت لے چکا اور اللہ کا دین اور اس کے وعدے تمہیں دے چکا۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قسم کی بیعت کی تھی؟ کیا موت کی بیعت تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم نے آپ سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔ میں نے کہا: درخت والے دن کے متعلق بھی بتلائیں،انہوں نے کہا:اس د ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، میں نے دریافت کیا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: ہم چودہ سو تھے، جد بن قیس کے سوا باقی سب لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، وہ اونٹ کے پیٹ کے پیچھے چھپ گیا تھا، اس دن ہم نے ستر اونٹ نحر کئے تھے، ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10797]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا مسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15332»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 10798
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ لَا وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ الشَّجَرَةِ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي لِلْحُدَيْبِيَةِ وَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا دَعَا عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ
ابو زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سنا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا تھا کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر بیعت لی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے قریب بیعت ضرور لی تھی۔ ابو زبیر نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے کنوئیں پر دعا کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10798]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14539»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1856
حدیث نمبر: 10799
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَكَانَ أَحَدَ الرَّهْطِ الَّذِينَ نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [التوبة: 92] قَالَ إِنِّي لَآخِذٌ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ أُظِلُّ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُبَايِعُونَهُ فَقَالُوا نُبَايِعُكَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَا تَفِرُّوا
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، یہ صحابی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: {وَلَا عَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ} … اور نہ ان لوگوں پر کہ جب وہ آپ کے پاس آئے، تاکہ آپ ان کو سوار کریں۔ (سورۂ توبہ: ۹۲)، یہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ (حدیبیہ کے دن) صحابہ کرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر رہے تھے اور میں درخت کی ایک شاخ پکڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے تھا، صحابہ نے کہا: ہم موت پر آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس بات کی بیعت کرو کہ میدان سے فرار اختیار نہیں کرو گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10799]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جعفر الرازي سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20820»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10800
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَيْضًا قُلْتُ عَلَامَ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے (حدیبیہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن اکوع! کیا تم بیعت نہیں کرو گے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کی بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کرو۔“ میں نے عرض کی: جی میں کس چیز پر بیعت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”موت پر۔“ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10800]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4169، 7208، ومسلم: 1860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16623»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4169
حدیث نمبر: 10801
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ بَايَعْنَا عَلَى الْمَوْتِ
۔(دوسری سند) یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا:آپ لوگوں نے حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10801]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16648»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16648
حدیث نمبر: 10802
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ فَقَالَ انْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَعُمِّيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا فَإِنْ كَانَتْ بَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ
سعید بن مسیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، ان کے باپ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت ِ رضوان کی تھی۔ انہوں نے کہا: جب ہم اگلے سال حج کے ارادے سے گئے تو اس درخت کی جگہ پہنچاننا ہمارے لیے مشکل ہو گیا۔(یعنییہ معلوم کرنا مشکل ہو گیا کہ ہم نے کس جگہ اور کس درخت کے نیچے بیعت کی تھی؟) اگر وہ جگہ تمہارے لیے واضح ہو گئی تو تم ہی پھر اس کے بارے میں بہتر جانتے ہو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی کا بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں تو اگلے سال بھی اس درخت اور اس کی جگہ کا یقینی علم نہ ہو سکا۔ اگر کسی بعد والے شخص کو اس کا علم ہوا ہے تو پھر اس کا علم تو ہم سے زیادہ ہوا نا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا یقینی علم کسی کو نہیں۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السادسة للهجرة/حدیث: 10802]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4164، ومسلم: 1859، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24075»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات کے زمان و مکاں کو یاد نہیں رکھا گیا اور نہ یہ ان ہستیوں کا مقصود تھا۔ غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، صلح حدیبیہ، بیعت ِ رضوان، فتح مکہ، عمرے اور حجۃ الواداع وغیرہ، نہ تو سال کے بعد ان واقعات کی تاریخوں کو دوہرایا جاتا اور نہ ان مقامات کی زیارت کی جاتی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4164