الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ خَيْرِ الشَّاةِ الْمَسْمُوْمَةِ الَّتِي أَهْدَاهَا الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِيَأْكُلَ مِنْهَا وَظُهُورٍ مُعْجِزَةٍ لَهُ
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا ظہور
حدیث نمبر: 10819
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنَ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوكُمْ قَالُوا أَبُونَا فُلَانٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَبْتُمْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ قَالُوا صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ قَالَ لَهُمْ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْلُ النَّارِ قَالُوا نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ فَقَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ قَالُوا أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ تَضُرَّكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہودیوں کی طرف سے ایک زہر آلود بکری بھیجی گئی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہاں جتنے یہودی ہیں، سب کو اکٹھا کرو۔ پس ان کو جمع کیا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں تم لوگوں سے ایک چیز کے متعلق پوچھنے والا ہوں، کیا تم اس کے متعلق میرے ساتھ صحیح صحیح بات کرو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اے ابو القاسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا باپ فلاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم غلط کہہ رہے ہو، تمہارا باپ تو فلاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن کر وہ بولے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالکل درست فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پھر فرمایا: میں تم سے ایک چیز کے متعلق پوچھتا ہوں، کیاتم مجھے سچ سچ بتلاؤ گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اے ابو القاسم! اور اگر ہم نے آپ سے غلط بیانی کی تو آپ کو اس کا علم ہو ہی جائے گا، جیسا کہ آپ ہمارے والد کے متعلق بیان میں جان چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اہلِ نار کون ہیں؟ وہ بولے کہ ہم اس میں کچھ عرصہ رہیں گے، ہمارے بعد آپ لوگ اس میں جائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ہم اس میں کبھی بھی نہیں جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں تم سے ایک چیز کے متعلق دریافت کرتا ہوں، کیا تم مجھ سے سچ بولو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اے ابو القاسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس بکری میں زہر ڈالا ہے؟ انھوں نے کہا:جی ہاں، ڈالا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کا م پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انھوں نے کہا: ہم نے سوچا کہ آپ اگر جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے راحت مل جائے گی اور اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10819]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3169، 4249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9826»
وضاحت: فوائد: … یہ سلام بن مکشم کی بیوی زینب بن حارث یہودی خاتون تھی، جس نے بکری میںزہر ملایا تھا، اس نے پہلے پوچھا تھا کہ بکری کا کون سا عضو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ پسند ہے، جب اس کو بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دستی بہت پسند کرتے ہیں، تواس نے اس حصے میں زیادہ زہر لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک ٹکڑا لے کر چبایا، لیکن اس کو حلق سے نہیں اتارا، سیدنا مبشر بن برائ رضی اللہ عنہ نے اس کا کچھ حصہ کھا لیا تھا، اس لیے وہ فوت ہو گئے تھے۔ سنن بیہقی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: نہ کھاؤ، یہ زہریلی بکری ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3169
حدیث نمبر: 10820
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَحْبَبْتُ أَوْ أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ قَالَ فَسَافَرَ مَرَّةً فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ فَاحْتَجَمَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت نے ایک زہریلی بکری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم ہونے پر اسے پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت فرمایا: تجھے اس حرکت پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے ارادہ کیا تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں مطلع کر دے گا اور اگر آپ سچے نبی نہیں ہیں تو اس طرح میں لوگوں کو آپ سے راحت دلا دوں گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد میں جب بھی اس زہر کا اثر محسوس کرتے تو سینگی لگوا لیتے، ایک دفعہ آپ سفر میںتھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا تو اس زہر کا اثر محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوالی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10820]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2784»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
6. بَابُ إِجْلَاءِ مَنْ بَقِيَ مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَإِبْقَائِهِمْ بخيبر بعد فتحها مُوَفَّنَا لِلْمَصْلَحَةِ
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
حدیث نمبر: 10821
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ ذَاكَ أُرِيدُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: چلو،یہودیوں کی طرف چلتے ہیں۔ پس ہم آپ کے ساتھ چلے اور ان کے بیت المدراس میں پہنچ گئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے اور ان یہودیوں سے فرمایا: اے یہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھییہی چاہتا ہوں کہ تم اس بات کا اعتراف کرو کہ میں نے واقعی اپنی بات تم لوگوں تک پہنچا دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: یاد رکھو کہیہ زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ملکیت ہے اور میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں، پس تم میں سے جو کوئی اپنا مال فروخت کر سکتا ہے، فروخت کر لے، ورنہ یاد رکھو کہ یہ سر زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10821]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3167، 6944، ومسلم: 1765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9825»
وضاحت: فوائد: … بنو نضیر کی جلا وطنی اور بنو قریظہ کے قتل کے بعد جو یہودی مدینہ سے بچ گئے تھے، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خطاب کیا تھا، جیسے بنو قینقاع کے یہودی۔ فتح خیبر کے زمانے میں یہ اعلان کیا گیا۔
اےیہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے، لیکن جب ملعون اور موٹی عقل والے یہودیوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کی دعوت دینا ہے اور انھوں نے اس جملے کو ناپسند کیا، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری وضاحت کر دی۔
اےیہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے، لیکن جب ملعون اور موٹی عقل والے یہودیوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کی دعوت دینا ہے اور انھوں نے اس جملے کو ناپسند کیا، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری وضاحت کر دی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3167
حدیث نمبر: 10822
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتْ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نےیہود و نصاریٰ کو ارضِ حجاز سے جلا وطن کر دیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر پر غلبہ حاصل کر لیا تو یہودیوں کو وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا،کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس علاقہ پر قابض ہوئے تو وہ سر زمین اللہ تعالیٰ،اس کے رسول اور مسلمانوں کی ملکیت ہو گئی، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو وہاں سے نکالنے اور جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا، لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کو وہیں قیام کرنے کی اجازت دے دیں، زمینوں اور باغات کے سارے کام اور خدمات یہودی سرانجام دیتے رہیں گے اور اس کے عوض ان کو نصف پھل ملے گا، باقی نصف مسلمانوں کا ہو گا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے، تمہیںیہاں رہنے کی اجازت ہو گی۔ پھر وہ لوگ وہیں مقیم رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلاوطن کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10822]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2338، 3152، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6368»
وضاحت: فوائد: … تیما اور اریحا، شام میں ہیں۔ دوسری احادیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جزیرۂ عرب سے یہود و نصاری کو نکال دینے کا حکم دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2338
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِ أَمْوَالِ خَيْرَ وَأَرْضِهَا بَيْنَهُم وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
خیبر کے اموال اور زمینوں کییہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 10823
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ أَفَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي فَقَالُوا بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ قَدْ أَخَذْنَا فَاخْرُجُوا عَنَّا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کا علاقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں حسب سابق آباد رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی، اور وہاں کی زمین کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجا، انہوں نے وہاں جا کر باغات کے پھلوں کا تخمینہ لگایا اور کہا: اے یہودیو! تم میری نظر میں اللہ کی سب سے زیادہ نا پسندیدہ مخلوق ہو، تم نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بھی باندھے، لیکن اس قدر بُغض کے باوجود میں تم پر ظلم وزیادتی نہیں کروں گا، اب میں نے بیس ہزار وسق کھجور کا تخمینہ لگایا ہے، اگر تم چاہو تو اپنے لیے اس فیصلہ کو قبول کر لو، اگر تمہیںیہ منظور نہ ہو تو میں قبول کر لیتا ہوں، یہودیوں نے کہا: اسی عدل کی بدولت تو زمین وآسمان قائم ہیں، ہم آپ کے تخمینہ کو قبول کرتے ہیں، آپ اس سے الگ رہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10823]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3414، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15016»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابۂ کرام کا عدل و انصاف تھا کہ یہودیوں جیسی قوم بھی جس کی معترف تھی۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 10824
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَهُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ وَصَارَتْ خَيْبَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ ضَعُفُوا عَنْ عَمَلِهَا فَدَفَعُوهَا إِلَى الْيَهُودِ يَقُومُونَ عَلَيْهَا وَيُنْفِقُونَ عَلَيْهَا عَلَى أَنَّ لَهُمْ نِصْفَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَجَعَلَ نِصْفَ ذَلِكَ كُلِّهِ لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ فِي ذَلِكَ النِّصْفِ سِهَامُ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا وَجَعَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ لِمَنْ يَنْزِلُ بِهِ مِنَ الْوُفُودِ وَالْأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ
بُشیر بن یسار سے مروی ہے کہ انھوں نے اصحاب ِ رسول میں سے بعض افراد کو اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے پایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا اور خیبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ملکیت ہو گیا، جبکہ مسلمان اس سرزمین کا سارا کام کاج کرنے سے عاجز تھے، تو انھوں نے اس کو یہودیوں کے ہی سپرد کر دیا کہ وہی اس کی ذمہ داری ادا کریں گے اور اس پر خرچ کریں گے، اس کے عوض ان کو نصف پیداوار ملے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، اس کو چھتیس حصوں پر تقسیم کیا، ہر حصہ سو حصوں پر مشتمل تھا، خیبر کی زمین سے جو حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نصف کو مسلمانوں میں اس طرح تقسیم کر دیتے تھے کہ اس میں مسلمانوں کے حصے بھی ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بھی، باقی نصف کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفود، دوسرے امور اور لوگوں کے دوسرے حوادث و مہمات میں خرچ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10824]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 3010، 3011، 3012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16530»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ نصف خیبر بزور فتح ہوا اور نصف صلحاً، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصف خیبر کا مال بطورِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاص حصہ اور خُمُس بھی شامل تھا، اور باقی صلحاً فتح ہونے والے نصف سے حاصل ہونے والے مال کو مسلمانوں کی خاص اور عام مصالح کے لیے وقف کر دیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10825
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقُلْتُ هَلْ خُمُسُهُ قَالَ لَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْهُ حَاجَتَهُ
محمد بن ابی مجالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا کہ ان سے پوچھ کر آؤں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے پھلوں کے متعلق کیا فیصلہ فرمایا تھا، میں نے ان کی خدمت میں جا کر یہ بات ان سے دریافت کی اور میں نے یہ بھی پوچھا کہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خمس(پانچواں حصہ) الگ کیا تھا، انہوں نے کہا: جی نہیں، وہ تو اس سے بہت کم تھا، ہم میں سے کوئی بھی آدمی جب چاہتا حسبِ ضرورت اس میں سے لے سکتا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10825]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 2704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19335»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
8. بَابُ تَقْسِيْم غَنِيمَةِ خَيْبَرَ وَإِنَّهَا كَانَتْ لِاهْلِ الْحُدَيْبِيَّةِ خَاصَّةً
غزوۂ خیبر کی غنیمتوں کی تقسیم اور اس امر کا بیان کہ یہ غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں
حدیث نمبر: 10826
عَنْ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ قَالَ شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا إِذَا النَّاسُ يُنْفِرُونَ الْأَبَاعِرَ فَقَالَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَا لِلنَّاسِ قَالُوا أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ حَتَّى وَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا [الفتح: 1] فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ وَفَتْحٌ هُوَ قَالَ أَيْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ فَقُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُدْخِلْ مَعَهُمْ فِيهَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ،جو ان قراء میں سے تھے، جنھوں نے قرآن پڑھا ہوا تھا،سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حدیبیہ میں حاضر ہوئے، جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو لوگ اچانک اپنے اپنے اونٹوں کو تیز تیز چلانے لگے، لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: کیا بات ہوئی؟ تو دوسروں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہوا ہے، ہم بھی اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے دوسرے لوگوں کے ساتھ چل دئیے، ہم نے کراع غمیم مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواری پر موجود پایا، لوگ آپ کے اردگرد جمع تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنَا۔} یعنی سورۂ فتح کی تلاوت کی۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! کیایہ ہمارے حق میں واقعی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہیقینا فتح ہے۔ اس کے بعد غزوۂ خیبر کی غنیمتیں صرف ان لوگوں میں تقسیم کی گئیں، جو حدیبیہ میں حاضر تھے، ان کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان غنیمتوں کو اٹھارہ حصوں میں بانٹ دیا، لشکر میں پندرہ سو آدمی تھے، ان میں سے تین سو گھڑ سوار بھی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑ سواروں کو دو دو حصے اور پیدل لوگوں کو ایک ایک حصہ دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10826]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يعقوب بن مجمع بن جارية، وان كان حسن الحديث، انفرد به، وقد خولف فيه، أخرجه ابوداود: 2736، 3015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15549»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10827
عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِي إِلَّا خَيْبَرَ فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو مُوسَى جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ
عمار بن ابی عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ خیبر کے علاوہ جس غزوہ میں بھی حاضر ہوا، آپ نے مجھے مالِ غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا، غزوۂ خیبر کی غنیمتیں اہلِ حدیبیہ کے لیے مختص تھیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیانی عرصہ میں آئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10827]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد، أخرجه الطيالسي: 2475، والدارمي: 2474، والبيھقي: 6/ 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10925»
وضاحت: فوائد: … اگلے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی آمد کی تفصیل موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُومِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَقَدُوْمِ أَبِي مُوسَى الْاشْعَرِی وَمَنْ مَعَهُ مِنْ مهَاجِرِى الْحَبشَةِ وَالنَّبِي ﷺ بِخَير
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
حدیث نمبر: 10828
عَنْ خُثَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَقَدِ اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِكهيعص [مريم: 1] وَفِي الثَّانِيَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [المطففين: 1] قَالَ فَقُلْتُ لِنَفْسِي وَيْلٌ لِفُلَانٍ إِذَا اكْتَالَ اكْتَالَ بِالْوَافِي وَإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِصِ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى زَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى أَتَيْنَا خَيْبَرَ وَقَدِ افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشْرَكُونَا فِي سِهَامِهِمْ
عراک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ ان دنوں مدینہ منورہ پہنچے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ خیبر میں مصروف تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ان کے ہاں پہنچا تو وہ صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں کٰھٰیٰعٓصٓ (یعنی سورۂ مریم) اور دوسری رکعت میں وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ سورت کی تلاوت کر رہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ فلاں آدمی تباہ ہو گیا، وہ جب اپنے لیے تولتا ہے تو پورا تول لیتا ہے اور جب کسی کے لیے تولتا ہے تو کم کر دیتا ہے،وہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہمیں کچھ زادِ سفر دیا، اور ہم خیبر کے لیے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم خیبر پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں سے ہمارے بارے میں بات کی اور انہوں نے مالِ غنیمت کے اپنے حصوں میں ہمیں بھی شریک کر لیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10828]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن خزيمة: 1039، والحاكم: 2/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8533»
وضاحت: فوائد: … انھوں نے ہمیں اپنے حصوں میں شریک کیا۔
ان الفاظ کا مفہوم مشہور روایت کے مخالف ہے، مشہور روایتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل سفینہ کو شریک کیا تھا۔
اہلِ سفینہ سے مراد سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ والے وہ لوگ تھے، جو حبشہ میں تھے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے: سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے بھی مالِ غنیمتتقسیم کیا اور ہمارے علاوہ فتح میں شریک نہ ہونے والے کسی آدمی کو مال غنیمت نہیں دیا۔ (اگلی حدیثیہی ہے، سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے)۔
تو پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا کیا مطلب ہوا کہ انھوں نے ہمیں بھی اپنے حصوں میں شریک کیا؟
حافظ ابن حجر نے کہا: سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث کا پس منظر یہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنیمت حاصل کرنے والے مجاہدین سے رضامندی لیے بغیر اصحاب ِ سفینہ کو مال غنیمت میں شریک کیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو حصہ دینے کے لیے مسلمانوں سے اجازت لی ہو گی۔ واللہ اعلم۔ (تلخیص از فتح الباری: ۷/ ۴۸۹)
ان الفاظ کا مفہوم مشہور روایت کے مخالف ہے، مشہور روایتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل سفینہ کو شریک کیا تھا۔
اہلِ سفینہ سے مراد سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ والے وہ لوگ تھے، جو حبشہ میں تھے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے: سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے بھی مالِ غنیمتتقسیم کیا اور ہمارے علاوہ فتح میں شریک نہ ہونے والے کسی آدمی کو مال غنیمت نہیں دیا۔ (اگلی حدیثیہی ہے، سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے)۔
تو پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا کیا مطلب ہوا کہ انھوں نے ہمیں بھی اپنے حصوں میں شریک کیا؟
حافظ ابن حجر نے کہا: سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث کا پس منظر یہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنیمت حاصل کرنے والے مجاہدین سے رضامندی لیے بغیر اصحاب ِ سفینہ کو مال غنیمت میں شریک کیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو حصہ دینے کے لیے مسلمانوں سے اجازت لی ہو گی۔ واللہ اعلم۔ (تلخیص از فتح الباری: ۷/ ۴۸۹)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين