🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُومِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَقَدُوْمِ أَبِي مُوسَى الْاشْعَرِی وَمَنْ مَعَهُ مِنْ مهَاجِرِى الْحَبشَةِ وَالنَّبِي ﷺ بِخَير
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10829
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِي بَعْدَ مَا فُتِحَ خَيْبَرُ بِثَلَاثٍ فَأَسْهَمَ لَنَا وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ غَيْرَنَا
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنی قوم کے لوگوں کے ہمراہ فتح خیبر سے تین دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیںمالِ غنیمت میں سے حصہ دیا، خیبر کی غنیمتوں کو صرف اہلِ حدیبیہ میں تقسیم کیا گیا تھا، صرف ہم ہی لوگ تھے جن کو حدیبیہ میں شریک نہ ہونے کے باوجود خیبر کی غنائم سے حصہ ملا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10829]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19868»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4233
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10830
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا: یہ پہاڑ ہے، یہ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: یا اللہ! جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم والا قرار دیا تھا، اسی طرح میںبھی مدینہ منورہ کے دو حرّوں کے درمیان والے حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10830]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13559»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ أَبِي بَكْرِ نِ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه إِلَى بَنِي فَزَارَةً
بنو فزارہ کی طرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں بھیجے گئے دستہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10831
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا قَالَ سَلَمَةُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ نَحْوَ الْجَبَلِ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ عَلَى الْمَاءِ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ قَالَ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا قَالَ فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بِتُّ فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي {يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ} قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ {يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ} قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَعْجَبَتْنِي مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أُسَارَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں روانہ ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہم پر امیر مقرر فرمایا تھا۔ ہم فزارہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ جب ہم اپنی منزل مقصود کے پانی کے قریب پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے رات کے آخری حصہ میں کچھ دیر آرام کر لیا، جب ہم نے فجر کی نماز ادا کی تو ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے یکبارگی حملہ کر دیا اور ہم نے اس پانی کے قریب بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے پہاڑ کی جانب جانے والے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی، اس میں عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی، میں ان کے پیچھے دوڑنے لگا مجھے خطرہ تھا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر پہنچ جائیں گے، سو میں نے ان پر تیر برسائے جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان گرے، پھر میں ان لوگوں کو گرفتار کر کے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پانی کے قریب لے آیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی، جس پر چمڑے کی ایک پرانی سی چادر تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، جو عرب کی ایک خوبصورت ترین لڑکی تھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی میرے حصہ سے زائد کے طور پر مجھے عنایت کی۔ میں نے مدینہ منورہ آنے تک اس سے کوئی تعلق قائم نہ کیا، رات بھی اسی طرح گزر گئی، جب بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت اچھی لگی ہے، لیکن ابھی تک میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور مجھے چھوڑ دیا، اگلے دن پھر آپ کی مجھ سے بازار میں ملاقات ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سلمہ! تیرے باپ کا بھلا ہو، وہ عورت مجھے ہبہ کر دو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت پسند آئی ہے اور میں نے تاحال اس کا کپڑا تک نہیں اُٹھایا۔اے اللہ کے رسول! وہ اب آپ کے لیے ہی ہے۔ اہل مکہ کے ہاں کچھ مسلمان قیدی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو ان مسلمانوں کے فدیہ کے طور پر اہلِ مکہ کی طرف بھیج دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10831]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا بالفاظ متقاربة مسلم: 1755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16616»
وضاحت: فوائد: … یہ شعبان ۷ ہجری کا واقعہ ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا بالفاظ متقاربة مسلم: 1755
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ غَالِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنه لِبَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيْدِ
کدید کے مقام پر بنو لموح کے ساتھ سیدنا غالب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سریہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10832
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَالِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْكَلْبِيَّ كَلْبَ لَيْثٍ إِلَى بَنِي مُلَوِّحٍ بِالْكَدِيدِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ فَخَرَجَ فَكُنْتُ فِي سَرِيَّتِهِ فَمَضَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقُدَيْدٍ لَقِينَا بِهِ الْحَارِثَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيِّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُسْلِمَ فَقَالَ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا جِئْتَ مُسْلِمًا فَلَنْ يَضُرَّكَ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ اسْتَوْثَقْنَا مِنْكَ قَالَ فَأَوْثَقَهُ رِبَاطًا ثُمَّ خَلَّفَ عَلَيْهِ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ مَعَنَا فَقَالَ امْكُثْ مَعَهُ حَتَّى نَمُرَّ عَلَيْكَ فَإِنْ نَازَعَكَ فَاجْتَزَّ رَأْسَهُ قَالَ ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَطْنَ الْكَدِيدِ فَنَزَلْنَا عُشَيْشِيَّةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَبَعَثَنِي أَصْحَابِي فِي رَبِيئَةٍ فَعَمَدْتُ إِلَى تَلٍّ يُطْلِعُنِي عَلَى الْحَاضِرِ فَانْبَطَحْتُ عَلَيْهِ وَذَلِكَ الْمَغْرِبَ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى التَّلِّ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى عَلَى هَذَا التَّلِّ سَوَادًا مَا رَأَيْتُهُ أَوَّلَ النَّهَارِ فَانْظُرِي لَا تَكُونُ الْكِلَابُ اجْتَرَّتْ بَعْضَ أَوْعِيَتِكِ قَالَ فَنَظَرَتْ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا أَفْقِدُ شَيْئًا قَالَ فَنَاوِلِينِي قَوْسِي وَسَهْمَيْنِ مِنْ كِنَانَتِي قَالَ فَنَاوَلَتْهُ فَرَمَانِي بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِي جَنْبِي قَالَ فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ ثُمَّ رَمَانِي بِآخَرَ فَوَضَعَهُ فِي رَأْسِ مَنْكِبِي فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ لَقَدْ خَالَطَهُ سَهْمَايَ وَلَوْ كَانَ دَابَّةً لَتَحَرَّكَ فَإِذَا أَصْبَحْتِ فَابْتَغِي سَهْمَيَّ فَخُذِيهِمَا لَا تَمْضُغُهُمَا عَلَيَّ الْكِلَابُ قَالَ وَأَمْهَلْنَاهُمْ حَتَّى رَاحَتْ رَائِحَتُهُمْ حَتَّى إِذَا احْتَلَبُوا وَعَطَنُوا أَوْ سَكَنُوا وَذَهَبَتْ عَتَمَةٌ مِنَ اللَّيْلِ شَنَنَّا عَلَيْهِمُ الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا مِنْهُمْ وَاسْتَقْنَا النَّعَمَ فَتَوَجَّهْنَا قَافِلِينَ وَخَرَجَ صَرِيخُ الْقَوْمِ إِلَى قَوْمِهِمْ مُغَوِّثًا وَخَرَجْنَا سِرَاعًا حَتَّى نَمُرَّ بِالْحَارِثِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ وَصَاحِبِهِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ مَعَنَا وَأَتَانَا صَرِيخُ النَّاسِ فَجَاءَنَا مَا لَا قِبَلَ لَنَا بِهِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ إِلَّا بَطْنُ الْوَادِي أَقْبَلَ سَيْلٌ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ حَيْثُ شَاءَ مَا رَأَيْنَا قَبْلَ ذَلِكَ مَطَرًا وَلَا حَالًا فَجَاءَ بِمَا لَا يَقْدِرُ أَحَدٌ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهِ فَلَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ وُقُوفًا يَنْظُرُونَ إِلَيْنَا مَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَنَحْنُ نُحَوِّزُهَا سِرَاعًا حَتَّى أَسْنَدْنَاهَا فِي الْمُشَلَّلِ ثُمَّ حَدَرْنَاهَا عَنَّا فَأَعْجَزْنَا الْقَوْمَ بِمَا فِي أَيْدِينَا
سیدنا جندب بن مکیث جُہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا غالب بن عبداللہ کلبی لیثی رضی اللہ عنہ کو کدید کے مقام پر مقیم قبیلہ بنو ملوح پر حملہ کے لیے روانہ فرمایا، چنانچہ یہ روانہ ہوئے، میں بھی اسی لشکر میں شامل تھا، چلتے چلتے جب ہم کدید کے مقام پر پہنچے تو وہاں ہمیں حارث بن مالک ابن برصاء لیثی مل گیا۔ ہم نے اسے پکڑ لیا، اس نے کہا: میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں۔ سیدنا غالب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم مسلمان ہونے کے ارادہ سے آئے ہو تو ایک دن رات کی قید تمہیں کچھ ضرر نہیں پہنچائے گی اور اگر تمہارا کچھ اور پروگرام ہے تو ہم اس بارے میں تحقیق کریں گے، چنانچہ سیدنا غالب رضی اللہ عنہ نے اس کو قید کر لیا اور ایک سیاہ فام کو جو ہمارے ساتھ ہی تھا، اس کی نگرانی پر مامور فرما دیا اور کہا: ہمارے واپس آنے تک تم اس کے ساتھ ہی رہو، اگر یہ تمہارے ساتھ جھگڑا کرے تو اس کا سر اڑا دینا۔ اس کے بعد ہم وہاں سے روانہ ہو کر کدید کے درمیان میں پہنچے اور ہم عصر کے بعد عشیشیہ میں جا اترے۔ میرے ساتھیوں نے مجھے پہرہ کی ذمہ داری سونپ دی۔ میں ایک ٹیلہ کی طرف گیا جہاں سے ادھر اُدھر موجود لوگوں پر نظر جا سکتی تھی۔ میں ٹیلے پر لیٹ گیا۔ مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ ان میں سے ایک آدمی نکلا اس نے مجھے ٹیلے پر لیٹا ہوا دیکھا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں ٹیلے پر ایک ایسا ہیولا دیکھ رہا ہوں جسے میں نے دن کے وقت نہیں دیکھا۔ خیال کرنا کتے نہ ہوں؟ اور تمہارے برتن نہ لے گئے ہوں۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھ کر کہا اللہ کی قسم! میں کسی چیز کو گم تو نہیں پاتی، اس نے کہا اچھا تم میری کمان اور میرے ترکش سے دو تیر مجھے لا دو۔ اس نے تیر اور کمان اسے لا دئیے۔ اس نے ایک تیر مجھ پر مارا اور اسے میرے پہلو میں پیوست کردیا۔ میں نے اسے کھینچ کر نکالا اور ایک طرف رکھ دیا۔ اور خود کوئی حرکت نہ کی,، اس نے دوسرا تیر چلا کر میرے کندھے کے اوپر والے حصے میں پیوست کر دیا۔ میں نے اسے نکال کر رکھ دیا اور کوئی حرکت نہ کی۔ وہ اپنی بیوی سے کہنے لگا اللہ کی قسم! میرے دو تیر اسے جا لگے ہیںیہ اگر کوئی جان دار چیز ہوتی تو ضرور حرکت کرتی۔ صبح ہو تو میرے ان دونوں تیروں کو تلاش کر رکھنا اور انہیں کتوں کے لیے نہ پڑے رہنے دینا۔ ہم نے ان لوگوں کو مہلت دی۔ یہاں تک کہ ان کے جانور شام گھروں میں واپس آگئے اور انہوں نے جانوروں کا دودھ دوھ لیا اور وہ اپنی اپنی جگہوں پر مطمئن ہو گئے اور رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا۔ تو ہم سے جس قدر ہو سکا ان کو قتل کیا اور ہم جانوروں کو لے کر روانہ ہوئے۔ اور واپس چلے۔ اتنے میں ان لوگوں کی طرف سے اس قسم کی چیخ وپکار شروع ہو گئی جیسے کوئی مدد کے لیے پکارتا ہے۔ ہم تیزی سے چلتے گئے۔ یہاں تک ہم حارث بن برصاء اور اس کے ساتھی کے پاس آگئے۔ ہم ان کو بھی ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ لوگوں کی چیخ وپکار کی آوازیں ہم تک آرہی تھیں۔ تو ایسی صورت حال پیدا ہو گئی کہ جس کا مقابلہ کرنے کی ہم میں ہمت نہ تھی۔ یہاں تک کہ جب ہمارے اور ان کے درمیان وادی رہ گئی تو اچانک زور دار سیلاب ان کے اور ہمارے درمیان حائل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں سے چاہا اسے بھیج دیا اس کے آنے سے پہلے ہم نے نہ تو بارش دیکھی اور نہ بادل، سیلاب اس قدر تیز تھا کہ کوئی آدمی اس کے سامنے کھڑے ہونے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ ہم نے بنو الملوح کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیلاب سے دوسری طرف بے بسی سے کھڑے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے کسی کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ تھی اور ہم اسے تیزی سے پار کرتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ جبلِ مشلل تک گئے۔ اس کے بعد ہم اس سے ایک طرف ہو کر دوسرے راستے پر چل دئیے۔ ہمارے پاس ان لوگوں سے حاصل شدہ جو مالِ غنیمت تھا ہم نے اسے واپس لینے سے ان لوگوں کو عاجز کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10832]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مسلم بن عبد الله الجھني مجھول، أخرجه مختصرا ابوداود: 2678، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15938»
وضاحت: فوائد: … عسفان کے قریب ایک پانی کا نام کدید ہے اور اس پانی سے پہلے ایک بازار کا نام قدید ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَزَوَاجِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَرِثِ رضي الله عنها
عمرۂ قضاء اور اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10833
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سُرَيْجٌ وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے تو کفار قریش آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے آپ نے وہیں حدیبیہ کے مقام پر اپنے قربانی کے اونٹوں کو نحر کیا۔ سر منڈوایا اور ان سے معاہدہ کیا جس میں طے ہوا کہ آپ آئندہ سال آکر عمرہ کریں گے اور قریش مکہ کے خلاف ہتھیار نہ اُٹھائیں گے۔ مسلمانوں کے پاس صرف تلواریں ہو گی اور وہ مکہ میں صرف اتنے دن گزار سکیں گے جن کی قریش اجازت دیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے سال آکر عمرہ اداکیا۔ اور حسبِ معاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ جب تین دن گزر گئے تو قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روانگی کا مطالبہ کیا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چلے آئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10833]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6067»
وضاحت: فوائد: … اس عمرہ کو عمرۂ قضیہ، عمرۂ صلح اور عمرۂ قصاص بھی کہتے ہیں، عمرۂ قضاء کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ یہ عمرہ اس فیصلے کے مطابق تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام مشرکوں کے ساتھ کیا تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے، کیونکہ جس کو راستے میں روک دیا جائے، اس پر قضائی واجب نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2701
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10834
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الْأَحْزَابِ يَقُولُ {اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ هَازِمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ}
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب عمرہ ادا کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طواف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازادا کی تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا اور مروہ کے مابین سعی کی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سعی کی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گردرہ کر اہل مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کر رہے تھے، تاکہ اہل مکہ میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف نہ پہنچا دے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام دشمن جماعتوں کے خلاف یہ دعا کرتے سنا: اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ ھَازِمَ الْاَحْزَابِ، اَللّٰہُمَّ اھْزِمْہُمْ وَزَلْزِلْھُمْ (اے اللہ! کتاب نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، تمام جماعتوں کو شکست سے دو چار کرنے والے، یا اللہ انہیں شکست سے دو چار کر اور ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10834]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6392، ومسلم: 1742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19627»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6392
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10835
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمرۂ قضاء کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو (مقرر وقت گزرنے پر) قریشِ مکہ نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو آکر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھی سے کہیں کہ مقرر وقت ختم ہو چکا ہے، لہٰذا وہ یہاں سے روانہ ہو جائیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10835]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1844، 2699، ومسلم: 1783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18838»
وضاحت: فوائد: … صلح حدیبیہ میں یہ طے ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین دن مکہ میں ٹھہر سکیں گے، اس لیے مشرکین مکہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1844
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10836
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنَ الْعَجَفِ فَقَالَ أَصْحَابُهُ لَوِ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ أَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ قَالَ {لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنِ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ} فَجَمَعُوا لَهُ وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ {لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً} فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِي مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ أَنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ فَكَانَتْ سُنَّةً قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
ابو طفیل سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمرۂ قضا ء کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرالظہران کے مقام پر پہنچے تو صحابہ کو یہ بات پہنچی کہ قریش مسلمانوں کے جسموں کے نحیف ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، پس صحابہ نے گزارش کی اگر ہم اپنے کچھ اونٹوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت کھائیں اور شوربا یعنییخنی بنا کر پئیں تو جب ہم ان کے سامنے جائیں تو ہم خوب سیراب اور سیر نظر آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے نہ کرو بلکہ تم اپنا زادِ راہ ایک جگہ میں جمع کرو۔ صحابہ نے کھانے کا سارا سامان ایک جگہ جمع کر دیا اور چمڑے کے دستر خوان بچھا دئیے اور سب نے کھانا کھایا،یہاں تک کہ کھا کھا کر وہ اُٹھ گئے اور ہر ایک نے اپنے اپنے تھیلے بھی کھانے سے بھر لیے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام میں آئے، جبکہ قریشی حجر یعنی حطیم کی جانب بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر سے اضطباع کیا۔ (یعنی طواف کے وقت چادر کا درمیا ن والا حصہ دائیں کندھے کے نیچے بغل سے نکال کر چادر کے دونوں سروں کو بائیں کندھے پر ڈال دیا اور اس طرح دایاں کندھا ننگا ہو گیا، اس عمل کو اضطباع کہتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قریشی لوگ تمہارے اندر کمزوری محسوس نہ کریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور (رمل کرتے ہوئے) طواف شروع کیا،یہاں تک کہ جب آپ رکن یمانی کی جانب قریش کی آنکھوں سے اوجھل ہوئے تو حجرِاسود تک عام رفتار سے چل کر گئے، قریش نے ان کی کیفیات دیکھ کر کہا کہ یہ لوگ طواف کرتے ہوئے عام رفتار سے چلنے پر مطمئن نہیں، بلکہ اچھل اچھل کر اور کود کود کر طواف کرتے ہیں، جیسے ہرن اچھلتے کودتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین چکروں میں ایسے ہی رمل کیا، (رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلے)، پس یہ عمل سنت ٹھہرا، ابو طفیل کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل حجۃ الوداع میں (بھی) کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10836]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه بنحوه ابن حبان: 3812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2782»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس عمل کو سنت کہنا، جبکہ ان سے اس عمل کے سنت ہونے کا انکار بھی ثابت ہے، جمع تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ممکن ہے کہ انھوں نے معاملہ واضح ہو جانے پر اس کے سنت ہونے کی طرف رجوع کر لیا ہو، البتہ اشکال یہ ہے کہ اسی حدیث کے راوی ابو طفیل نے ہی انکار کی روایت بیان کی ہے، ممکن ہے کہ اس کا جواب یہ ہو کہ انھوں نے ان کے رجوع کے بعد دوبارہ یہ بات سنی ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10837
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى قَالَ فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام عمرۂ قضا کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ یثرب کے بخار نے ان کو کمزور کر رکھا تھا، اسی وجہ سے مشرکوںنے کہا: ایسے لوگ تمہارے پاس آرہے ہیں جنہیںیثرب کے بخار نے کمزور کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دے دی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو طواف کے دوران رمل کرنے کا حکم دیا، مشرکین حطیم کی جانب بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں نے رمل کیا، البتہ رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان عام رفتار سے چلتے رہے، یہ صورتحال دیکھ کر مشرکین نے کہا: یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت تم کہہ رہے تھے کہ ان کو بخار نے کمزور کر رکھا ہے، یہ تو انتہائی طاقت ور ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ابتدائی تین چکروں میں رمل کیا اور بعد میں نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں پر ترس کھاتے ہوئے تمام چکروں میں دوڑنے کا حکم نہیں فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10837]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1602، 4256، ومسلم: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2639»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں مذکورہ فقہی احکام و مسائل، حج و عمرہ کے ابواب میں گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1602
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ زواجِهِ بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَرِثِ خَالَةِ ابْنِ عباس رضي الله عنهما
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10838
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالٌ بَعْدَ مَا رَجَعْنَا مِنْ مَكَّةَ
اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے واپسی پر مجھ سے نکاح کیا، جب کہ ہم احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة السابعة للهجرة/حدیث: 10838]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1410، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27352»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1410
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں