🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابٌ وَمِنْهُمْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم
دختر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11379
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ لِخَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ ”إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا“ فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَطْلَقُوهُ وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مال وغیرہ بھیجا تو سیدہ زینب بنت ِ رسول رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ابو العاص بن ربیع کے فدیے میں مال بھیجا، اس میں اس نے اپنا ایک ہار بھی بھیجا،یہ ہار دراصل سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا، جب سیدہزینب رضی اللہ عنہا کی ابو العاص کے ساتھ رخصتی ہوئی تھی تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کو دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رقت طاری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو میری بیٹی کے قیدی کو ایسے ہی آزاد کر دو اور اس کا ہار اس کو واپس کر دو۔ صحابۂ کرام نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! پس انھوں نے ابو العاص کو رہا کر دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کا ہار واپس کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11379]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26894»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے صاحبزادے سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئی تھیں، ان کی شادی ان کے خالہ زاد سیدنا ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی، سیدنا ابوالعاص کو وہ ہار تو واپس کر دیا گیا، لیکن اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ سیدہ زینب بنت رسول رضی اللہ عنہا کی راہ چھوڑ دیں، ابو العاص نے ایسے ہی کیا اور مکہ جا کر ان کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ مدینہ ہجرت کر آئیں، بعد میں سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے نکاح کے ساتھ ہی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ان کو لوٹا دیں، پھر ۸؁ھمیں سیدہ انتقال کر گئیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابٌ وَمِنْهُمْ رُقَّيَّةٌ وَأُمُّ كَلْتُوْمٍ وَمَا ابْنَتَا رَسُوْلِ الله ﷺ
دختران رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11380
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَدْخُلِ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ“ فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْقَبْرَ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے آج رات اپنی بیوی سے ہم بستری کی ہو وہ قبر میں داخل نہ ہو۔ پس سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر میں داخل نہ ہوئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11380]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه الحاكم: 4/ 47، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13431»
وضاحت: فوائد: … سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح بالترتیب انکے چچا زادوں عتبہ بن ابی لہب اور عتیبہ بن ابی لہب سے ہوا، لیکن جب سورۂ لہب نازل ہوئی اور انھوں نے ابو لہب کی مذمت سنی تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بغض کا ثبوت دیتے ہوئے ہم بستری سے پہلے ہی ان دونوں بیٹیوں کو طلاق دے دی تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان سمیتحبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، پھر مکہ واپس لوٹ آئے اورپھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر میں مصروف تھے، اس وقت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان ہی کی خدمت کی وجہ سے غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ذریعے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دوبارہ داماد بنا لیا، اس لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ذو النورین کہتے ہیں، لیکن زندگی نے ساتھ نہ دیا اور شعبان (۹) سن ہجری میں سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر محرم اور اجنبی بھی عورت کو دفنا سکتا ہے، کیونکہ سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال کسی میت کی تدفین کے سب سے زیادہ مستحق اس کے رشتہ دار ہیں، جیسا کہ ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: {وَاُلُوْا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ} (سورۂ انفال: ۷۵) یعنی: اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ مستحق ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیّدنا علی، سیّدنا عباس، سیّدنا فضل اور مولائے رسول سیّدنا صالح نے دفنایا تھا، اگر رشتہ دار نہ ہوں یا معذور ہوں تو دوسرے لوگوں کو تعاون کرنا چاہیے۔ نیزیہ بھی پتہ چلا کہ قبر میں اترنے والے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس نے گزشتہ رات کو حق زوجیت ادا نہ کیا ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11381
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} [طه: 55] قَالَ ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْجَبُوبَ وَيَقُولُ ”سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ“ ثُمَّ قَالَ ”أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ“
سیّدناابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی} … ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ (سورۂ طہ، ۵۵) سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی تھییا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11381]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر الافريقي و علي بن يزيد الالھاني ضعيفان، وقال الذھبي: علي بن يزيد متروك أخرجه الحاكم: 2/ 379، والبيهقي: 3/ 409، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22540»
وضاحت: فوائد: … بعض لوگ میت کو قبر میں اتارتے وقت یا اس میں مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھتے ہیں، ان کا یہ عمل درست نہیں ہے، کیونکہیہ حدیث ضعیف ہے، البتہ میت کو قبر میں اتارتے وقت یہ دعائیں پڑھنی چاہئیں:
بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بِاسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بَابٌ وَمِنْہُمْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سیدنا ابراہیم بن رسول اللہ رضی اللہ عنہ کاتذکرہ

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابٌ وَمِنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم
سیدنا ابراھیم بن رسول اللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11382
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ“ قَالَ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ وَقَدِ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا قَالَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَيْفٍ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمْسَكَ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ قَالَ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهِ إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آج رات مجھے بیٹا عطا فرمایا ہے، میں نے اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام پر اس کا نام رکھا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رضاعت کے لیے مدینہ کے ایک لوہار سیدنا ابو سیف رضی اللہ عنہ کی اہلیہسیدہ ام سیف رضی اللہ عنہا کے حوالے کیا، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھنے کے لیے چل کر گئے، میں بھی آپ کے ساتھ گیا، جب میں وہاں پہنچا تو ابو سیف اپنی بھٹی میں پھونک مار رہا تھا اور کمرہ دھوئیں سے بھر چکا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے آگے جلدی چل کر گیا اور میں نے ان سے کہا: ابو سیف! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔ تو وہ اپنے کام سے رک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے بچے کو بلوا کر اسے سینے سے لگایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس حال میں دیکھا کہ وہ اپنی جان اللہ کے سپرد کر رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھ آنسو بہا رہی ہے، اور دل غمگین ہے، لیکن ہم زبان سے وہی بات کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اے ابراہیم ہم تیری جدائی پر بہت زیادہ غمگین ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11382]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 1303، وأخرجه مسلم: 2315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13045»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11383
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کے حق میں مہربان کسی کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی بالائی بستیوں میں رضاعت کے لیے بھیجے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جاتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہو جاتے، حالانکہ اس گھر میں دھواں اٹھ رہا ہوتا تھا، کیونکہ ان کا رضاعی والد لوہار تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، اسے بوسے دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔ عمرو راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے، چونکہ یہ دودھ پینے کی مدت کے اندر اندر فوت ہوا ہے، اس لیے اس کی جنت میں دو رضاعی مائیںہوں گی، جو اس کی رضاعت کو پورا کریں گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11383]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12126»
وضاحت: فوائد: … سید الاوّلین والآخرین نے اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے لوہار کے گھر بھیج دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوہار کے گھر جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، یہی بندگی ہے، یہی بندگی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11384
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْفَنَ فِي الْبَقِيعِ وَقَالَ ”إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا يُرْضِعُهُ فِي الْجَنَّةِ“
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پسر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا سولہ ماہ کی عمر میں انتقال ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جنت البقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے جنت میں ایک دایہ دودھ پلائے گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11384]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه البخاري: 1382، 3255، 6195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18749»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11385
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا اٹھارہ ماہ کی عمر میں انتقال ہوا تھا، آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11385]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 3187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26836»
وضاحت: فوائد: … کتاب الجنائز میں بچے کی نمازِ جنازہ کا حکم بیان ہو چکا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11386
عَنِ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتے تو وہ سچے نبی ہوتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11386]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12383»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع کی موقوف روایات کو بھی مرفوع کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ ان کا رائے اور اجتہاد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ چھوٹی عمر میں ہیفوت ہوگئے تھے، اگر یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے آنا ہے تو ان کو زندگی عطا کر دی جاتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۱۹۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ لَہٗمُرْضِعًافِیْ الْجَنَّۃِ وَلَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔)) یعنی: بیشک اس کو دودھ پلانے والی جنت میں ہے، اور اگر یہ (میرا بیٹا) زندہ رہتا تو صِدِّیق اور نبی ہوتا۔ (ابن ماجہ: ۱۵۱۱، ولھذا القدر من الحدیث شواہد)
قادیانی ذہن کے لوگوں نے اس حدیث اور ان اقوال کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان واضح ترین شرعی دلائل کا کیا جائے گا، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت و رسالت کے ختم ہو جانے کی وضاحت کی گئی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ تعلیق بالمحال کا نتیجہ بھی محال ہوتا ہے، یعنی نہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور نہ ان کو نبوت ملی۔ اس قسم کی تعلیق تو قرآن مجید میں بھی کثرت سے استعمال ہوئی ہے۔ مثلا:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔} (سورۂ زمر: ۶۵) یعنی: (اے محمد!) اگر تو نے شرک کیا توتیرے عمل ضائع ضرور ضرور ضائع ہو جائیں گے اور ضرور ضرور تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔
مزید ارشاد ہوا: {وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَائَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَائَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ۔} (سورۂ بقرہ: ۱۲۰) یعنی: (اے محمد!) اگر تو نے اپنے پاس علم آ جانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہو گا۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ امور ہونے تھے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا انجامِ بد بھگتنا تھا، اسے تعلیق بالمحال کہتے ہیں، قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ سے متعلقہ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہیں تو وہ صِدِّیق اور نبی ہوتے، لیکن چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے ارادے نے یہ تقاضا کیا کہ وہ بچپنے میں ہی فوت جائیں، لہٰذا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کی نفی نہیں ہوتی۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: یہ روایات اگرچہ موقوف ہیں، لیکن ان کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ ان کا تعلق ایسے غیبی امور سے ہے کہ جن میں رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بہرحال ان کی معرفت کے بعد ان سے قادیانیوں کا نبوت کے جاری رہنے کا استدلال کرنا باطل ہو جاتا ہے، بلکہ یہدلیل الٹا ان کے خلاف جا رہی ہے، کیونکہ اس میں تو یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی بچپنے میں وفات کا سبب ہییہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا۔
(سلسلہ ضعیفہ: ۲۲۰)
اس قسم کی ایک مثال یہ ہے: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ کَانَ بَعْدِيْ نَبِيٌّ، لَکَانَ عُمَرَ۔)) (جامع الترمذی: ۲/۲۹۳، الصحیحۃ:۳۲۷)
یعنی: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہوتا۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا، اس لیے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس درجے پر فائز نہ ہو سکے، دراصل اس حدیث میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صلاحیت، لیاقت، قابلیت، اہلیت، حق گوئی اور حق کے قریب ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11387
ثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ لَوْ كَانَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ مَا مَاتَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ
اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی آنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم علیہ السلام فوت نہ ہوتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11387]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1600، 1791، 4255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19319»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک فرزند کا نام ابراہیم تھا، یہ سیدہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رضاعت کے لیے سیدنا ابو سیف کی اہلیہ سیدہ ام سیف کے حوالے کیا تھا، یہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں وفات پا گئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابٌ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ آلِ بَيْتِهِ الْمُطَهَّرِينَ
اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11388
عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِبُرْمَةٍ فِيهَا خَزِيرَةٌ فَدَخَلَتْ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا ”ادْعِي زَوْجَكِ وَابْنَيْكِ“ قَالَتْ فَجَاءَ عَلِيٌّ وَالْحُسَيْنُ وَالْحَسَنُ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَجَلَسُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْخَزِيرَةِ وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ عَلَى دُكَّانٍ تَحْتَهُ كِسَاءٌ لَهُ خَيْبَرِيٌّ قَالَتْ وَأَنَا أُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ فَغَشَّاهُمْ بِهِ ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ فَأَلْوَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا“ قَالَتْ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْبَيْتَ فَقُلْتُ وَأَنَا مَعَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ مِثْلَ حَدِيثِ عَطَاءٍ سَوَاءً قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خزیرہ تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میںسیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خزیرہ کھانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دکان نما جگہ پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔ اتنے میں ام سلمہ نے جو کمرہ سے باہر تھی نے اس چادر کے اندر سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11388]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 2665، والحاكم: 2/ 416، والبيھقي: 2/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27041»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل آیات کے ذریعے مذکورہ بالا آیت کے سیاق و سباق کو سمجھیں:
{یٰنِسَاء َ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء ِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔ وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا۔ وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۔} … اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو۔ اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔ اور تمھارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیںیاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۳۲، ۳۳، ۳۴)
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوںیعنی امہات المؤمنین سے خطاب کیا ہے۔
بہرحال اہل بیت سے کون مراد ہیں؟ اس کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے، بعض نے ازواج مطہرات کو مراد لیا ہے، جیسا کہ یہاں قرآن مجید کے سیاق سے واضح ہے، قرآن نے یہاں امہات المؤمنین ہی کو اہل بیت کہا ہے، قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت کہا گیا ہے، ایکمقام درج ذیل ہے:
جب فرشتوں نے ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے کی عمر میں اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت دی تو ان کی اہلیہ نے اس وقت جس تعجب کا اظہار کیا، اس کو اللہ تعالیٰ نے اس انداز میںبیان کیا اور اس کا جواب بھی دیا:
{قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیْء ٌ عَجِیْبٌ۔ قَالُوْٓا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ اِنَّہ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔} … اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینایہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔ (سورۂ ہود: ۷۲، ۷۳)
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کا اہل بیت ہونا نص قرآنی سے واضح ہو گیا۔
جبکہ بعض حضرات، بعض احادیث کی رو سے اہل بیت کا مصداق صرف سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو مانتے ہیں، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔
تاہم اعتدال کی راہ اور نقطۂ متوسطہ یہ ہے کہ دونوں ہی اہل بیت ہیں، امہات المؤمنین نص قرآن کی وجہ سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داماد اور اولاد ان احادیث کی رو سے، یہ آیت دراصل ازواجِ مطہرات کے بارے میں نازل کی گئی تھیں، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باقی چار ہستیوں کو بھی اس کے مفہوم میں داخل کیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اہل بیت کا اطلاق آل علی، آل عقیل، آل جعفر اور آل عباس سب پر ہوتا ہے۔
خزیرہ: ایک کھانا جو قیمہ اور آٹے سے تیار کیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں