الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ آلِ بَيْتِهِ الْمُطَهَّرِينَ
اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
حدیث نمبر: 11389
عَنْ أَبِي الْمُعَذَّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي يَوْمًا إِذْ قَالَتِ الْخَادِمُ إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ قَالَتْ فَقَالَ لِي ”قُومِي فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي“ قَالَتْ فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا قَالَ وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا فَأَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي“ قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”وَأَنْتِ“
ابو معذل عطیہ طفاوی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بیان کرتے ہوئے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ خادم نے کہا: سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر آئے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ! تم اٹھ کر میرے اہل بیت سے ذرا الگ ہو جاؤ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں:میں اٹھ کر ان کے قریب ہی کمرے میں ایک طرف ہوگئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ آئے، ان کے ہمراہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے، وہ ابھی چھوٹے بچے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں بچوں کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا، ان کو بوسے دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے ہاتھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ ملا لیا اور آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بوسے دیئے اور ایک سیاہ چادر ان سب کے اوپر ڈال دی اور فرمایا: یا اللہ! میں اور میرے اہل بیت تیری طرف آتے ہیں، جہنم کی طرف نہیں۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تم بھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11389]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو المعذل عطية الطفاوي، وابوه من رجال التعجيل، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 73، والطبراني في الكبير: 2667، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27075»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11390
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ ”ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ“ فَجَاءَتْ بِهِمْ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ ”إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ ان کوبلا کر لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک (خیبر کے علاقے) کی تیار شدہ ایک چادر ان کو اوڑھا دی اور اپنا ہاتھ سب کے اوپر رکھ کر فرمایا: یا اللہ! یہ لوگ آل محمد ہیں، تو اپنی رحمتیں اور برکتیںمحمد اور آل محمد پر نازل فرما، بے شک تو ہی قابل تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے چادر اٹھا کر ان کے ساتھ اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے چادر کو کھینچ لیا اور فرمایا: تم تو پہلے ہی خیر اور بھلائی پر ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11390]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27282»
وضاحت: فوائد: … بیشک تم خیر پر ہو۔ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم تو یہ ہے کہ وہ ان میں داخل نہیں ہیں، جبکہ قرآن مجید کے ظاہری مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ بیویاں داخل ہیں، ممکن ہے کہ حدیث ِ مبارکہ کے اس جملے کا معنییہ ہو کہ وہ تو بہر صورت ان میں داخل ہونے کی وجہ سے خیرو بھلائی پر ہی ہے۔
یہی دوسرا مفہوم ہی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)
یہی دوسرا مفہوم ہی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11391
عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَلَمَّا قَامُوا قَالَ لِي أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَيْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَتْ تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ آخِذٌ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِهِ حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ فَأَجْلَسَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ قَالَ كِسَاءً ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] وَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ“
ابو عمار شداد کہتے ہیں: میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ان کے ہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر چھیڑا دیا۔ (یعنی ان کے بارے میں ناگوار اور ناپسندیدہ باتیں کرنے لگے)، جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک چشم دید واقعہ بیان نہ کر دوں؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بیان فرمائیں۔ انہوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے ہوئے ہیں، میں ان کی انتظار میں بیٹھ گیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر چلے آئے اور آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دونوں کو اپنی ران پر بٹھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر یا اپنا کپڑا ان سب کے اوپر ڈال دیا۔پھر یہ آیت تلاوت کی:{إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … کہ اللہ تم سے یعنی نبی کے اہل بیت سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کرکے مکمل طور پر پاک صاف کرنا چاہتا ہے۔ (سورۂ احزاب:۳۳) ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت اس سعادت کے زیادہ حق دار ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11391]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 72، وابويعلي: 7486، والطبراني في الكبير: 22/ 160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17113»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11392
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْفَجْرِ فَيَقُولُ ”الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] “
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چھ ماہ تک یہ معمول رہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازفجر کے وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: اے اہل بیت! نماز ادا کرو۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم (اہل بیت) سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کرکے مکمل طور پر پاک صاف کرنا چاہتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11392]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 127، وابويعلي: 3979، والطيالسي: 2059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13764»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11393
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبُرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ مَعَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ كَبُرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأُجِيبُ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ“ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ قَالَ ”وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي“ فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ
یزید بن حیان تیمی کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو، انھوں نے کہا: اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو احادیثیاد کی تھیں، ان میں سے بعضوں کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کیا اور پھر یہ بھی فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے ربّ کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰیاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں۔ حصین نے کہا: اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں سے ہیں؟ انھوں نے کہا: بیشک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔ حصین نے کہا: وہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ اس نے کہا: کیا اِن سب پر صدقہ حرام ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11393]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19479»
وضاحت: فوائد: … ثَقَل کے معانی بیش قیمت نفیس چیز اور سامان کے ہیں، قرآن مجید اور اہل بیت کی شان و عظمت یا اس نصیحت کے مطابق کیے جانے والے عمل کے بھاری ہونے کی وجہ سے ان دو چیزوں کو ثَقَلَیْن کہا گیا ہے۔
امہات المؤمنین اس اعتبار سے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے کفیل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، نیز ان کے احترام و اکرام اور حقوق کے تقاضوں کو پورا کرنے کا خاص حکم دیا گیا ہے، لیکنیہ اس آل میں داخل نہیں ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔
امہات المؤمنین اس اعتبار سے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے کفیل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، نیز ان کے احترام و اکرام اور حقوق کے تقاضوں کو پورا کرنے کا خاص حکم دیا گیا ہے، لیکنیہ اس آل میں داخل نہیں ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11394
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ ”مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا كَانَ مَعِيَ فِي دَرَجَتِي فِي الْجَنَّةِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: جس نے مجھ سے اور ان دونوں سے اور ان کے باپ سے محبت کی وہ جنت میں میرے درجہ میں میرے ساتھ ہوگا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11394]
تخریج الحدیث: «ضعيف، علي بن جعفر بن محمد روي عنه جمع، ولكنه لايعرف بجرح ولا تعديل، اخرجه الترمذي: 3733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 576»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11395
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ“
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو باقی رہنے والی چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ایک تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، یہ ایک رسی ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان لٹکی ہوئی ہے اور میرا خاندان جو کہ میرے اہل بیت ہیں، لوگوں کے حوض کو ثر پر آنے تک یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11395]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواھده دون قوله وانھما لن يتفرقا حتييردا علي الحوض وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، اخرجه الطبراني: 4921، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21911»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11396
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعِتْرَتِي كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُونِي هُمْ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: بیشک قریب ہے کہ مجھے بلایا جائے ا ور میں اس دعوت کو قبول کر لوں، میں تمہارے درمیان دو اہم اور مضبوط چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور دوسری چیز میراخاندان، اللہ کی کتاب وہ رسی ہے، جو آسمان سے زمین کی طرف لٹک رہی ہے اور میرا خاندان میرے اہل بیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے، اس نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں حوض پر آنے تک یعنی قیامت تک ایک دوسری سے جدا نہ ہوں گی، تم میرا خیال رکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہو؟ [الفتح الربانی/حدیث: 11396]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواھده دون قوله: وان اللطيف الخبير اخبرني انھما لن يتفرقا حتييردا علي الحوض وھذا اسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، اخرجه الترمذي: 3788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11148»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11397
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٍ فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ فَجَاءَهُ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ قَالَ ”لَا وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ“ ثُمَّ قَالَ ”إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں بستر پر سویا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے پینے کے لیے کوئی چیز طلب کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری ایک بکری کی طرف کھڑے ہوئے، جس کا دودھ بہت ہی قلیلتھا یا بالکل ختم ہو گیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دوہنے لگے تو اس نے دودھ اتار دیا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک طرف کر دیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے آپ کو حسن رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔لیکن اس (حسن رضی اللہ عنہ) نے پہلے طلب کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں، تم، یہ دونوں بچے اور یہ سویا ہوا آدمییعنی سیدنا علی قیامت کے دن ہم سب ایک ہی جگہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11397]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، قيس بن الربيع مضطرب الحديث وضعّفه غير واحد، وآفته من ابن له كان يأخذ حديثَ الناس، فيدخله في كتاب قيس ولا يعرف الشيخ ذالك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 792»
وضاحت: فوائد: … مسند بزار کی روایت میں فَاسْتَسْقَی الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَیْنُ کے بجائے فَاسْتَسْقَی الْحَسَنُ کے الفاظ ہیں، ان الفاظ کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ فَجَائَہُ الْحَسَنُ والے الفاظ کی اصل صورت یہ ہے: فَجَائَہُ الْحُسَیْنُ، اس طرح معنی درست ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11398
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ ”أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناحسن، سیدنا حسین اور سیدہ فاطمہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: جو کوئی تمہارا مخالف ہو میں اس کا مخالف ہوں اور جو تم لوگوں سے صلح رکھے گا میری بھی اس سے صلح ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11398]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، تليد بن سليمان اتفقوا علي ضعفه، واتّھم بالكذب، اخرجه الحاكم: 3/ 149، والطبراني في الكبير: 2621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9696»
الحكم على الحديث: ضعیف