🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابٌ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ آلِ بَيْتِهِ الْمُطَهَّرِينَ
اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11399
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا قَالَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ“
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو خندہ روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو بے رخی اور ترش روئی سے ملتے ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شدید غضب ناک ہو کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کسی بھی آدمی کے دل میں ایمان اس وقت تک جاگزیں نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کے لیے تمہارے ساتھ دلی محبت نہیں رکھے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11399]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يزيد بن ابي زياد القرشي ضعيف، اخرجه الترمذي: 3758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1772»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11400
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تُحَدِّثُ فَإِذَا رَأَوْنَا سَكَتُوا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِي“
۔(دوسری سند) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:ہم باہر نکلیں تو ہم قریش کو آپس میں باتیں کرتے دیکھتے ہیں، لیکن جب وہ ہمیں دیکھتے ہیں تو خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر غضب ناک ہوگئے کہ آ پ کی آنکھوں کے درمیان سے پسینہ بہنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!کسی آدمی کے دل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اللہ کے لیے اور میرے ساتھ قرابت کا لحاظ کرتے ہوئے تم لوگوں سے محبت نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11400]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1777»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11401
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ وَاللَّهِ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ لَيْسَ ثَلَاثًا أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ قَالَ مُوسَى فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ فَقُلْتُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِنَّ الْخَيْلَ كَانَتْ فِي بَنِي هَاشِمٍ قَلِيلَةً فَأَحَبَّ أَنْ تَكْثُرَ فِيهِمْ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند بندے تھے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کی طرف سے جو پیغام دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اسی طرح آگے پہنچا دیا اور عام امت سے ہٹ کر تین باتوں کے سوا ہمیں علیحدہ کوئی خاص حکم نہیں دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کیا کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گدھوں سے گھوڑ یوں سے جفتی نہ کرائیں۔ موسیٰ بن سالم کہتے ہیں کہ جب میری عبدالرحمن بن حسن سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا: عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس نے مجھے یوں بیان کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ بنو ہاشم میں گھوڑے کم تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا کہ ان کے ہاں گھوڑوں کی تعدادمیں اضافہ ہو جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس عمل سے منع فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11401]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 808،والترمذي: 1701،وابن ماجه: 426،والنسائي: 1/89، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1977»
وضاحت: فوائد: … وضو مکمل کرنا اور گھوڑیوں کی گدھوں سے جفتی کرانا، یہ دو حکم عام امت کے لیے بھییہی ہیں، جو اس حدیث میں بیان ہوئے ہیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل صدقہ نہیں کھا سکتے۔
گھوڑیوں کی گدھوں سے جفتی کروانے کا حکم کیاہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۹۵) اور اس سے پہلے والی احادیث۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11402
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ جِئْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو هَاشِمٍ لَا يُنْكَرُ فَضْلُهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَصَفَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنْهُمْ أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ ”إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَإِنَّمَا هُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ“ قَالَ ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں (جبیر) اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ان کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان سے اس مقام کی وجہ سے، جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا، لیکن آپ غور کریں کہ یہ جو ہمارے بھائی بنو مطلب ہیں، آپ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، جبکہ ہم اور بنو مطلب آپ سے ایک مقام پر ہیں، (یعنی آپ سے ہمارا اور ان کا رشتہ داری کا درجہ ایک ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نہ مجھ سے جاہلیت میں جدا ہوئے ہیں اور نہ اسلام میں، بس بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11402]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3140، 3502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16862»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11403
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَيْرُ عَطَاءٍ هَذَا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَيَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنْ كَانَ لَكُمْ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ فَلَأَعْرِفَنَّ مَا مَنَعْتُمْ أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ“
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بنو عبد مناف کو کوئی چیز دی اور) فرمایا: اے بنی عبدمناف! یہ بہترین عطیہ ہے اور اے بنو عبدالمطلب! اگر تمہیں حکومت اور اقتدار مل جائے تو تم کسی کو بھی دن رات کی کسی گھڑی میں بیت اللہ کا طواف کرنے سے نہ روکنا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11403]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود:1894،والترمذي: 868،وابن ماجه: 1254،والنسائي: 1/ 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16864»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. فَالأَوْلَى مِنْهُنَّ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ الثَّانِيَةُ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَوْدَةُ بِنْتُ زَمَعَةً رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
دوسری زوجۂ رسول ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11404
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ لِحَاجَتِهَا لَيْلًا بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ قَالَتْ وَكَانَتْ امْرَأَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جَسِيمَةً فَوَافَقَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَبْصَرَهَا فَنَادَاهَا يَا سَوْدَةُ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا إِذَا خَرَجْتِ فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ أَوْ كَيْفَ تَصْنَعِينَ فَانْكَفَأَتْ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ لَهَا عُمَرُ وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ لَفِي يَدِهِ فَقَالَ ”لَقَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا، اس کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے باہر گئیں۔ وہ کافی جسیم تھیں اور ان کا قد کافی طویل تھا، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے ان کو دیکھا تو زور سے کہا: سودہ! اللہ کی قسم! تم جب باہر آتی ہو تو ہم سے مخفی نہیں رہ سکتیں، اب دیکھ لو کہ تم کو کیسے نکلنا چاہیےیا کیا کرنا چاہیے؟وہ وہیں سے لوٹ آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی اور شکایت کی۔ گوشت والی ہڈی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میںہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کانزول شروع ہوگیا، اس کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوا تو ابھی تک وہ ہڈی آپ کے ہاتھ ہی میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تمہیں اپنی ضرورت کے لیے گھر سے باہر جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11404]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 147، 4795، 5237، ومسلم: 2170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24794»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11405
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کے حق میں قرعہ نکلتا، اسے ساتھ لے کر جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر بیوی کے لئے اس کی رات اور اس کا دن تقسیم کیا کرتے تھے، ما سوائے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے، کیونکہ انہوں نے اپنا دن اور رات ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دیا تھا، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا تلاش کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2593، 2688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25371»
وضاحت: فوائد: … جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہوئیں اور ان کو یہ شبہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جدا کر دیں تو انھوں نے اپنا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا یہ ہبہ قبول کر لیا،یہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا کمال حکیمانہ فیصلہ تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11406
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِي فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِي بِيَوْمِهَا مَعَ نِسَائِهِ قَالَتْ وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدَهَا
ہشام اپنے والد (عروہ) سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا جب عمر رسیدہ ہوگئیں تو انہوں نے اپنی باری مجھے ہبہ کر دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی باری والا دن بھی مجھے دیا کرتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد یہ پہلی بیوی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں آئیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11406]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: وكانت اول امرأة تزوجھا بعدي فقد تفرد به شريك النخعي وھو سييء الحفظ، اخرجه البخاري: 5212 دون الجملة المنكرة، وأخرجه مسلم: 1463ولم يسق لفظه، انما احال علي حديث جرير وقال: وزاد في حديث شريك: قالت: وكانت اول امرأة تزوجھا بعدي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24899»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ وہ پہلی خاتون تھیں، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد شادی کی، ا س سے مراد نکاح ہے، یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے پہلے ہوا تھا، لیکن بالاتفاق ان کی رخصتی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بعد ہوئی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں