🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ الرَّابِعَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ بِنْتِ عُمر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11447
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ أَوْ حُذَيْفَةَ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ قَالَ سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِينِي فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ ابْنَةَ عُمَرَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَكُنْتُ أَوْجَدُ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِينِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا حِينَ عَرَضْتَهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سیدنا خنیس بن حذافہ یا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بیوہ ہوگئی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوئہ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے مدینہ میں وفات پائی تھی، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان پر حفصہ کو پیش کیا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں حفصہ سے تمہارا نکاح کر دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں اس بارے میں غور کروں گا، میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا، پھر وہ مجھے ملے اور کہا: میں ان دنوں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا تم سے نکاح کر دیتا ہوں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، اس وجہ سے ان پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ افسوس ہوا، بہرحال میں چند دن ٹھہرا رہا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے میری بیٹی کے نکاح کا پیغامآگیا اور میں نے اس کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا، بعد میں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انہوں نے کہا: جب تم نے مجھ پر حفصہ کو پیش کیا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تو تم مجھ سے ناراض ہوئے ہو گے؟ میں نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: مجھے آپ کی پیشکش کا جواب دینے میں صرف ایک چیز رکاوٹ تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، یہ ایک راز تھا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رشتہ نہ کرتے تو میں حفصہ سے نکاح کر لیتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11447]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5129، 4005، 5122، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 74 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 74»
وضاحت: فوائد: … کتنی بڑی بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورسیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو عظیم سمجھ کر ان پر اپنی بیٹی پیش کی، لیکن ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کی بیٹی ام المومنین بننے والی ہے، یہ سب شریعت کا پاس و لحاظ کرنے کی برکتیں ہیں۔ غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کی حفاظت کی، وہ کس قدر گہرائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت کو سمجھتے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5129
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11448
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ وَكَانَتْ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ لَقِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عُثْمَانَ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ وَسَأَنْظُرُ فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَطَبَهَا فَلَقِيَ عُمَرُ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَرَدَّنِي وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ فَسَكَتَّ عَنِّي فَلَأَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشَدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ وَقَدْ رَدَّنِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَكَرَ مِنْ أَمْرِهَا وَكَانَ سِرًّا فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، سیدنا خنیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، جب وہ بیوہ ہوگئیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی۔ لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے بیویوں کی حاجت نہیں ہے، تاہم میں اس بارے میں سوچوں گا۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملے اور انہیں بھی حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی۔ لیکن وہ خاموش رہے (اور کوئی جواب ہی نہیں دیا)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق ناراضگی آگئی، اس کے بعد جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کا پیغام بھیج دیا، اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملے اور کہا: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کی پیش کش کی تھی تو انہوں نے انکار کر دیا تھا، اس کے بعد میں نے آپ کو حفصہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کی پیش کش کی تو آپ خاموش رہے اور مجھے واپسی جواب تک نہ دیا۔ تو مجھے عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ آپ پر غصہ آیا، کیونکہ انہوں نے واضح طور پر انکار تو کر دیا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا تذکرہ کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات ابھی تک راز تھی، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو افشاء کرنا جائز نہ سمجھا۔ (اور خاموش رہا)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11448]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4005، 5122، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4807»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4005
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11449
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا
عاصم بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع کر لیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11449]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 17/466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16020»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک درج ذیل شاہد بھی بیان کیا: قیس بن زید کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، ان کے دو ماموں قدامہ اور عثمان، جو مظعون کے بیٹے تھے، ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئیں اور انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیر ہو جانے کی وجہ سے مجھے طلاق نہیں دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام: رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃُ، وَاِنَّھَا زُوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) … جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، وہ تو بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہے اور جنت میں آپ کی بیوی ہے۔ (ابو نعیم نے اس کوالحلیۃ: ۲/ ۵۰ میں اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آدمی کا اپنی بیوی کو طلاق دینا جائز ہے، اگرچہ وہ روزے رکھنے والی اور قیام کرنے والی ہو۔ کبھی کبھار تو ایسے ہوتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں شیر و شکر نہیں ہو پاتے اور بیوی اپنے خاوند کی اطاعت کے سارے تقاضے پورے نہیں کر پاتی، نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے اور بسا اوقات بعض ایسے داخلی امور طلاق کا سبب بن جاتے ہیں کہ دوسرے لوگ جن پر مطلع نہیں ہو سکتے۔ ان وجوہات کی بنا پر طلاق کو قاضی کی موافقت یا مخالفت پر موقوف کر دینااس وقت کی سب سے بڑی کم عقلی اور بری بات ہے۔ اکثر حاکموں، قاضیوں اور خطیبوں کی زبانوں پر یہ حدیث رواں ہے: ((اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ۔)) … اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ جبکہ یہ ضعیف ہے، میں نے (ارواء الغلیل: ۲۰۴۰) وغیرہ میں اس کی وضاحت کی ہے۔
(صحیحہ: ۲۰۰۷)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ الْخَامِسَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَمْ سلمة رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پانچویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11450
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَ أَتَى النَّجَاشِيَّ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ وَكَانَ رَحَلَ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَمَاتَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ وَإِنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ زَوَّجَهَا إِيَّاهُ النَّجَاشِيُّ وَمَهَرَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ ثُمَّ جَهَّزَهَا مِنْ عِنْدِهِ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ شَرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَجِهَازُهَا كُلُّهُ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ وَلَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَانَ مُهُورُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ
عروہ سے روایت ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عبید اللہ بن جحش کی زوجیت میں تھیں، وہ نجاشی کے ہاں گیا تھا اور وہیں (مرتد ہو کر) مر گیا۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حبشہ ہی میں تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح نجاشی نے کیا تھا اور اسی نے آپ کی طرف سے ان کو چار ہزار دیناربطور مہر ادا کئے تھے۔ پھر اس نے ان کے سفر کی تیاری کرکے ان کو شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔ ان کی مکمل تیاری اور سازو سامان نجاشی کی طرف سے تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز نہیںبھیجی تھی۔ باقی ازواج کے مہر چار سو درہم تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11450]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه ابوداود: 2107، 2108،والنسائي: 6/119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27953»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ تھا، سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں،یہ بعثت سے سترہ ماہ قبل پیدا ہوئی تھیں، عبید اللہ بن جحش سے ان کی شادی ہوئی، پھر یہ میاں بیوی دونوں مسلمان ہو گئے اور ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے، وہاں عبید اللہ تو نصرانی ہو کر مر گیا، لیکن سیدہ اسلام پر قائم رہیں، پھر نجاشی نے ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح کر دیا تھا۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ السَّادِسَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْ حبيبة رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھٹی زوجہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11451
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْنَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا فَقَالَ ”أَطْوَلُكُنَّ يَدًا“ فَأَخَذْنَا قَصَبًا فَذَرَعْنَاهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ أَطْوَلَنَا ذِرَاعًا فَقَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَنَا بِهِ لُحُوقًا فَعَرَفْنَا بَعْدُ إِنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ وَكَانَتْ امْرَأَةً تُحِبُّ الصَّدَقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ایک دن آپ کے پاس جمع تھیں، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! ہم میں سے سب سے پہلے کون سی بیوی آپ کو جاملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں، وہ سب سے پہلے مجھے آکر ملے گی۔ ہم نے ایک سرکنڈا لے کر ہاتھوں کی پیمائش کی، تو ہم میں سے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے طویل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہم میں سے سب سے پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملیں،یعنی ازواج مطہرات میں سب سے پہلے ان کا انتقال ہوا، توہمیں بعد میں اس حقیقت کا پتہ چلا کہ ان کا ہاتھ صدقہ کرنے میں لمبا تھا، وہ صدقہ کرنے کو بہت زیادہ پسند کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11451]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1420، ومسلم: 2452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25411»
وضاحت: ایک دن آپ کے پاس جمع تھیں، انہوںنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! ہم میں سے سب سے پہلے کون سی بیوی آپ کو جاملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں، وہ سب سے پہلے مجھے آکر ملے گی۔ ہم نے ایک سرکنڈا لے کر ہاتھوں کی پیمائش کی، تو ہم میں سے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے طویل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہم میں سے سب سے پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملیں،یعنی ازواج مطہرات میں سب سے پہلے ان کا انتقال ہوا، توہمیں بعد میں اس حقیقت کا پتہ چلا کہ ان کا ہاتھ صدقہ کرنے میں لمبا تھا، وہ صدقہ کرنے کو بہت زیادہ پسند کرتی تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1420
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ السَّابِعَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساتویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11452
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ فَمَا أَوْلَمَ قَالَ أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسا ولیمہ ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے موقع پر کیا تھا، ویسا ولیمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری کسی اہلیہ کے ساتھ نکاح کے موقع پر نہیں کیا۔ ثابت بنانی نے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ولیمہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ نے لوگوں کو اس قدر گوشت روٹی کھلائی کہ لوگوں سے کھانا بچ رہا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11452]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4793، ومسلم: 1428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12789»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4793
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11453
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْكَحَنِي مِنَ السَّمَاءِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی بیویوں پر فخر کرتے ہوئے کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان پر سے کیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11453]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7420، 7421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13394»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا اعزاز تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح آسمانوں پر سے خود اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔
بَابُ الثَّامِنَۃِ مِنْ أَزْوَاجِہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ زَیْنَبَ بِنْتِ خُزَیْمَۃَ الْھِلَالِیَّۃِ رضی اللہ عنہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آٹھویں بیوی ام المؤمنین سیدہ زینب بنت خزیمۃ ہلالیہ رضی اللہ عنہا
مسند احمد میں سیدہ زینب بن خزیمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ نہیں ہے، یہ زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمر بن عبد مناف تھی، ان کی کنیت ام المساکین تھی،یہ پہلے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، غزوۂ احد میں جب ان کی شہادت ہوگئی تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں دو یا تین ماہ ہی گزارے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں مدینہ کے قبرستان بقیع غرقد میں دفن کیا گیا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7420
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ الثَّامِنَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ زَيْنَبَ بِنْتِ خُزَيْمَةَ الْهَلَالِيةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آٹھویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11454
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالٌ بَعْدَمَا رَجَعْنَا مِنْ مَكَّةَ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب ہم مکہ سے واپس ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا اور ہم دونوں احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11454]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1410، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27352»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1410
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ التَّاسِعَةِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ميمونة بنت الْحَارِثِ خَالَةِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا، یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11455
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا
مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو آپ ان دونوں مواقع پر احرام کی حالت میں نہیں تھے، میں ان دونوں ہستیوں کے درمیان قاصد تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11455]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه الترمذي: 841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27739»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11456
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ“ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي فِي الْبَعْثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَسْتَ تُحِبُّ مَا أُحِبُّ“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَا“ فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِهَا
مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ایک دستے میں میرے نام کا بھی اندراج کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر میمونہ کو لے آؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرا نام تو فلاں دستے میں لکھا جا چکا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں وہ کام پسند نہیں، جو مجھے پسند ہے؟ میں نے عرض کیا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم جا کر میمونہ کو میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ میں گیا اور ان کو لے آیا۔ یہ حدیث دلیل ہے کہ قابل اعتماد مسلمان غلام کو دوران سفر عورت کے ساتھ روانہ کیا جاسکتا ہے۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/حدیث: 11456]
تخریج الحدیث: «قال الھيثمي: رجاله رجال الصحيح، غير الحسن بن علي بن ابي رافع، وھو ثقة، أخرجه ابن خزيمة: 2528، وسعيد بن منصور في سننه: 2490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27727»

الحكم على الحديث:
قال الھيثمي: رجاله رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں