🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ التَّاسِعَةِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ميمونة بنت الْحَارِثِ خَالَةِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا، یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11457
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَمَاتَتْ بِسَرِفَ فَدَفَنَهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا فَنَزَلْنَا فِي قَبْرِهَا أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ
ابو فزارہ سے روایت ہے، وہ یزید بن اصم سے اور وہ زوجۂ نبی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو آپ ان دونوں مواقع پر احرام کی حالت میں نہیں تھے اور ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی وفات سرف کے مقام پر ہوئی تھی، (عجیب حسن اتفاق ہے کہ) جس مقام پر ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خلوت ہوئی تھی، ان کو وہیں دفن کیا گیا اور ان کی قبر میں میں اور ابن عباس رضی اللہ عنہ اترے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11457]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27365»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۸۳۸)

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1411
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ الْعَاشِرَةِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ جويرية بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دسویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11458
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مَلَّاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي قَالَ ”فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ“ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ“ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”قَدْ فَعَلْتُ“ قَالَتْ وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ قَالَتْ فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدیوں کو صحابہ میں تقسیم کیا تو جویریہ بنت حارث، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد کے حصہ میں آئیں۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے فوراً ان سے مکاتبت کر لی (کہ وہ اتنے عرصے میں اتنی رقم دے کر آزاد ہو جائے گی)، یہ کافی دل کش خاتون تھیں، جو کوئی انہیں دیکھتا، بس وہ دیکھتا ہی رہ جاتا۔ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں تا کہ اپنی مکاتبت کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعاون حاصل کر سکیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب میں نے ان کو اپنے کمرہ کے دروازے پر دیکھا تو غیرت کے مارے وہ مجھے اچھی نہ لگیں، میں جانتی تھی کہ ان کے متعلق میں جو کچھ دیکھ رہی ہوں، آپ بھی ضرور وہی محسوس کریں گے (کہ یہ کافی خوبصورت ہے اور اس سے شادی کر لینی چاہیے)۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئیں اور کہا: میں اپنی قوم کے سردار حارث بن ابی ضرارکی دختر ہوں، مجھ پر جو آزمائش آئی ہے، وہ آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اب میںثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد کے حصے میں آ گئی ہوں، میں نے اپنی آزادی کا ان سے ایک معاہدہ کیا ہے، میں اس سلسلہ میں آپ سے تعاون حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہ تمہارے معاہدہ کی ساری رقم میں ادا کردوں اور تمہارے ساتھ نکاح کر لوں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ٹھیک ہے، میں راضی ہوں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب لوگوں میں یہ خبر پھیلی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جویریہ بنت حارث سے نکاح کر لیا ہے۔ تو لوگوں نے کہا کہ یہ قیدی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرال ہوئے۔ تو انہوں نے اپنے اپنے حصے کے قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جویریہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے نتیجہ میں بنو مصطلق کے سو گھروں کے لوگ آزاد ہوگئے، میں کسی ایسی عورت کو نہیں جانتی جو ان سے بڑھ کر اپنی قوم کے لیے با برکت ثابت ہوئی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11458]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 3931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26897»
وضاحت: فوائد: … غزوہ بنو المصطلق میں اس قبیلہ کے بہت سے لوگ قیدی ہوئے۔ انہی میں اس قبیلہ کے سردار حارث بن ابی ضرار کی دختر جویریہ بھی تھیں۔ یہ گرفتاری ان کے لیے باعث سعادت بن گئی۔ قیدیوں کی تقسیم ہوئی تویہ ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا زاد کے حصہ میں آئیں۔ انہوںنے اس سے مکاتبت یعنی کچھ رقم دے کر آزاد ہونے کا معاہدہ کر لیا۔ تعاون کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں تو آپ نے ان کی ساری رقم ادا کرکے ان سے نکاح کا عندیہ دیا۔ انہوںنے اس سے موافقت کرلی۔ اور اس طرح انہیں ام المؤمنین اور زوجۂ نبی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
نکاح کے سبب بنو مصطلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرال قرار پائے۔تو صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرالی قبیلہ کے افراد کو قیدی بنا کر رکھناگوارانہ کیا اور انہیں آزاد کر دیا۔ شرح مسند میں ہے کہ ان کی تعداد سات سو تھی۔ اس طرح ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا اپنی قوم کے لیے انتہائی بابرکت ثابت ہوئیں۔ الاصابہ میں ہے کہ غزوۂ بنی المصطلق کو غزوۃ المریسیع بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پانچ یا چھ ہجری میں پیش آیا۔ ابن سعد ابن ابی خیثمہ اور ابو عمر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ اس سے قبل ان کانام برہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بدل کر جویریہ رکھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ الحادِيَةَ عَشَرَةَ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَمْ الْمُؤْمِنِينَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حَىُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گیارہویں زوجۂ ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11459
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُونِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ“ قَالَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصْلِحُهَا وَتُهَيِّئُهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ ابْنَةُ حُيَيٍّ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ قَالَ فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ قَالَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا ثُمَّ جِيءَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ وَقَالَ النَّاسُ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ فَقَالُوا إِنْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ وَدَفَعْنَا قَالَ فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ قَالَ فَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ قَالَ فَقَامَ فَسَتَرَهَا قَالَ وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ بِنِسَائِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ ”سَلَامٌ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ“ فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ فَيَقُولُ ”بِخَيْرٍ“ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ الْحِجَابَ هَذِهِ الْآيَاتِ {لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: 53] حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن میں سواری پر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا تھا اور میر اقدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کو لگ رہا تھا، ہم وہاں پہنچے تو آفتاب طلوع ہو چکا تھا، وہ لوگ اپنے جانوروں کو ہانک کر باہر نکلے اور اپنی کلہاڑیاں، ٹوکریاں اور رسیاںلے کر روانہ ہوئے یعنی وہ لوگ بالکل بے خبر تھے اور عام معمول کے مطابق اپنے اپنے کام کو روانہ ہوئے۔ اچانک ہی وہ حیران ہو کر کہنے لگے یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا لشکر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، اب خیبر کی خیر نہیں، ہم جب کسی قوم کے علاقے میں جا اتریں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے ان یہود کو شکست سے دو چار کیا اور ایک خوبصورت لونڈی دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات غلام دے کر ان سے اسے خرید لیا اور اسے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا تاکہ وہ اس کو تیار کرے۔ یہ حیی کی دختر صفیہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں کھجور، پنیر اور گھی پیش کیا۔ زمین میں چھوٹے چھوٹے گڑھے بنا کر ان پر دستر خوان بچھا دیئے گئے پھر پنیر کھجور اور گھی ان پر ڈال دیا گیا۔ لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ آپ نے اس سے نکاح کیا ہے یا ام ولد (لونڈی) کی حیثیت دی ہے؟ پھر لوگوں نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پردہ کرایا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہیں اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ لونڈی ہیں، جب آپ نے سوار ہونے کا یعنی روانگی کا ارادہ کیا تو ان کو پردہ کرایایہاں تک کہ وہ اونٹ کی پشت پر سوار ہوگئیں۔ لوگ جان گئے کہ آپ نے ان سے نکاح کرکے ان کو بیوی کی حیثیت دی ہے۔ جب لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز چلے اور ہم بھی تیز تیز چلنے لگے۔ تیز چلنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء اونٹنی کا پاؤں الجھ گیا اور وہ گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر ان پر پردہ کر دیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:عورتوں نے آکر کہا: اللہ اس یہودی عورت کو ہلاک کرے۔ (کہ اس کی وجہ سے آپ گر گئے ہیں) میں نے یعنی ثابت نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گر گئے تھے؟ انہوں نے کہاں: ہاں ہاں، اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گر گئے تھے اور میں ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں شریک ہوا تھا، آپ نے لوگوںکو گوشت روٹی کھلا کر خوب سیر کیاتھا، آپ مجھے بھیجتے تھے اور میں لوگوں کو بلا کر لاتا تھا،آپ جب کھانا کھلانے سے فارغ ہوئے تو اٹھ کر چل دیئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ دو آدمی باتیں کرتے کرتے بیٹھے رہے اور وہ پیچھے رہ گئے اور وہ اٹھ کر نہ گئے۔ آپ اپنی ازواج کے ہاں چکر لگانے لگے اور ہر ایک کو ان الفاظ کے ساتھ سلام کہتے: سَلَامٌ عَلَیْکُمْیَا أَہْلَ الْبَیْتِ اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو۔ تمہار کیا حال ہے؟ وہ کہتیں: اے اللہ کے رسول! ہم ٹھیک ہیں اور آپ نے اپنے اہل کو کیسا پایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی فرماتے تھے: خیر کے ساتھ پایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا۔ آپ ابھی تک دروازے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں آدمیوں کو دیکھا، وہ ابھی تک سلسلہ کلام جاری رکھے ہوئے تھے، انہوں نے جب دیکھا کہ آپ جا کر واپس آگئے ہیں تو وہ اٹھ کر چلے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں کہ آپ کو میں نے بتلایایا آپ پر وحی نازل ہوئی کہ وہ دونوں جا چکے ہیں۔ آپ واپس آئے۔اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا۔ آپ نے جب اپنا پاؤں د روازے کی چوکھت پر رکھا تو اپنے اور میرے درمیان آپ نے پردہ لٹکا دیا۔ اور اللہ نے حجاب کے متعلق یہ آیات نازل کر دیں: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ} … تم نبی کے گھروں میں بلا اجازت مت جاؤ، الایہ کہ تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے تو ایسے وقت جاؤ کہ تمہیں کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ (سورۂ احزاب: ۵۳) [الفتح الربانی/حدیث: 11459]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13610»
وضاحت: فوائد: … مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۱۹) والا باب
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، بنو نضیر کے سردار حیی کی بیٹی اور کنانہ کی بیوی تھیں، خیبر والے دن کنانہ قتل ہو گیا تھا اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا قیدیوں میں آ گئی تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: ص 1045
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11460
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسٍ أَيْضًا بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ النَّاسُ وَأَوْضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَرَّتْ مَعَهُ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرْنَ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ وَفَعَلَ بِهَا وَفَعَلَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے اسی طرح ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی اپنی سوار یوں کو دوڑانا شروع کر دیا، وہ اسی طرح کرتے جا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی گر گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھ ہی ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گر گئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ازواج یہ منظر دیکھ رہی تھیں، وہ بولیں: اللہ اس یہودن کو ہلاک کرے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر ان پر پردہ کر دیا اور ان کو دوبارہ اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11460]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12265»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12265
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11461
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي قَسْمِهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ
۔(تیسری سند) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مال غینمت کی تقسیم میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں۔ اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہی ہے۔ البتہ اس طریق میںیوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھایا، پھر نیچے اتر کر ان کے اوپر قبہ بنایا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11461]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12266»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12266
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11462
عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ قَالَ فَعَثَرَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصُرِعَتْ صَفِيَّةُ قَالَ فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ أَضُرِرْتَ قَالَ أَشُكُّ قَالَ ذَاكَ أَمْ لَا قَالَ ”لَا عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ“ قَالَ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ عَلَى وَجْهِهِ الثَّوْبَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ أَصْلَحَ لَهَا رَحْلَهَا فَرَكِبْنَا ثُمَّ اكْتَنَفْنَاهُ أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ أَوْ كُنَّا بِظَهْرِ الْحَرَّةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ“ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهُنَّ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس ہوئے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی پھسلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا گر گئے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہا تیزی سے لپک کر آگے بڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، اس جملہ کے بارے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اس جملے کے متعلق شک ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا یا نہیں کہا تھا، پھر انھوں نے کہا: آپ کو چوٹ تو نہیں آئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس عورت یعنی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خبر لو۔ پس سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ لیا اور ان کی طرف جا کر اپنا کپڑا ان کے اوپر پھیلا دیا، پھر ان کے پالان کو درست کیا، پھر ہم سوار ہو کر چل دیئے۔ اس کے بعد ہم دونوں آپ کے دائیں بائیںہوگئے۔ جب ہم مدینہ منورہ کے قریبیا حرہ کے قریب پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھنا شروع کر دی: آیِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔ (ہم واپس آنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے، توبہ کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔) آپ ان الفاط کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11462]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3085، 3086، 5968، 6185، ومسلم: 1345، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12977»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3085
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11463
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی کو آزاد کیا او ر ان کی آزادی کوہی ان کا حق مہر مقرر کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11463]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5086، ومسلم: ص 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13540»
وضاحت: فوائد: … یہ رمضان ۷ ھ کا واقعہ ہے، یہ غزوہ بنو مصطلق میں قید ہو کر آئیں۔ حیییہودی کی بیٹی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں غلامی سے آزاد کر دیا اور اسی آزادی کو حق مہر قرار دیتے ہوئے ان سے نکاح کر لیا اور اس طرح سیدہ صفیہ ام المومنین بن گئیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5086
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَأَنَّهَا مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهَجَرَ النَّبى ﷺ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ مِنْ أَجْلِهَا
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11464
عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ ”مَا شَأْنُكِ“ فَقَالَتْ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكِ ابْنَةُ نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ“ فَقَالَ ”اتَّقِ اللَّهَ يَا حَفْصَةُ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر ملی کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ یہ صفیہ تو ایک یہودی کی بیٹی ہے، اس سے وہ رونے لگ گئیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہ رہ رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: حفصہ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو ایک نبی کی بیٹی ہو، تمہارا چچا بھی نبی ہے اور تم ایک نبی کی بیوی بھی ہو، سو وہ حفصہ کس بنا پر تجھ پر فخر کرتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حفصہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11464]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12419»
وضاحت: فوائد: … باپ سے مراد ہارون علیہ السلام، چچا سے مراد موسی علیہ السلام اور خاوند سے مراد خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ کا نام حیی بن اخطب تھا، یہ بنو نضیر سے تھا، بنو نضیر لاوی بن یعقوب کی نسل سے ہیں اور پھر یہ سلسلہ ہارون بن عمران علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے، اس طرح سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ ہارون علیہ السلام قرار پائے، اور اِن کے بھائی موسی علیہ السلام تھے، پس وہ چچا قرار پائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11465
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فُسْطَاطَهُ حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ فِيهَا قَسْمٌ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ“ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ حَضَرْنَا فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ فَقَالَ ”كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمہ میں داخل ہوئیں تو لوگ آگئے، میں بھی لوگوں کے ساتھ آگیا، تاکہ ان کے ساتھ ولیمہ میں میں بھی شریک ہو جاؤں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیمہ سے باہر چلے گئے اور فرمایا: تم بھی اپنی ماں کے پاس سے اٹھ آؤ۔ پھر جب پچھلا پہر ہوا تو ہم پھر جمع ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، آپ کی چادر کے ایک پلو میں ڈیڑھ مد کے قریب عجوہ کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: یہ کھاؤ، یہ تمہاری ماںکا ولیمہ ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11465]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابويعلي: 2251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14630»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11466
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّ بِنِسَائِهِ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ رَجُلٌ فَسَاقَ بِهِنَّ فَأَسْرَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَاكَ سَوْقُكَ بِالْقَوَارِيرِ“ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ بَرَكَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جَمَلُهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِهِنَّ ظَهْرًا فَبَكَتْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ دُمُوعَهَا بِيَدِهِ وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُكَاءً وَهُوَ يَنْهَاهَا فَلَمَّا أَكْثَرَتْ زَبَرَهَا وَانْتَهَرَهَا وَأَمَرَ النَّاسَ بِالنُّزُولِ فَنَزَلُوا وَلَمْ يَكُنْ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِلَ قَالَتْ فَنَزَلُوا وَكَانَ يَوْمِي فَلَمَّا نَزَلُوا ضُرِبَ خِبَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ فِيهِ قَالَتْ فَلَمْ أَدْرِ عَلَامَ أَهْجُمُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنِّي قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا تَعْلَمِينَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَبِيعُ يَوْمِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ أَبَدًا وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لَكِ عَلَى أَنْ تُرْضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِّي قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَأَخَذَتْ عَائِشَةُ خِمَارًا لَهَا قَدْ ثَرَّدَتْهُ بِزَعْفَرَانَ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيُذَكَّى رِيحُهُ ثُمَّ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا ثُمَّ انْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَتْ طَرْفَ الْخِبَاءِ فَقَالَ لَهَا ”مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِكِ“ قَالَتْ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ قَالَتْ فَقَالَ مَعَ أَهْلِهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّوَاحِ قَالَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ”يَا زَيْنَبُ أَفْقِرِي أُخْتَكِ صَفِيَّةَ جَمَلًا“ وَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِهِنَّ ظَهْرًا فَقَالَتْ أَنَا أُفْقِرُ يَهُودِيَّتَكَ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْهَا فَهَجَرَهَا فَلَمْ يُكَلِّمْهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَأَيَّامَ مِنَى فِي سَفَرِهِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَالْمُحَرَّمُ وَصَفَرٌ فَلَمْ يَأْتِهَا وَلَمْ يَقْسِمْ لَهَا وَيَئِسَتْ مِنْهُ فَلَمَّا كَانَ شَهْرُ رَبِيعِ الْأَوَّلِ دَخَلَ عَلَيْهَا فَرَأَتْ ظِلَّهُ فَقَالَتْ إِنَّ هَذَا لَظِلُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ هَذَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَصْنَعُ حِينَ دَخَلْتَ عَلَيَّ قَالَتْ وَكَانَتْ لَهَا جَارِيَةٌ وَكَانَتْ تُخْبِئُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فُلَانَةُ لَكَ فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَرِيرِ زَيْنَبَ وَكَانَ قَدْ رُفِعَ فَوَضَعَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ أَصَابَ أَهْلَهُ وَرَضِيَ عَنْهُمْ
سیدہ صفیہ بنت ِ حیی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کے ساتھ حج کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں راستہ میں تھے کہ ایک آدمی اترا، اور عورتوں کی سواریوں کو تیز تیز چلانے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح شیشوں (عورتوں) کو لے کر چلتے ہیں؟ سو وہ چل رہے تھے کہ صفیہ بنت حیی کا اونٹ بیٹھ گیا،حالانکہ ان کی سواری سب سے اچھی تھی،وہ رونے لگ گئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے ان کے آنسوپونچھنے لگ گئے، وہ اور زیادہ رونے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع کرتے رہے۔جب وہ بہت زیادہ رونے لگ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور لوگوں کو اترنے کا حکم دے دیا، سو وہ اتر گئے،اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اترنے کا ارادہ نہیں تھا۔وہ کہتی ہیں:صحابہ کرام اتر پڑے اور اس دن میری باری تھی۔ جب صحابہ اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیمہ نصب کیا گیا، آپ اس میں داخل ہوگئے۔ وہ کہتی ہیں:یہ بات میری سمجھ میں نہ آ سکی کہ میں کیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گھس جاؤں اور مجھے یہ ڈر بھی تھا کہ (ممکن ہے کہ) آپ کے دل میں میری بارے میں کوئی ناراضی ہو۔ وہ کہتی ہیں: میں عائشہ کے پاس گئی اور ان سے کہا: تم جانتی ہو کہ میں کسی چیز کے عوض اپنے دن کا سودا نہیں کروں گی، لیکن میں تجھے اپنی باری کا دن اس شرط پر ہبہ کرتی ہوں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے راضی کروا دو۔ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ اب وہ کہتی ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے زعفران میں رنگی ہوئی چادر لی اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو تروتازہ ہوجائے، پھر اپنے کپڑے زیبِ تن کئے، پھر رسول اللہ کی طرف چلی گئیں اور (جا کر) خیمہ کا ایک کنارہ اٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے عائشہ! تجھے کیا ہوا؟ یہ دن تیرا تو نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے۔ آپ نے اپنی اہلیہ کے پاس دوپہر کو آرام کیا۔ جب شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زینب بنت جحش سے فرمایا: اے زینب! اپنی بہن صفیہ کو ایک اونٹ مستعار دے دو۔ کیونکہ ان کے پاس سواریاں زیادہ تھیں۔ زینب نے کہا: کیا میں آپ کییہودیہ کو مستعار دے دوں؟یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ناراض ہو گئے اور اس سے بولنا ترک کر دیا اور اس سے کوئی بات نہ کی، حتی کہ مکہ پہنچ گئے، پھر منی والے دن (بیت گئے) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ واپس آ گئے اور محرم اور صفر کے (دو ماہ) بھی گزر گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ زینب کے پاس گئے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی باری مقرر کی۔ وہ بھی آپ سے نااُمید ہو گئیں۔ جب ربیع الاوّل کا مہینہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس گئے۔ زینب نے آپ کا سایہ دیکھا اور کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو میرے پاس آتے ہی نہیں، سو یہ (سائے والا) کون ہو سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس داخل ہوئے، جب زینب نے آپ کو دیکھا تو کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کے آنے سے (مجھے اتنی خوشی ہوئی ہے) کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں۔ وہ کہتی ہیں: ان کی ایک لونڈی تھی، جس کو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھپا کر رکھتی تھیں۔پھر اُس نے کہا: فلاں لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زینب کی چارپائی کی طرف گئے، اُسے اٹھا لیا گیا تھا، آپ نے اُس کو اپنے ہاتھ سے بچھایا، پھر اپنی اہلیہ سے مباشرت کی اور اُن سے راضی ہوئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11466]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25609»
وضاحت: فوائد: … سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بتقاضائے بشریت اپنی سوکن کے بارے میں سخت بات کر دی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سمجھانے کے لیے دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک ان سے قطع تعلقی کی۔ خاوند اور دوسرے مصلِح حضرات کو حکمت و دانائی سے متصف ہونا چاہیے تاکہ جرم اور مجرم کی نوعیت و کیفیت کو سمجھ کر فیصلہ کیا جائے کہ یہ معاملہ نرمی سے حل ہو جائے گا یا سختی سے کام لینا پڑے گا، جو رویہ باعث ِ عبرت ہو گا، اسے اختیار کیا جائے گا۔
اس حدیث سے درج ذیل امور کی توضیح بھی ہو رہی ہے:
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی زوجات کے حق میں نرمی ہے کہ ان کی سواریوں کو تیز چلانے سے روک دیا، نیز اپنی بیوی کو حوصلہ دلانے کے لیے اس کے آنسو پونچھنا کمال شفقت کا انداز ہے۔ کسی شخص کو اس کے سابقہ مذہب یا اس کے کسی گناہ کی وجہ سے اس پر طعن نہیں کیا جا سکتا، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو اس کے جرم کی سزا ملی اور دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب نہیں گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نورِ مجسم ثابت کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہیں تھا، اس حدیث سے اس خیال کی تردید ہو رہی ہے، کیونکہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سائے کی وضاحت کر دی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بشر تسلیم نہ کرنا ہی عقیدے کی خرابی ہے، کئی آیات و احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے۔
حدیث کے شروع میں عورتوں کو شیشے سے تشبیہ دی گئی ہے، اس سے مراد عورتوں کی رقت، ضعف اور نزاکت ہے اور یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ عام طور پر خواتین وفا پر دوام اختیار نہیں کر سکتیں اور بہت جلدی رضامندی کی حالت سے پھر جاتی ہیں، جیسے شیشہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے۔ بہرحالیہ ایک بدیع استعارہ ہے، جس کے ذریعے عورتوں سے نرمی کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں