🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَأَنَّهَا مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهَجَرَ النَّبى ﷺ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ ثَلاثَةَ أَشْهُرٍ مِنْ أَجْلِهَا
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11467
عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ وَفِي إِبِلِ زَيْنَبَ فَضْلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكِ“ فَقَالَتْ أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ قَالَ فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ شَهْرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً لَا يَأْتِيهَا قَالَتْ حَتَّى يَئِسْتُ مِنْهُ وَحَوَّلْتُ سَرِيرِي قَالَتْ فَبَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذَا أَنَا بِظِلِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ شُمَيْسَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْدُ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ قَالَ وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار پڑ گیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس زائد اونٹ تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے، کیا خیال ہے کہ اگر تم اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ ان کو دے دو۔ انھوں نے کہا: میں اس یہودن کو اونٹ دوں؟ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ناراض ہوگئے اور ذوالحجہ و محرم کے دو تین مہینے تک ان سے لا تعلق رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں اتنے عرصہ تک نہ گئے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آپ کے راضی ہونے سے مایوس ہوگئی اور میں نے اپنی چارپائی اٹھا کر ایک طرف کھڑی کر دی تھی کہ اچانک ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کا سایہ دیکھا۔ عفان نے کہا:حماد نے یہ حدیث شمیسہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی۔ عفان کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک دفعہ حماد نے مجھے یہی حدیث شمیسہ سے بیان کی کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی۔ اور بعد میں انہوں نے یوں کہا کہ یہ واقعہ حج کا تھا یا عمرے کا۔ عفان کہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ واقعہ حجہ الوداع میں پیش آیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11467]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة شميسة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25516»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة شميسة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْر مَنْ تَزَوَّجَهُنَّ أَوْ وَهَبَهُن أَنْفُسَهُنَّ ﷺ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهِنَّ أَوْ وَعَدَ بِزَوَاجِهِنَّ
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11468
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَا مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابٌ لَهُ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ مِنْهُمَا فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اجْلِسُوا“ وَدَخَلَ هُوَ وَقَدْ أُوتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ فِي بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ لَهَا فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَبِي لِي نَفْسَكِ“ قَالَتْ وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ قَالَ ”لَقَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ“ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ”يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا“ قَالَ وَقَالَ غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي الْجَوْنِ يُقَالُ لَهَا أَمِينَةُ
سیدنا ابو اسید اور سیدنا سہل رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا ہمارے پاس سے گزر ہوا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم ایک باغ تک گئے جس کا نام الشوط تھا، ہم وہاں دو اور باغوں کے پاس جا پہنچے اور ہم ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ اور آپ آگے چلے گئے، جونیہ خاتون کو امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے گھر میں لایا گیا تھا، اس کے ہمراہ اس کی ایک دایہ بھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس گئے اورفرمایا: تم اپنے آپ کو میرے لیے ہبہ کر دو۔ اس نے کہا: کیا کوئی ملکہ اپنے آپ کو اپنی رعایا کے لیے ہبہ کرسکتی ہے؟ ساتھ ہی وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس ذات کا نام لے کر پناہ مانگی ہے کہ صرف وہی ذات ایسی ہے جس کی پناہ طلب کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوا سید! تم اسے روئی کے دو سفید کپڑے دے کر اس کو اس کے اہل خانہ کے ہاں پہنچا دو۔ ابو احمد کے علاوہ باقی او ر راویوں نے جونیہ کی بجائے یوں کہا ہے کہ امیمہ بنت نعمان کے گھر میں بنو جون قبیلہ کی امینہ نامی ایک عورت کو لایا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11468]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5255، 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16158»
وضاحت: فوائد: … اس خاتون کے نام میں اختلاف ہے۔ اسمائ، عمیرہ اور امیمہ وغیرہ اس کے نام ذکر کیے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5255
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11469
جَمِيلُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ صَحِبْتُ شَيْخًا مِنَ الْأَنْصَارِ ذَكَرَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُقَالُ لَهُ كَعْبُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ زَيْدُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا وَضَعَ ثَوْبَهُ وَقَعَدَ عَلَى الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ ”خُذِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ“ وَلَمْ يَأْخُذْ مِمَّا أَتَاهَا شَيْئًا
جمیل بن زید کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری بزرگ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقعہ ملا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ اس کا نام کعب بن زیدیا زید بن کعب تھا، اس نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ بنو غفار کی ایک خاتون سے نکاح کیا، جب آپ اس کے ہاں داخل ہوئے تو اپنا کپڑا ایک طرف رکھا اور بستر پر بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی کو کھ پر برص کا سفید نشان نظر آیا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر سے دور ہوگئے اور فرمایا: اپنے کپڑے پہن لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جو کچھ عنایت کیا تھا، اس میں سے کوئی بھی چیز آپ نے واپس نہیں لی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11469]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جميل بن زيد الطائي، ثم ان في اسناد حديثه ھذا اضطرابا، اخرجه البيهقي: 7/ 256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16128»
وضاحت: فوائد: … برص: ایک بیماری جس سے بدن پر سفید داغ پڑ جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جميل بن زيد الطائي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11470
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ أَنَّهَا كَانَتْ مِمَّنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ ان خواتین میں سے ہے، جنھوں نے اپنے آ پ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11470]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28173»
وضاحت: فوائد: … خاتون کا اپنے آپ کو کسی کے لیے ہبہ کر دینا،یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا، یعنی خواتین اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہبہ سکتی تھیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی ہوتی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے خود نکاح کر لیںیا کسی سے کروا دیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11471
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ عَبَّاسٍ وَهِيَ فَوْقَ الْفَطِيمِ قَالَتْ فَقَالَ ”لَئِنْ بَلَغَتْ بُنَيَّةُ الْعَبَّاسِ هَذِهِ وَأَنَا حَيٌّ لَأَتَزَوَّجَنَّهَا“
سیدہ ام فضل بنت سے حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام حبیبہ بنت عباس کو اس عمر میں دیکھا کہ ابھی ان کا دودھ کچھ عرصہ قبل ہی چھڑایا گیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا: اگر میری زندگی میں عباس کی یہ بیٹی بالغ ہوگئی تو میں اس سے ضرور نکاح کروں گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11471]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حسين بن عبد الله ضعيف، اخرجه ابويعلي: 7075، والطبراني في الكبير: 25/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27407»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں