🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. الْفَضْلُ الأَوَّلُ فِي مَحَبَّةِ النَّبِيِّ ﷺ إِيَّاهُ وَحُبِّهِ مَنْ اَحَبَّهُ
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ¤کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12398
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِي فَطَافَ فِيهَا ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبَى فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ ”أَيْنَ لُكَاعٌ ادْعُوا لِي لُكَاعًا“ فَجَاءَ الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَاشْتَدَّ حَتَّى وَثَبَ فِي حَبْوَتِهِ فَأَدْخَلَ فَمَهُ فِي فَمِهِ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ“ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا رَأَيْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنِي أَوْ دَمَعَتْ عَيْنِي أَوْ بَكَتْ شَكَّ الْخَيَّاطُ (الرَّاوِي)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چکر لگایا، اس کے بعد واپس آکر مسجد میں بیٹھ گئے اور فرمایا: چھوٹا کہاں ہے؟ چھوٹو کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا حسن علیہ السلام آگئے اور دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگایا اور تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12398]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10904»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10904
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12399
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّ لِسَانَهُ أَوْ قَالَ شَفَتَهُ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12399]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16973»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12400
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَلَقِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَرِنِي أُقَبِّلْ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ قَالَ فَقَالَ بِالْقَمِيصَةِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ
عمیر بن اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا کہ ہم سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آملے اور انہوں نے کہا: حسن! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے اس مقام کو بوسہ دوں، جس مقام پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے ان کی قمیص اوپر اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12400]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به عمير بن اسحاق مختلف فيه، اخرجه ابن حبان: 5593، والطبراني: 2765، والحاكم: 3/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7455»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. فَضْلُ فِي أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللهِ ﷺ
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12401
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي“ قَالَ عَاصِمٌ قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ قَالَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَالَ فَذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ ذَكَرْتُهُ وَنَعَتُّهُ فِي مِشْيَتِهِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا:جب یہی حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ کو بیان کی تو میں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا نام لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ کے چلنے کے انداز کا بھی ذکر کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12401]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه الترمذي في الشمائل: 391، والحاكم: 4/ 393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8489»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12402
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَيَالٍ وَعَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ فَاحْتَمَلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ قَالَ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ
عقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چند راتوں بعد میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا، ان کے پہلو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی چلے آر ہے تھے، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، یہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرا دئیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12402]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، اخرجه البزار: 53، وابويعلي: 38، والطبراني في الكبير: 2528، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 40 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 40»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12403
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَشْبَهَ النَّاسِ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے زیادہ مشابہ تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12403]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3543، 3544، ومسلم: 2343، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18952»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3543
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12404
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَانَتْ فَاطِمَةُ تَنْقُزُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَتَقُولُ بِأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا،سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو پیار و محبت سے اچھالتیں تو کہا کرتی تھیں: میرا باپ قربان، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12404]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26954»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12405
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْحَسَنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ سینے سے سر تک اور حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نیچے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12405]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ھانيء بن ھانيئ، قال النسائي: ليس به بأس، وقال ابن المديني: مجھول، وقال الشافعي: لايعرف، وقال الحافظ في التقريب: مستور، وقال الالباني: ھذا الحديث ضعيف، اخرجه الترمذي: 3779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 774»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين غير ھانيء بن ھانيئ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. الْبَابُ الثَّالِثُ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الحَسَنُ وَالْحُسَین رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا مِنَ الْمَنَاقِبِ
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما مشترک ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12406
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَيَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُحِبُّهُمَا فَقَالَ ”مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،اس وقت آپ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ایک کندھے پر اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دوسرے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اس کا بوسہ لیتے اور کبھی اُس کا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے چلتے ہمارے پاس آگئے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوان دونوں سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے ان دونوں سے محبت ہے،اسے مجھ سے محبت ہے اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12406]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه الحاكم: 3/ 166، والبزار: 2627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9671»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12407
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا وَيَضَعُهُمَا عَلَى الْأَرْضِ فَإِذَا عَادَ عَادَا حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرُدُّهُمَا فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَقَالَ لَهُمَا ”الْحَقَا بِأُمِّكُمَا“ قَالَ فَمَكَثَ ضَوْءُهَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھانے کا ارادہ کرتے تو آپ اپنا ہاتھ پیچھے کر کے نرمی سے انہیں پکڑ کر زمین پر بٹھا دیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے سجدہ میں جاتے تو وہ پھر ویسے ہی کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیا، میں (ابوہریرہ) آپ کی طرف اٹھ کر گیا اور کہا: اللہ کے رسول! میں انہیں گھر پہنچا آؤں، اتنے میں ایک چمک سی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دونوں اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ان دونوں کے گھر داخل ہونے تک وہ چمک موجود رہی، ایک روایت میں ہے: ان دونوں کے اپنی والدہ کے ہاں جانے تک وہ چمک باقی رہی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12407]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 2630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10669»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں