الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. الْبَابُ الْخَامِسُ فِي مَوْتِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
حدیث نمبر: 12437
عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا“ وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا فَلَا تَسْبِقُونَا حَتَّى نَخْتَارَ لِأَنْفُسِنَا
جب یزید بن معاویہ کی وفات ہوئی توضحاک بن قیس نے قیس بن ہیثم کو خط لکھا، اس کا مضمون یہ تھا، تم پرسلامتی ہو، أَمَّا بَعْدُ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں جیسے شدید اور خوفناک فتنے بپا ہوں گے اور کچھ فتنے دھوئیں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، تب لوگوں کے دل یوں مردہ ہوجائیں گے، جیسے بدن مردہ ہو جاتے ہیں،ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اور کفر کی حالت میں شام کرے گا اور ایک آدمی شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے بدلے فروخت کرنے لگیں گے۔ یزید بن معاویہ فوت ہو چکا ہے اور تم ہمارے بھائی ہو، تم کسی معاملہ میں ہم سے سبقت نہ کرنا تاآنکہ ہم خود کسی بات کو اپنے لیے اختیار نہ کر لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12437]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره دون قوله: وفتنا كقطع الدخان يموت فيھا قلب الرجل كما يموت بدنه وھذا اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، اخرجه الطبراني في الكبير: 8135، والحاكم: 3/ 525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 000/72 بعد 24009) طبراني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24290»
وضاحت: فوائد: … جب مکہ مکرمہ میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں یزید بن معاویہ کے لشکر کی لڑائی جاری تھی اور بیت اللہ کی عمارت پر سنگ باری اور گولہ باری ہو رہی تھی، اسی اثناء میں یکم ربیع الاول سنہ ۶۴ ہجری کو مقام حوران میں تین سال اور آٹھ ماہ کی حکومت اور ۳۸ یا ۳۹ برس کی عمر میں یزید بن معاویہ کا انتقال ہو گیا۔
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره دون قوله: وفتنا كقطع الدخان يموت فيھا قلب الرجل كما يموت بدنه وھذا اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
109. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي الْبَيْعَةِ لَهُ
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت¤اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان¤باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 12438
عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى جَيْشِ بْنِ دَلَحَةَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ“ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ
بشر بن حرب سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور ان سے کہا: مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ کہ لوگوں کے ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے ہی آپ نے دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا کہ شامی آگئے اوروہ مجھے ابن دلحہ کے لشکر کی طرف لے گئے، میں نے اس کی بیعت بھی کرلی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا اندیشہ تھا، میں اسی سے ڈرتا تھا، ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے حماد بن سلمہ نے اپنی آواز کو لمبا کر کے کھینچا،ابو سعید نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کسی امیر کی امارت کے نہ ہوتے ہوئے نہ صبح کرے اور نہ شام کرے تو اسے ضرورکسی کی امارت میں چلے جانا چاہیے۔؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کے کسی ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے میں دوامیروں کی بیعت کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12438]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11267»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب
حدیث نمبر: 12439
قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ فَقَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي“ قَالَ شُعْبَةُ فَأَحْسِبُهُ قَالَ ”فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ“ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا
ابو عمران سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جندب سے کہا: میں ان لوگوں یعنی سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکا ہوں،اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ہمراہ شام کی طرف جاؤں، انہوں نے کہا: مت جانا، میں نے کہا: وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر مصر ہیں، انہوں نے کہا: تم مال دے کر جان چھڑا لو، میں نے کہا: ان کا ایک ہی اصرا ر ہے کہ میں ان کے ساتھ مل کر قتال میں حصہ لوں، جندب نے کہا: مجھے فلاں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد ہے: قیامت کے دن ایک مقتول اپنے قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھ کیوں قتل کیا تھا؟شعبہ کے الفا ظ ہیں: وہ کہے گا کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے فلاں کی حکومت بچانے کے لیے اسے قتل کیا تھا۔ تو جندب نے کہا: پس تم بچ ہی جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12439]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه النسائي مختصرا دون القصة: 7/84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23576»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور آپ کی ماں سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لانے سے بیس ماہ کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، آپ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی سب سے پہلی اولاد تھے، اس لیے مہاجرین غیر معمولی طور پر خوش ہوئے، آپ ۷۲ برس کی عمر میں جمادی الثانی سنہ ۷۳ ہجری میں بنو امیہ کے حکمرانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
اگلی حدیث اور اس کے متعلقہ بخاری کی شرح فتح الباری (ج:۷، ص: ۲۴۸) کو سامنے رکھیں تو بات یہ سمجھ آتی ہے کہ عبداللہ بن زبیر مسلمانوں کے ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے کے چند دن بعد پیدا ہوئے تھے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت مکہ معظمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی سے قائم تھی اور انھوں نے یزید کے عہد ِ حکومت میں مکہ پر کبھی یزید کی حکومت قائم نہیں ہونے گی،یزید کے مرنے کے بعد انھوں نے لوگوں سے بیعت ِ خلافت لی اور بہت جلد شام کے بعض مقامات کے ساتھ تمام عالم اسلام میں وہ خلیفہ تسلیم کر لیے گئے، اس زمانے مں ان کو ملک شام کی اس حالت کا جوان کے موافق پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ نہیں ہو سکا اور وہ بنو امیہ کی طاقت و قبولیت کا جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے سے شام میں ان کو حاصل تھی، اندازہ کرنے میں غلطی کھا گئے، اگر ان کو بنو قیس اور بنو کلب کی نا اتفاقی و رقابت اور اپنی قبولیت کا جو ملک شام میں پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ ہو جاتا تو وہ ضرور ملک شام کا ایک سفر کرتے اور یہ سفر ایسا ہی مفید ثابت ہوتا جیسا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا سفرِ شام عالمِ اسلام کے لیے مفید ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد مروان کی خلافت اور بنو امیہ کے اثر و اقتدار کی واپسی ہر گز ظہور میں نہ آتی۔
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی کئی حالات واقعات سے گزری، تفصیل کے لیے کتب تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لانے سے بیس ماہ کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، آپ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی سب سے پہلی اولاد تھے، اس لیے مہاجرین غیر معمولی طور پر خوش ہوئے، آپ ۷۲ برس کی عمر میں جمادی الثانی سنہ ۷۳ ہجری میں بنو امیہ کے حکمرانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
اگلی حدیث اور اس کے متعلقہ بخاری کی شرح فتح الباری (ج:۷، ص: ۲۴۸) کو سامنے رکھیں تو بات یہ سمجھ آتی ہے کہ عبداللہ بن زبیر مسلمانوں کے ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے کے چند دن بعد پیدا ہوئے تھے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت مکہ معظمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی سے قائم تھی اور انھوں نے یزید کے عہد ِ حکومت میں مکہ پر کبھی یزید کی حکومت قائم نہیں ہونے گی،یزید کے مرنے کے بعد انھوں نے لوگوں سے بیعت ِ خلافت لی اور بہت جلد شام کے بعض مقامات کے ساتھ تمام عالم اسلام میں وہ خلیفہ تسلیم کر لیے گئے، اس زمانے مں ان کو ملک شام کی اس حالت کا جوان کے موافق پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ نہیں ہو سکا اور وہ بنو امیہ کی طاقت و قبولیت کا جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے سے شام میں ان کو حاصل تھی، اندازہ کرنے میں غلطی کھا گئے، اگر ان کو بنو قیس اور بنو کلب کی نا اتفاقی و رقابت اور اپنی قبولیت کا جو ملک شام میں پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ ہو جاتا تو وہ ضرور ملک شام کا ایک سفر کرتے اور یہ سفر ایسا ہی مفید ثابت ہوتا جیسا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا سفرِ شام عالمِ اسلام کے لیے مفید ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد مروان کی خلافت اور بنو امیہ کے اثر و اقتدار کی واپسی ہر گز ظہور میں نہ آتی۔
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی کئی حالات واقعات سے گزری، تفصیل کے لیے کتب تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
110. الْبَابُ الثَّانِي فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَتَارِيخ ميلادِهِ
باب دوم: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
حدیث نمبر: 12440
عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأنا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِي جَوْفِهِ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا سے حاملہ ہوئیں، وہ کہتی ہیں: ایام پورے ہوچکے تھے کہ میں ہجرت کے سفر پر روانہ ہو گئی، قباء پہنچ کر ٹھہری اور میں نے وہاں اس بچے کو جنم دیا، میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی اور جا کر آپ کی گود میں رکھ دیا، آپ نے کھجور منگوائی اور اسے چبا کر اس کے منہ میں ڈال دی، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب داخل ہواتھا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی، یہ اسلام میں پیدا ہونے والا سب سے پہلا بچہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12440]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3909، 5469، ومسلم: 2146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27477»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3909
حدیث نمبر: 12441
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَقَالَ ”هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں(اپنے بھانجے) ابن زبیر کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اورفرمایا: یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12441]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، قولھا: فحنكه بتمرة أخرجه البخاري: 3910، ومسلم: 2148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25126»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بچے کی خالہ تھیں، جبکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کی کنیت ام عبد اللہ رکھ دی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12442
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَقْبَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَنِي وَتَرَكَكَ وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْتَقْبَلُ بِالصِّبْيَانِ إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ
عرو ہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آئے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی سواری پر سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو بچوں کے ساتھ آپ کا استقبال کیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12442]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عياش في روايته عن غير اھل بلده، وھذه منھا، اخرجه الحاكم: 3/555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16228»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عياش في روايته عن غير اھل بلده
حدیث نمبر: 12443
عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ فَقَالَ عَمَّارٌ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ فَقَالَتْ السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى حَتَّى أَعَادَهَا عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأُمِّي وَإِنْ كَرِهْتِ قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا الْأَشْتَرُ قَالَتْ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِي قَالَ نَعَمْ قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَأَرَادَهُ قَالَتْ أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ أَمَّا أَنْتَ يَا عَمَّارُ فَقَدْ سَمِعْتَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مَنْ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ أَوْ كَفَرَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِهَا“
عمرو بن غالب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عمار اور اشتر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امی جان! آپ پر سلامتی ہو، سیدہ نے جواباًکہا: اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی (سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار رضی اللہ عنہ نے سلام کے یہ کلمات دو یا تین مرتبہ دہرائے، پھرکہا! اللہ کی قسم! آپ میری ما ں ہیں، خواہ آپ مجھ سے نفرت کریں، سیدہ نے کہا: یہ تمہارے ساتھ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ اشتر ہے، سیدہ نے کہا: تم ہی ہو نا جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں! واقعی میں نے اس بات کا ارادہ کیا تھا اور ان کا بھی یہی ارادہ تھا کہ وہ مجھے قتل کردیں، سیدہ نے کہا: اگر تم یہ کام کرلیتے تو کامیاب نہ ہوتے اور عمار! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں، شادی شدہ زنا کرے یا وہ مرتد ہوجائے یاکسی کو قتل کرے اور اسے اس کے بدلے میں قتل کردیاجائے۔ (تو کیا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کوئی جر م کیا تھاکہ ان کو قتل کر دیا گیا؟) [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12443]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4353، والنسائي: 7/ 101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24808»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12444
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي قَالَ قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي قَالَتْ أَوَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ أَوْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ“
۔ (دوسری سند) عرو ہ بن غالب سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشتر سے کہا: تم ہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں ان کو قتل کرنے کا حریص تھا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے، انہوں نے کہا:کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے: کسی مسلمان کا خون بہانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں الایہ کہ کوئی مرتد ہوجائے یا شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکاب کرے یا کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12444]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25992»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25992
111. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بِنَائِهِ الْكَعْبَةِ كَمَا كَانَ يَرْجُو النبي ﷺ
باب سوم: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
حدیث نمبر: 12445
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ حَدِّثْنِي بَعْضَ مَا كَانَتْ تُسِرُّ إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَرُبَّ شَيْءٍ كَانَتْ تُحَدِّثُكَ بِهِ تَكْتُمُهُ النَّاسَ قَالَ قُلْتُ لَقَدْ حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا حَفِظْتُ أَوَّلَهُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ قَالَ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فِي الْأَرْضِ بَابًا يُدْخَلُ مِنْهُ وَبَابًا يُخْرَجُ مِنْهُ“ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَأَنَا رَأَيْتُهَا كَذَلِكَ
اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: تم مجھے ایسی باتیں بیان کرو،جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہارے ساتھ خصوصی طور پر کیا کرتی تھیں اور جن کو وہ لوگوں سے چھپاتی تھیں،اسود نے کہا: انہوں نے مجھے ایک بات بیان کی تھی جس کا ابتدائی حصہ مجھے خوب یاد ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کی عمارت کو گرا کر نئی تعمیر کرتا اور میں اس کے برابر کے دو دروازے بناتا، ایک اندر جانے کے لیے اور دوسرا باہر آنے کے لیے۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے بیت اللہ کو اس انداز سے تعمیر شدہ دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12445]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1584، 7243، ومسلم: 405، 406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25216»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1584
حدیث نمبر: 12446
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ”لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ“
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اگر تمہاری قوم نئی نئی شرک یاجاہلیت یعنی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیتا اور اس کے دو دروازے اس طرح بناتا کہ ایک مشرق کی طرف ہوتا اور دوسرا مغرب کی طرف اور حجر یعنی حطیم میں سے چھ ہاتھ کے برابر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، کیونکہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو وسائل کی کمی کے باعث وہ اسے کعبہ کی تعمیر میں شامل نہ کر سکے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12446]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25977»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1585