🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. الْفَصْلُ الْخَامِسُ فِيمَا جَاءَ فِي مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرِ مَا تَقَدَّمَ
فصل پنجم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مزید مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12427
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ قَالَ فَاسْتَمْثَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ وَهَيْبٌ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ وَحُسَيْنٌ مَعَ غِلْمَانٍ يَلْعَبُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَهُ قَالَ فَطَفِقَ الصَّبِيُّ هَاهُنَا مَرَّةً وَهَاهُنَا مَرَّةً فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ حَتَّى أَخَذَهُ قَالَ فَوَضَعَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ قَفَاهُ وَالْأُخْرَى تَحْتَ ذَقْنِهِ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ ”حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ“
سیدنا یعلی عامری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے آگے آگے چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر بھاگ جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کو ہنساتے رہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی کے نیچے اور دوسرا ہاتھ ان کی تھوڑی کے نیچے رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر اسے بوسہ دیا اور فرمایا: حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین سے محبت رکھے، اللہ اس سے محبت رکھے، حسین (خیر و بھلائی والی) امتوں میں سے ایک امت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12427]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، اخرجه ابن ماجه: 144، والترمذي: 3375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17704»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي وَقْعَةِ الْحَرَّةِ وَهِيَ مِنْ أَفْطَعِ الْحَوَادِثِ أَيْضًا فِي مُدَّةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12428
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَاءِهَا فَيَمُوتُ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا“
مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے کہ وہ واقعہ حرہ کے دوران سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور مدینہ منورہ سے باہر کسی دوسری جگہ جانے کی بابت ان سے مشورہ طلب کیا اور بطور شکوہ کہا کہ اس کے اہل و عیال بہت ہیں اور یہاں کافی مہنگائی ہے، اس لیے وہ یہاں کی مشقت کو برداشت نہیں کرسکتا، انہوں نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے،میں تمہیں اس بات کا مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو مسلمان مدینہ منورہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو برداشت کرے اور اسی حال میں وفات پا جائے تو میں قیامت کے روز اس کے حق میں سفارشی ہوں گا، یا یوں فرمایا کہ اس کے حق میں گواہ ہوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12428]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11575»
وضاحت: فوائد: … یزید کی بیعت سے دستبردار ہونے والے لوگ اہل مدینہ ہیں، پھر اسی کے نتیجے میں حرّہ کی جنگ پیش آ ئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی تاریخ متأثر ہو گئی۔
جب یزید بن معاویہ کو اصل حالات کا علم ہوا تو اس نے مسلم بن عقبہ سے کہا: ایک ہزار چیدہ جنگ جو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچو، لوگوں کو اطاعت کی طرف بلاؤ، اگر وہ اطاعت اختیار کر لیں تو بہتر ہے، ورنہ جنگ کر کے سب کو سیدھا کر دو، اس حکم سے تیسرے روز یہ فوج دمشق سے روانہ ہوئی، یزید نے رخصت کرتے وقت مسلم کو نصیحت کی جہاں تک ممکن ہو نرمی اور درگزر سے کام لینا، بصورت ِ دیگر کشت و خون اور قتل و غارت کی عام اجازت ہے۔
شامی لشکر مدینہ منورہ پہنچ گیا اور بیعت کی دعوت دی، مگر اہل مدینہ لڑائی پر آمادہ ہو گئے، آخر مسلم حرّ کی جانب سے مدینہ پر حملہ آور ہوا، اہل مدینہ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور لشکر شام کا منہ پھیر پھیر دیا، لیکن مسلم بن عقبہ کی بہادری اور تجربہ کاری سے اہل مدینہ کو شکست ہوئی، بہت سے سرداران مدینہ جنگ میںکام آئے، کل ایک ہزار کے قریب آدمی مارے گئے، جن میںتین سو سے زائد شرفائے قریش و انصار شامل تھے، فتح مند فوج نے مدینہ میں داخل ہو کر تین دن تک تو قتل عام کیا، چوتھے دن بیعت کا حکم دیا گیا، جس نے مسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، وہ بچ گیا اور جس نے بیعت سے انکار کیا، وہ قتل ہوا، یہ واقعہ ذوالحجہ سنہ ۶۳ ہجری میں پیش آیا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12429
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ فَقِيلَ لِجَابِرٍ لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ فَقَالَ تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ“
زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12429]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 1/ 53، وابن ابي شيبة: 12/ 180، وابن حبان: 3738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14878»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12430
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ“
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے کی طرف نظر ڈالی اور فرمایا: جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، کیا تمہیں بھی دکھائی دے رہا ہے؟ میں فتنوں اور مصیبتوں کے مقامات دیکھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12430]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1878، 2467، ومسلم: 2885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22091»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1878
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. فَصْلٌ مِنْهُ فِي تَسْرِ جَيْشِ الْحَرَّةِ إِلَى مَكَةَ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَحَرْقِهِمُ الْكَعْبَةِ
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12431
عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ”كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا مَرِجَ الدِّينُ وَظَهَرَتِ الرَّغْبَةُ وَاخْتَلَفَتِ الْإِخْوَانُ وَحُرِّقَ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ“
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب دین میں فساد پیدا ہو جائے گا، خیر کی بجائی شرّ کی رغبت پیدا ہو جائے گی، بھائیوں میں اختلاف پڑ جائے گا اور بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12431]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 14، وابن ابي شيبة: 15/47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:26829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27366»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت مکہ معظمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی سے قائم تھی اور انھوں نے یزید کے عہد ِ حکومت میں مکہ پر کبھی یزید کی حکومت قائم نہیں ہونے دی، یزید کے مرنے کے بعد انھوں نے لوگوں سے بیعت ِ خلافت کی اور بہت جلد شام کے بعض مقامات کے ساتھ تمام عالم اسلام میں وہ خلیفہ تسلیم کر لیے گئے۔
واقعہ حرّہ سے فارغ ہو کر مسلم بن عقبہ اپنی فوج کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے کے لیے مکہ کی جانب روانہ ہوا، راستے میں بیمار پڑ گیا اور حصین بن نمیر کو اپنی جگہ سپہ سالار مقرر کر کے مقام ابواء پر خود مر گیا، مدینہ سے فرار ہونے والے لوگ بھی مکہ پہنچ گئے اور اس موقع پر خوارج نے بھی سیدنا عبد اللہ بن زبیر کی مدد کرنا مناسب سمجھی اور اہل حجاز نے اس سال حج کے موقع پر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔
بہرحال لشکرِ شام تو مکہ کے قریب پہنچ گیا اور ۲۷ محرم ۶۴ سن ہجری کو لڑائی شروع ہو گئی اور ۳ ربیع الاول تک جاری رہی، اگرچہ فتح و شکست کا فیصلہ تو نہیں ہوا، لیکن شامی فوجوں نے منجنیق نصب کر کے خانہ کعبہ پر سنگ باری شروع کر دی، روئی اور گندھک اور رال کے گولے بنا بنا کر اور جلا جلا کر پھینکے، جس سے خانہ کعبہ کا تمام غلاف جل گیا اور دیواریں سیاہ ہو گئیں، پتھروں کے صدمہ سے خانہ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئیں اور چھت گر گئی۔ یہ یزید بن معاویہ کی خلافت کا ایک نہایت نا خوشگوار واقعہ تھا۔ تفصیل کے لیے کتب ِ تاریخ کا مطالعہ کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. الْبَاب الرَّابِعُ فِي بَعْثِ يَزِيدَ وَعُمَّالِهِ لِبُعُوثِ إِلَى مَكَّةَ لِمُحَارَبَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَاخْضَاعِهِ
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12432
حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ بَعَثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ دَخَلْتُ عَلَى فُلَانٍ نَسِيَ زِيَادٌ اسْمَهُ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَنَعُوا مَا صَنَعُوا فَمَا تَرَى فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ أَدْرَكْتَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْفِتَنِ فَاعْمَدْ إِلَى أُحُدٍ فَاكْسِرْ بِهِ حَدَّ سَيْفِكَ ثُمَّ اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ قَالَ فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْكَ أَحَدٌ إِلَى الْبَيْتِ فَقُمْ إِلَى الْمَخْدَعِ فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْكَ الْمَخْدَعَ فَاجْثُ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَقُلْ بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ فَقَدْ كَسَرْتُ حَدَّ سَيْفِي وَقَعَدْتُ فِي بَيْتِي“
ابو ا شعت صنعانی سے مروی ہے، انھوں نے کہا: یزید بن معاویہ نے ہمیں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے بھیجا، میں مدینہ منورہ پہنچا تو فلاں کے پاس حاضرہوا، زیاد نے اس کا نام بیان کیا تھا، اس نے کہا: لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، آپ سب دیکھ رہے ہیں؟ ان حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میرے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کی تھی کہ اگر تم ان فتنوں میں سے کسی فتنہ کو دیکھو تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھ رہنا، اگر کوئی فتنہ باز شخص تمہارے گھر کے اندر گھس آئے تو تم کسی کوٹھڑی کے اندر چھپ جانا اور اگر کوئی تمہاری کو ٹھڑی میں آجائے تو تم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جانا اور کہنا کہ تو میرے قتل کے گناہ اور اپنے گناہوں کے ساتھ واپس جا، تیرا نجام جہنم ہے اور ظالموں کا یہی بدلہ ہے، لہٰذا اے بھائی! میں تو اپنی تلوار کی دھار توڑ کر گھر کے اندر بیٹھا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12432]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 3377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18145»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. فَضْلُ فِي نَصِيحَةِ أَبِي شُرَيحِ الصَّحَابِيِّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ الْأَمَوِي الْوَالِي عَلَى الْمَدِينَةِ مِنْ قِبَلِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَمَا بَعَثَ بَعْثًا إلى مَكَّةَ لِمُحَارِبَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَا، وَعَدْمٍ قُبُولِهِ النَّصِيحَةَ
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح رضی اللہ عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12433
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ إِلَى مَكَّةَ بَعَثَهُ يَغْزُو ابْنَ الزُّبَيْرِ أَتَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ فَكَلَّمَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نَادِي قَوْمِهِ فَجَلَسَ فِيهِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَ قَوْمَهُ كَمَا حَدَّثَ عَمْرَو بْنَ سَعِيدٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّا قَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُلْتُ هَذَا إِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَةُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَتَلُوهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهِيَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا لَمْ تَحْلِلْ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ يَكُونُ بَعْدِي وَلَمْ تَحْلِلْ لِي إِلَّا هَذِهِ السَّاعَةَ غَضَبًا عَلَى أَهْلِهَا أَلَا ثُمَّ قَدْ رَجَعَتْ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ فَمَنْ قَالَ لَكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَاتَلَ بِهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّهَا لِرَسُولِهِ وَلَمْ يُحْلِلْهَا لَكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ وَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ عَنِ الْقَتْلِ فَقَدْ كَثُرَ أَنْ يَقَعَ لَئِنْ قَتَلْتُمْ قَتِيلًا لَأَدِيَنَّهُ فَمَنْ قُتِلَ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا فَأَهْلُهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءُوا فَدَمُ قَاتِلِهِ وَإِنْ شَاءُوا فَعَقْلُهُ“ ثُمَّ وَدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ الَّذِي قَتَلَتْهُ خُزَاعَةُ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ لِأَبِي شُرَيْحٍ انْصَرِفْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَنَحْنُ أَعْلَمُ بِحُرْمَتِهَا مِنْكَ إِنَّهَا لَا تَمْنَعُ سَافِكَ دَمٍ وَلَا خَالِعَ طَاعَةٍ وَلَا مَانِعَ جِزْيَةٍ قَالَ فَقُلْتُ قَدْ كُنْتُ شَاهِدًا وَكُنْتَ غَائِبًا وَقَدْ بَلَّغْتُ وَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَلِّغَ شَاهِدُنَا غَائِبَنَا وَقَدْ بَلَّغْتُكَ فَأَنْتَ وَشَأْنُكَ
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے کہ جب عمرو بن سعید نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکربھیجا تو ابو شریح رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس آکر اس سے گفتگو کی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو سنا تھا اسے وہ بتلایا، اس کے بعد وہ اپنی قوم میں آکر بیٹھ گئے، تو میں بھی اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا، تو انہو ں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی جو بات عمرو بن سعید کو سنائی اور اس کے جواب میں عمرو بن سعید نے جو کچھ کہا، انہوں نے وہ ساری بات قوم کو سنائی،انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو دوسرے ہی دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، مقتول مشرک تھا، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ دور جاہلیت میں اس نے ان کے کسی آدمی کو مارا تھا، تو انہوں نے اس کا انتقام لے لیا، کیونکہ وہ مدت سے اسی تاک میں تھے تو اس واقعہ کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمان اور زمین بنائے ہیں اس نے اسی دن سے مکہ کو حرمت والا قرا ردیا ہے، لہٰذ ا یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق قیامت تک حرم ہی رہے گا، جس آدمی کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس شہر میں کسی کا ناحق خون بہائے، وہ اس کے کسی درخت کو کاٹے مجھ سے پہلے اور میرے بعد اس میں لڑائی کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں اور اہل مکہ پر غضب کی وجہ سے مجھے بھی صرف اس تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی گئی تھی، خبردار! اب دوبارہ اس کی حرمت اسی طرح ہے جیسے کل تھی، خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، اگر کوئی تم سے کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مکہ میں لڑائی لڑی ہے، توتم اس سے کہنا:کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے تو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی، اس نے تمہیں اس کی اجازت نہیں دی ہے، اے خزاعہ کے خاندان! تم قتل سے اپنے ہاتھوں کو روک لو، یہ کام بہت ہو چکا، تم ایک آدمی کو قتل کر چکے ہو، اس کی دیت یعنی خون بہا میں ادا کروں گا، اس وقت کے بعد جو آدمی مارا گیا تو اس کے ورثاء کو دو بہترین میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا، وہ چاہیں گے تو قاتل کو قتل کر یں گے اور اگر چاہیں گے تو خون بہا وصول کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کا خون بہا ادا کر دیا، جو بنو خزاعہ نے مارا تھا،یہ ساری حدیث سن کر عمرو بن سعید نے ابو شریح رضی اللہ عنہ سے کہا ارے بوڑھے! جا جا مکہ کی حرمت کو ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، یہ حرمت ناحق خون بہانے والے اطاعت سے منہ موڑنے والے اور کسی مجرم کے لیے نہیں ہے، ابو شریح رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ عمرو کی یہ بات سن کر میں نے ان سے کہا: کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی، میں وہاں موجود تھا، تم نہیں تھے اور میں یہ حدیث تم تک پہنچا چکا کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم سے جو بھی وہاں موجود ہے وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادے جو وہاں ا س وقت موجود نہ تھے، میں یہ بات تم تک پہنچاچکا ہوں، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12433]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 104، 1832، 4295، ومسلم: 1354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16490»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 104
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12434
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حَيْثُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا تو ابو شریح العدوی نے اس سے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں تمہیں وہ باتیں بیان کروں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھیں، جن کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا، جب آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، …۔ پھر سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12434]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16487»
وضاحت: فوائد: … یزید بن معاویہ کی طرف سے مقرر کردہ والی ٔ مدینہ عمرو بن سعید بن عاص تھا، یہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مکہ مکرمہ کہ طرف لشکر بھیج رہا تھا، اس دوران سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی، جس کی روشنی میں عمرو بن سعید کی کاروائی صحیح نہیں تھی۔
حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16487
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
106. فَصْل فِيمَا وَرَدَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي جَبَّارٍ بَنِي أُمَيَّةِ
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12435
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَرْعَفَنَّ عَلَى مِنْبَرِي جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ يَسِيلُ رُعَافُهُ“ قَالَ فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَعَفَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَالَ رُعَافُهُ (وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَرْتَقِيَنَّ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا ہے بنوامیہ کے ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم کی نکسیر میرے منبر پر پھوٹے گی۔ علی بن زید کہتے ہیں: ایک آدمی، جس نے عمرو بن سعید کو دیکھا تھا، اس نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر عمرو بن سعید کی نکسیر پھوٹ پڑی تھی۔ علی بن زید سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنوامیہ کا ایک ظالم حکمران میرے اس منبرپر چڑھے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12435]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولابھام الراوي عن ابي ھريرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10774»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل دو احادیث پر غور کریں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنِّيْ رَاَیْتُ فِيْ مَنَامِيْ،کَأَنَّ بَنِيْ الْحَکَمِ بْنِ اَبِيْ الْعَاصِ یَنْزُوْنَ عَلٰی مِنْبَرِيْکَمَا تَنْزُوْ الْقِرَدَۃُ۔)) … میں نے خواب میں دیکھا کہ بنو حکم بن ابی عاص میرے منبر پر بندروں کی طرح کود رہے ہیں۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور سعید بن مسیب سے مرسلًا روایت کی گئی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کے ساتھ یہ الفاظ بھی روایت کئے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی وفات تک پورے زور سے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ (ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۹۴۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا بَلَغَ بَنُوْ أَبِیْ الْعَاصِ ثَلَاثِیْنَ رَجُلاً، اتَّخَذُوْا دِیْنَ اللّٰہِ دَخَلاً، وَعِبَادَاللّٰہِ خَوْلاً وَمَالَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دُوْلاً۔)) … جب ابو عاص کے بیٹوں کی تعداد تیس مردوں تک پہنچے گی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے، اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا معاویہ بن سفیان
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے۔ (ملاحظہ ہو سلسلہ صحیحہ: ۷۴۴)
بنو ابی العاص سے مراد بنو امیہ ہیں، جن کے دور حکومت میں اس باب میں مذکورہ احادیث کا مصداق بننے والے خلفا موجود تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. فَصْلٌ فِي ذِكْرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12436
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ عَلَى فَخِذِكَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ فَقَالَ ”صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ وَلَا أُصَلِّي“
ابو عالیہ براء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:عبداللہ بن زیاد نے نماز کو مؤخر کر دیا، عبداللہ بن صامت میرے پاس آئے، میں نے ان کے لیے کرسی بچھا دی، وہ اس پر تشریف فرما ہوئے تو میں نے ابن زیاد کے اس کام کا ان کے سامنے تذکرہ کردیا، تو وہ اپنے ہونٹ کاٹنے لگے اور میری ران پر ہاتھ مار کر کہا: جیسے تم نے مجھ سے یہ بات پوچھی ہے، اسی طرح میں نے بھی سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: انہوں نے بھی میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا، جیسے میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا، جیسے میں نے تیری ران پر مارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وقت پر نماز ادا کر لینا، اس کے بعد اگر ان کے ساتھ بھی نماز پڑھنے کا موقع مل جائے تو نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اس لیے نہیں پڑھتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12436]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 648، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21753»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 648
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں