الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: Q12418]
96. البابُ الأَوَّلُ فِي بَيْعَةِ الْيَزِيْدِ وَخَلْعِ بَعْضِ النَّاسِ هذا البَيْعَةَ وَمَا قَالَهُ ابْنُ عُمَرُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب¤باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان
حدیث نمبر: 12418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ النَّاسُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ“ وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُبَايِعَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ وَلَا يُشْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَيَكُونَ صَيْلَمٌ بَيْنِي وَبَيْنَهُ
نافع سے مروی ہے کہ جب بعض لوگ یزید کی بیعت سے دستبردار ہو گئے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحب زادوں اور اہل خانہ کو بلا کر توحید و رسالت کی گواہی دی اور پھر کہا: ہم نے اللہ اوراس کے رسول کی خاطر اس یزید کی بیعت کی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ: بے وفا دھوکہ باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا او رکہاجائے گا کہ یہ فلاں کے دھوکہ کی علامت ہے۔ سب سے بڑا دھوکہ اور بے وفائی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہی نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کی خاطر کسی آدمی کی بیعت کرے اور پھر اس کو توڑڈالے، تم میں سے کوئی بھی یزید کا ساتھ نہ چھوڑے اور خلافت و امارت کے سلسلہ میں کسی بھی دوسری طرف نہ جھانکے، ورنہ اور اس کے میرے درمیان تلوار ہو گی (یعنی میں اس کے ساتھ سخت معاملہ کروں گا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12418]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرج المرفوعَ منه مسلم: 1735، وأخرجه بنحوه البخاري: 7111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5088»
وضاحت: فوائد: … یزید کی بیعت سے دستبردار ہونے والے لوگوں سے مراد اہل مدینہ ہیں، پھر اسی کے نتیجے میں حرّہ کی جنگ پیش آ ئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی تاریخ متأثر ہو گئی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
97. الْفَضْلُ الاَوَّلُ فِي الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ وَمَنْ قَتَلَهَ قَبْلَ حُصُولِهِ وحُزْنِهِ ﷺ
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا رضی اللہ عنہا کے فرزند سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم کا بیان
حدیث نمبر: 12419
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ قَالَ ”بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قَالَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَمَدَّ يَدَهُ فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا“
عبداللہ بن نجی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ طہارت والے پانی کا برتن اٹھا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی مقام تک پہنچے، تو سیدنا علی نے آواز دی: ابو عبداللہ! ٹھہر جاؤ، دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ۔ میں نے کہا: ادھر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، اس حال میں کہ آپ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھیں کیوں آنسو بہار ہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کی آمد سے قبل جبریل امین میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انھوں نے مجھے خبر دی ہے کہ حسین کو دریائے فرات کے کنارے قتل کر دیا جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میں آپ کو اس کی مٹی کی خوشبو سونگھاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پس اس نے اپنا ہاتھ لمبا کیا، مٹی کی مٹھی بھری اور مجھے دے دی۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا اور رونے لگ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12419]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن نجي مختلف فيه،وأبوه نجي لم يرو عنه غير ابنه، ولم يوثقه غير ابن حبان، وقال: لايعجبني الاحتجاج بخبره اذا انفرد، اخرجه النسائي: 3/ 12، والبزار: 879، وابن خزيمة: 902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 648»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّي رَاَیْتُ حُلْمًا مُنْکرًا اللَّیْلَۃَ۔ قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: اِنَّہُ شَدِیْدٌ۔قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَ: رَاَیْتُ کَاَنَّ قِطْعَۃً مِنْ جَسَدِکَ قُطِعْتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِيْ۔ قَالَ: ((رَایَتِيْ خَیْرًا، تَلِدُ فَاطِمَۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَاماً فَیَکُوْنُ فِي حِجْرِکِ۔)) فوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ الْحُسَیْنَ، فَکَانَ فِي حِجْرِي کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَدَخَلْتُ یَوْمًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَوَضَعْتُہُ فِي حِجْرِہِ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّي اِلْتِفَاتَۃٌ فَاِذَا عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تُھْرِ یْقَانِ مِنَ الدُّمُوْعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ! بِأَبِي اَنْتَ وَاُمِّيْ مَالَکَ؟ فَقَالَ: ((اَتَانِي جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَاَخْبَرَنِي اَنَّ اُمَّتِي سَتَقْتُلُ اِبْنِيْ ھٰذَا۔)) فَقُلْتُ: ھٰذَا؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔ وَاَتَانِي بِتُرْبَۃٍ مِنْ تُرْبَتِہٖ حَمْرَائَ۔)) … اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو قبیح خواب دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہت سخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر وہ ہے کیا؟ اس نے کہا: مجھے ایسے لگا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں پھینکا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو عمدہ خواب دیکھا ہے، (اس کی تعبیر یہ ہے کہ) ان شاء اللہ میری بیٹی فاطمہ کا بچہ پیدا ہو گاجو تیری گود میں ہو گا۔ واقعی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بچہ حسین پیدا ہوا جو میری گود میں تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے کہا:اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی۔ میں نے کہا: یہ بیٹا (حسین)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ میرے پاس اس علاقے کی سرخ مٹی بھی لائے۔ (مستدرک حاکم: ۳/ ۱۷۶، صحیحہ: ۸۲۱)
آج کل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی نسبت سے جن امور کا ارتکاب کیا جا رہا ہے یا ان کو دین میں داخل کر دیا گیا ہے، ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کا ردّ ہوتا ہے، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شہادت ِ حسین رضی اللہ عنہ کی ساری صورتحال واضح کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دین میں کسی نئے حکم کا اضافہ نہ کیا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی میدانِ کربلا میںشہادت امت مسلمہ کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جبریل علیہ السلام کے تعاون سے پہلے ہی پیشین گوئی فرما دی تھی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اِس قسم کی احادیث کربلا کے تقدس، اس زمین پر سجدہ کرنے اور اس کی مٹی کی بنائی گئی ٹکیہ پر سجدے کرنے کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتیں، جیسا کہ شیعوں کا خیال ہے، اگر اس قسم کی ٹکی کی کوئی فضیلت ہوتی تو مسجد حرام اور مسجد نبوی کی مٹی سے بنائی جانی چاہیے تھی۔
اصل میں اس چیز کا تعلق شیعوں کی بدعت اور اہل بیت اور ان کے آثار کی تعظیم میں غلو سے ہے۔ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ اِن لوگوں کے ہاں عقل بھی مصادرِ شریعت میں سے ہے، اسی بنا پر وہ عقلی تحسین اور عقلی تقبیح کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ کربلا کی زمین پر سجدہ کرنے کی فضیلت ایسی روایات سے ثابت کرتے ہیں، جو عقلی تقاضوں کے مطابق بالکل باطل ہیں۔ سید عبد الرضا مرعشی شہرساتی نے اپنے رسالے (ص ۱۵) میں السجود علی التربۃ الحسینیۃ کے عنوان میں لکھا:
کربلا کی مٹی کے شرف، تقدس اور وہاں مدفون ہستیوں کی طہارت کی وجہ سے اس پر سجدہ کرنا افضل ہے، عترتِ طاہرہ کے ائمہM سے مروی روایات اس پر دلالت کرتی ہیں، مثلا: اس (مٹی) پر کیے ہوئے سجدے ساتویں زمین تک نور پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ سجدے ساتوں پردوں کو چاک کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اس مٹی پر سجدے کرنے والے کی نماز قبول کرتا ہے، اس طرح دوسروں کی نہیں کرتا۔ حسین کی قبر کی مٹی پر کیا گیا سجدہ زمینوں کو روشن کر دیتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ان روایات کا باطل و مردود ہونا ظاہر ہے، اہل بیت کے ائمہ ایسی مرویات سے بری ہیں، ان کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے کہ محقق علم حدیث اور اصول حدیث کی روشنی میں ان کو پرکھ سکے، کوئی روایت مرسل ہے تو کوئی معضل۔
اسی شیعہ مصنف نے اپنی کتاب کے ورقوں کو کالا کرتے ہوئے مزید کہا: حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرنے والی روایات صرف ائمۂ اہلِ بیت سے مروی نہیں ہیں، بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی بنیادی کتابوں میں بڑی شہرت کے ساتھ ان کا تذکرہ ملتا ہے، ان کے علما اور رواۃ نے ان کو روایات کیا ہے، مثلا امام سیوطی نے اپنی کتاب (الخصائص الکبری) میں (باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقتل الحسین علیہ السلام) میں امام حاکم، امام بیہقی، امام ابو نعیم اور امام طبری جیسے ثقات سے تقریباً بیس روایات بیان کی ہیں، اسی طرح امام ہیثمی کے (مجمع الزوائد: ۹/ ۱۹۱) میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اے مسلمان! تجھے علم ہونا چاہیے کہ امام سیوطی اور امام ہیثمی نے ایک حدیث بھی ایسی ذکر نہیں کی، جو حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرے، اہل السنّہ کی روایت کردہ احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی تھی، جیسا کہ میں نے بھی اس صحیحہ میں چند روایات بیان کی ہیں۔
اس شیعے نے جن روایات کے بارے میں دعوی کیا ہے، کیا وہ سیوطی اور ہیثمی نے روایت کی ہیں؟
اے اللہ! ہرگز نہیں۔ در اصل یہ شیعہ اپنی ضلالت اور بدعت کی تائید میں رواں دواں تھا اور مکڑی کے جالے سے کمزور دلیل کا بھی سہارا لینے لگا۔
اس مرعشی شہرسانی شیعے نے اپنی کتاب کے قاریوں کو اتنا دھوکہ دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی جرأت بھی کرنے لگا، جیسا کہ وہ کہتا ہے:
جس نے سب سے پہلی مٹی سے بنی ہوئی تختی پر سجدہ کیا، وہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے، جب ۳ ھ میں مسلمانوں اور قریشیوں میں احد والی جنگ لڑی گئی، جس میں رکنِ اسلام حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ ہر محفلِ سوگ میں ان پر نوحہ کریں، پھر ان کی تکریم میں وسعت اختیار کی گئی اور لوگ ان کی قبر سے مٹی لے کر اس سے تبرک حاصل کرتے اور اس پر سجدہ کرتے اور اس سے سجدہ کی جگہیں بناتے، جیسا کہ(شیعوں کی کتاب) (الارض والتربۃ الحسینیۃ) میں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: قارئینِ کرام! سوچیں، اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کیسا جھوٹ منسوب کیا اور یہ دعوی کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے سجدہ کرنے کے لیے ٹکی بنوائی تھی۔ پھر اس نے اپنے دعوی کی کوئی دلیل بھی پیش نہ کی۔ البتہ یہ جھوٹ پیش کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو سیدناحمزہ رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اس حکم کا مٹی والے مسئلہ سے کوئی ربط بھی نہیں ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کی بیعت لی تھی، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
پھر تیسرا جھوٹ یہ پیش کر دیا کہ صحابہ کرام تبرک کے لیے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر سے مٹی اٹھا لیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ یہ صحابہ کرام پر واضح جھوٹ ہے۔ وہ اس قسم کی بت پرستی سے کوسوں دور تھے۔ پھر یہ بیچارہ اپنے جھوٹوں کو مسلمانوں کے کسی معروف مصدر کی طرف منسوب بھی نہ کر سکا۔ البتہ (الارض والتربۃ الحسینیۃ) کا نام پیش کر دیا، جو ایک شیعی کی کتاب ہے۔ (صحیحہ: ۱۱۷۱) اس کے بعد مزید بحث صحیحہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
آج کل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی نسبت سے جن امور کا ارتکاب کیا جا رہا ہے یا ان کو دین میں داخل کر دیا گیا ہے، ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کا ردّ ہوتا ہے، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شہادت ِ حسین رضی اللہ عنہ کی ساری صورتحال واضح کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دین میں کسی نئے حکم کا اضافہ نہ کیا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی میدانِ کربلا میںشہادت امت مسلمہ کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جبریل علیہ السلام کے تعاون سے پہلے ہی پیشین گوئی فرما دی تھی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اِس قسم کی احادیث کربلا کے تقدس، اس زمین پر سجدہ کرنے اور اس کی مٹی کی بنائی گئی ٹکیہ پر سجدے کرنے کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتیں، جیسا کہ شیعوں کا خیال ہے، اگر اس قسم کی ٹکی کی کوئی فضیلت ہوتی تو مسجد حرام اور مسجد نبوی کی مٹی سے بنائی جانی چاہیے تھی۔
اصل میں اس چیز کا تعلق شیعوں کی بدعت اور اہل بیت اور ان کے آثار کی تعظیم میں غلو سے ہے۔ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ اِن لوگوں کے ہاں عقل بھی مصادرِ شریعت میں سے ہے، اسی بنا پر وہ عقلی تحسین اور عقلی تقبیح کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ کربلا کی زمین پر سجدہ کرنے کی فضیلت ایسی روایات سے ثابت کرتے ہیں، جو عقلی تقاضوں کے مطابق بالکل باطل ہیں۔ سید عبد الرضا مرعشی شہرساتی نے اپنے رسالے (ص ۱۵) میں السجود علی التربۃ الحسینیۃ کے عنوان میں لکھا:
کربلا کی مٹی کے شرف، تقدس اور وہاں مدفون ہستیوں کی طہارت کی وجہ سے اس پر سجدہ کرنا افضل ہے، عترتِ طاہرہ کے ائمہM سے مروی روایات اس پر دلالت کرتی ہیں، مثلا: اس (مٹی) پر کیے ہوئے سجدے ساتویں زمین تک نور پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ سجدے ساتوں پردوں کو چاک کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اس مٹی پر سجدے کرنے والے کی نماز قبول کرتا ہے، اس طرح دوسروں کی نہیں کرتا۔ حسین کی قبر کی مٹی پر کیا گیا سجدہ زمینوں کو روشن کر دیتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ان روایات کا باطل و مردود ہونا ظاہر ہے، اہل بیت کے ائمہ ایسی مرویات سے بری ہیں، ان کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے کہ محقق علم حدیث اور اصول حدیث کی روشنی میں ان کو پرکھ سکے، کوئی روایت مرسل ہے تو کوئی معضل۔
اسی شیعہ مصنف نے اپنی کتاب کے ورقوں کو کالا کرتے ہوئے مزید کہا: حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرنے والی روایات صرف ائمۂ اہلِ بیت سے مروی نہیں ہیں، بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی بنیادی کتابوں میں بڑی شہرت کے ساتھ ان کا تذکرہ ملتا ہے، ان کے علما اور رواۃ نے ان کو روایات کیا ہے، مثلا امام سیوطی نے اپنی کتاب (الخصائص الکبری) میں (باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقتل الحسین علیہ السلام) میں امام حاکم، امام بیہقی، امام ابو نعیم اور امام طبری جیسے ثقات سے تقریباً بیس روایات بیان کی ہیں، اسی طرح امام ہیثمی کے (مجمع الزوائد: ۹/ ۱۹۱) میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اے مسلمان! تجھے علم ہونا چاہیے کہ امام سیوطی اور امام ہیثمی نے ایک حدیث بھی ایسی ذکر نہیں کی، جو حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرے، اہل السنّہ کی روایت کردہ احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی تھی، جیسا کہ میں نے بھی اس صحیحہ میں چند روایات بیان کی ہیں۔
اس شیعے نے جن روایات کے بارے میں دعوی کیا ہے، کیا وہ سیوطی اور ہیثمی نے روایت کی ہیں؟
اے اللہ! ہرگز نہیں۔ در اصل یہ شیعہ اپنی ضلالت اور بدعت کی تائید میں رواں دواں تھا اور مکڑی کے جالے سے کمزور دلیل کا بھی سہارا لینے لگا۔
اس مرعشی شہرسانی شیعے نے اپنی کتاب کے قاریوں کو اتنا دھوکہ دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی جرأت بھی کرنے لگا، جیسا کہ وہ کہتا ہے:
جس نے سب سے پہلی مٹی سے بنی ہوئی تختی پر سجدہ کیا، وہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے، جب ۳ ھ میں مسلمانوں اور قریشیوں میں احد والی جنگ لڑی گئی، جس میں رکنِ اسلام حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ ہر محفلِ سوگ میں ان پر نوحہ کریں، پھر ان کی تکریم میں وسعت اختیار کی گئی اور لوگ ان کی قبر سے مٹی لے کر اس سے تبرک حاصل کرتے اور اس پر سجدہ کرتے اور اس سے سجدہ کی جگہیں بناتے، جیسا کہ(شیعوں کی کتاب) (الارض والتربۃ الحسینیۃ) میں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: قارئینِ کرام! سوچیں، اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کیسا جھوٹ منسوب کیا اور یہ دعوی کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے سجدہ کرنے کے لیے ٹکی بنوائی تھی۔ پھر اس نے اپنے دعوی کی کوئی دلیل بھی پیش نہ کی۔ البتہ یہ جھوٹ پیش کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو سیدناحمزہ رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اس حکم کا مٹی والے مسئلہ سے کوئی ربط بھی نہیں ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کی بیعت لی تھی، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
پھر تیسرا جھوٹ یہ پیش کر دیا کہ صحابہ کرام تبرک کے لیے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر سے مٹی اٹھا لیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ یہ صحابہ کرام پر واضح جھوٹ ہے۔ وہ اس قسم کی بت پرستی سے کوسوں دور تھے۔ پھر یہ بیچارہ اپنے جھوٹوں کو مسلمانوں کے کسی معروف مصدر کی طرف منسوب بھی نہ کر سکا۔ البتہ (الارض والتربۃ الحسینیۃ) کا نام پیش کر دیا، جو ایک شیعی کی کتاب ہے۔ (صحیحہ: ۱۱۷۱) اس کے بعد مزید بحث صحیحہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12420
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَنْكِبِهِ وَعَلَى عَاتِقِهِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش والے فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی، اللہ نے اسے اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دروازے کے قریب رہنا اور کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے، وہ اندر آنے لگے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کوروکا، مگر وہ چھلانک لگا کر اندر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک اور کندھے پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے کہا: کیاآپ کو اس سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس فرشتے نے کہا: اس کو تو آپ کی امت قتل کر دے گی۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو ان کی قتل گاہ دیکھا سکتا ہوں، اس نے اپنا ہاتھ مارا اور سرخ مٹی لے آیا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں ڈال لی، ثابت کہتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کی قتل گاہ کربلا کی زمین ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12420]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وقد قال الامام احمد: يروي عن ثابت عن انس احاديث مناكير، اخرجه البزار: 2642، وابويعلي: 3402، وابن حبان: 6742، والطبراني في الكبير: 2813، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13573»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12421
عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاهُمَا ”لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا تھا، اس نے بتلایاہے کہ آپ کا یہ بیٹا حسین قتل ہوگا، اگر آپ چاہیں تو آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھاؤں، جہاں یہ قتل ہوگا، پھر اس نے سرخ مٹی دکھائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12421]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشاھده، اخرجه الطبراني في الكبير: 2815، وابن ابي شيبة: 15/ 97، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27059»
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشاھده
98. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَا فَعَلَهُ ابْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِهِ
فصل دوم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
حدیث نمبر: 12422
عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ عَلَيْهِ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسْمَةِ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سرلایاگیا، وہ ایک تھال میں رکھا ہوا تھا، تو وہ اپنی لاٹھی سے مارنے لگا اور اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ بھی کہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، ان کے بال وسمہ سے رنگین تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12422]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13784»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: اکثر اہل علم کے قول کے مطابق سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شعبان سن ۴ ہجری میں پیدا ہوئے اور یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہو گئے، حقیقت ِ حال یہ تھی کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور ان کے بعد یزید مسند خلافت پر متمکن ہوا تو اہل کوفہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت کی کہ وہ تو ان کی اطاعت کریں گے، نہ کہ یزید کی، پس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کوفہ والوں کی طرف روانہ ہو گئے، لیکن ان سے پہلے عبید اللہ بن زیاد کوفہ پہنچ گیا اور اس نے اکثر لوگوں کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے دور کر دیا، بعض لوگ رغبت کی وجہ سے اور بعض ڈر کی وجہ سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ گئے اور ابن زیاد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے چچا زاد سیدنا مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو بھی قتل کر دیا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بیعت لینے کے لیے ان کو بھیجا تھا، پھر ابن زیاد نے ایک لشکر تیار کیا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے جنگ شروع کر دی، یہاں تک کہ نواسۂ رسول اور ان کے اہل بیت کے کافی افراد شہید ہو گئے، یہ ایک مشہور واقعہ ہے، ہم اس کی طوالت میں نہیں پڑنا چاہتے۔ (فتح الباری: ۷/ ۹۶)
یہ ایک سیاہ دھبہ ہے، جس نے امت ِ مسلمہ کی تاریخ کو سیاہ کر دیا، خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ظلم کا لقمہ بن گیا۔
یہ ایک سیاہ دھبہ ہے، جس نے امت ِ مسلمہ کی تاریخ کو سیاہ کر دیا، خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ظلم کا لقمہ بن گیا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3748
99. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي رُؤْيَا ابْنِ عَبَّاسِ وَ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ
فصل سوم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خواب
حدیث نمبر: 12423
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ قَائِمٌ أَشْعَثُ أَغْبَرُ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ ”هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ“ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج جمع کر رہا ہوں۔ ہم نے اس دن کا حساب لگایا تو وہ وہی دن تھا، جس دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12423]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الطبراني: 2822، والحاكم: 4/ 397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2553»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
100. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِي نَعْيِي الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَوَقُوعِ خَيْرِ نَعْيِهِ عَلَى النَّاسِ، وَكَلامِهِمْ فِي أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَتَارِيخَ مَقْتَلِهِ
فصل چہارم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 12424
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ فَقَالَتْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ غَدِيَّةً بِبُرْمَةٍ قَدْ صَنَعَتْ لَهُ فِيهَا عَصِيدَةً تَحْمِلُهُ فِي طَبَقٍ لَهَا حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ هُوَ فِي الْبَيْتِ قَالَ ”فَاذْهَبِي فَادْعِيهِ وَائْتِنِي بِابْنَيْهِ“ قَالَتْ فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي إِثْرِهِمَا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَاجْتَبَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً خَيْبَرِيًّا كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ فَلَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِشِمَالِهِ طَرَفَيِ الْكِسَاءِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ أَهْلِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ قَالَ ”بَلَى فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ“ قَالَتْ فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ عَلِيٍّ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا کہ انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی اور کہا: انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، اللہ ان لوگوں کو قتل کرے، اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے، انہوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور بے وفائی کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا صبح سویرے ایک دیگچی لے کر آئیں، جس میں انہوں نے کھانا تیار کیا تھا اور اسے ایک تھا ل میں رکھا ہوا تھا،انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاراچچازاد کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ گھر پر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اور دونوں بچوں کو بھی بلاؤ، وہ جا کر اپنے دونوں بچوں کو لے آئیں، دونوں کو ایک ایک ہاتھ میں پکڑ کر لا رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کو اپنی گود میں بٹھالیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی دائیں جانب اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے نیچے سے خیبری چادر کھینچ لی، وہ مدینہ میں ہمارے بچھونے کی چادر تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر ان سب کے اوپر ڈال دی اور اپنے بائیں ہاتھ سے چادر کی دونوں اطراف کو پکڑ کر دایاں ہاتھ اللہ کی طرف اٹھا کر فرمایا: یا اللہ یہ لوگ میرے اہل خانہ ہیں، ان سے پلیدی کو دور کر اور انہیں خوب پاک کردے۔ یہ دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے اہل میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم بھی چادر کے اندر آجاؤ۔ جب میں چادر کے اندر داخل ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا زاد سیدنا علی، اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹوں کے حق میں دعا کر کے فارغ ہوچکے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12424]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، اخرجه الطبراني في الكبير: 2666، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27085»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کے بعض امور درج ذیل حدیث میں بیان کیے گئے ہیں:
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَۃَ، تَذْکُرُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی بَیْتِہَا فَأَتَتْہُ فَاطِمَۃُ بِبُرْمَۃٍ فِیہَا خَزِیرَۃٌ فَدَخَلَتْ بِہَا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہَا: ((اُدْعِیْ زَوْجَکِ وَابْنَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَجَائَ عَلِیٌّ وَالْحُسَیْنُ وَالْحَسَنُ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَجَلَسُوْا یَأْکُلُونَ مِنْ تِلْکَ الْخَزِیرَۃِ، وَہُوَ عَلٰی مَنَامَۃٍ لَہُ عَلٰی دُکَّانٍ تَحْتَہُ کِسَائٌ لَہُ خَیْبَرِیٌّ، قَالَتْ: وَأَنَا أُصَلِّی فِی الْحُجْرَۃِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} [الأحزاب: ۳۳] قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْکِسَائِ فَغَشَّاہُمْ بِہِ ثُمَّ أَخْرَجَ یَدَہُ فَأَلْوٰی بِہَا إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا، اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا۔)) قَالَتْ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی الْبَیْتَ فَقُلْتُ: وَأَنَا مَعَکُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ۔))، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی أَبُو لَیْلٰی عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ مِثْلَ حَدِیثِ عَطَائٍ سَوَائً، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی دَاوُدُ بْنُ أَبِی عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ بِمِثْلِہِ سَوَائً۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خریزہ تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میںسیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خریزہ کھانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دکان (اونچی سی جگہ) پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے اس چادر کے اندر اپنا سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔ (مسند احمد: ۲۷۰۴۱)
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَۃَ، تَذْکُرُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی بَیْتِہَا فَأَتَتْہُ فَاطِمَۃُ بِبُرْمَۃٍ فِیہَا خَزِیرَۃٌ فَدَخَلَتْ بِہَا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہَا: ((اُدْعِیْ زَوْجَکِ وَابْنَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَجَائَ عَلِیٌّ وَالْحُسَیْنُ وَالْحَسَنُ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَجَلَسُوْا یَأْکُلُونَ مِنْ تِلْکَ الْخَزِیرَۃِ، وَہُوَ عَلٰی مَنَامَۃٍ لَہُ عَلٰی دُکَّانٍ تَحْتَہُ کِسَائٌ لَہُ خَیْبَرِیٌّ، قَالَتْ: وَأَنَا أُصَلِّی فِی الْحُجْرَۃِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} [الأحزاب: ۳۳] قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْکِسَائِ فَغَشَّاہُمْ بِہِ ثُمَّ أَخْرَجَ یَدَہُ فَأَلْوٰی بِہَا إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا، اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا۔)) قَالَتْ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی الْبَیْتَ فَقُلْتُ: وَأَنَا مَعَکُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ۔))، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی أَبُو لَیْلٰی عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ مِثْلَ حَدِیثِ عَطَائٍ سَوَائً، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی دَاوُدُ بْنُ أَبِی عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ بِمِثْلِہِ سَوَائً۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خریزہ تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میںسیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خریزہ کھانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دکان (اونچی سی جگہ) پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے اس چادر کے اندر اپنا سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔ (مسند احمد: ۲۷۰۴۱)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 12425
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعَيْمٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمَا رَيْحَانَتَيَّ مِنَ الدُّنْيَا“
شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ کسی (عراقی آدمی) نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی احرام کی حالت میں مکھی مارڈالے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ انھوں نے کہا: اہل عراق مکھی مارنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو قتل کر ڈالا ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں یعنی حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12425]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5568»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے، بلکہ ایسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آدمی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے جرم سے بری ہو گا، لیکن بعض اوقات کسی مجرم کے بڑے پن کو واضح کرنے کے لیے جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3753
حدیث نمبر: 12426
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عُمَرَ ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ أَيَّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَةٍ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ
نافع بن عمر جمحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے عطاء بن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا، انھوں نے نحر والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو قبل از فجر رمی یعنی جمرے کو کنکریاں ماریں،میرے والد نے ان سے کہا: اے ابو سلیمان! آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی؟ انھوں نے کہا: حسین کی شہادت والے سال ۱۶۹ ہجری میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12426]
تخریج الحدیث: «، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20547»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، بلکہ حسین بن علی بن حسن بن سیدنا حسن بن سیدنا علی بن ابو طالب ہیں، یہ نیکی و تقوی، جو دو سخاوت اور ہمت و شجاعت والے آدمی تھے، یہ آٹھ ذوالحجہ ۱۶۹ہجری کو مکہ مکرمہ کے قریب فج وادی میں شہید کر دیئے گئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔