🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
111. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بِنَائِهِ الْكَعْبَةِ كَمَا كَانَ يَرْجُو النبي ﷺ
باب سوم: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12447
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ عِنْدَنَا سَعَةٌ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَلَبَنَيْتُهَا وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ“ قَالَتْ فَلَمَّا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا فَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ قَالَتْ فَكَانَتْ كَذَلِكَ فَلَمَّا ظَهَرَ الْحَجَّاجُ عَلَيْهِ هَدَمَهَا وَأَعَادَ بِنَاءَهَا الْأَوَّلَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے اندر طاقت ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے اس کی جدید تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بناتا، ایک دروازے سے لوگ اندر داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔ پھر جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ حکمران بنے تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق اسے منہدم کر کے اس کے دو دروازے بنائے، لیکن ان کے بعد جب حجاج کا دور آیا تو اس نے اسے دوبارہ منہدم کر کے اس کی سابقہ بنیادوں پر تعمیر کردی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12447]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عبد الملك، ثم ان قوله: قالت: فلما ولي ابن الزبير لفظ قالت ليس في رواية ابن ابي شيبة، وھو الصواب، اذا المعروف ان عائشة لم تدرك ولاية ابن الزبير ولا الحجاج، اخرجه ابن ابي شبية: ص 287، وابن راھويه: 1241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25048 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25562»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عبد الملك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12448
عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حَدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَيْتَ“ قَالَ أَبِي قَالَ الْأَنْصَارِيُّ ”لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَاءِ“ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
ابو قزعہ سے مروی ہے کہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اس دوران اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ابن زبیر کوہلاک کرے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ باندھتا اور کہتا تھا کہ سیدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھو ڑ کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو گرا کر حطیم میں سے کچھ حصہ ا س میں شامل کردیتا، تمہاری قوم قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو پور اتعمیر نہیں کر سکے تھے۔ اس کی یہ بات سن کر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں، میں نے خودسیدہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، عبد الملک نے کہا: اگر کعبہ کو گرانے سے پہلے میں نے یہ بات سنی ہوتی تو میں بیت اللہ کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر پر باقی رہنے دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12448]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26681»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن ان کے بعد حجاج بن یوسف نے اس گھر کی تعمیر کو سیاسی شکل دے دی اور تعمیر نو کو ختم کر کے پرانے نقشے کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر کی، اب خانہ کعبہ کی وہی شکل باقی ہے، جو دورِ جاہلیت میں بنائی گئی تھی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1585
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112. البَابُ الرَّابِعُ فِي كَرَاهَةِ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِفِتْنَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12449
عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ الرِّيَاحِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَإِنَّ فِي أُذُنَيَّ يَوْمَئِذٍ لَقُرْطَيْنِ قَالَ وَإِنِّي لَغُلَامٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ إِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ أَنِّي أَصْبَحْتُ لَائِمًا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ فُلَانٌ هَاهُنَا يُقَاتِلُ عَلَى الدُّنْيَا وَفُلَانٌ هَاهُنَا يُقَاتِلُ عَلَى الدُّنْيَا يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ حَتَّى ذَكَرَ ابْنَ الْأَزْرَقِ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ لَهَذِهِ الْعِصَابَةُ الْمُلَبَّدَةُ الْخَمِيصَةُ بُطُونُهُمْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ وَالْخَفِيفَةُ ظُهُورُهُمْ مِنْ دِمَاءِهِمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ لِي عَلَيْهِمْ حَقٌّ وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ“
سیار بن سلامہ ابو منہال ریاحی سے سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، میں اس قدر چھوٹا تھاکہ ان دنوں میرے کانوں میں بالیاں ڈالی ہوئی تھیں، ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں کہ میں قریش کی حرکت پر انہیں ملامت کرتا رہتا ہوں، یہاں فلاں اور فلاں آدمی ہے، جو حصول دنیا کے لیے قتال کرتا ہے، ان کا اشارہ عبدالملک بن مروان کی طرف تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ابن الازرق کا نام بھی لیا، پھر کہا:سب لوگوں میں سے مجھے یہ لوگ زیادہ پسند ہیں، جو خرقہ پوش ہیں اوران کے پیٹ مسلمانوں کے اموال سے خالی اور ان کی پیٹھوں پر مسلمان کا خون لدا ہوا نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: حکمران قریش سے ہوں گے، حکمران قریش سے ہوں گے، حکمران قریش سے ہوں گے، میرا ان پر حق ہے، اور ان کا تم پر حق ہے، جب تک وہ تین کام کریں کہ وہ عدل و انصاف سے فیصلے کریں،ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کریں اورمعاہدے کریں توان کو پورا کریں، تو ان میں سے جو آدمی یہ کام نہ کرے، اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12449]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه البزار: 3857، وابويعلي: 3645، والبخاري في التاريخ الكبير: 4/ 160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19805)_x000D_ خُرُوْجُ الْمُخْتَارِ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20043»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
113. خُرُوجُ الْمُخْتَارِ
مختار ثقفی کا ظہور
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12450
عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ قَالَ فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً وَقَالَ لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِي بِهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ“
رفاعہ قتبانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار کے ہاں گیا، اس نے ایک تکیہ میری طرف کیا اور کہا: اگر میر ا بھائی جبرائیل اس سے اٹھ کر نہ گیا ہوتا تو میں یہ تکیہ آپ کو دے دیتا، رفاعہ کہتے ہیں: اس کی یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا، میں نے ارادہ کیاکہ میں اس کی گردن اڑادوں، لیکن اچانک مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھے میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مومن نے کسی مومن کو اس کی جان کی امان دی ہو اور پھر اسے قتل کردے تومیں اس سے لا تعلق اور بری ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12450]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 2688، والنسائي في الكبري: 8739، والطيالسي: 1285، والبزار: 2309، وابن حبان: 5982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22293»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12451
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ فَلَمَّا عَرَفْتُ كَذِبَهُ هَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
۔ (دوسری سند) رفاعہ کہتے ہیں:میں مختار کے سر پر کھڑا تھا،جب مجھے اس کے جھوٹا ہونے کا یقین ہوگیا تو میں نے ارادہ کیا کہ تلوار سونت کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کو اس کی جان کی امان دینے کے بعد اس کو قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے والا جھنڈا دیاجائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12451]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22294»
وضاحت: فوائد: … مختار بن ابی عبید ثقفی، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عراق میں رہتا تھا، ان کی شہادت کے بعد اس نے بصرہ میں سکونت اختیار کی، پھر سیدنا عبدا للہ بن زیبر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، انھوں نے اس کو کوفہ کا والی بنا دیا، لیکن اس نے ان کی بیعت توڑ دی اور ابن حنفیہ کی امامت کا دعویدار بن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین کی تلاش شروع کر دی، پھر اس نے نبوت اور اپنے آپ پر نزولِ وحی کا دعوی کر دیا، پس مصعب بن زبیر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو ۶۷ ؁ھ میں قتل کر دیا، مختلف کتب ِ تاریخ میں اس کے حالات پڑھے جا سکتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12452
عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ رِفَاعَةُ الْبَجَلِيُّ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَصْرَهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا قَامَ جِبْرِيلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِي قَبْلُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ”إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُ“ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَمَّنَنِي عَلَى دَمِهِ فَكَرِهْتُ دَمَهُ
ابو رفاعہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں داخل ہوا، میں نے سنا وہ کہہ رہاتھا کہ میرا بھائی جبرئیل ابھی میرے ہاں سے گیا ہے، اس کی یہ بات سن کر میں نے ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑادوں، پھر مجھے ایک حدیث یاد آئی جو مجھ سے سلیمان بن صرد نے بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے خون پر تم کو امین سمجھ لے تو اسے قتل نہ کرنا۔ اور اس مختار نے مجھ سے اپنی جان کی امان طلب کی ہوئی تھی، اس لیے میں نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12452]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة، ولجھالة ابي عكاشة الھمداني، اخرجه ابن ماجه: 2689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27749»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12453
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ عَنِ الْمُخْتَارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کسی کوفی کے ہاں تھے، وہ ان کو مختار کے بارے میں کچھ باتیں سنانے لگا، سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قیامت سے پہلے تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12453]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5985»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ فِی ثَقِیْفٍ کَذَّاباً وَمُبِیْراً۔)) وَرَدَ مِنْ حَدِیْثِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ، وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَسَلَامَۃَ بِنْتِ الْحَرِّ الْجَعْفِیَّۃِ فَعَنْ أَسْمَائَ أَنَّھَا قَالَتْ لِلْحُجَّاجِ: أَمَا إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَدَّثَنَا: ((إِنَّ فِی ثَقِیْفٍ کَذَّاباً وَمُبِیْراً۔)) قَالَتْ: فَأَمَّا الْکَذَّابُ، فَقَدْ رَأَیْنَاہُ، وَأَمَّا الْمُبِیْرُ، فَلَا إِخَالُکَ إِلاَّ إِیَّاہُ، ثقیف قبیلہ میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلِک (یعنی ہلاک کرنے والے)۔ یہ حدیث سیدہ اسما بنت ابو بکر صدیق، سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ سلامہ بنت حر جعفیہ سے مروی ہے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے حجاج سے کہا: آگاہ ہو جا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان کیا تھا کہ ثقیف قبیلہ میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلِک۔ کذاب تو ہم نے دیکھ لیا، رہا مسئلہ مہلِک کا، تو میں تو یہی سمجھ پا رہی ہوں کہ وہ تو ہی ہے۔ (ملاحظہ ہو: مسلم: ۷/۱۹۰، ۱۹۱،ترمذي: ۲۲۲۰ و ۳۹۴۴، أحمد: ۲/۲۶، ۸۷، ۹۱، ۹۲، صحیحہ:۳۵۳۸)
ہوازن کے ایک قبیلہ کے باپ کا نام قسی بن منبہ بن بکر بن ہوازن تھا، اس کو ثقیف کہتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/۲۲۷)
امام ترمذی نے یہ حدیث روایت کرنے کے بعد کہا: ویقال الکذاب المختار بن ابی عبید والمبیر الحجاج بن یوسف، یعنی: کہا جاتا ہے کہ کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور مہلِک سے مراد حجاج بن یوسف ہے،
مختار بن ابی عبید کا یہ دعوی تھا کہ جبریل امین اس کے پاس بھی آتے ہیں، رہا مسئلہ حجاج بن یوسف کا تو مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کے سلسلے میں اس کا بد کردار بلا مقابلہ رہا۔
اس حدیث میں تیس جھوٹوں کا ذکر ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔
ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسی علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیاء آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جانے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جب یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوں سے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
114. الْبَابُ الْخَامِسُ فِي بَعْثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ الحَجاج بن يُوسُفَ لِقِتَالِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِالْعِرَاقِ
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے¤لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12454
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ عَمَّارٌ قَالَ أَدْرَبْنَا عَامًا ثُمَّ قَفَلْنَا وَفِينَا شَيْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ فَذُكِرَ الْحَجَّاجُ فَوَقَعَ فِيهِ وَشَتَمَهُ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَسُبُّهُ وَهُوَ يُقَاتِلُ أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي طَاعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ إِنَّهُ هُوَ الَّذِي أَكْفَرَهُمْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسُ فِتَنٍ“ فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ وَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الصَّيْلَمُ وَهِيَ فِيكُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ حَجَرًا فَكُنْهُ وَلَا تَكُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَلَا تَكُنْ وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ حَمَّادٌ قَبْلَ ذَا قُلْتُ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَفَلَا كُنْتَ أَعْلَمْتَنِي أَنَّكَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُسَائِلَكَ
داؤ د بن ابی ہند نے عمار نامی ایک شخص سے بیان کیا، جس کا تعلق ملک شام سے تھا، اس نے کہا: ایک سال ہم روم کی طرف گئے اور وہاں سے واپس آئے، ہمارے قافلے میں قبیلہ خثعم کا ایک آدمی بھی تھا، اس نے حجاج کا ذکر کیا اور اسے خوب برا بھلاکہنے لگا، میں نے اس سے کہا:آپ اسے گالیاں کیوں دیتے ہیں؟ وہ تو امیر المومنین کے حکم کو بجا لاتے ہوئے اہل عراق سے بر سر پیکار ہے، اس نے کہا:اس نے تو انہیں کفر میں مبتلا کیا ہوا ہے، پھر اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس امت میں پانچ بڑے بڑے فتنے رونما ہوں گے۔ ان میں سے چار وقوع پذیر ہو چکے ہیں اور ایک باقی ہے اور وہ بہت بڑا فتنہ ہوگا، اہل شام یاد رکھو وہ فتنہ تمہارے اندر رونماہوگا، اگر تم اس فتنہ کو پاؤ تو اگر ہوسکے تو پتھر بن جانا یعنی دو فریقوں میں سے کسی ایک کا بھی ساتھ نہ دینا، بلکہ ہوسکے تو زمین میں سرنگ بنا کر چھپ جانا، میں نے کہا:کیا آپ نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ نے پہلے کیوں نہیں بتلایا کہ آپ نبی کی زیارت سے مشرف ہوچکے ہیں، تاکہ میں آپ سے مزید کچھ دریافت کرلیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12454]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمار الرجل الشامي، وزعم بعضھم انه له صحبة، ولا يصح، فالصحيح انه تابعي، اخرجه ابن الاثير في اسد الغابة: 6/ 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20972»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عمار الرجل الشامي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115. الْبَابُ السَّادِسُ فِي بَعْثِهِ أَيْضًا إِلَى مَكَّةَ بَعْدَ قَتْلِ مُصْعَبِ بِالْعِرَاقِ لِقَتْلِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ فَقَتَلَهُ بِهَا وَلَمْ يُرَاعِ حُرْمَةَ الْبَيْتِ
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12455
عَنْ أَبِي الصَّدَّيقِ النَّاجِيِّ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ دَخَلَ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ مَا قُتِلَ ابْنُهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَكِ أَلْحَدَ فِي هَذَا الْبَيْتِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَذَاقَهُ مِنْ عَذَابِ أَلِيمٍ وَفَعَلَ بِهِ مَا فَعَلَ فَقَالَتْ كَذَبْتَ كَانَ بَرًّا بِالْوَالِدَيْنِ صَوَّامًا وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ الْآخِرُ مِنْهُمَا شَرُّ مِنَ الْأَوَّلِ وَهُوَ مُبِيرٌ“
ابو صدیق ناجی سے مروی ہے کہ حجاج بن یوسف جب سیدنا عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کر چکا تو اس کے بعد ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور کہنے لگا: تمہارے بیٹے نے بیت اللہ کے اندر الحاد کیا تھا،سو اللہ تعالیٰ نے اسے درد ناک عذاب سے دو چار کیا اور اس کے ساتھ بہت کچھ کیا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، وہ تو اپنے والدین کا انتہائی خدمت گزارتھا، وہ دن کو بہت زیادہ روز ے رکھنے والا اور رات کو بہت زیادہ قیام کرنے والا تھا، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اطلاع دے چکے ہیں کہ عنقریب قبیلہ ثقیف میں سے دو جھوٹے آدمی ظاہر ہوں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی برا ہوگا اوروہ بہت ہی خون ریزہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12455]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، لكن المحفوظ في متنه: يكون في ثقيف كذاب و مبير، اخرجه مسلم: 2545، والحديث المرفوع فيه بلفظ: أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:ٰ 26967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27507»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12456
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَصَلَبَهُ مَنْكُوسًا فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ جَاءَتْ أَسْمَاءُ وَمَعَهَا أَمَةٌ تَقُودُهَا وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا فَقَالَتْ أَيْنَ أَمِيرُكُمْ فَذَكَرَ قِصَّةً فَقَالَتْ كَذَبْتَ وَلَكِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ الْآخِرُ مِنْهُمَا أَشَرُّ مِنَ الْأَوَّلِ وَهُوَ مُبِيرٌ“
عنترہ سے مروی ہے کہ جب حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور انہیں الٹا کر کے لٹکا دیا، تو وہ اس دوران منبر پر تھاکہ اچانک سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا آ گئیں، ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی، ایک لونڈی ان کاہاتھ پکڑے ان کو لائی، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! تمہارا امیر کہاں ہے؟ اس کے بعدعنترہ نے مفصل واقعہ بیان ہے، اس کے آخر میں ہے:سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے حجاج سے کہا: تو جھوٹ کہتا ہے، میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں دو جھوٹے آدمی نکلیں گے، ان میں سے بعد والا پہلے سے بھی زیادہ شر والا ہوگا اور وہ بہت ہی خون ریز ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12456]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لكن بلفظ ان في ثقيف كذابا ومبيرا وھذا اسناد فيه ھارون بن عنترة، وفيه كلام، وقد انفرد بسياق ھذه القصة، فذكر ان ابن الزبير صلب منكوسا، وان اسماء ھي التي دخلت علي الحجاج، والصحيح ان ابن الزبير صلب، ولكن لم يتابعه احد علي قوله: منكوسا وان الحجاج ھو الذي دخل علي اسمائ، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27514»

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لكن بلفظ ان في ثقيف كذابا ومبيرا وھذا اسناد فيه ھارون بن عنترة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں