🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. البابُ الأَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضَائِلِ بَعْضِ الْأَيَّامِ
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12757
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تُفْتَحُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا مَرَّتَيْنِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کے دن آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، جو بندے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے ان سب کی اس دن مغفرت کر دی جاتی ہے، لیکن جن دو مسلمانوں کی آپس میں دشمنی یا نفرت ہو ان کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ ان دونوں کا معاملہ مؤخر رکھو یہاں تک کہ یہ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12757]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9041»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2565
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12758
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے اعمال ہر جمعرات یعنی جمعہ کی رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں جو شخص قطع رحمی کرنے والا ہو، اس کے اعمال مقبول نہیں ہوتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12758]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10277»
وضاحت: فوائد: … اس وقت مسلمان باہمی دشمنی، نفرت اور قطع رحمی کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں اور خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت سے محروم ہو رہے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. فَصْلٌ فِي فَضْل البكور
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12759
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے ان کے صبح کے اوقات میں برکت فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12759]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه البزار: 696، وابويعلي: 425، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1320»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12760
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا“ قَالَ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ
سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت فرما۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے، صنحر ایک تاجر آدمی تھے، یہ اپنے غلاموں کو تجارت کے لیے صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے، اس کی برکت سے ان کے پاس اس قدر مال جمع ہوگیا کہ وہ مالدار بن گئے اور ان کا مال بہت زیادہ ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12760]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه ابوداود: 2606، والترمذي: 1212، وابن ماجه: 2236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19708»
وضاحت: فوائد: … اس وقت کے مبارک ہونے کی تین وجوہات ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت کا نازل ہونا، طبیعت کا تازہ دم ہونا اور (۲) وقت کی مقدار کا زیادہ ہونا۔
اب پاکستان میں ماہِ اگست شروع ہواہے، ۳۰:۴ پر لوگ نماز فجر سے فارغ ہو جاتے ہیں، ۳۰:۴ سے نماز ظہر تک آٹھ نو گھنٹوں کا پیریڈ بنتا ہے، جبکہ اہل پاکستان کی عادت یہ ہے کہ وہ نو دس بجے اپنی زندگی کے معمولات شروع کرتے ہیں اور دن کے شروع کے برکت والے پانچ چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔
کراچی (پاکستان) میں گاڑیوں کے ایک مکینک کو یہ حدیث سناکر نمازِ فجر کے فوراً بعد ورکشاپ کھولنے کی تجویز دی گئی، آہستہ آہستہ اس کے اس وقت کی شہرت ہونے لگی اور کئی مالکان کے لیے یہ بڑا مناسب وقت ثابت ہوا، پھر اس وقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی آمدنی میں اتنی برکت ڈالی کہ اب وہ ایک فیکٹری کا مالک ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. الْبَابُ الثَّانِي فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ اللَّيَالِي مُطْلَقًا
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12761
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے: ہے کوئی سوالی، جو مانگے اور وہ اسے دے دیا جائے، طلوع فجر تک یہی کیفیت رہتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12761]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 5319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3673»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12762
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ شَيْئًا تَعْلَمُهُ وَأَجْهَلُهُ لَا يَضُرُّكَ، وَيَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ، هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَفْضَلُ مِنْ سَاعَةٍ، وَهَلْ مِنْ سَاعَةٍ يُتَّقَى فِيهَا؟ فَقَالَ: ”لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَدَلَّى فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَيَغْفِرُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الشِّرْكِ وَالْبَغْيِ، فَالصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ، فَصَلِّ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ“، الْحَدِيثُ ذُكِرَ مُطَوَّلًا فِي مَنَاقِبِ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ
سیدنا عمر وبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ایک بات جسے آپ جانتے ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں، آپ بتلا دیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اسے فائدہ پہنچا دے گا، آیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے افضل بھی ہوتی ہے؟ اور کیا کوئی وقت ایسا بھی ہے، جس میں عبادت کرنے سے بچنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی بات دریافت کی کہ جس کے بارے میں تم سے پہلے مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، آدھی رات کے بعد اللہ تعالیٰ عرش سے نیچے آجاتا ہے اس وقت شرک اور بغاوت کے علاوہ باقی گناہ کرنے والے سب لوگوں کو بخش دیتا ہے، ہر نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں، تم صبح کی نماز طلوع آفتاب تک پڑھ سکتے ہو، جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز سے رک جاؤ، یہ حدیث عمر وبن عبسہ کے مناقب میں مفصل بیان ہوچکی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12762]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه بين سليم بن عامر وعمرو بن عبسة، علي خطأ في متنه، واختلف فيه علي يزيد بن ھارون، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19653»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه بين سليم بن عامر وعمرو بن عبسة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. فَصْلٌ في فَضْلٍ لَيْلَةِ النُّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12763
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی مخلوق پر نظر ڈالتا ہے اور اپنے تمام بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے، ما سوائے دو قسم کے آدمیوں کے، کسی سے بغض رکھنے والا اور کسی کا قاتل۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12763]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواهده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6642»
وضاحت: فوائد: … اسی رات کو ہمارے ہاں شب ِ براء ت کہتے ہیں، اس رات کی فضیلت کے بارے میں صرف مذکورہ بالا حدیث صحیح ہے، لیکن اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس رات کا خصوصی قیام کیا جائے اور اس کے دن کا خصوصی روزہ رکھا جائے، خاص عبادت کے لیے خاص دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس حدیث میں نصف شعبان کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے، یہ ہر سوموار اور جمعرات کی فضیلت بھی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12764
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ لِي: ”أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟“، قَالَتْ: قُلْتُ: ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوگھر میں موجود نہ پایا، میں آپ کی تلاش میں نکلی تو آپ بقیع میں تھے آپ نے اپنا سرمبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اس بات سے ڈر گئی کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کرے گا؟ کہتی ہیں، میں نے کہا: میں سمجھی تھی کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی نصف رات کوپہلے آسمان پر تشریف لاتاہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ انسانوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12764]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، ولانقطاعه، يحيي بن ابي كثير لم يسمع من عروة، والحجاج بن ارطاة لم يسمع من يحيي بن ابي كثير، اخرجه الترمذي: 739، وابن ماجه: 1389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26546»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. فَصْلٌ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَرَفَةَ
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12765
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ فُلَانٌ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا، قَالَ: وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”ابْنَ أَخِي! إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ کے دن فلاں آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا، وہ آدمی عورتوں کی طرف غور سے دیکھنے لگا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پیچھے سے اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کے چہرے کو دوسری طرف پھیرتے تھے، لیکن وہ آدمی عورتوں کی طرف برابر دیکھتا رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: بھتیجے! آج کے دن جو آدمی اپنے کانوں، آنکھوں اور زبان کو کنٹرول میں رکھ لے گا، اسکی مغفرت کر دی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12765]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سُكين بن عبد العزيز مختلف فيه، وابوه عبد العزيز بن قيس العبدي مجھول، اخرجه الطيالسي: 2734، وابويعلي: 2441، وابن خزيمة: 2834، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3041»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔
عرفہ کے دن کی فضیلت ثابت ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗ لَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ (صحیح مسلم)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. خَاتِمَةٌ فِي فَضَائِلِ الشَّجَرِ وَغَرْسِهِ خُصُوصًا النخيل
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12766
وَعَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارَةٍ فَقَالَ: ”إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ“، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“
مجاہد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا، دروانِ سفر میں نے ان سے صرف ایک حدیث سنی، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ میں نے کہنا چاہا کہ اس درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے، مگر میں نے دیکھا کہ میں حاضرین مجلس میں سب سے کم سن ہوں، اس لیے میں خاموش رہا، بعدمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرما دیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12766]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 72، ومسلم: 2811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4599»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 72
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں