الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. خَاتِمَةٌ فِي فَضَائِلِ الشَّجَرِ وَغَرْسِهِ خُصُوصًا النخيل
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
حدیث نمبر: 12767
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي لَأَعْرِفُ شَجَرَةً بَرَكَتُهَا كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، هِيَ النَّخْلَةُ“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا درخت جانتا ہوں کہ جس کی برکت مسلمان کی طرح ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12767]
تخریج الحدیث: «اخرجه بنحوه البخاري: 5444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5000»
الحكم على الحديث:
اخرجه بنحوه البخاري: 5444
حدیث نمبر: 12768
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، فَمَا هِيَ؟“، قَالَ: فَقَالُوا وَقَالُوا فَلَمْ يُصِيبُوا، وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایک ایسے درخت جیسی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ کون سا درخت ہوسکتا ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں نے مختلف درختوں کے نام لیے، مگر وہ صحیح جواب نہ بتلا سکے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے، مگرمیں جھجک گیا، بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12768]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6122، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4859»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 6122
حدیث نمبر: 12769
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا تَطْرَحُ وَرَقَهَا“، قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَدْوِ، وَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ! مَا مَنَعَكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ، فَوَاللَّهِ! لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایک ایسے درخت کی مانند ہے، جس کے پتے جھڑتے نہیں ہیں۔ لوگ جنگل کے مختلف درختوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے، میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، مگر کم سن ہونے کی وجہ سے بولنے میں جھجکتا رہا، آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: بیٹے! تمہیں بات کرنے سے کون سی بات مانع رہی؟ اللہ کی قسم! اگر تم یہ بات وہاں کہہ دیتے تو یہ آج میرے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12769]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6، 62، 131، ومسلم: 2811، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6052»
وضاحت: فوائد: … کھجور کے درخت کا پھل، عمر کے جس مرحلے میں ہو، مفید ہے، اس کی گٹھلی میں کئی امراض کا علاج پایا جاتا ہے اوراس کے پتوں سے ٹوکریاں، چٹائیاں، مصلے اور چارپائی بننے والے دھاگے تیار کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن بھی اپنا مقام سمجھے اور کسی کو تکلیف نہ پہنچائے، بلکہ وہ ہر مسلمان کے لئے مفید ثابت ہو۔
امام مبارکپوریl نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لما بَرَکَتُہُ کَبَرْکَۃِ الْمُسْلِمِ۔))(بخاری: ۵۴۴۴) یعنی: ایک درخت ایسا ہے کہ اس کی برکت، مسلمان کی برکت کی طرح ہے۔ آپ کی مراد کھجور کا درخت تھا۔
کھجور کے تمام اجزاء مبارک ہیں اور ہر وقت ان برکات کا حصول ممکن ہے، جونہی کھجور کا دانہ وجود پکڑتا ہے، اس وقت سے لے کر خشک ہونے تک اس کی مختلف انواع کھائی جاتی ہے، پھر اس کی گٹھلی جانوروں کے چارہ میں استعمال کی جاتی ہے اور پتوں سے رسیاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح مومن کی برکتیں ہر قسم کے حالات میں عام ہونی چاہئیں، اس کا وجود ایسا ہو کہ وہ خودبھی اور دوسرے لوگ بھی اس کے وجود سے اس کی زندگی میں اور اس کی موت کے بعد مستفید ہو سکیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۹)
امام مبارکپوریl نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لما بَرَکَتُہُ کَبَرْکَۃِ الْمُسْلِمِ۔))(بخاری: ۵۴۴۴) یعنی: ایک درخت ایسا ہے کہ اس کی برکت، مسلمان کی برکت کی طرح ہے۔ آپ کی مراد کھجور کا درخت تھا۔
کھجور کے تمام اجزاء مبارک ہیں اور ہر وقت ان برکات کا حصول ممکن ہے، جونہی کھجور کا دانہ وجود پکڑتا ہے، اس وقت سے لے کر خشک ہونے تک اس کی مختلف انواع کھائی جاتی ہے، پھر اس کی گٹھلی جانوروں کے چارہ میں استعمال کی جاتی ہے اور پتوں سے رسیاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح مومن کی برکتیں ہر قسم کے حالات میں عام ہونی چاہئیں، اس کا وجود ایسا ہو کہ وہ خودبھی اور دوسرے لوگ بھی اس کے وجود سے اس کی زندگی میں اور اس کی موت کے بعد مستفید ہو سکیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۹)
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 6
64. فَصْلٌ فِي فَضْلِ التَّمْرِ وَالْعَجْوَةِ
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 12770
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَا عَائِشَةُ! بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ“، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: كَانَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَاهُ عَنْهُ (مسند أحمد:25972)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں، اس گھر والے لوگ بھوکے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12770]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25458 ترقیم بيت الأفكار الدولية:25972»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2046
حدیث نمبر: 12771
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ كَأَنْ لَيْسَ فِيهِ طَعَامٌ“
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں، وہاں گویا کھانا ہی نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12771]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25247»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ہاں اس حدیث کے مطابق گندم یا چاول کی مثال دی جا سکتی ہے، کیونکہ عرب جس طرح کھجور کو بطورِ غذا استعمال کرتے تھے، اس طرح ہم گندم یا چاول کو استعمال کرتے ہیں، یعنی ہمارے ہاں جس گھر میں گندم یا چاول موجود ہوں تو اس گھر والوں کا گزارہ ہو سکے گا، لیکن اگر یہ چیزیں بھی نہ ہوں تو وہ بیچارے کیا کریں گے، جیسا کہ بعض غریب لوگوں کا حال ہے۔
حدیث کا مفہوم اگر عام سمجھا جائے تو مطلب یہ ہے جس آدمی یا گھر والوں کی غذا میں کھجور شامل نہ ہو وہ غذائی کمی کا شکار رہیں گے۔ کھجور کے کثیر الفوائد ہونے پر اگر نظر ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی سمجھ میں آنے والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث کا مفہوم اگر عام سمجھا جائے تو مطلب یہ ہے جس آدمی یا گھر والوں کی غذا میں کھجور شامل نہ ہو وہ غذائی کمی کا شکار رہیں گے۔ کھجور کے کثیر الفوائد ہونے پر اگر نظر ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان بخوبی سمجھ میں آنے والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25247
حدیث نمبر: 12772
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَصِيفٌ يَقُولُ ”الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ“
سیدنا رافع بن عمرو مزنی بیان کرتے ہیں کہ میں بلوغت کے قریب تھا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: عجوہ اور کھجور کا درخت جنت میں سے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12772]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15593»
وضاحت: فوائد: … عجوہ کھجور کی خاصیات کے بارے میں مختلف تحقیقات پیش کی جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث پر یقین رکھ کر کھائے گا۔ عام طور پر کھجور میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، کیلوریز، سوڈیم، منگنیشیم، آئرن، فاسفورس، سلفر اور کلورین پایا جاتا ہے۔ یہ سستی ٹانک ہے، عجوہ کھجور نہار منہ زہروں کا تریاق ہے، قولنج کو فائدہ دیتی ہے، گردے اور رحم کے دردوں میں مفید ہے، روزانہ سات عجوہ کھجوریں کھانا کوڑھ سے شفا کا سبب بنتا ہے، دل کے دورے میں سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھانی چاہئیں۔ یہ جسم کے ہر حصے کے لیے یکساں مفید ہے، اس کی سکنجبین اور اس کے ساتھ بادام اور خشخاص کھانا بہت فائدہ دیتا ہے۔ زخموں کو مندمل کرتی ہے، اسہال دور کرتی ہے، یرقان کے لیے اکسیر ہے، پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے، اس سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں، کھجور کے ساتھ انار کا پانی معدہ کی سوزش اور اسہال میں مفید ہے۔ علاوہ ازیں یہ کئی فوائد اور خاصیات پر مشتمل ہے۔
کئی احادیث میں عجوہ کھجور کے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
کئی احادیث میں عجوہ کھجور کے فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 12773
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ يَجْتَنُونَ أَرَاكًا فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ جَنْيَ أَرَاكٍ فَقَالَ ”لَوْ كُنْتُ مُتَوَضِّئًا أَكَلْتُهُ“
سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ لوگ پیلو کا پھل چن رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا توایک آدمی نے چنے ہوئے پیلو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں باوضو ہوتا تو کھالیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12773]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن لھيعة، ولجھالة مولي جابر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15214»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن لھيعة
حدیث نمبر: 12774
عَنْ أَبِي أَسِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ“
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زیتون کھاؤ اور جسم پر بھی لگایا کرو، بے شک یہ ایک بابرکت شجر کا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12774]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 1852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16151»
وضاحت: فوائد: … زیتون کے تیل کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کافی ہے: {یُوقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُبٰرَکَۃٍ زَیْتُوْنِۃٍ لَا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ یَکَادُ زَیْتُہَا یُضِیئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ } (سورۂ نور: ۳۵) … (وہ چراغ) ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی، خود وہ تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے۔
روغن زیتون کے کئی فوائد ہیں، علامہ ابن قیم نے (زاد المعاد) میں ان فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔
روغن زیتون کے کئی فوائد ہیں، علامہ ابن قیم نے (زاد المعاد) میں ان فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
65. فَرْعٌ فِيْمَا جَاءَ فِي تَلْقِيحِ النَّخْلِ
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 12775
عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى أَقْوَامًا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ ”مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ“ قَالَ يَا أَخُذُونَ مِنَ الذَّكَرِ فَيَحُطُّونَ فِي الْأُنْثَى يُلَقِّحُونَ بِهِ فَقَالَ ”مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا“ فَبَلَغَهُمْ فَتَرَكُوهُ وَنَزَلُوا عَنْهَا فَلَمْ تَحْمِلْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّمَا هُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتُهُ إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوا فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَالظَّنُّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ“
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک نخلستان سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ ایک کھجور کا بور دوسری کھجور پر ڈال رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈال کر اس کی افزائش کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہو گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات ان لوگوں تک پہنچی تو انہوں نے اس عمل کو چھوڑ دیا اور وہ درختوں سے نیچے اتر آئے، اس سال کھجور کے درخت ثمر آور نہ ہوئے، جب اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو میرا محض اپنا خیال تھا، اگر اس عمل سے تمہیں فائدہ ہوتا ہے، تو یہ کام کر لیا کرو، میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں اور خیال غلط بھی ہوسکتا ہے اور درست بھی، البتہ میں تم سے جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کروں تو اس میں اللہ پر جھوٹ ہرگز نہ باندھوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12775]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2361، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1399»
وضاحت: فوائد: … یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ دینی امور اور شرعی معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال حجت ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2361
66. فَضْلَّ فِي فَضْلٍ غَرْسِ الشَّجَرِ وَغَيْرِهِ
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 12777
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا پودا ہو، اگر وہ کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہوتو وہ ضرور ایسا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12777]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الطيالسي: 2068، والبزار: 1251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13011»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم