🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي فَضْلٍ عَمَّانَ وَعَدَنَ وَأَهْلِهَا
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12747
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ إِسْحَاقُ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ عَمَّانَ قَالَ مِنْ أَهْلِ عَمَّانَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَفَلَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا عَمَّانُ يَنْضَحُ بِجَانِبِهَا (وَقَالَ إِسْحَاقُ بِنَاحِيَتِهَا) الْبَحْرُ الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا“
حسن بن ہادیہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میری ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: میں اہل عمان میں سے ہوں، انہوں نے کہا: اہل عمان میں سے؟ میں نے کہا: جی ہاں!انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کر دوں؟ میں نے کہا: ضرور سنائیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عمان نامی ایک جگہ جانتا ہوں، جس کے پہلو میں سمندر بہتا ہے، وہاں سے آکر ایک حج اداکرنا دیگر مقامات سے آکر دو حج کرنے سے بھی افضل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12747]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن بن ھادية مجھول الحال، اخرجه البيھقي في السنن: 4/ 335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4853»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12748
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَضَرَبُوهُ وَسَبُّوهُ فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ أَهْلَ عَمَّانَ أَتَيْتَ مَا ضَرَبُوكَ وَلَا سَبُّوكَ“
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی عربی قبیلے کی طرف نمائندہ بنا کر روانہ فرمایا، تو اس قبیلہ والوں نے اسے مارا اوربرا بھلا بھی کہا، اس نے واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل عمان کے ہاں جاتے تو وہ تمہیں نہ مارتے اور نہ برا بھلا کہتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12748]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20009»
وضاحت: فوائد: … بحرین کا ایک شہر عمان ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2544
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12749
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ“ قَالَ لِي مَعْمَرٌ اذْهَبْ فَاسْأَلْهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدن ابین سے بارہ ہزار ایسے لوگ برآمد ہو ں گے، جو اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں گے، میرے اوران کے درمیان جتنے بھی لوگ ہیں وہ ان تمام لوگوں سے افضل ہوں گے۔ معمر نے مجھ سے کہا: تم جا کر اس حدیث کی بابت پوچھ کرآؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12749]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، اخرجه ابويعلي: 2415، والطبراني: 11029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3079»
وضاحت: فوائد: … عدن ابین یمن کی مشہور بندرگاہ اور شہر ہے۔ا ب بھی یمنی لوگوں میں خیر غالب ہے، وہ بڑی قد و قامت والے بہترین جنگجو ہیں۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِيْمَا وَرَدَ فِي بَعْضِ قَبَائِلِ الْيَمَنِ
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12750
عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْفَهْمِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأُتِيَ بِثَوْبٍ مِنْ ثِيَابِ الْمَعَافِرِ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ لَعَنَ اللَّهُ هَذَا الثَّوْبَ وَلَعَنَ مَنْ يَعْمَلُ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَلْعَنْهُمْ فَإِنَّهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ“ قَالَ إِسْحَاقُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَعْمَلُهُ
سیدنا ابو ثور فہمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ یمن کے معافر قبیلے کا بنا ہوا کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، سیدنا ابو سفیا ن نے کہا: اللہ کی لعنت ہو اس کپڑے پر اور اس کے بننے والے پر، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر لعنت نہ کرو، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12750]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة تفرد بھذا الحديث، وھو ممن لا يحتمل تفرده، وتلميذه اسحاق بن عيسي سمع منه قبل احتراق كتبه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18926»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12751
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ وَعَلَى خَوْلَانَ الْعَالِيَةِ وَعَلَى الْأَمْلُوكِ أَمْلُوكِ رَدْمَانَ
سیدنا عمرو بن عبسہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمنی قبائل سکون، سکاسک، خولانِ عالیہ اور املوک ردمان کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12751]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن يزيد الاملوكي، اخرجه الطبراني في مسند الشاميين: 552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19673»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن يزيد الاملوكي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. الْبَابُ الرَّابِعُ فِيمَا وَرَدَ فِي وَجُ وَهُوَ وَادٍ بَيْنَ الطَّائِفِ وَمَكَّةَ
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12752
عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ يَعْنِي وَادِيًا وَقَفَ حَتَّى اتَّفَقَ النَّاسُ كُلُّهُمْ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ“ وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفَ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں لیہ سے واپس آرہے تھے، جب ہم بیری کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کالے رنگ کے چھوٹے پہاڑ کے کونے میں بیری کے بالمقابل کھڑے ہو کر ایک وادی کی طرف غور سے دیکھا اور وہاں رکے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وادیٔ وج کا شکار اور جھاڑیاں بھی حرم ہیں اور اللہ کے لیے لوگوں پر حرام کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ آپ کے محاصرہ طائف و ثقیف سے پہلے کا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12752]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن عبد الله بن انسان، قال ابو حاتم الرازي: ليس بالقوي، وفي حديثه نظر، اخرجه ابوداود: 2032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1416»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. الْبَاب الْخَامِسُ فِيمَا وَرَدَ فِي أَهْلِ فَارِسِ وَمَدِينَةَ مَرْوَ مِنْ أَعْمَالِ خُرَاسَانَ
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12753
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اگر علم ثریا ستاروں کے پاس ہوتا، پھر بھی اہل فارس اسے ضرور حاصل کر لیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12753]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7937»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12754
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ أَخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ الَّذِي عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر دین ثریا ستاروں پر ہوتا، پھر بھی فارس یا اہل فارس کا ایک آدمی جاکر اسے ضرور حاصل کرلیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12754]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8067»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ہے، وہ فارس سے مدینہ منورہ کیسے پہنچے؟ یہ ایک ایسی داستان ہے، جس کے مکمل علم سے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۷۴۳)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2546
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12755
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَتَكُونُ بَعْدِي بُعُوثٌ كَثِيرَةٌ فَكُونُوا فِي بَعْثِ خُرَاسَانَ ثُمَّ انْزِلُوا مَدِينَةَ مَرْوَ فَإِنَّهُ بَنَاهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ وَدَعَا لَهَا بِالْبَرَكَةِ وَلَا يَضُرُّ أَهْلَهَا سُوءٌ“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد بہت سے لشکر روانہ کیے جائیں گے، تم کوشش کرکے خراسان کی طرف جانے و الے لشکر میں شامل ہونا اور جا کر مرو شہر میں قیام کرنا، کیونکہ ذوالقرنین نے اس شہر کو بنایا تھا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی تھی، یہاں کے لوگوں کو کوئی بری چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12755]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا شبه موضوع، اوس بن عبد الله بن بريدة متروك الحديث، وكذا اخوه سھل، والحسن بن يحيي المروزي فيه نظر، قاله الحسيني، اخرجه الطبراني في الاوسط: 8211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23406»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا شبه موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. الْبَابُ السَّادِسُ فِيمَا وَرَدَ فِي مِصْرَ وَجِهَةِ الْغَرْبِ
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12756
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا“ قَالَ فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب مصر کو فتح کرو گے، یہ وہ سر زمین ہے جس میں قیراط استعمال ہوتا ہے، جب تم اسے فتح کر لو تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کو امان حاصل ہے اور ان کا میرے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی ہے اورجب تم وہاں دو آدمیوں کو ایک اینٹ کے برابر جگہ کے بارے میں جھگڑتا دیکھو تو وہاں سے نکل آنا۔ میں نے شرجیل بن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کے برابر جگہ کے بارے میں لڑائی کرتے دیکھا تو میں وہاں سے چلا آیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12756]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21853»
وضاحت: فوائد: … اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اہل مصر میں سے تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا بھی اہل مصر میں سے تھیں۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کا بیان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو قوت و شوکت ملی اور مختلف ممالک کو فتح کر لیا۔ دینار اور درہم کے ایک جزء کو قیراط کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2543
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں