🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. الْفَضْلُ الأولُ فِي فَضَائِلِ الشَّامِ مُطلَقًا
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12727
وَعَنْ شُرَيْحٍ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ قَالَ ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ فَقَالُوا الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ“
شریح بن عبید سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عراق میں تھے اور ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہونے لگا،لوگوں نے کہا: امیر المومنین! آپ ان پر لعنت کریں، انہوں نے کہا: نہیں، نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شام میں چالیس آدمی ابدال کے مرتبہ سے شرف یاب ہوں گے، ان میں سے جب ایک فوت ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وساطت سے بارش طلب کی جائے گی اور دشمن کے مقابلہ میں ان کے ذریعے مدد حاصل کی جائے گی اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب ٹلیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12727]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يُدرك عليا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 896»
وضاحت: فوائد: … ابدال کے بارے میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں، ان تمام کی اسانید ضعیف ہیں اور وہ اس قابل نہیں ہیں کہ مطلب پورا ہو سکے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12728
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ يَقُولُ أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ كَيْفَ يَشَاءُ وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ وَلَنْ يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا أَوْ غَيْظًا أَوْ حُزْنًا
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے کہا: اہل شام زمین پر اللہ کی لاٹھی ہیں، اللہ ان کے ذریعے جس سے جس طرح چاہے گا، انتقام لے گا، اہل شام کے منافقین وہاں کے مومنین پر غالب نہ آسکیں گے اور وہ کسی نہ کسی پریشانی غصے یا غم سے ہلاک ہوجائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12728]
تخریج الحدیث: «اثر ضعيف، ايوب بن ميسرة بن حلبس، لم يرو عنه غير اثنين، و قال ابن حجر: رايت له ما ينكر، اخرجه الطبراني في الكبير: 4163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16162»
وضاحت: فوائد: … عمیر بن اسود اور کثیر بن مرہ حضرمی کہتے ہیں کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن سمط کہتے تھے: لَایَزَالُ الْمُسْلِمُوْنَ فِیْ الْأَرْضِ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، وَذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((لَاتَزَالُ مِنْ أُمَّتِیْ عِصَابَۃٌ قَوَّامَۃٌ عَلٰی أَمْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَایَضُرُّھَا مَنْ خَالَفَھَا، تُقَاتِلُ أَعْدَائَ ھَا، کُلَّمَا ذَھَبَ حَرْبٌ نَشَبَ حَرْبُ قَوْمٍ آخَرِیْنَ، یَزِیْغُ اللّٰہُ قُلُوْبَ قَوْمٍ لِیَرْزُقَھُمْ مِنْہُ، حَتّٰی تَأْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ، کَأَنَّھَا قِطَعُ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، فَیَفْزَعُوْنَ لِذٰلِکَ حَتّٰی یَلْبَسُوْا لَہٗ أَبْدَانَ الدُّرُوْعِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((ھُمْ أَھْلُ الشَّامِ۔)) وَنَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِإِصْبَعِہٖ، یُوْمِیُٔ إِلَی الشَّامِ حَتّٰی أَوْجَعَھَا۔ … مسلمان زمین میں قیامت کے برپا ہونے تک موجود رہیں گے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ایک جماعت اللہ کے حکم پر قائم دائم رہے گی، اس کا مخالف اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرتی رہے گی، جب کبھی ایک لڑائی ختم ہو گی تو دوسری جنگ چھڑ جائے گی، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو راہِ راست سے ہٹاتا رہے گا تاکہ ان سے (مالِ غنیمت کے ذریعے) ان کو رزق دیتا رہے، حتی کہ قیامت آ جائے گی، گویا کہ وہ اندھیری رات کے ٹکڑے ہوں گے، اس وجہ سے وہ گھبرا جائیں گے، حتی کہ وہ چھوٹی چھوٹی زرہیں پہنیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اہل شام ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی کے ساتھ زمین کو کریدا (یعنی شام کی طرف خط کھینچا)، حتی کہ آپ کو تکلیف بھی ہوئی۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۵۲۸، صحیحہ: ۳۴۲۵)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بُشْرٰی لِاَھْلِ الشَّامِ الْمُؤْمِنِیْنَ کی سرخی ثبت کی۔ جغرافیائی حدود تبدیل ہونے کی وجہ سے موجودہ شام اور احادیث میں مذکورہ شام کی حدود میں بہت زیادہ فرق ہے، قدیم شام کئی ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے، معجم البلدان کے بیان کے مطابق جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ شام کہلاتا تھا، یہ علاقہ انطاکیہ، موجودہ شام، اردن پر اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل تھا۔
مختلف احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاز، شام اور یمن اسلام و ایمان کے مراکز ہیں اور یہاں سے اسلام اور ایمان کاعلم بلند ہوتا رہے گا اور مدینہ سے مشرق کی جانب واقع عراق کا علاقہ فتنوں کا سرچشمہ اور ضلالت و گمراہی کا مرکز ہے، یہاں سے بہت سے فتنوں نے جنم لیا، یہاں خیر کم اور شر زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن و شام کے لیے خصوصی برکت کی دعا فرمائی۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیدائشی اور آبائی علاقہ مکہ مکرمہ یمن کا اور مدینہ منورہ شام کا شہر تھا، جیسا کہ علامہ شرف الدین طیبی نے مشکوۃ المصابیح کی شرح میں کہا ہے۔
ان احادیث میں شام میں بسیرا کرنے والے ان لوگوں کے لیے بشارت ہے، جو سنت کی تائید کرنے والے، اس پر عمل کرنے والے، اس کا دفاع کرنے والے اور اس کی طرف دعوت دینے میں صبر کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ان میں سے بنا دے اور ان کے زمرے میں ہمارا حشر کرے، جبکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے سائے میں ہوں۔ احادیث ِ مبارکہ میں سرزمینِ شام اور اہل شام کو سراہا گیا، ماضی میں یہ علاقہ اہل علم اور اہل تقوی لوگوں کی آماجگاہ بنا رہا، مستقبل میں بھی اس علاقے میں خیر و بھلائی زیادہ ہو گی۔
سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انجام یہ ہو گا کہ تم مختلف لشکروں میں بٹ جاؤ گے، ایک لشکر شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہو گا۔ ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں یہ زمانہ پا لوںتو آپ میرے لیے کون سا علاقہ مختار (وپسندیدہ) سمجھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کو لازم پکڑنا، یہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ زمین ہے، اللہ تعالیٰ اپنے مختار بندوں کو اس کی طرف لائے گا، اگر تم ایسا کرنے سے انکار کرو تو پھر یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے حوض سے پینا، بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے، (یعنی وہ فتنوں سے محفوظ رہیں گے)۔ (ابوداود: ۲۴۸۳)

الحكم على الحديث:
اثر ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. الْفَضْلُ الثَّانِي فِيْمَا جَاءَ فِي فَضْلٍ دِمَشْقَ وَالْغَوْطَةِ
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12729
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الشَّامُ فَإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ“
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم شام کو فتح کروگے، اور جب تمہیں سکونت کے لیے کسی جگہ کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو تم دمشق نامی شہر کو منتخب کرنا، خون ریز لڑائیوں میں وہ مسلمانوں کی قرار گاہ ہوگا اور اس کا ایک حصہ شہر غوطہ مسلمانوں کے لیے خیمہ کی مانند جائے امن ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12729]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17609»
وضاحت: فوائد: … دمشق کے قریب ایک شہر کا نام غوطہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس زمانے میں شام کی فضیلت بیان کی تھی، اس وقت کا ملک ِ شام مراد ہے، نہ کہ موجودہ، جغرافیائی حدود تبدیل ہو چکی ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12730
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”وَإِنَّ بِهَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ الْغُوطَةُ يَعْنِي دِمَشْقَ مِنْ خَيْرِ مَنَازِلِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ“
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: شام میں ایک شہر کانام غوطہ ہوگا، خون ریز لڑائیوں میں وہ مسلمانوں کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12730]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22679»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22679
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12731
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْغُوطَةُ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ“
سیدنا ابو دردا ء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خون ریز لڑائی کے دنوں میں دمشق کے نواح میں واقع ایک مقام غوطہ مسلمانوں کے لیے خیمہ کی مانند ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12731]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 4298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22068»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْل حِمْصَ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَسْجِدِهَا
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12732
عَنْ حُمْرَةَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الشَّامِ بَعْدَ مَسِيرِهِ الْأَوَّلِ، كَانَ إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَهَا، بَلَغَهُ وَمَنْ مَعَهُ أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: ارْجِعْ، وَلَا تَقَحَّمْ عَلَيْهِ فَلَوْ نَزَلْتَهَا وَهُوَ بِهَا لَمْ نَرَ لَكَ الشُّخُوصَ عَنْهَا، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَعَرَّسَ مِنْ لَيْلَتِهِ تِلْكَ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ، فَلَمَّا انْبَعَثَ انْبَعَثْتُ مَعَهُ فِي أَثَرِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: رَدُّونِي عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَيْهِ لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِيهِ، أَلَا! وَمَا مُنْصَرَفِي عَنْهُ مُؤَخِّرٌ فِي أَجَلِي، وَمَا كَانَ قُدُومِيَهُ مُعَجِّلِي عَنْ أَجَلِي، أَلَا! وَلَوْ قَدْ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدَّ لِي مِنْهَا، لَقَدْ سِرْتُ حَتَّى أَدْخُلَ الشَّامَ، ثُمَّ أَنْزِلَ حِمْصَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ عَلَيْهِمْ، مَبْعَثُهُمْ فِيمَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ وَحَائِطِهَا فِي الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ مِنْهَا“
حمر ہ بن عبد کلال سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے پہلے سفر کے بعد شام کی طرف روانہ ہوئے، جب شام کے قریب پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں تو طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے، آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ آپ وہاں نہ جائیں اور یہیں سے واپس چلیں، کیونکہ اگر آپ ادھر جائیں گے تو ہمیں اندیشہ ہے کہ آپ اسی میں مبتلا نہ ہوجائیں، پس آپ مدینہ منورہ کی طرف واپس چل پڑے، واپسی کی پہلی رات کے کسی حصہ میں آپ ذرا سستانے کے لیے کسی جگہ رکے، سب لوگوں کی نسبت میں آپ کے سب سے زیادہ قریب تھا، آپ بیدار ہوئے تو میں بھی اٹھ بیٹھا، میں نے آپ کو سنا آپ کہہ رہے تھے، میں شام تک جا پہنچا تھا ان لوگوں نے مجھے واپس کر دیا، محض اس لیے کہ وہاں طاعون تھا، حالانکہ میری وہاں سے واپسی میری موت کو مؤ خر نہیں کرسکتی اور میرا وہاں جانا میری موت کو جلدی نہ لاتا، خبردار! اب مدینہ جا کر اپنے ضروری کام تکمیل کر کے میں دوبارہ شام کی طرف جاؤں گا اور پھر حمص میں قیام کروں گا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سن چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھائے گا، جن پر کوئی حساب و عذاب نہ ہوگا، انہیں وہاں کے زیتون اور اس کے باغات کے درمیان میں برثِ ا حمر سے اٹھا لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12732]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله، وحمرةُ بن عبد كلال، قال الذھبي: ليس بعمدة ويجھل، اخرجه الحاكم: 3/ 88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 120»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12733
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَخِيهِ أَنَّ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ”أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ“، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ أَوْ يَأْتِيَهُ، قَالَ: ”فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَإِنَّ مَنْ أَهْدَاهُ كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگوں کے اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کی جگہ ہے، تم وہاں جا کر نماز پڑھا کرو، وہاں کی ایک نماز باقی مقامات کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ انہوں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی وہاں نہ جا سکے یا سفر کی مشقت برداشت نہ کر سکے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ وہاں جلانے کے لیے زیتون کا تیل بھجوا دے، جس نے وہاں تیل بھجوا دیا، اس نے گویا وہاں نماز ادا کر لی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12733]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زياده بن ابي سودة، قال الذھبي: في النفس شيء من الاحتجاج به، واورد له ھذا الحديث، وقال: ھذا حديث منكر جدا، ثم نقل عن عبد الحق قوله فيه: ليس ھذا الحديث بقوي، اخرجه ابوداود: 457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28178»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12734
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا، أَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَهُ الثَّالِثَةُ، فَسَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی دو دعائیں قبول کر لیں، ہمیں امیدہے کہ اللہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کر ے گا، انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کا فیصلہ اللہ کے فیصلہ کے مطابق ہو، اللہ نے ان کی یہ دعا قبول کر لی، انہوں نے دوسری دعا یہ کی کہ اللہ ان کو ایسی حکومت دے کر ایسی حکومت ان کے بعد کسی اور کونہ ملے، اللہ نے ان کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، انہوں نے تیسری دعا یہ کی کہ جو آدمی اپنے گھر سے محض نماز ادا کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ کو جائے، وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہوجائے، جیسا وہ اپنی ولادت کے روز تھا، ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا بھی قبول کرلی ہوگی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12734]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابن ماجه: 3377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6644»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۲۶۹۹) والے باب میں بھی مسجد اقصی کا ذکر ہو چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلٍ عَسْقَلَانَ
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12735
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَيْنِ، يُبْعَثُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، وَيُبْعَثُ مِنْهَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُهَدَاءَ وُفُودًا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَبِهَا صُفُوفُ الشُّهَدَاءِ، رُءُوسُهُمْ مُقَطَّعَةٌ فِي أَيْدِيهِمْ تَثِجُّ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا، يَقُولُونَ: رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، فَيَقُولُ: صَدَقَ عَبِيدِي، اغْسِلُوهُمْ بِنَهْرِ الْبَيْضَةِ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا نِقَاءً بِيضًا، فَيَسْرَحُونَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءُوا“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عسقلان، دو دلہنوں میں سے ایک دلہن ہے، یہاں سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے لوگ اٹھائے جائیں گے، جن کا حساب نہیں لیا جائے گا اور یہاں سے پچاس ہزار شہدا اٹھائے جائیں گے، جو اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، یہاں ایسے شہداء کی صفیں ہوں گی، جن کے کٹے ہوئے سر ان کے ہاتھوں میں ہوں گے اور ان کی رگوں سے خون پھوٹ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے: رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلٰی رُسُلِکَ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ (اے ہمارے رب!تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہم سے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے فرما، بیشک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔) اللہ فرمائے گا: میرے بندے سچ کہہ رہے ہیں، فرشتو! تم انہیں چمک والی نہر میں غسل دوـ، چنانچہ وہ وہاں سے ہر قسم کی میل کچیل سے پاک ہو کر صاف ستھرے ہو کر نکلیں گے اور جنت میں جہاں چاہیں گے گھومیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12735]
تخریج الحدیث: «موضوع، ابو عقال ھلال بن زيد مجمع علي طرح حديثه، وقال ابن حبان: روي عن انس اشياء موضوعة ما حدث بھا انس قط، لايجوز الاحتجاج به بحال، اخرجه ابن الجوزي في الموضوعات: 2/ 53، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13389»

الحكم على الحديث:
موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. الْفَضْلُ الاَوَّلُ فِيْمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْيَمَنِ مُطْلَقًا
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12736
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ بِدِمَشْقَ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ فِيهِ أَحَدٌ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَكَذَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامٍ“
عرو ہ بن رویم سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ دمشق میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان کی خدمت میں گئے، جب وہ آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث بیان کریں، جو آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم براہ راست سنی ہو اور آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اصل ایمان تو یمنی ہے، اسی طرح لخم اور جذام قبیلوں تک۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12736]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه البخاري تعليقا في التاريخ الكبير: 5/ 87، والطبراني في الكبير: 22/ 857، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13379»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں