الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. قتَالُ الْمُسْلِمِينَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 12798
۔ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اَخًا لِاَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ رضی اللہ عنہ کَانَ یَتَسَرَّعُ فِیْ الْفِتْنَۃِ فَجَعَلَ یَنْہَاہُ وَلَا یَنْتَہِیْ فَقَالَ: اِنْ کُنْتُ اَرٰی اِنَّہُ سَیَکْفِیْکَ مِنِّیْ الْیَسِیْرُ اَوْ قَالَ مِنَ الْمَوْعِظَۃِ دُوْنَ مَا اَرٰی‘ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ( (اِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا فَقَتَلَ اَحَدُھُمَا الآخَرَ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔) ) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ: ( (اِنَّہٗاَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖ۔) ) (مسنداحمد: 19819)
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی فتنوں میں پیش پیش رہتا تھا، وہ اسے منع تو کرتے تھے لیکن وہ باز نہیں آتا تھا،سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک دن اس سے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ میری تھوڑی سی وعظ و نصیحت تیرے لیے کافی رہے گی، لیکن صورتحال یہ ہے کہ میں اس کے برعکس دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب دومسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے بالمقابل نکل آئیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے مقابلے میں آنے والے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12798]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 125، وابن ماجه: 3964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19590 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12799
۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہٗقَالَ: ( (اِذَاالْمُسْلِمَانِ حَمَلَاَحَدُھُمَاعَلٰی صَاحِبِہ ٖالسِّلَاحَ فَہُمَاعَلٰی طَرَفِ جَہَنَّمَ، فَاِذَا قَتَلَ اَحَدُھُمَا صَاحِبَہٗ،دَخَلَاھَاجَمِیْعًا۔) )
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو مسلمان جب ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12799]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20424 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … جب آدمی گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے،بلکہ اس کا ارتکاب کرنے کے لیے کوشش شروع کر دیتا ہے تو اس کی حیثیت اس طرح کے مجرم کی ہی ہوتی ہے، اگرچہ وہ گناہ اس سے سرزد نہ ہو پائے، ہاں اگر وہ اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کا معاملہ اور ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12800
۔ وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ( (اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اَلْھَرْجَ۔) ) قَالُوْا:وَمَا الْھَرْجُ؟ قَالَ: ( (اَلْقَتْلُ۔) ) قَالُوْا:اَکْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ اِنَّا لَنَقْتُلُ کُلَّ َعامٍ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا قَالَ: ( (اِنَّہٗلَیْسَ بِقَتْلِکُمُ الْمُشْرِکِیْنَ وَلٰکِنْ قَتْلُ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔) ) قَالُوْا: وَمَعَنَا عَقُوْلُنَا یَوْمَئِذٍ قَالَ: ( (اِنَّہٗلَتُنْزَعُعُقُوْلُاَھْلِذٰلِکَالزَّمَانِوَیُخَلَّفُ لَہٗھَبَائٌمِّنَالنَّاسِیَحْسِبُ اَکْثَرُھُمْ اَنَّہُمْ عَلٰی شَیْ ئٍ وَلَیْسُوْا عَلٰی شَیْ ئٍ۔) ) قَالَ عَفَّانُ فِیْ حَدِیْثِہٖ: قَالَ اَبُوْ مُوْسٰی: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا اَجِدُ لِیْ وَلَکُمْ مِنْہَا مَخْرَجًا اِنْ اَدْرَکْتْنِیْ وَاِیَّاکُمْ اِلَّا اَنْ نَّخْرُجَ مِنْہَا کَمَا دَخَلْنَا فِیْہَا لَمْ نُصِبْ مِنْہَا دَمًا وَلَا مَالًا۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ہَرْج ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: ھَرْج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد قتل ِ عام ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا: جس قدر اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا اس سے بھی زیادہ قتل ہوگا، آجکل تو ہم ہرسال ستر ہزار سے زائد افراد کو قتل کر دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قتل سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ تم مسلمانوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے۔ صحابہ نے پوچھا: جب یہ صورت ِ حال ہوگی تو ان دنوں ہماری عقلیں کہاں جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دور کے لوگوں کی عقلیں ان سے چھین لی جائیں گی،اور ناسمجھ لوگ اقتدارِ حکومت پر غالب ہوں گے کہ ان کی اکثریت خود کو صحیح سمجھے گی، جبکہ وہ کسی دینی چیز پر نہیں ہوں گے۔ راوی حدیث عفان نے کہا: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے اور تم لوگوں کو ایسی صورت ِ حال کا سامنا ہو تو میں اپنے اور تمہارے لیے نجات کی صرف ایک صورت سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم خالی ہاتھ فتنے میں داخل ہوں اسی طرح کچھ لیے دیئے بغیر اس سے بے دخل ہوجائیں، نہ ہم کوئی خون بہائیں اور نہ مال لیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12800]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح، وھذا اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 2/ 12، وابويعلي: 7234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19492 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … یقینا ہمارا معاشرہ ان احادیث کا مصداق بن چکا ہے، قتل اتنا عام ہو گیا کہ ایک ایک دھماکے میں سینکڑوں لوگ کام آ جاتے ہیں۔ محرم رشتہ دار وں میں اس قدر دشمنی اور عداوت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی جان کے پیاسے نظر آتے ہیں اور موقع ملنے پر اپنی خواہشِ بد کا اظہار کر دیتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12801
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ الصُّنَابِحِيَّ الْأَحْمَسِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَلَا إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَقْتَتِلَنَّ بَعْدِي) )
سیدنا صنابحی احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوضِ کوثر پر موجود ہوں گا اور میں تمہاری کثرت ِ تعداد کی بنا پر دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا تم میرے بعد آپس میں قتال نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12801]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي خطأ فيه في اسم صحابيه، وھو الصنابح بن الاعسر الاحمسي، فمن قال: الصنابحي بياء النسبة فقد اخطا، أخرجه الحميدي: 780، وابن ابي شيبة: 11/ 438، وابن حبان: 6446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19279»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12802
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَيْضًا) عَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ) )
۔ (دوسری سند) رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کثرت کی بنا پر میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا،لہذا اس طرح نہ ہونے پائے کہ تم میرے بعد کافر بن کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12802]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف مجالد بن سعيد، أخرجه ابويعلي: 1452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19296»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12803
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا أَوْ حَدِيثًا حَسَنًا فَبَدَرَنَا رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا تَقُولُ فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ، إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ الدُّخُولُ فِيهِمْ أَوْ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ
سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے ہاں تشریف لائے۔ہمیں توقع تھی کہ وہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث یا کوئی اچھی بات سنائیں گے۔ ہم میں سے حکم نامی ایک آدمی نے جلدی کی اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! فتنہ کے دنوں میں قتال کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے کہا: تجھے تیری ماں گم پائے‘ کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا چیز ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکوں سے قتال کیا کرتے تھے، اس وقت مشرکین کی جماعت یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا،وہ قتال تمہاری اس لڑائی کی طرح نہیں تھا، جو حصولِ اقتدار کے لیے لڑی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12803]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4651، 4514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5381»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، یہ کفریہ عمل ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا۔} … اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ (سورۂ نسائ:۹۳)
الحكم على الحديث: صحیح
4. وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12804
عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَلِجُ قُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّلَامُ فَلِجْ، فَلَمَّا دَخَلَ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَيَّةَ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ؟ قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ) ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: ( (ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ) ) قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ: ( (حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ) ) قَالَ قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ( (اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ وَادْخُلْ دَارَكَ) ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ: ( (فَادْخُلْ بَيْتَكَ) ) قَالَ: قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: ( (فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ وَاصْنَعْ هَكَذَا، وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكَوْعِ وَقُلْ رَبِّيَ اللَّهُ حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ) )
سیدنا وابصہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں کوفہ والے اپنے گھر میں تھا کہ دروازے پر یہ آواز سنائی دی:السلام علیکم، میں اندر آ جاؤں، میں نے کہا: وعلیکم السلام، جی تشریف لے آئیں، وہ آدمی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے؟ یہ عین دوپہر کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا: دن مجھ پر لمبا ہو رہا تھا، میں سوچنے لگا کہ کس کے ساتھ باتیں کر کے وقت گزارا جائے، (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا)۔ پھر وہ مجھے احادیث ِ نبویہ بیان کرنے لگے اور میں ان کو، انھوں نے یہ حدیث بھی بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنے بپا ہوں گے، ان حالات میں سویا ہو ا آدمی لیٹے ہوئے سے،لیٹا ہوا بیٹھنے والے سے، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے، چلنے والا سوار سے اور اونٹ سوار گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے والے آدمی سے بہتر ہو گا، ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتلِ عام کے دنوں میں۔ میں نے کہا:قتلِ عام کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان اپنے ساتھ بیٹھنے والے آدمی پر اعتماد نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے نفس اور ہاتھ کو روک لینا اور گھر کے اندر ہی رہنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی جھگڑالو میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کے کسی کمرے میں چلے جانا۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے کے اندر بھی گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں داخل ہو جانا اور اس طرح کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی بند مٹھی کا انگوٹھے والا کنارہ پکڑ لیا اور فرمایا: اور کہنا کہ اللہ ہی میرا رب ہے، حتی کہ اسی حالت پر مر جانا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12804]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود باختصار، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4286»
وضاحت: فوائد: … ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ اس کو مسلمانوں کے مابین ہونے والی ان لڑائیوں پر محمول کیا جائے گا، جن کی دونوں طرف سے بنیاد عصبیت، حمیت اور جاہلیت پر ہو گی اور ان میں کوئی شرعی سبب نہیں ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12805
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي“، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: ”مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَعْمَدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ صَخْرَةً، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ“
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں لیٹے والا آدمی بیٹھے ہوئے سے، بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے،،کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا فتنوں میں بھاگ کر شامل ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حالات کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں، وہ اپنے اونٹوں میں مشغول ہو جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ ان میں مصروف ہو جائے، جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں لگ جائے اور جس کے پاس ایسی کوئی مصروفیت نہ ہو وہ اپنی تلوار کو کسی پتھر پر مار کر اس کی دھار کو ناکارہ کر لے اور جس قدر ممکن ہو ان فتنوں سے دور رہے، اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12805]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20683»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12806
(وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ: ”اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ“، إِذْ قَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُخِذَ بِيَدِي مُكْرَهًا حَتَّى يَنْطَلِقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ، عُثْمَانُ يَشُكُّ، فَيَحْذِفُنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ فَيَقْتُلُنِي، مَاذَا يَكُونُ مِنْ شَأْنِي؟ قَالَ: ”يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ“
۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کے آخری الفاظ اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ کے بعد اس میں یہ اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تحقیق میں نے تیری بات پہنچا دی‘ اے اللہ! تحقیق میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے‘ اگر کوئی آدمی میرے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے اور مجبور کر کے کسی ایک صف یا گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے، پھرکوئی آدمی تلوار کی ضرب لگا کر مجھے قتل کر دیتا ہے، تو میرا کیا بنے گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے گناہوں اور تیرے گناہوں کے ساتھ لوٹے گا اور وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12806]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 5548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:20490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20764»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12807
وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي“، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ لِيَقْتُلَنِي؟ قَالَ: ”كُنْ كَابْنِ آدَمَ“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں برپا ہونے والے فتنے کے موقع پر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: عنقریب فتنہ برپا ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا اس فتنہ میں بھاگ کر حصہ لینے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک شخص نے کہا: اگر کوئی شخص زبردستی میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے قتل کر نے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے اس بیٹے والا طرز عمل اختیار کرنا (جو خود تو قتل ہوگیا لیکن اس نے دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا)۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12807]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1609»
الحكم على الحديث: صحیح