🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. وَصِيَّةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِإِجْتِنَابِ الْفِتَنِ عِنْدَ وُقُوعِهَا وَإِرْشَادِهِمْ إِلَى مَا فِيهِ الْخَيْرُ لَهُمْ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12818
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا يُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضِ مِنَ الدُّنْيَا يَسِيرٍ أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا“، قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ، فِرَاشَ نَارٍ، وَذَبَّانَ طَمَعٍ، يَغْدُونَ بِدِرْهَمَيْنِ وَيَرُوحُونَ بِدِرْهَمَيْنِ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں، ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے، (حالات اس قدر شدید ہوں گے کہ) آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کو کافر یا شام کے وقت مومن اور صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، لوگ دنیا کے معمولی سامان کے عوض اپنا حصہ (دین) بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، ان کی صورتیں تو انسانوں جیسی ہیں، مگر عقل سے کورے ہیں اور ان کے جسم تو ہیں‘ لیکن سمجھ بوجھ سے عاری ہیں، وہ آگ کے پروانو ں کی طرح بے عقل اور مکھیوں کی طرح حریص ہیں، وہ دو درہم صبح کو لیتے ہیں اوور دو درہم شام کو اور ایک بکری کی قیمت کے عوض میں اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12818]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 2460، والحاكم: 3/ 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18594»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت میں ان فتنوں سے پہلے پہلے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بوقت ِ صبح مومن اور شام کو کافر … اس کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کو ایمان سے متصف ہو گا اور اعمال صالحہ سے مزین گا، لیکن شام کو کفر کی دلدل میںپھنسا ہوااور کفریہ اعمال کرتا ہوا نظر آئے گا اور یہ معنی بھی کیا گیا ہے صبح کو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھے گا، لیکن شام کو ان کو حلال تصور کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ حالات ایسا رخ اختیار کرلیں گے کہ انسان کو اپنے بدل جانے کی کوئی سمجھ نہیں آئے گی، اس معاملے میں وہ لا شعوری کا اظہار کرے گا۔ اب ایسے ہو رہا ہے کہ ایک انسان اچھا بھلا نیک پرہیزگار نظر آتا ہے، لیکن کچھ دنوں کے بعد جب اس سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کی روحانی کیفیت بگڑ چکی ہوتی ہے اور نماز جیسے فریضے کو ترک کر چکا ہوتا ہے، کوئی سود کھانے کی وجہ سے گر چکا ہو تا ہے تو کسی سے اچانک قتل ہو جاتا ہے، کوئی دوسرے خاندان کی بچی کی حرمتوں کو پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی دوسرے کے مال کو ہڑپ کر جانے کی سوچ رہا ہوتا ہے۔ تاجروں کو کوئی شعور نہیں کہ ان کی تجارت شرعی اصولوں پر مبنی ہے یا نہیں، اپریل ۲۰۰۹ ء کی بات ہے کہ ایک تاجر نے ایک شرعی قاعدے کو نظر انداز کر کے سودا کیا، اسے اس وجہ سے دو دنوں کے اندر اڑتالیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی لینے والے اور اس کے حریص ہوں گے اور ان کے دینی معاملات بگڑ جائیں گے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12819
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ، الْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ“، أَوْ قَالَ: ”عَلَى الشَّوْكِ“، قَالَ حَسَنٌ: فِي حَدِيثِهِ: خَبَطِ الشَّوْكَةِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہے، اس شرّ کی وجہ سے، جو قریب آ چکا ہے، یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہو جائیں گے، (ان فتنوں کی شدت کی وجہ سے) ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا او رشام کو کافر، لوگ معمولی متاعِ دنیا کے عوض دین بیچ ڈالیں گے، ان دنوں میں دین پر عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہو گی، جس نے اپنی مٹھی میں انگارا یا کانٹا پکڑ رکھا ہو۔ حسن نے اپنی حدیث میں کہا: کانٹے کے پتے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12819]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: اَلْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِيْنِهٖ كَالْقَابِضِ فحسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9061»
وضاحت: فوائد: … سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَأتِيْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلٰی دِیْنِہِ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔)) … لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اپنے دین پر صبر کرنے والا دہکتے ہوئے انگارے کو مٹھی میں بند کرنے والے کے مترادف ہو گا۔ (ترمذی: ۲/ ۴۲، صحیحہ:۹۵۷)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: اَلْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِيْنِهٖ كَالْقَابِضِ فحسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12820
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ أَفْضَلَ النَّاسِ فِيهِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُلَّمَا سَمِعَ بِهَيْعَةٍ اسْتَوَى عَلَى مَتْنِهِ ثُمَّ طَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّهُ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَدَعُ النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے افضل مرتبے کا حامل وہ آدمی ہوگا، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار کھڑا ہو، جہاد کی پکار سنتے ہی گھوڑے کی پشت پر سیدھا ہوجائے اور موت کو ایسے مقامات میں تلاش کرے،جہاں اس کے امکانات زیادہ ہوں، یا پھر وہ آدمی جو کسی پہاڑی گھاٹی میں مقیم ہو کر نماز باقاعدگی سے پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے ساتھ صرف خیر والا معاملہ کرے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12820]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9721»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1889
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12821
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ جس میں مسلمان آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوں گی، جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چراتا پھرتا رہے گا اوراس طرح اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12821]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3600، 6495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11046»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث کو سمجھنے اور اپنے آپ کو ان کا مصداق بنانے یا نہ بنانے کے لیے بہت زیادہ فہم و فراست اور حکمت و دانائی کی ضرورت ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. الْجِهَةُ الَّتِي تَجِيءُ مِنْهَا الْفِتَنُ وَفِيهِ ذِكْرُ الْخَوَارِجِ وَالْحَرُورِيَّةِ وَالرَّافِضَةِ
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12822
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَشَارَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ ”الْفِتْنَةُ هَهُنَا حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے قریب کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے فرمایا: یہاں فتنے ہیں، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12822]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3104، ومسلم: 2905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4679»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3104
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12823
(وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ يَقُولُ ”هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَهُنَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَهُنَا مِنْ حَيْثُ يُطْلِعُ الشَّيْطَانُ قَرْنَيْهِ“
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خبردار! بیشک فتنے یہاں ہوں گے، خبردار! بلا شبہ فتنے ادھر ہوں گے، خبردار! فتنے یہاں ہوں گے، جہاں سے شیطان اپنا سینگ طلوع کرے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12823]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4980»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4980
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12824
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ يَؤُمُّ الْعِرَاقَ ”هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَهُنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ“
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا، آپ کا مقصد عراق تھا، پھر فرمایا: خبردار! فتنے یہاں ہیں، خبردار! فتنے یہاں ہیں، (یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی)، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12824]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6302»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6302
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12825
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ ”رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ“
۔ (چوتھی سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: کفر کا مرکز یہاں ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12825]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4751»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4751
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12826
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَجِيءُ الْفِتْنَةُ مِنْ هَهُنَا مِنَ الْمَشْرِقِ“
۔ (پانچویں سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنے یہاں سے یعنی مشرق کی طرف سے آئیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12826]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4754»
وضاحت: فوائد: … مشرق سے مراد عراق ہے، بعض روایات میں عراق کا تعین کیا گیا ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث ہیں: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی اور فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَکَّتِنَا، اَللّٰھُمَّ باَرِکْ لَنَا فِي مَدِیْنَتِنَا، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَباَرِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِي عِرَاقِنَا۔ فَاعْرَضَ عَنْہُ، فَرَدَّدَھَا ثَلَاثاً، کُلَّ ذٰلِکَ یَقُوْلُ الرَّجُلُ: وَفِیْ عِرَاقِنَا، فَیُعْرِضُ عَنْہُ، فَقَالَ: ((بِھَا الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَفِیْھَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانُ۔)) … اے اللہ! ہمارے مکہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدینہ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے صاع میں ہمارے لیے برکت فرما۔ اے اللہ! ہمارے مدّ میں ہمارے لیے برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے عراق میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے تین دفعہ کہا کہ ہمارے عراق میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر دفعہ اعراض کیا۔ پھر فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور یہاں سے شیطان کے سر کا کنارہ ابھرے گا۔ (أخرجہ الطبرانی فی المعجم الاوسط: ۱/ ۲۴۶/ ۱/ ۴۲۵۶، وبلفظ: نجدنا مکان عراقنا أخرجہ البخاری: ۱۰۳۷، ۷۰۹۴، الصحیحۃ:۲۲۴۶)
معجم اوسط کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عراق کا نام لے کر اس کے لیے دعا کا مطالبہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مِنْ ثَمَّ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ وَتَھِیْجُ الْفِتَنُ۔)) … وہاں سے تو شیطان کا سینگ نمودار ہو گا اور فتنے ابلیں گے۔
صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا قَالَ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَأْمِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی یَمَنِنَا قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفِی نَجْدِنَا فَأَظُنُّہُ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ ہُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِہَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) … یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا،اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: اور ہمارے نجد میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اور ہمارے نجد میں، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: یہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، کیونکہ پہلا فتنہ مشرق سے ہی ابھرا اور مسلمانوں میں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اسی طرح شیعیت اور خارجیت جیسی بدعتیں بھی اسی جہت کی پیداوار ہیں، امام بخاری (۷/۷۷) اورامام احمد (۲/۸۵، ۱۵۳) نے بیان کیا کہ ابن ابی نعیم نے کہا: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ایک عراقی آدمی نے ان سے سوال کیا کہ اگر محرِم آدمی مکھی مار دے تو (وہ کیا کفارہ ادا کرے گا)۔ انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: عراقیو! تم مکھی کو قتل کرنے والے محرِ م کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تم نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے(سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کو قتل کر دیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیَا۔)) … یہ (حسن و حسین) تو دنیا میں میری دو کلیاں (یا گلدستے) ہیں۔
ایک فتنہ یہ بھی تھا کہ شیعوں نے جلیل القدر صحابہ پر طعن کیا، بطورِ مثال سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا ہیں، جن کی براء ت آسمان سے نازل ہوئی تھی۔ ایک متعصب شیعہ عبد الحسین نے پوری جرأت، بے شرمی اور چالاکی کے ساتھ اپنی کتاب (المراجعات: ص: ۲۳۷) میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن کرنے کے لیے اور احادیث کے سلسلے میں ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کئی فصلیں قائم کیں۔ اس نے یا تو ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لیا، ان میں سے بعض ضعیفہ (۴۹۶۳، ۴۹۷۰) میں مذکورہ ہیں یا پھر احادیث ِ صحیحہ کی تحریف کی اور ان کے ایسے مفاہیم بیان کیے، جن کی ان روایات میں کوئی گنجائش نہ تھی، … …۔ (صحیحہ: ۲۴۹۴)
حافظ ابن حجر نے کہا: (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ احادیث بیان کیں) اس وقت اہل مشرق کفر پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق پہلا فتنہ یہیں ابھرا، جو مسلمانوںمیں تفرقہ بازی کا سبب بنا، اور یہی چیز ہے جس سے شیطان خوش ہوتا ہے، اسی طرح کئی بدعتوں کی جائے ظہور بھی یہی ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸)
تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عراق سے بہت سے فتنے رونما ہوئے، جنگِ نہروان، واقعہ کربلا، بنو امیہ اور بنو عباس کی لڑائیاں،پھر تاتاریوں کے خونریز معرکے، اسی طرح گمراہ فرقوں یعنی خوارج، شیعہ، معتزلہ، جہمیہ، مرجیہ وغیرہ کا ظہور بھی کوفہ، بصرہ اور بغداد،جو عراق کے مشہور شہر ہیں، سے ہوا۔ بارہ سو سال تک تمام مسلمانوں کا متفقہ طور پر یہی مؤقف رہا کہ نجد قرن شیطان سے مراد عراق ہی کا علاقہ ہے۔
اہم تنبیہ
بارہویں صدی کے بعد اہل بدعت نے ان احادیث کا مفہوم بگاڑ کر انہیں شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ پر چسپاں کرنا شروع کر دیا۔
جواباً درج ذیل نکات پر غور کریں:
(۱) کوئی شک نہیں کہ اس موضوع سے متعلقہ احادیث میں نجد کے الفاظ کا ذکر بھی ہے، جبکہ نجد کا لغوی معنی بلندی اور رفعت ہے، گویا سطح مرتفع اور بلند زمین کو نجد کہا جاتا ہے اور عرب میں بہت سارے نجد ہیں، ابو عبد اللہ یاقوت بن عبد اللہ حموی نے معجم البلدان میں درج ذیل نجد شمار کیے ہیں:
نجدألوذ، نجد أجا، نجد برق، نجد خال، نجد الشری، نجد عفر، نجد العقاب، نجد کبکب، نجد مریع، نجد الیمن
لیکن جب بعض احادیث میں نجد کے بجائے عراق کا تعین کر دیا گیا ہے تو اختلاف کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے، جبکہ تاریخی طور پر عراق ہی فتنوں کی آماجگاہ رہا ہے اور اب بھی امریکہ کے تسلط کے وجہ سے فتنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ امت ِ مسلمہ پر رحم فرمائے۔ (آمین)
(۲) اس موضوع سے متعلقہ اور دیگر احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجاز، شام اور یمن کے لیے خیر و برکت کی دعا کی ہے اور ان علاقوں کو اسلام و ایمان کا مرکز قرار دیا ہے، ایک حدیث کا ذکر اوپر بھی گزرا ہے، اور محمد بن عبد الوہاب کا تعلق نجد یمن سے ہے، نہ کہ نجد عراق سے، احادیث ِ مبارکہ کے مطابق تو محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائے خیر کے مستحق ٹھہرتے تھے، لیکن معترضین نے نجد والی احادیث کو ان پر فٹ کر کے علم حدیث اور تاریخ و جغرافیہ سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت فراہم کر دیا۔
(۳)عملی طور پر عراق ہی فتنوں اور آزمائشوں کا گڑھ رہا ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
(۴) نیز شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: سنت کے مخالف اور توحید سے منحرف بعض لوگ جزیرۂ عرب میں دعوتِ توحید کی تجدید کرنے والے امام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ پر طعن کرتے ہیں، یہ لوگ اپنی جہالت یا تجاہل کی وجہ سے اس حدیث ِ مبارکہ سے نجد کے علاقے مراد لے کر اس امام کو اس کا مصداق ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ مختلف طرق سے معلوم ہوتاہے کہ اس سے مراد عراق کا علاقہ ہے، امام خطابی اور حافظ ابن حجر عسقلانی جیسے قدیم علما نے بھی اسی کی تائید کی ہے۔
ان جاہلوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی آدمی فی نفسہ نیک او رصالح ہو، لیکن اس کا تعلق مذموم علاقوں سے ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے ہی مذمت کے لائق سمجھا جائے۔ جیسے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور شام کے علاقوں کی تعریف کی گئی ہے، لیکن ان میں سکونت اختیار کرنے والے کئی لوگ فاسق اور فاجر بھی ہیں، اسی طرح عراق کی مذمت سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہاں کا ہر باسی ہی قابل مذمت ہے، بلکہ اس میں کئی عالم اور نیکوکار لوگ نظر آئیں گے۔ جب سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو عراق سے شام کی طرف ہجرت کر جانے کی دعوت دی تو انھوں نے کہا: اَمَّا بَعْدُ؛ فَاِنَّ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ لَاتُقَدِّسُ اَحَدًا، وَاِنَّمَا یُقَدِّسُ الْاِنْسَانَ عَمَلُہٗ۔ … کوئی مقدس سر زمین کسی کو پاک نہیں کرتی، بلکہ ہر انسان کو اس کا (نیک) عمل پاک کرتاہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۶)
حافظ ابن حجر نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے حق میں دعا نہ کی، تاکہ یہ لوگ اس شرّ سے باز آنے کی کوشش کریں، جس کا ظہور ان کے علاقے سے ہو گا، … (قرن الشیطان کا راجح معنی یہ ہے کہ اس سے مراد) شیطان اور ان اسباب کی قوت ہے، جن کے ذریعے وہ گمراہی پھیلاتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۳/ ۵۸)
عبد الرحمن مبارکپوری نے کہا: حسی زلزلے مراد ہیں یا معنوی، جو دلوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور فتنوں سے مراد وہ مصیبتیں اور آزمائشیں ہیں، جو دین کے ضعف اور قلت کا سبب بنیں گی، …۔ قرن الشیطان سے مراد اس شیطان کے اعوان وانصار اور اس کی جماعت یا اس کی قوت اور اسبابِ ضلالت ہیں، …۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جہت مشرق سے فتنوں اور بدعتوںکا ظہور ہو گا اور ایسے ہی ہوا، جنگ جمل اور جنگ صفین اسی سمت میں لڑی گئیں، پھر یہیں سے خوارج کاظہور ہوا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۸۱)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4754
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. الخَوَارِجُ الَّذِيْنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ مَنْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُمْ فِي عَصْرِ الإِمَامِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَيُقَالُ لَهُمُ الْحَرُورِيَّةُ أيضا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12827
عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَرُورِيَّةِ قَالَ أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ قَوْمًا ”يَخْرُجُونَ مِنْ هَهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْعِرَاقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ“ قُلْتُ هَلْ ذَكَرَ لَهُمْ عَلَامَةً قَالَ هَذَا مَا سَمِعْتُ لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ
یسیر بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایسا فرمان سنائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حروریہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ادھر سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے تیزی سے پار نکل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے اتنا ہی سنا ہے، میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12827]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6934، ومسلم: 1068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16073»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں