الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. الخَوَارِجُ الَّذِيْنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ مَنْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهُمْ فِي عَصْرِ الإِمَامِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَيُقَالُ لَهُمُ الْحَرُورِيَّةُ أيضا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 12828
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خُدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنْ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان کی بلندی سے نیچے گر جاؤں، مگر جھوٹ نہ بولوں اور جب میں تمہیں کسی دوسرے کی کوئی بات سناؤں تو یاد رکھو کہ ان دنوں میری لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اور لڑائی چالوں اور تدبیروں کو ہی کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو نو عمر اور کم عقل ہوں گے، وہ باتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کریں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے گلوں سے آگے نہیں اترے گا، یہ لوگ تمہیں جہاں بھی ملیں، تم انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کے قاتلوں کو قیامت کے دن اس قتل کا اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12828]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6930، ومسلم: 1066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 616»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12829
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّى عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَى عَشْرَةِ مَرَّاتٍ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں مشرقی جہت سے ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو قرآن مجید تو بڑے خوبصورت انداز میں پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا،جب بھی ان میں سے کوئی نسل ظاہر ہو گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر جب ان کی نسل منظرِ عام پر آئے گی تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس دفعہ ان کا اسی طرح ذکر کیا (اور آخری مرتبہ فرمایا:) جب بھی ان کی نسل ظاہر ہو گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا، یہان تک کہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نمودار ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12829]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه الطيالسي: 2293، وعبد الرزاق: 20790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6871»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12830
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ“ قَالَ يَزِيدُ أَحَدُ الرُّوَاةِ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ”يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ عَمَلَهُ مَعَ عَمَلِهِمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ“ فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرَ وَأَنَا أَسْمَعُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12830]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5562»
وضاحت: فوائد: … محدثین نے خوارج کو درج بالا احادیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ خوار ج، لغوي تعریف: خوارج، خارج کی جمع ہے، جوخروج سے مشتق ہے،ان کایہ نام ان کے خروج کی وجہ سے پڑاہے، چاہے دین سے نکل جانیکی وجہ سے یا علی رضی اللہ عنہ کیخلاف خروج کی وجہ سے خواہ مسلمانوں کے خلاف خروج کی وجہ سے۔
اصطلاحي تعریف: امام شہرستانی لکھتے ہیں: ہروہ شخص جواہل السنۃ والجماعۃ کے متفقہ امام کیخلاف خروج کرے اسے خارجی کہاجاتا ہے،یہ خروج صحابہ کرام کے زمانے میں خلفاء راشدین کیخلاف ہو، یا ان کے بعد والے زمانے میں۔
ان کے مختلف صفاتی نام: محکمہ، مارقہ، نواصب، اہل نہروان، مکفرہ،سبیئہ، شکاکیہ
اسلام میں پہلا مذہبی فرقہ جس نے شعائر سے ہٹ کر اپنا الگ گروہ بنایا۔ یہ گروہ جس کی اکثریت بدوی عراقیوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پر سب سے پہلے نمودار ہوا۔ یہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج سے اس بنا پر علیحدہ ہوگئے کہ انھوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی تجویز منظور کر لی تھی۔ خارجیوں کا نعرہ تھا کہ حاکمیت اللہ ہی کے لیے ہے انھوں نے شعث بن راسبی کی سرکردگی میں مقام حروراء میں پڑاؤ ڈالا اور کوفہ، بصرہ، مدائن وغیرہ میں اپنے عقائد کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ دینی معاملات میں انسان کو حاکم بنانا کفر ہے اور جو لوگ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں وہ واجب القتل ہیں۔
خارجیوں کے اعتقاد کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔ ان کی بیعت ہر مسلمان پر لازم تھی۔ جن لوگوں نے اس سے انکار کیا وہ اللہ اور رسول اللہ کے دشمن تھے۔ اس لیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے حامی کشتنی اور گردن زدنی ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی صلح کرنا ازروئے قرآن کفر ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چونکہ ان کے ساتھ مصالحت کرنے اور حکم قرآنی میں ثالث بنانے کا جرم کیا ہے۔ اس لیے ان کی خلافت بھی ناجائز ہوگئی۔ لہذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کے خلاف جہاد لازم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کو جنگ نہروان میں شکست فاش دی۔ لیکن ان کی شورش پھر بھی باقی رہی۔ چنانچہ سیدنا علی ایک خارجی ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
خوارج حد سے زیادہ نیک تھے، لیکن کم عقلی کی وجہ سے اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہ سمجھتے تھے، انتہا پسند تھے، ہر گناہ کو کفر کہتے تھے اور ہر گنہگار کو کافر، نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کو کافر کہہ کر اکثر قتل کرتے تھے اور کافروں کو معذور سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، انتہا پسندی کا نتیجہ ہمیشہ ایسا ہی نکلتا ہے، اس لیے انتہا پسندی، تشدد اور تکلف کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے۔
ان لوگوں کے ظاہری حالات بہت اچھے تھے، لیکن ظاہر جتنا اچھا تھا، باطن اتنا ہی برا تھا، مسئلہ تحکیم کے بعد یہ لوگ حروراء مقام پر چلے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں سمجھائیں اور انہیں امیر کی اطاعت میں واپس لائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سمجھانے سے بہت سے لوگ ان سے الگ ہو گئے اور امیر کی اطاعت میں واپس آگئے، لیکن ان کے بڑے اور ان کے موافقین اپنی ضد پر اڑے رہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تشریف لائے، مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا، انہوں نے صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ان کے ساتھ معرکہ ہوا، خارجیوں کی قیادت عبد اللہ بن وہب اور ذی الخویصرہ حرقوص بن زید وغیرہ کے ہاتھ میں تھی، اس جنگ کے نتیجے میں اکثر خارجی قتل ہوگئے۔ خوارج سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عائشہ، اور سیدنا عبد اللہ بن عباس کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس شخص کو بھی کافر کہتے تھے، جو ان کا ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کے ساتھ قتال میں شریک نہ ہوتا، مخالفین کے بچوں اور عورتوں کے قتل کے قائل تھے، رجم کے قائل نہیں تھے، مشرکوں کے بچوں کے خلود فی النار کے قائل تھے، اس بات کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتے ہیں، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو کہ یہ بعد میں کافر ہوجائے گا، اس بات کے بھی قائل تھے کہ نبی بعثت سے پہلے معاذ اللہ کافر ہوسکتا ہے، خوارج مرتکب کبیرہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس پر وہ کفر ابلیس سے استدلال کرتے تھے کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرکے مرتکب کبیرہ ہوا تھا اس بناء پر اس کو کافر قرار دیدیا گیا معلوم ہوا مرتکب کبیرہ کافر ہوجاتاہے حالانکہ ابلیس محض ارتکاب کبیرہ کی بناء پر کافر نہیں ہوا بلکہ حکم خداوندی کے مقابلے میں اباء واستکبار اس کے کفر کا سبب ہے۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ یہ روایتِ حدیث میں ثقہ ترین لوگوں میں سے تھے، ان کی بعض روایتیں صحیح ترین سندوں میں شمارکی جاتی ہیں، جیساکہ خطیب بغدادی نے امام ابوداؤدکا قول نقل کیاہے کہ بدعت پرستوں میں سے خوارج کی روایتوں سے زیادہ صحیح روایتیں کسی کی نہیں ہوتیں۔
خوارج جان بوجھ جھوٹ بولنے والوں میں سے نہیں تھے، یہاں تک کہاجاتاہے کہ ان کی حدیثیں صحیح ترین ہواکرتی تھیں لیکن یہ جہالت کی وجہ سے اپنی بدعت میں گمراہ ہوگئے، اوران کی بدعت الحادوزندقیت کی بنیادپرنہیں تھی، بلکہ قرآن کریم کے فہم سے جہالت وگمراہی کی بنیاد پر تھی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ جوکبیرہ گناہوں میں سے ہے، ان کے نزدیک نہ یہ کہ اس کا مرتکب گنہگار ہے، بلکہ اس کے اوپرکفرکا اطلاق ہوتاہے۔ معلوم ہواکہ روایتِ حدیث میں اپنی ثقاہت کے باوجود تاویلی اورتخریبی فکروعمل کااثران کی گمراہیت کاسبب بناجس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔
بہرحال علمائے اسلام کا اس حقیقت پر اجماع و اتفاق ہے کہ خوارج باوجود اپنی گمراہی کے مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں، ان کے ساتھ نکاح کرنا، ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی شہادت قبول کرنا جائز ہے، کسی اہل علم نے ان کو کافر نہیں کہا، ہاں یہ باغی ضرور تھے۔
اصطلاحي تعریف: امام شہرستانی لکھتے ہیں: ہروہ شخص جواہل السنۃ والجماعۃ کے متفقہ امام کیخلاف خروج کرے اسے خارجی کہاجاتا ہے،یہ خروج صحابہ کرام کے زمانے میں خلفاء راشدین کیخلاف ہو، یا ان کے بعد والے زمانے میں۔
ان کے مختلف صفاتی نام: محکمہ، مارقہ، نواصب، اہل نہروان، مکفرہ،سبیئہ، شکاکیہ
اسلام میں پہلا مذہبی فرقہ جس نے شعائر سے ہٹ کر اپنا الگ گروہ بنایا۔ یہ گروہ جس کی اکثریت بدوی عراقیوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پر سب سے پہلے نمودار ہوا۔ یہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج سے اس بنا پر علیحدہ ہوگئے کہ انھوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی تجویز منظور کر لی تھی۔ خارجیوں کا نعرہ تھا کہ حاکمیت اللہ ہی کے لیے ہے انھوں نے شعث بن راسبی کی سرکردگی میں مقام حروراء میں پڑاؤ ڈالا اور کوفہ، بصرہ، مدائن وغیرہ میں اپنے عقائد کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ دینی معاملات میں انسان کو حاکم بنانا کفر ہے اور جو لوگ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں وہ واجب القتل ہیں۔
خارجیوں کے اعتقاد کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔ ان کی بیعت ہر مسلمان پر لازم تھی۔ جن لوگوں نے اس سے انکار کیا وہ اللہ اور رسول اللہ کے دشمن تھے۔ اس لیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے حامی کشتنی اور گردن زدنی ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی صلح کرنا ازروئے قرآن کفر ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چونکہ ان کے ساتھ مصالحت کرنے اور حکم قرآنی میں ثالث بنانے کا جرم کیا ہے۔ اس لیے ان کی خلافت بھی ناجائز ہوگئی۔ لہذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کے خلاف جہاد لازم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کو جنگ نہروان میں شکست فاش دی۔ لیکن ان کی شورش پھر بھی باقی رہی۔ چنانچہ سیدنا علی ایک خارجی ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
خوارج حد سے زیادہ نیک تھے، لیکن کم عقلی کی وجہ سے اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہ سمجھتے تھے، انتہا پسند تھے، ہر گناہ کو کفر کہتے تھے اور ہر گنہگار کو کافر، نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کو کافر کہہ کر اکثر قتل کرتے تھے اور کافروں کو معذور سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، انتہا پسندی کا نتیجہ ہمیشہ ایسا ہی نکلتا ہے، اس لیے انتہا پسندی، تشدد اور تکلف کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے۔
ان لوگوں کے ظاہری حالات بہت اچھے تھے، لیکن ظاہر جتنا اچھا تھا، باطن اتنا ہی برا تھا، مسئلہ تحکیم کے بعد یہ لوگ حروراء مقام پر چلے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں سمجھائیں اور انہیں امیر کی اطاعت میں واپس لائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سمجھانے سے بہت سے لوگ ان سے الگ ہو گئے اور امیر کی اطاعت میں واپس آگئے، لیکن ان کے بڑے اور ان کے موافقین اپنی ضد پر اڑے رہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تشریف لائے، مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا، انہوں نے صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ان کے ساتھ معرکہ ہوا، خارجیوں کی قیادت عبد اللہ بن وہب اور ذی الخویصرہ حرقوص بن زید وغیرہ کے ہاتھ میں تھی، اس جنگ کے نتیجے میں اکثر خارجی قتل ہوگئے۔ خوارج سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عائشہ، اور سیدنا عبد اللہ بن عباس کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس شخص کو بھی کافر کہتے تھے، جو ان کا ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کے ساتھ قتال میں شریک نہ ہوتا، مخالفین کے بچوں اور عورتوں کے قتل کے قائل تھے، رجم کے قائل نہیں تھے، مشرکوں کے بچوں کے خلود فی النار کے قائل تھے، اس بات کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتے ہیں، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو کہ یہ بعد میں کافر ہوجائے گا، اس بات کے بھی قائل تھے کہ نبی بعثت سے پہلے معاذ اللہ کافر ہوسکتا ہے، خوارج مرتکب کبیرہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس پر وہ کفر ابلیس سے استدلال کرتے تھے کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرکے مرتکب کبیرہ ہوا تھا اس بناء پر اس کو کافر قرار دیدیا گیا معلوم ہوا مرتکب کبیرہ کافر ہوجاتاہے حالانکہ ابلیس محض ارتکاب کبیرہ کی بناء پر کافر نہیں ہوا بلکہ حکم خداوندی کے مقابلے میں اباء واستکبار اس کے کفر کا سبب ہے۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ یہ روایتِ حدیث میں ثقہ ترین لوگوں میں سے تھے، ان کی بعض روایتیں صحیح ترین سندوں میں شمارکی جاتی ہیں، جیساکہ خطیب بغدادی نے امام ابوداؤدکا قول نقل کیاہے کہ بدعت پرستوں میں سے خوارج کی روایتوں سے زیادہ صحیح روایتیں کسی کی نہیں ہوتیں۔
خوارج جان بوجھ جھوٹ بولنے والوں میں سے نہیں تھے، یہاں تک کہاجاتاہے کہ ان کی حدیثیں صحیح ترین ہواکرتی تھیں لیکن یہ جہالت کی وجہ سے اپنی بدعت میں گمراہ ہوگئے، اوران کی بدعت الحادوزندقیت کی بنیادپرنہیں تھی، بلکہ قرآن کریم کے فہم سے جہالت وگمراہی کی بنیاد پر تھی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ جوکبیرہ گناہوں میں سے ہے، ان کے نزدیک نہ یہ کہ اس کا مرتکب گنہگار ہے، بلکہ اس کے اوپرکفرکا اطلاق ہوتاہے۔ معلوم ہواکہ روایتِ حدیث میں اپنی ثقاہت کے باوجود تاویلی اورتخریبی فکروعمل کااثران کی گمراہیت کاسبب بناجس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔
بہرحال علمائے اسلام کا اس حقیقت پر اجماع و اتفاق ہے کہ خوارج باوجود اپنی گمراہی کے مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں، ان کے ساتھ نکاح کرنا، ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی شہادت قبول کرنا جائز ہے، کسی اہل علم نے ان کو کافر نہیں کہا، ہاں یہ باغی ضرور تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. ظهُورُ ثَلاثِينَ كَذَابًا قَبْلَ قِيَامِ السَّاعَةِ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ انَّهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنْهُمْ مُسَيْلَمَةُ الْكَذَابُ
روافض کا بیان
حدیث نمبر: 12831
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ ثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ كَثِيرٍ النَّوَاءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ“
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ نمودار ہوں گے، ان کا نام رافضہ ہوگا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12831]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لضعف يحيي بن المتوكل وكثير النوائ، أخرجه البيھقي: 6/ 547، والبزار: 499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 808»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت تک تمام امت متحد و متفق تھی، پھر آہستہ آہستہ انتشار آنا شروع ہوا، اس انتشار پھیلانے والوں سے ایک یہودی عالم عبد اللہ بن سباء بھی تھا، اس نے ابتداء میں یہ کہنا شروع کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، مگر حجاز، شام اور عراق والوں نے بالکل اس کی بات کو نہ مانا، اس کے بعد وہ شخص مصر چلا گیا، وہاں اس نے یہ باتیں کہنا شروع کیں اور ساتھ ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو اور مبالغہ کرنا شروع کردیا اور اس نے یہی بات لوگوں کے ذہن میں ڈالی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت کے مستحق تھے، مگر ان کو یہ حق نہیں دیا گیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف مختلف شکایات شروع کردیں، یہاں تک کہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوگئی اور پھر اسی انتشار میں جنگ جمل اور جنگ صفیں ہوئی اور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کردیا گیا۔ یہودی عبد اللہ بن سبا کی شروع کردہ تحریک میں ایک طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں مبالغہ اور دوسری طرف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض اور ساتھ ساتھ یہ نظریہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد خلافت کی مستحق ہے، نیز یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد امامت کا سلسلہ ہے تاکہ امت کی رہنمائی ہوتی رہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ تمام نظریات زور پکڑتے گئے۔
اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا، رفض کے بہت سے گروہ ہیں، بعض محض تفضیلی ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے، بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں، بعض الوہیت ِ علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں، بعض تحریف ِ قرآن کے قائل ہیں، بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں، بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں، بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں، وغیر وغیرہ۔ رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔
اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا، رفض کے بہت سے گروہ ہیں، بعض محض تفضیلی ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے، بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں، بعض الوہیت ِ علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں، بعض تحریف ِ قرآن کے قائل ہیں، بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں، بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں، بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں، وغیر وغیرہ۔ رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12832
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس ایسے دجال اور کذاب ظاہر نہ ہوجائیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12832]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7121، ومسلم: ص 2239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10877»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔ ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن ستائیس یا تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیا آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جب یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوں سے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیا آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جب یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوں سے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12833
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنْسِيُّ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرٍ وَمِنْهُمُ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً“ قَالَ جَابِرٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِي يَقُولُ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کئی کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ایک یمامہ والا‘ ایک صنعاء والا عنسی‘ ایک حمیر والا اور ایک دجال ہوگا، مؤخر الذکر کا فتنہ سب سے بڑا ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اصحاب کہتے ہیں کہ ان کذابین کی تعداد تقریباً تیس ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12833]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله ابن لھيعة، أخرجه البزار: 3375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14775»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12834
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي مُسَيْلَمَةَ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَفِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِيهِ وَأَنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ بَلْدَةٍ إِلَّا يَبْلُغُهَا رُعْبُ الْمَسِيحِ يَعْنِي الدَّجَّالَ إِلَّا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ“
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبل اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیلمہ کے متعلق کچھ فرمائیں، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت باتیں کیں، بالآخر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! تم نے اس آدمی کے متعلق بہت باتیں کی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نمودار ہونے والے تیس کذابوں میں سے ایک ہے اور (یاد رکھو کہ) مدینہ منورہ کے علاوہ دنیا کے ہر شہر میں مسیح دجال کا رعب اورخوف پہنچے گا، مدینہ منورہ کے ہر راستے پر دو فرشتے مامور ہوں گے، وہ اس شہر سے مسیح دجال کے خوف کو دور رکھیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12834]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، رجاله ثقات رجال الصحيح، لكن اختلف فيه علي الزهري، أخرجه الحاكم: 4/ 541، وابن حبان: 6652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20699»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَمَا اَنَا نَائِمٌ، اُتِیْتُ بِخَزَائِنِ اْلَارْضِ، فَوُضِعَ فِي یَدِي سِوَارَانِ مَنْ ذَھَبَ، فَکَبُرَا عَلَيَّ وَاَھَمَّانِي، فَاُوْحِيَ اِلَيَّ اَنْ اَنْفُخَھُمَا، فَنَفَخْتُھُمَا فَذَھَبَا، فَاَوَّلْتُھُمَا: الْکَذَّابَیْنِ اللَّذَیْنِ اَنَا بَیْنَھُمَا: صَاحِبَ صَنْعَائَ، وَصَاحِبَ الْیَمَامَۃِ۔)) … میں سویا ہوا تھا، میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے، وہ مجھ پر گراں گزرے اور انھوں نے مجھے مغموم و بے چین کر دیا، میری طرف وحی کی گئی کہ پھونک مارو، میں نے پھونک ماری، وہ دونوں (میرے ہاتھ سے) ہٹ گئے۔ میں نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ ان سے مراد دو جھوٹے ہیں، کہ میں جن کے درمیان ہوں، (۱) صاحبِ صنعاء (یعنی اسود عنسی) اور (۲) صاحبِ یمامہ (یعنی مسیلمہ کذاب)۔ (صحیح بخاري: ۴۳۷۵، ۷۰۳۷، صحیح مسلم: ۷/۵۸)
اسود عنسی اور مسیلمہ دو جھوٹے مدعیانِ نبوت تھے۔یمن میں امن واسلام کی تکمیل ہو چکی تھی، ہر علاقے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال موجود تھے، اچانک کہف حنان نامی شہر میں سات سو جنگجوؤں کے ساتھ اسود عنسی ظاہر ہوا۔ وہ اپنے لیے نبوت و حکومت کا دعویدار تھا، اس نے آگے بڑھ کر صنعا پر قبضہ کر لیا، اس کے فتنے میں سختی اور حکومت میں طاقت آتی گئی، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اشعریین کے علاقے میں سمٹ آئے، مسلمانوں نے اس کے ساتھ مصلحت سے کام لیا۔یہ سلسلہ تین چار ماہ تک جاری رہا۔ پھر فیزوز دیلمی اور اس کے فارسی ساتھیوں نے، جو مسلمان ہو چکے تھے، کوئی چال چلی اور فیروز نے اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹا اور قلعہ کے باہر پھینک دیا۔ یہ دیکھ کر اس کے ساتھی بھاگ نکلے اور اہل اسلام غالب آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اپنے اپنے کاموں پر واپس آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع لکھ کر بھیج دی گئی۔ اس کے قتل کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک یوم پہلے پیش آیا تھا، اس لیے صحابہ کرام کا خط ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں موصول ہوا تھا، لیکن آپ بذریعہ وحی صحابہ کرام کو اطلاع دے چکے تھے۔
فتح مکہ کے بعد مختلف قبائل کی طرف سے جو وفود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے، ان میں مسیلمہ بن حبیب بھی بنو حنیفہ کے وفد میں شامل تھا۔ جب یہ اپنے وطن یمامہ کی طرف واپس لوٹا اور انہیں ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت کے ناساز ہونے کی خبر مشہور ہوئی تو اس نے نبوت کا دعوی کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا عملی تدارک کیے بغیر دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے مسیلمہ کا فورا تدارک نہ کر سکے، بالآخر عکرمہ بن ابو جہل کو مسیلمہ کی سرکوبی پر نامزد فرمایا، پہلی لڑائی میں مسیلمہ شکست کھا گیا، لیکن پھر قبیلہ ربیعہ کے چالیس ہزار جنگجو مسیلمہ کے پاس جمع ہو گئے، ان میں بعض لوگ اس کو جھوٹا سمجھتے تھے، لیکن ہم قومیت کی بنا پر اس کی کامیابی کے خواہاں تھے، … … باغ کے اندر بھی جب ہنگامہ زور گرم ہوا تو مسیلمہ مجبوراً مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور لوگوں کو لڑنے کے لیے آمادہ کرنے لگا، لیکن جب اس نے ہر طرف مسلمانوں کو چیرہ دست دیکھا تو گھوڑے سے اتر کر باغ کے باہر چپکے سے جانے لگا۔ اتفاقاً باغ کے دروازے کے قریب وحشی کھڑا تھا، اس نے اپنا حربہ پھینک ماراجو مسیلمہ کی دوہری زرہ کو کاٹ کر اس کے پیٹ کے باہر نکل آیا، آخر کار دشمنوں میں سے جس کو جس طرف راستہ ملا، وہ بھاگ گیا۔
اسود عنسی اور مسیلمہ دو جھوٹے مدعیانِ نبوت تھے۔یمن میں امن واسلام کی تکمیل ہو چکی تھی، ہر علاقے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال موجود تھے، اچانک کہف حنان نامی شہر میں سات سو جنگجوؤں کے ساتھ اسود عنسی ظاہر ہوا۔ وہ اپنے لیے نبوت و حکومت کا دعویدار تھا، اس نے آگے بڑھ کر صنعا پر قبضہ کر لیا، اس کے فتنے میں سختی اور حکومت میں طاقت آتی گئی، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اشعریین کے علاقے میں سمٹ آئے، مسلمانوں نے اس کے ساتھ مصلحت سے کام لیا۔یہ سلسلہ تین چار ماہ تک جاری رہا۔ پھر فیزوز دیلمی اور اس کے فارسی ساتھیوں نے، جو مسلمان ہو چکے تھے، کوئی چال چلی اور فیروز نے اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹا اور قلعہ کے باہر پھینک دیا۔ یہ دیکھ کر اس کے ساتھی بھاگ نکلے اور اہل اسلام غالب آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اپنے اپنے کاموں پر واپس آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع لکھ کر بھیج دی گئی۔ اس کے قتل کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک یوم پہلے پیش آیا تھا، اس لیے صحابہ کرام کا خط ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں موصول ہوا تھا، لیکن آپ بذریعہ وحی صحابہ کرام کو اطلاع دے چکے تھے۔
فتح مکہ کے بعد مختلف قبائل کی طرف سے جو وفود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے، ان میں مسیلمہ بن حبیب بھی بنو حنیفہ کے وفد میں شامل تھا۔ جب یہ اپنے وطن یمامہ کی طرف واپس لوٹا اور انہیں ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت کے ناساز ہونے کی خبر مشہور ہوئی تو اس نے نبوت کا دعوی کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا عملی تدارک کیے بغیر دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے مسیلمہ کا فورا تدارک نہ کر سکے، بالآخر عکرمہ بن ابو جہل کو مسیلمہ کی سرکوبی پر نامزد فرمایا، پہلی لڑائی میں مسیلمہ شکست کھا گیا، لیکن پھر قبیلہ ربیعہ کے چالیس ہزار جنگجو مسیلمہ کے پاس جمع ہو گئے، ان میں بعض لوگ اس کو جھوٹا سمجھتے تھے، لیکن ہم قومیت کی بنا پر اس کی کامیابی کے خواہاں تھے، … … باغ کے اندر بھی جب ہنگامہ زور گرم ہوا تو مسیلمہ مجبوراً مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور لوگوں کو لڑنے کے لیے آمادہ کرنے لگا، لیکن جب اس نے ہر طرف مسلمانوں کو چیرہ دست دیکھا تو گھوڑے سے اتر کر باغ کے باہر چپکے سے جانے لگا۔ اتفاقاً باغ کے دروازے کے قریب وحشی کھڑا تھا، اس نے اپنا حربہ پھینک ماراجو مسیلمہ کی دوہری زرہ کو کاٹ کر اس کے پیٹ کے باہر نکل آیا، آخر کار دشمنوں میں سے جس کو جس طرف راستہ ملا، وہ بھاگ گیا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
8. فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
حدیث نمبر: 12835
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُعُودًا نَذْكُرُ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ ذِكْرَهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ قَالَ ”فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ هِيَ فِتْنَةُ هَرْبٍ وَحَرْبٍ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَلُهَا أَوْ دَفَعُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي إِنَّمَا وَلِيِّيَ الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ انْقَطَعَتْ تَمَادَّتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ إِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے فتنوں کا تذکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے بھی فتنۂ احلاس سمیت بہت سے فتنوں کا ذکر کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! فتنۂ احلاس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنۂ احلاس سے مرادجنگ و جدل اور شکست و ریخت کا زمانہ ہے‘ پھر خوشحالی و آسودگی کا فتنہ ابھرے گا‘ اس کی ابتداء و انتہاء اور سرپرستی و ذمہ داری ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہو گی‘ جو اپنے گمان کے مطابق مجھ سے ہو گا‘ حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا‘ میرے دوست تو پرہیز گار لوگ ہیں‘ پھر لوگ ایسے شخص پر صلح کریں گے، جو مستقل طور پربادشاہت کے لائق اوراس کا اہل نہیں ہو گا، اس کے بعد بھیانک آفت و مصیبت پر مشتمل فتنہ نمودار ہو گا‘ وہ اس امت کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا ہے‘ تو وہ حد سے بڑھ کر سامنے آئے گا۔ بندہ بوقت ِ صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، لوگ دو جماعتوں میں بٹ جائیں گے: ایک جماعت صاحبِ ایمان ہو گی‘ اس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا اور دوسری جماعت صاحبِ نفاق ہو گی‘ اس میں کوئی ایمان نہیں ہو گا‘ جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو دجال کا انتظار کرنا‘ وہ اسی دن آسکتا ہے، یا پھر اگلے دن آ جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12835]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 4242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6168»
وضاحت: فوائد: … حلس کی جمع احلاس ہے، اس کے معانی ہیں: وہ چادر جو پالان کے نیچے اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ ملی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ فتنہ طول اختیار کرے گا اور چھٹنے کا نام نہیں لے گا، جیسے یہ چادر اونٹ کی پیٹھ کے ساتھ لگی رہتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس چادر کی سیاہی اور ظلمت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہو۔امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: کَوَرِکٍ عَلٰی ضِلَعٍ کا لفظی معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ پسلی، کولہے پر سہارا نہیں لیتی۔ یہ ایک ضرب المثل ہے، جس کے معانی ہیں: وہ معاملہ جو ثابت ہوتا ہے نہ سیدھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ وہ شخص بادشاہت کے لائق ہو گا نہ اس کا مستقل اہل۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12836
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا صَاحِبُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ بِأَحَقَّ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِآخِرَةٍ الْآنَ وَالدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَئِنْ أَنْتُمُ اتَّبَعْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَيَلْزِمَنَّكُمُ اللَّهُ مَذَلَّةً فِي أَعْنَاقِكُمْ ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ وَتَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ“ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ إِلَى مُهَاجَرِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِينَ إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا وَتَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَتَقْذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَقِيلُ حَيْثُ يَقِيلُونَ وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا“ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ“ قَالَ يَزِيدُ أَحَدُ الرُّوَاةِ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ”يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ عَمَلَهُ مَعَ عَمَلِهِمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ“ فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرَ وَأَنَا أَسْمَعُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب انسان اپنے مسلمان بھائی کو صاحب ِ ثروت اور مال دار کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتا تھا، لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں مسلم بھائی کی بہ نسبت دینار اوردرہم زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم نے جہاد کو چھوڑ دیا اور گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ گئے اور بیع عِینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا،اور جب تک تم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ نہیں کرو گے اور اپنے اصل دین کی طرف نہیں لوٹو گے تو وہ ذلت بھی تم سے جدا نہیں ہو گی۔ اور میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ باقی روئے زمین پر صرف بد ترین لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین ان کو اگل دے گی اور اللہ تعالیٰ کی روح بھی ان سے نفرت کرے گی اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ گھیر کر ایک جگہ جمع کرے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، آگ بھی وہیں قیلولہ کرے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے، آگ بھی وہیں رات گزارے گی اور ان میں سے جو آدمی گر جائے، وہ آگ اسے جلا دے گی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ: میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12836]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 174، وأخرج البخاري (6932) وقد ذكر الحرورية، فقال: قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم: ((يمرقون من الاسلام كما يمرق السھم من الرمية۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5562»
وضاحت: فوائد: … گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ جانے سے مراد کھیتی باڑی میں مصروف ہو جانا ہے۔ یاد رہے کہ کھیتی باڑی فی نفسہ پسندیدہ چیز ہے،لیکن جب آدمی جہاد اوردوسرے احکامِ شریعت سے روگردانی کر کے دنیوی مال و دولت سمیٹنے میں مصروف ہو جاتا ہے تو اس وقت رزق کا ہر حلال سبب بھی قابل مذمت قرار پاتا ہے۔ بیع عِینہ: یہ تجارت کی ا یک قسم ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ ایک انسان کسی کو کوئی چیز ادھار پر فروخت کرے، پھر اس سے وہی چیز نقداً کم قیمت میں خرید لے۔یہ دراصل ادھار کے عوض زیادہ رقم حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12837
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12837]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6788»
الحكم على الحديث: صحیح